
واشنگٹن: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن رکن رابرٹ بی ایڈرہولٹ کی ملاقاتواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان پرئیر بریک فاسٹ سے قبل ہونے والی ملاقات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے سلسلے میں گفتگوواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ریاست الاباما سے منتخب ہونے والے رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان دوطرفہ ملکی تعلقات کے فروغ پر بھی بات چیتواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اپروپری ایشنز کمیٹی کے رکن رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان بنیادی صحت اور تعلیم کے سلسلے میں مختلف تجاویز پر تبادلہ خیالواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان پارلیمانی روابط بڑھانے کے سلسلے میں بھی گفتگو ہوئیواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان ملاقات کے موقع پر سینیٹر اکبر خواجہ بھی موجود

ڈاکٹر عثمان انور صاحب سابق آئی جی پنجاب سدا کسی نے نہیں رہنا ،کسی عہدے پر آنا ہے تو ایک دن چھوڑنابھی ہے ،کسی اچھی یاد کے ساتھ رخصت ہوا جائے تو یہ خوش قسمتی ہوتی ہے ،پنجاب پولیس کی تاریخ میں اب تک 53 ائی جی ائے اور رخصت ہو چکے ۔آئی جی خان قربان علی خان اگست 1947ءکو پہلے پنجاب پولیس کے سربراہ تھے ۔ان کے بعد میاں انور علی اگست 1952ء ایس این عالم جون 1953ءاے بی اعوان مئی 1956ءایم شریف خان مئی 1958ء ایس ڈی قریشی جولائی 1963ءمیاں بشیر احمد جولائی 1968ء ایم انور آفریدی اپریل 1970ءصاحبزادہ رؤف علی اکتوبر 1972ءراؤ عبد الرشید اگست 1974ءعطا حسین اپریل 1976ءچودھری فضل حق مارچ 1977ءایم عارف جولائی 1977ءمسرور حسین ستمبر 1977ءحبیب الرحمان خان فروری 1978ءایم اعظم قاضی جولائی 1979
ءعبید الرحمان خان

نومبر 1980ءلئیق احمد خان جون 1981ءحافظ ایس ڈی جامی ستمبر 1985ء نثار احمد چیمہ اگست 1987ءمنظور احمد مارچ 1989ءسردار محمد چوہدری جون 1991ءجی اصغر ملک جون 1993ءایم عباس خان جولائی 1993ءذو الفقار علی قریشی اگست 1996ءچوہدری ایم امین نومبر 1996جہانزیب برکی مارچ 1997ءایم رفیق حیدر اکتوبر 1999ءملک آصف حیات جون 2000ءسید مسعود شاہ دسمبر 2002ءسعادت اللہ خان اپریل 2004ءضیاالحسن خان جون 2005ءاحمد نسیم دسمبر 2006ءشوکت جاوید اپریل 2008ءخالد فاروق فروی 2009ءطارق سلیم ڈوگر اپریل 2009ءجاوید اقبال جنوری 2011ءحاجی ایم حبیب الرحمان فروری 2012ء آفتاب سلطان اپریل 2013ءخان بیگ مئی 2013ءمشتاق احمد سکھیرا جون 2014ءکیپٹن (ر) ایم عثمان اپریل 2017ءکیپٹن (ر) عارف نواز خان جولائی 2017ءڈاکٹر سید کلیم امام جون 2018ءایم طاہر ستمبر 2018ءامجد جاوید سلیمی اکتوبر 2018ءکیپٹن (ر) عارف نواز خان اپریل 2019شعیب دستگیر نومبر 2019ء انعام غنی ستمبر2020ءراؤ سردار علی خاں 8 ستمبر 2021ءفیصل شاہکار 23 جولائی 2022ء عامر ذو الفقار 22 دسمبر 2022ءآئی جی پی ڈاکٹر عثمان انور 24 جنوری 2023ءان 53 سربراہان پنجاب پولیس میں کتنے ایسے ہوں گے جن کے نام لوگوں کو یاد ہوں گے؟ صرف چند ایک ۔