
بڑی جنگ کا اسٹیج ۔ اظہر سیدریاستوں میں لوگوں کو خرید کر حلیف بنائے جا رہے ہیں۔فلپائن میں بھاری خریداری سے چین دوست حکومت تبدیل کر کے امریکہ دوست حکومت بنوائی گئی۔جنوبی ایشیا میں پاکستان ،سری لنکا،نیپال اور بنگلادیش میں چین دوست حکومتیں بنوائی گئیں ۔افریقہ میں چین کی بھاری سرمایہ کاری باکو حرام اور الشباب ایسی مذہبی دہشتگرد تنظیموں کے زریعے ختم کروائی گئی ۔پاکستان میں سی پیک میں اربوں ڈالر کی چینی سرمایہ کاری جنرل باجوہ اور فیض کے زریعے خطرہ میں ڈالی گئی۔لاطینی امریکہ میں چینیوں کی پیش قدمی صدر کے حالیہ اغواء سے خطرہ میں ڈالی گئی ۔روس کو یوکرائن میں الجھا کر چین کے طاقتور حلیف کو کمزور کیا گیا۔دنیا میں اس وقت چین اور مغرب کے درمیان کشمکش ہو رہی ہے ۔مغرب چین کو کسی بڑی جنگ میں الجھانا چاہتا ہے ۔چینی احتیاط سے دامن بچاتے جا رہے ہیں۔چوہے بلی کا یہ کھیل اب ختم ہونے کو ہے ۔تیسری عالمی جنگ کا اسٹیج تیار ہو رہا ہے ۔جلد مغرب کا رخ چین کے طاقتور حلیف اور ایٹمی طاقت پاکستان کی طرف ہو گا ۔پاک بھارت دوستی جنوبی ایشیا کو جنگ سے بچا سکتی ہے ۔

قرضوں میں بال بال جھکڑے ترقی یافتہ مغربی ممالک ایک قطار میں رکھی اینٹوں کی طرح ہیں ۔نادہندگی شروع ہوئی سارے مغربی ممالک ایک دوسرے کو قطار میں رکھی اینٹوں کی طرح گرا دیں گے ۔دنیا جتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے بہت جلد سو میٹر دوڑ کی طرح بھاگنے لگے گی ۔انسانی ترقی نے اپنی معراج حاصل کر لی ہے ۔دنیا سمٹ کر موبائل فون کے زریعے ہر انسان کے ہاتھ میں پہنچ گئی ہے ۔معلوم تاریخ میں انسانی ابادی کبھی پانچ ارب سے زیادہ نفوس کی سطح تک نہیں پہنچی ۔یہ ابادی فطری اصولوں اور زمینی وسائل سے مطابقت نہیں رکھتی ۔دنیا کا فطری سائیکل متاثر ہو چکا ہے ۔گلیشیر پگھل رہے ہیں۔قطب شمالی اور جنوبی میں ہزاروں سالوں سے منجمند برف پگھل کر سمندروں کی سطح میں اضافہ کر رہی ہے

۔صاف پانی کے زخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔انسانی ابادی کا بہت بڑا حصہ پانی کی کمی کا شکار ہو چکا ہے ۔فطری اصولوں کے تحفظ کیلئے قدرت حرکت میں آئے گی ۔دنیا پھر پتھر کے دور میں واپس جائے گی ۔یہ سب کچھ ایک بڑی عالمی جنگ کی صورت میں ہو گا ۔انسان کی فطرت میں لڑنا اور قبضہ کرنا ہے اس لئے تیسری عالمی جنگ کے بعد چوتھی عالمی جنگ بھی ہو گی لیکن وہ جنگ پتھروں اور ڈنڈوں سے لڑی جائے گی ۔

جب عمران خان پر حملہ ہوا اور اس کے بعد وہ کہتے تھےلاہور سے اسلام آباد پیشی کے لیے آناسیکیورٹی رسک ہے تو ججز کہتے تھے نہیں تمہیں آنا ہوگا آج عدالت خود اٹھ کر اڈیالہ جیل جارہی ہے۔ ایک پاکستان کا سابق وزیراعظم جو زخمی ہے اس کو لاہور سے اسلام آباد بلایا جاتا ہے لیکن ایک مجرم اس کے لیے عدالت خود چل کر ائرپورٹ جاتی ہے۔ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے عمران خان اور تحریک انصاف کا ہر کارکن اور آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں آئین و قانون کی بالادستی کی جدوجہد میں ہمارے گلے بھی کٹ جائیں پرواہ نہیں۔وزیراعلی سہیل آفریدی