نام زندہ رکھنے کے لیے کچھ منفرد کرنا پڑتا ہے ۔ڈاکٹر عثمان انور کچھ ایسے ہی تھے ۔پولیس کے لوگ ہوں یا پنجاب کے عام شہری ڈاکٹر عثمان انور کا نام اپنے ذہنوں سے کھرچنا بھی چاہیں گے تو نہیں کر پائیں گے ۔ہم اپنے کردار اور عمل سے زندہ رہتے ہیں ہمارا مثبت یا منفی کردار لوگوں کے ذہنوں میں ایک عرصہ تک رہتا ہے اس محکمہ کے لوگ ڈاکٹر عثمان انور کو یاد کر کر کے روئیں گے ،رینکرز ترقیوں کو ترستے ریٹائر ہو جاتے تھے لیکن کوئی نہیں سنتا تھا ،ڈاکٹر عثمان انور کے تین سالہ دور میں کانسٹیبل سے ایس پی تک ہزاروں رینکرز کی اتنی ترقیاں ہوئیں کہ ایک تاریخ رقم ہوئی ،52 ائی جیز کے دور کی ترقیاں ایک طرف اور اکیلے ڈاکٹر عثمان انور کے دور کی ترقیاں ایک طرف ۔ ،ڈاکٹر عثمان انور کے دور میں لاکھوں لوگوں کو پنجاب بھر میں واردات میں ہونے والے نقصان کی ریکوریاں ملیں

۔ڈاکٹر عثمان انور نے جہاں عوام کے لیے بہت سے کام کیے وہاں پولیس کے ساتھ ان کا رویہ بھی دوستانہ رہا بڑی سے بڑی غلطی پر بھی کسی کی عزت نفس مجروح نہیں کی اپ شاہد جٹ والے واقعہ کو ہی دیکھ لیں اس نے ائی جی پنجاب کو گالیاں دیں بدلے میں ڈاکٹر عثمان انور خود چل کر گئے، شاہد جٹ کو حوالات میں بند کرنے کے بجائے اس سے محبت اور شفقت والا رویہ رکھا ،اس کا علاج کروایا اسے نوکری سے نہیں نکالا ۔ایسی برداشت کس میں ہے ۔ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس میں اصلاحات کے لیے بہت کام کیے جس طرح جرم ختم نہیں ہو سکتا کم ہو سکتا ہے اسی طرح پولیس کے محکمے میں بدعنوانی بھی ختم نہیں ہو سکتی کم ضرور کی جا سکتی ہے ۔ڈاکٹر عثمان انور اس میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ڈاکٹر عثمان انور ایک وژنری ائی جی تھے ۔وہ چیزوں کو اور انداز سے دیکھتے تھے تبدیلی کے بہت خواہش مند تھے ۔ ۔ماضی میں پولیس کے شہداء کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی یہ ڈاکٹر عثمان انور تھے جنہوں نے پولیس کے شہداء کے لواحقین کو عزت بخشی ،پاک فوج کے جوانوں کی طرح ان کا خیال رکھا ،شہداء کے لواحقین کو گھر لے کر دیے ،بچوں کی اعلی تعلیم و تربیت کا انتظام کرایا ۔ماضی کے 52 ائی جیز کے دور میں کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔سر آپ نے بطور آئی جی پنجاب بہترین کام کیا دعا ہے کہ آپ اسی طرح مسکراتے رہیں اور جہاں بھی جائیں کامیابی آپ کے قدم چومے۔۔۔

لیاقت علی خان کی وجہ سے پاکستان نے “کشمیر” کو کھویا۔
تحریر: ڈاکٹر مسعود طارق
تاریخ: 25 اپریل 2025
لیاقت علی خان کے بارے میں ایسا خاکہ بنا دیا گیا تھا کہ؛ اس کے کیے گئے فیصلے کے بارے میں سوال کرنے کی پاکستان میں کسی کو جسارت نہ تھی۔ اس کی ایک مثال یہ ھے کہ لیاقت علی خان نے سردار شوکت حیات خان کو کہا کہ؛ سردار صاحب !!! کیا میں پاگل ھوں جو حیدرآباد دکن کو جو کہ پنجاب سے کہیں بڑا ھے “کشمیر کی پتھریلی پہاڑیوں” کی خاطر چھوڑ دوں؟
پاکستان کے قیام کے بعد مسئلہ یہ تھا کہ مسلم لیگ کی اعلی قیادت کا تعلق ھندوستان سے تھا اور ان کے تعلقات یوپی ‘ سی پی ‘ بہار ‘ حیدرآباد دکن ‘ جوناگڑھ ‘ نئی دھلی وغیرہ میں تھے۔ ان کے ذھن پر حیدرآباد دکن اور جوناگڑھ کو پاکستان میں شامل کرنے کی دھن سوار تھی۔ انہیں پنجاب اور کشمیر سے دلچسپی نہیں تھی۔ نہ پنجاب کی زرعی معیشت کا احساس تھا۔ نہ یہ خیال تھا کہ؛ اگر کشمیر پر بھارت کا قبضہ ھوگیا تو پاکستان کو کیا اسٹریٹجک خطرات درپیش آئیں گے؟
بھارت کا پہلا نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل حیدرآباد دکن کے بدلے کشمیر پاکستان کو دینے کا خواھشمند تھا۔ بھارت کا آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اکتوبر 1947 میں ٹھیک اسی دن سردار ولبھ بھائی پٹیل کی پیش کش لے کر پاکستان پہنچا جب بھارتی فوج پاکستان سے کشمیر میں گھسنے والے قبائلیوں کے لشکر کو پیچھے ھٹاتے ھوئے سری نگر پہنچ کر کنٹرول سنبھال چکی تھی۔
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ‘ اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خان نے “جو نہ تو پاکستان کی تاریخ کو سمجھتا تھا اور نہ ھی جغرافیے کو سمجھتا تھا” لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے پہنچائی جانے والی سردار ولبھ بھائی پٹیل کی پیش کش کو ٹھکرا دیا اور حیدرآباد دکن لینے پر زور دیا۔ لیاقت علی خان نے اپنا دل حیدرآباد دکن پر لگایا ھوا تھا اور “کشمیر کی پتھریلی پہاڑیوں” سے اسے دلچسپی نہیں تھی۔ جبکہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کا موفق تھا کہ؛ کشمیر پر پاکستان کا حق بنتا ھے لیکن حیدرآباد دکن پر حق نہیں بنتا۔

کانگریس کے سابق وزیر اور ممتاز کشمیری سیاستدان سیف الدین سوز نے چونکا دینے والا دعوی کیا ھے کہ؛ “پہلے دن سے ھی سردار پٹیل کا اصرار تھا کہ؛ کشمیر پاکستان میں جانا چاھیے۔ پارٹیشن کونسل میں انہوں نے لیاقت علی خان کو کشمیر لینے اور حیدرآباد دکن چھوڑنے پر راضی کرنے کی پوری کوشش کی”۔ سوز نے کہا کہ؛ ایک بیٹھک ھوئی تھی۔ چوھدری محمد علی اور ھمارا ریڈی وھاں تھا۔ سردار پٹیل نے لیاقت علی خان سے کہا کہ؛ حیدرآباد دکن کے بارے میں بات ھی نہ کریں۔ کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ جڑا ھوا نہیں ھے۔ آپ حیدرآباد دکن کو ھمارے پاس رھنے دیں اور کشمیر لے لیں۔
سوز نے کہا کہ؛ “میں آپ کو ایک بہت ھی دلچسپ کہانی سناتا ھوں۔ جب ھماری فوج سری نگر میں داخل ھوئی۔ اسی دن سہ پہر میں ماؤنٹ بیٹن لاھور گیا۔ گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح ‘ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان اور پاکستان کے چار وزراء کے ساتھ عشائیہ تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ؛ میں بھارت کی طاقتور ترین شخصیت سردار پٹیل کی طرف سے پیغام لایا ھوں۔ کشمیر لے لو اور حیدرآباد دکن کو چھوڑ دو۔ وہ پاکستان کے ساتھ جڑا ھوا نہیں ھے۔
سردار شوکت حیات خان نے اپنی کتاب The Nation That Lost Its Soul میں لکھا ھے کہ؛ ایک عشائیہ کے موقع پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پٹیل کا پیغام پہنچایا تھا۔ “پٹیل نے کہا تھا کہ؛ پاکستان کشمیر لے سکتا ھے اور حیدرآباد دکن دے سکتا ھے۔ جس کی اکثریت ھندو آبادی کی ھے اور وہ سمندر یا زمین کے ذریعے پاکستان کے قریب بھی نہیں ھے۔”