وزیراعظم کا فاتحہ اور تعزیت کے لیے بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کا دورہ* وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہار تعزیت کے لیے عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے ناظم الامور سے تعزیت کا اظہار کیا، تعزیتی کتاب میں پیغام ریکارڈ کیا اور مرحومہ کی روح کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے بیگم خالدہ ضیاء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک صاحب بصیرت رہنما اور ایک نامور سیاسی شخصیت قرار دیا جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کردی۔ بیگم ضیاء کو پاکستان اور اسکے عوام کی مخلص دوست و خیر خواہ کے طور پر یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ایک لازوال اور متاثر کن میراث چھوڑی ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وزیراعظم نے بیگم خالدہ ضیاء کے اہل خانہ، ان کی پارٹی کے کارکنان اور بنگلہ دیش کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے.

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی سابق رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کے بیٹے مرتضیٰ کی شادی کی تقریب میں شرکت۔کراچی: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سابق رکن قومی اسمبلی، ماروی میمن کے بیٹے مرتضیٰ کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں سیاسی، سماجی اور کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والی متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے جوڑے کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی اور ان کی ازدواجی زندگی کے نئے سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ذوالفقار علی بھٹوپیدائش: 5 جنوری 1928وفات: 4 اپریل 1979 (51 سال)-زوجہ: نصرت بھٹواولاد: بینظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو، شاہنواز بھٹووالد: شاہ نواز بھٹو-وزیر خارجہ پاکستان: 15 جون 1963 – 31 اگست 1966-صدر پاکستان: 20 دسمبر 1971 – 13 اگست 1973-مکلم ایوان زیریں پاکستان: 14 اپریل 1972 – 15 اگست 1972-وزیر اعظم پاکستان: 14 اگست 1973 – 5 جولائی 1977-پاکستان کے سابق وزیر اعظم لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی ریاست میں دیوان تھے۔ پاکستان میں آپ کو قائدِعوام یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے۔ذو الفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی ’’ساؤ تھمپئین‘‘ میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔

بھٹو جمہوری حکومت میں صدر پاکستان سکندر مرزا کے
وزیر اعظم فیروز خان نون کی کابینہ میں وزیر تجارت تھے۔ ایوب خان بھی 1954 سے وزیر دفاع کے منصب پر فائز تھے۔ 1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی۔ وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ قیدی نمبر 1772 کو 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

وہ وقت جب گاماں پہلوان نے مالی حالات سے مجبور ہو کر قائداعظم محمد علی جناح کو مدد کے لیے خط لکھا اور اپنی روزانہ کی خوراک کی فہرست بھیجی ۔۔۔۔۔گاماں پہلوان قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے تھے ا‘ وہ مالی لحاظ سے ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا‘ وہ پہلوانی بھی جاری رکھنا چاہتے تھے اور اپنا اکھاڑہ بھی قائم کرنا چاہتے تھے لیکن روپیہ پیسہ نہیں تھا‘ اس زمانے میں پہلوانوں کی خوراک بہت اچھی ہوتی تھی‘ اس میں بادام اوردرجن بھر مغزیات ہوتے تھے اور بکرے کا تازہ گوشت اور دیسی گھی بھی‘ گاماں صاحب مالی تنگی کی وجہ سے خوراک کے بحران کا شکار ہو گئے چناں چہ انہوں نے امداد کے لیے قائداعظم کو خط لکھ دیا‘قائداعظم جسمانی لحاظ سے کم زور تھے‘ ان کا وزن بھی کم تھا اور وہ دھان پان بھی تھے‘انسانی نفسیات کے مطابق جسمانی لحاظ سے کم زور لوگ ہمیشہ مضبوط‘ لمبے تڑنگے اور صحت مند لوگوں کو پسند کرتے ہیں‘ قائداعظم کو بھی پہلوان‘ ریسلر‘ باڈی بلڈر اور باکسر اچھے لگتے تھے لہٰذا قائداعظم ہمیشہ تگڑے اور مضبوط کاٹھی کے لوگوں کو ملازم رکھتے تھے‘ قائد کا ڈرائیور آزاد بھی سوا چھ فٹ کا ’’ویل بلڈ‘‘ شخص تھا‘ آزاد قیام پاکستان کے بعد فلموں میں آیا اور بڑا نام کمایا‘ قائداعظم گاماں پہلوان کو بھی پسند کرتے تھے چناں چہ انہوں نے گاماں کا خط اس کی خوراک کی فہرست کے ساتھ پنجاب کے گورنر سر فرانسس مودی کو بھجوا دیا‘ گورنر نے خط پڑھا‘ خوراک کی فہرست دیکھی اور مسکرا کر کہا ’’پورے پنجاب کی خوراک ایک طرف اور گاماں پہلوان کا کھانا ایک طرف‘ ہم دیوالیہ ہو جائیں گے‘‘ ۔گاماں پہلوان کی زندگی کا ایک اور دلچسپ مگر سبق آموز واقعہ : ‘ گاماں پہلوان ایک دن لاہور کی کسی تنگ گلی سے گزر رہے تھے ‘ سامنے کسی کا اڑیل بیل کھل گیا‘