سردار شوکت حیات خان نے لکھا ھے کہ؛ یہ پیغام پہنچانے کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاھور گورنمنٹ ھاؤس میں سونے کے لیے چلے گئے۔ کشمیر آپریشن کا مجموعی انچارج ھونے کی وجہ سے میں لیاقت علی خان کے پاس گیا۔ میں نے اس کو مشورہ دیا کہ چونکہ بھارتی فوج کشمیر میں بھرپور طاقت کے ساتھ داخل ھوچکی ھے اور ھم قبائلی مجاھدوں یا اپنی ناکافی مسلح افواج کے ساتھ کشمیر کا الحاق کرنے میں کامیاب نہیں ھوسکیں گے۔ لہذا ھمیں پٹیل کی تجویز کو قبول کرنے میں جلدی کرنی چاھیے۔
لیاقت علی خان میری طرف مڑے اور کہا کہ؛ سردار صاحب !!! کیا میں پاگل ھوں جو حیدرآباد دکن کو جو کہ پنجاب سے کہیں بڑا ھے “کشمیر کی پتھریلی پہاڑیوں” کی خاطر چھوڑ دوں؟ میں وزیر اعظم کے رد عمل اور ھمارے جغرافیے کے بارے میں اس کی لاعلمی اور اس کے دانشمندی سے عاری ھونے پر حیران رہ گیا۔

میں نے سوچا کہ؛ وہ احمقوں کی جنت میں جی رھا ھے اور پاکستان کے لیے کشمیر کی اھمیت کو نہیں سمجھتا ھے۔ جبکہ حیدرآباد حاصل کرنے کی امید کر رھا ھے۔ جو کہ صرف سوچنے کی حد تک اچھی بات اور بہترین خواھش ھے۔ یہ پاکستان کے ساتھ کہیں سے بھی جڑا ھوا نہیں ھے۔ لہذا احتجاج کے طور پر میں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جو کہ میرے پاس کشمیر آپریشن کے مجموعی انچارج کے طور پر تھا۔
سردار شوکت حیات خان نے اپنی کتاب میں لکھا ھے کہ؛ “لیاقت علی خان نہ تو تاریخ کو سمجھتا تھا۔ نہ جغرافیہ کو”۔ اس لیے اس نے پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ سردار پٹیل کشمیر کو ایک پلیٹ میں رکھ کر دے رھا تھا۔ لیکن جذباتی وجوھات اور علم کی کمی کی وجہ سے لیاقت علی خان حیدرآباد دکن کو حاصل کرنا چاھتا تھا۔ جو کہ ایک ھندو اکثریتی علاقہ تھا اور اس کو چاروں طرف سے بھارتی علاقے نے گھیرا ھوا تھا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ھوتا ھے کہ؛ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی حماقت کی وجہ سے کشمیر کو کھویا گیا۔ ھمیں یہ تبادلہ قبول کرنا چاھیے تھا کہ؛ پاکستان کشمیر کی ریاست کو لے لیتا جبکہ بھارت کو حیدرآباد دکن کی ریاست دے دیتا۔ حیدرآباد دکن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا غیر منطقی عمل تھا۔ جو کہ بھارت کے قلب میں واقع تھا اور ایک ھندو اکثریتی علاقہ تھا۔ صرف حکمران مسلمان تھا۔ پاکستان لیاقت علی خان کی حماقت کو بھگت رھا ھے۔ لیاقت علی خان کو تبادلہ قبول کرنا چاھیے تھا۔ یہ اسی ناکامی کا نتیجہ تھا کہ؛ میجر جنرل اکبر خان راولپنڈی سازش میں شامل ھوا۔ اس کو سخت غصہ تھا کہ لیاقت علی خان کی سیاسی قیادت کی ناکامیوں کی وجہ سے کشمیر کو بہت برے انداز میں کھو دیا گیا ھے۔
کلدیپ نیئر نے اپنی کتاب Beyond the Lines—An Autobiography میں سردار پٹیل کے مستقل نظریہ پر لکھا ھے کہ؛ کشمیر کو پاکستان کا حصہ ھونا چاھیے۔ کلدیپ نیئر لکھتے ھیں کہ؛ “میرا تاثر یہ ھے کہ؛ اگر پاکستان صبر کرتا تو اس کو خود بخود کشمیر مل جاتا۔ بھارت اس پر فتح حاصل نہیں کرسکتا تھا اور نہ ھی ھندو مہاراجہ آبادی کی ساخت کو نظرانداز کرسکتا تھا جوکہ واضح اکثریت کے ساتھ مسلمان تھی۔ اس کے بجائے پاکستان نے بے صبری کرتے ھوئے آزادی کے چند دنوں بعد ھی قبائلیوں کو باقاعدہ فوج کے ھمراہ کشمیر میں بھیج دیا”۔
کلدیپ نیئر لکھتے ھیں کہ؛ “اگرچہ یہ سچ ھے کہ نہرو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا خواھشمند تھا لیکن پٹیل اس کے برعکس تھا۔ یہاں تک کہ جب نئی دھلی نے مہاراجہ کی بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست وصول کی۔ تو پٹیل نے کہا تھا کہ؛ “ھمیں کشمیر میں نہیں الجھنا چاھیے۔ ھماری پلیٹ میں پہلے ھی بہت کچھ ھے”۔ پٹیل اپنے اس خیال پر قائم رھا کہ؛ پاکستان کو حیدرآباد کی بات نہیں کرنی چاھیے۔ کشمیر کو پاکستان میں جانا چاھیے۔
چودھری محمد علی نے اپنی کتاب The Emergence of Pakistan میں کشمیر کے بارے میں پٹیل کے تاثرات پر ایک دلچسپ تفصیل پیش کی ھے۔ وہ لکھتے ھیں کہ؛ “پارٹیشن کونسل کے اجلاس میں شرکت کے دوران اگرچہ سردار پٹیل پاکستان کا ایک تلخ دشمن تھا لیکن وہ نہرو سے زیادہ حقیقت پسند تھا۔ دونوں وزرائے اعظم کے مابین ایک بات چیت میں سردار پٹیل اور میں بھی موجود تھے۔ لیاقت علی خان جوناگڑھ اور کشمیر کے حوالے سے بھارت کے موقف کی عدم مطابقت پر برھم تھے کہ؛
اگر جوناگڑھ اپنے مسلم حکمران کے پاکستان سے الحاق کرنے کے باوجود اپنی ھندو اکثریت کی وجہ سے بھارت کا حصہ ھے۔ تو پھر کشمیر اس کی مسلم اکثریت کے ساتھ ھندو حکمران کے بھارت سے الحاق کے مشروط معاھدہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے بھارت کا حصہ کیسے ھوسکتا ھے؟
اگر مسلم حکمران کی طرف سے جوناگڑھ کے الحاق کے دستخط کرنے کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ تو پھر کشمیر کے ھندو حکمران کی طرف سے دستخط کیے جانے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ھے۔

اگر جوناگڑھ میں لوگوں کی مرضی کو اھمیت حاصل تھی۔ تو پھر اسے کشمیر میں بھی اھمیت حاصل ھونی چاھیے۔
بھارت جوناگڑھ اور کشمیر دونوں پر دعوی نہیں کرسکتا۔
چودھری محمد علی لکھتے ھیں کہ؛ “جب لیاقت علی خان نے یہ متضاد نکات اٹھائے تو پٹیل خود پر قابو نہ رکھ سکے اور پھٹ پڑے”۔ آپ جوناگڑھ کا کشمیر کے ساتھ موازنہ کیوں کرتے ھیں؟ حیدرآباد اور کشمیر کی بات کریں۔ تاکہ ھم کسی معاھدے پر پہنچ سکیں۔ چودھری محمد علی مزید تبصرہ کرتے ھیں کہ؛ اس وقت اور اس کے بعد بھی “پٹیل” کے خیالات یہ تھے کہ؛ لوگوں کی مرضی کے خلاف مسلم اکثریتی علاقوں کو حاصل کرنے کی بھارت کی کوشش بھارت کی طاقت کا نہیں بلکہ کمزوری کا سبب بنے گی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ؛ اگر بھارت اور پاکستان ‘ کشمیر کو پاکستان اور حیدرآباد کو بھارت میں جانے دینے پر راضی ھوجاتے ھیں تو کشمیر اور حیدرآباد کا مسئلہ پر امن طریقے سے حل ھوسکتا ھے۔ جو کہ بھارت اور پاکستان کے باھمی مفاد میں ھوگا۔