بیل تیزی سے گاماں پہلوان کی طرف دوڑ پڑا‘ پہلوان صاحب نے چند لمحوں میں صورت حال کا اندازہ کیا‘ واپس مڑے اور دوڑ لگا دی‘ اب صورت حال یہ تھی رستم ہند گاماں پہلوان آگے آگے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے اور لوگ گاماں پہلوان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے‘ راستے میں کسی کا گھر آ گیا‘ گاماں پہلوان نے چھلانگ لگائی اور اس گھر میں گھس کر پناہ لے لی‘ لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے‘ وہ بہت حیران ہوئے‘ کیوں؟ کیوں کہ انہوں نے گاماں کی بہادری کے بے شمار قصے سن رکھے تھے جن میں پہلوان صاحب بیل کو سینگ سے پکڑ کر زمین پر بھی گرا دیتے تھے لیکن جب بہادری کا عملی ثبوت دینے کا وقت آیا تو گاماں آگے تھا اور بیل پیچھے‘ یہ دیکھ کر لوگوں کو بہت افسوس ہوا اورگاماں پہلوان کی بہادری کے سارے قصے جھوٹے اور زیب داستان محسوس ہونے لگے‘ اس کا اظہار شام کے وقت ان کے ایک شاگرد نے کر بھی دیا‘ گاماں پہلوان سن کر ہنسے اور پھر بولے ’’پتر میرا میدان اکھاڑہ ہے‘ گلی نہیں اور میں پہلوانوں سے لڑتا ہوں بیلوں سے نہیں‘‘ یاد رکھو ساری لڑائیاں آپ کی لڑائیاں نہیں ہوتیں‘ وہاں لڑو جہاں عزت ہو‘ بے عزتی کا سودا نہ کرو‘‘۔

کسی نے نوٹس کیا کہ مدورو کے ہٹنے کے بعد،چین اور روس کتنے غیر معمولی طور پر خاموش رہے؟نہ شدید مذمت،نہ ہنگامی بیانات،نہ وہ سفارتی ہلچل،جس کی توقع کی جا رہی ہے۔یہ خاموشی اتفاق نہیں!یہ ‘سمجھوتے کی خاموشی’ لگتی ہے۔اسی لیے اس وقت سائمن گوڈیک کی “ٹریڈ آف تھیوری” غور طلب ہو جاتی ہے:– امریکہ وینزویلا کے وسائل کھا جائے– روس یوکرین کا بڑا حصہ لے جائے– چین تائیوان پر قبضہ کر لےیعنی ایک غیر اعلانیہ بندربانٹ،جہاں طاقتیں،جغرافیہ نہیں، بلکہ اثاثے تقسیم۔اگر یہ مفروضہ درست ہے…تو پھر دنیا میں ہونے والی جنگیں نہ اخلاقیات کی بنیاد پر ہیں، نہ اصولوں پر۔یہ “میوچل نان – انٹرفیرنس کے معاہدے” ہیں،جہاں ہر طاقت اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔اسی لیے میں بار بار کہتی ہوں:2026 صرف انتشار کا سال نہیں، بلکہ انکشاف کا سال بھی ہے۔اس سال…شور بہت ہو ہوگا،فیصلے اس سے بھی بڑے ہوں گے،اور خاموشیاں…سب کچھ بتا دیں گی۔اصل خبریں…بیانات میں نہیں،ردعمل کی کمی میں نظر آئے گی۔اور ابھی..دنیا بہت کچھ نہ کہہ کر،کہہ رہی ہے۔ازنمکین چائےNamkeen Chai
امریکہ کی جانب سے وینیزویلا پر حملہ کرنا اور پھر صدر نکولوس مادورو کو اغواء کرکے حکومت کا تختہ پلٹ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ چائنہ اور روس کبھی بھی آپکے بچاؤ کیلئے نہیں آئیں گےوینیزویلا کی صورتِ حال پاکستان کیلئے بھی ایک سبق ہے کہ آپ چائنہ کے آسرے پر کبھی بھی ٹِک نہیں پائیں گےموجودہ صورتِ حال کو دیکھ کر تین ہی راستے ہیں جن میں سے کوئی ایک چن کر آپ اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں• امریکہ کے سامنے سرنڈر کردیں، اپنا ضمیر بیچ دیں (جیسے پاکستان فوج نے 2022 میں کیا)• ایران کی طرح کشتیاں جلا دیں• یا پھر اپنا اتنا مقام پیدا کریں جیسے چائنہ اور روس کا ہے کہ کوئی آپ کو میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکےپاکستان اس وقت مکمل طور پر چائنہ پر انحصار کرتا ہے کہ اگر ہمارے ملک میں بیرونی جارحیت ہوئی تو چائنہ ہماری سائیڈ سے کود پڑے گا، لیکن اگر ایسا ہوا تو ہرگز چائنہ آپ کی طرف سے لڑائی میں شامل نہیں ہوگا اور اسکی تازہ مثال وینیزویلا ہے، اُس سے پہلے عراق اور لیبیا بھی مثالیں ہیںوینیزویلا میں امریکہ گھسا تو چلیں مان لیتے ہیں کہ چائنہ اور روس براہِ راست وینیزویلا کی مدد نہیں کرسکتے تھے مگر اقوامِ متحدہ کیوں نہیں گئے، کولڈ وار سے تو جواب دیا جاسکتا تھا مگر کیوں نہ دیا؟ اور دیں گے بھی نہیں کیونکہ چائنہ اور روس کبھی بھی براہِ راست امریکہ کے سامنے نہیں آسکتے