اے جی نورانی ایک معروف اسکالر ھیں۔ جو مسئلہ کشمیر پر کافی معلومات رکھتے ھیں۔ انہوں نے پٹیل کی تجاویز پر لیاقت علی خان کے رویہ کا حوالہ دیا ھے۔ اپنے مضمون A Tale of Two States میں اے جی نورانی لکھتے ھیں کہ؛ “ایک چوتھائی صدی کے بعد 27 نومبر 1972 کو پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے لنڈی کوتل میں ایک قبائلی جرگہ کو بتایا کہ؛ بھارت کے پہلے وزیر داخلہ اور وزیر برائے ریاستی امور سردار پٹیل نے ایک مرحلے پر جوناگڑھ اور حیدرآباد کے بدلے میں پاکستان کو کشمیر دینے کی پیش کش کی تھی۔ لیکن “بدقسمتی سے” پاکستان نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ اس کے نتیجے میں اس نے نہ صرف تینوں ریاستوں بلکہ مشرقی پاکستان کو بھی کھو دیا۔
جہاں تک جناح کی بات ھے تو وہ ایک وکیل تھے۔ انہوں نے جوناگڑھ کے بدلے واضح طور پر کشمیر کے تبادلے کی تجویز پیش کی تھی۔ کیونکہ دونوں ریاستیں متعدد طریقوں سے ایک دوسرے کا عکس تھیں۔
کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کے غیر مسلم حکمران نے اپنی ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرلیا تھا۔
جوناگڑھ ایک غیر مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کے مسلم حکمران نے اپنی ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا تھا۔
جناح کا استدلال تھا کہ؛ چونکہ جوناگڑھ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ بن چکا ھے۔ لہذا پاکستان کا گورنر جنرل ھونے کے ناطے وہ ریاست کے مستقبل کے بارے میں بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے کا حق رکھتے ھیں۔
لیکن چونکہ حیدرآباد کے حکمران نے اپنی ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کیا۔ لہذا اسے ریاست کے مستقبل پر تبادلہ خیال کرنے یا حیدرآباد کے حکمران کو اس کی مرضی کے خلاف اپنی ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے لیے مجبور کرنے کا اختیار نہیں ھے۔

افغان سرحد کے قریب تازہ پاکستانی حملےپاکستانی فوج نے افغان سرحد کے قریب کم از کم چوبیس عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر افغان طالبان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہے اور وہاں غیر ریاستی گروہوں کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔پاکستانی فوج کی طرف سے افغان سرحد سے متصل علاقوں میں یہ تازہ کارروائی ایسے وقت میں کی، جب ملک کے جنوب مغرب میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی ہے۔فوج کے بیان کے مطابق، ہیلی کاپٹر گن شپ کی مدد سے پاکستانی فوجیوں نے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں دو مختلف مقامات پر پاکستانی طالبان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔

جمعہ پڑھ کر واپسی پر دیکھا تو اسلام اۤباد کا سانحہ ہوچکا تھا۔ ٹی وی چینلز لگائے تو کسی چینل پر کوئی خبر نہیں تھی۔ بسنت کیلئے ہر چینل نے چھتیں بک کی ہوئی ہیں، وہاں پر رنگ برنگے کپڑوں میںملبوس اینکرز بھیجے ہوئے ہیں۔ گانے بج رہے ہیں اور بسنت منائی جا رہی ہے۔ ماضی میں جب کوئی بڑا سانحہ ہوتا تھا تو سوگ میں ٹی وی چینلز کے لوگو بلیک ہوجاتے تھے اور ہیڈلائنز کا میوزک بھی تقریباً بند کر دیا جاتا