اسلام آبادشاہ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے پاکستان بھر کے 22 ہزار مستحق خاندانوں کے لیے سرمائی امدادی پیکیج کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر سردار محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اخوت، محبت اور باہمی اعتماد پر قائم ہیں اور مملکتِ سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنگ سلمان ریلیف سینٹر دنیا بھر میں انسانی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں اس ادارے کی خدمات نمایاں اور قابلِ قدر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں 22 ہزار سرمائی کٹس تقسیم کی جا رہی ہیں، جن سے تقریباً ایک لاکھ 54 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔ ہر سرمائی کٹ میں دو کمبل، خاندان کے لیے گرم کپڑے، سویٹر، گرم جرابیں اور ٹوپیاں شامل ہیں تاکہ شدید سرد موسم میں مستحق خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئندہ چند روز میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، رورل سپورٹ پروگرامز اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے امدادی سامان کی تقسیم کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ منصوبہ کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے تعاون سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی شراکت سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے سعودی عرب کے فراخدلانہ تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اخوت اور محبت کا یہ عمل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا.

پاکستان اور چین کا دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق -پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو نسل در نسل منتقل کرنے اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا: مشترکہ اعلامیہ۔ فوٹو وزارت خارجہ پاکستانپاکستان اور چین نے دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور دو طرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔گزشتہ روز بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے ساتویں پاک چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔مشترکہ اعلامیے کے مطابق چین کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری تک چین کا دورہ کیا، پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات میں جنوبی ایشیا میں امن، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور تنازعات کے حل پر زور دیا گیا ہے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت، تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرۂ چین پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ چین نے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں پاک چین تعلقات، دفاعی و سکیورٹی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ممالک نے اسٹریٹجک رابطے بڑھانے اور باہمی اعتماد مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ چین اور پاکستان نے 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75سال مکمل ہونے کی تقریبات شروع کرنےکا اعلان بھی کیا۔پاک چین مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو نسل در نسل منتقل کرنے اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا اور پاک چین آہنی برادرانہ اور آل ویدر اسٹریٹجک تعلقات کی توثیق کی گئی۔مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کی جانب سے چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور جدید کاری کے ماڈل کو سراہا گیا اور دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور دوطرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ سی پیک 2، زراعت، معدنیات اور گوادر پورٹ پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔پاکستان اور چین نے خلائی تعاون میں پیشرفت اور پاکستانی خلابازوں کی چینی خلائی اسٹیشن میں متوقع شمولیت پر بھی اتفاق کیا۔










