تازہ تر ین

تہران شہر کالے دھوئیں سے ڈھک گیا بارش کے پانی میں بھی تیل کے ذرات شامل۔۔ بڑھتی مہنگائی کا احساس ہے۔ عوام اور ہم ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ حکومت۔اسرائیل خطے میں ھلاکتوں کا ذمہ دار ہے۔ایرانی صدر کے بیان کے باوجود بھی متحدہ عرب امارات پر جوابی حملے جاری۔۔سیکورٹی فورسز اور کالعدم B lA کے مابین شدید جھڑپ 5 عسکریت پسند ھلاک۔۔سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر فارق اور عملہ لاپتہ۔۔جنوبی وزیرستان لوئر میں 2 پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ضروری نہیں کہ طاقتور درست بھی ہوں، دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں جانا چاہیے۔ چینی وزیرخارجہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🇮🇷🇮🇱🇺🇸⚡️بریکنگ: ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر متعدد وارہیڈ میزائلوں سے حملے کی فوٹیج جاری کر دیان میزائلوں میں قادر، امید اور خیبرشکن شامل ہیں۔اسرائیل میں ویڈیوز اور تصاویر پر سخت سنسرشپ ہے، عام طور پر ایسی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے ایران کی سب سے بڑی آئل ریفائنری أڑا دی۔ 🙁 اب مہنگائی کا خمیازہ پوری دنیا بھگتے گی جسکا زمہ دار ٹرمپ ہے۔ ظاہر ہے اسکا جواب بھی آئے گا ایران کی جانب سے۔

ایران جنگ ۔اظہر سید امریکہ اور اسرائیل نے جن مفروضوں پر ایران کو نشانہ بنایا جنگ کے نو روز گزرنے پر جو حقائق دنیا کے سامنے ہیں ایران،چین اور روس کی تیاریاں زیادہ مکمل تھیں ۔ابتدائی حملہ سے آج تک ایرانی شہروں پر تباہی مسلط کی گئی ۔بیشتر سیاسی اور فوجی قیادت ختم کر دی گئی لیکن ردعمل حیرت انگیز ہے ۔خلیج میں ٹھاڈ میزائل دفاعی سسٹم کے چار ریڈار موجود تھے امریکہ اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے بعد ایرانی ردعمل میں کویت،اردن،قطر میں سارے ریڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔اب صرف پٹریاٹ،ایرن ڈوم اور ایرو دفاعی شیلڈ موجود ہیں لیکن وہ ایرانی میزائل روکنے میں ناکام ہیں۔تباہی ایران میں مچی ہے ناکامی اسرائیل اور امریکہ کی زیادہ خوفناک ہے ۔اس مرتبہ ایرانی میزائلوں کو جو گائیڈنس میسر ہے وہ سات ماہ پہلے حاصل نہیں تھی ۔اس دفعہ ابرہم لنکن حملہ کے دوسرے روز ہی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن گیا باوجود اس کے طیارہ بردار جہاز مکمل حفاظتی شیلڈ میں تھا لیکن شائد چینی اور روسی ٹیکنالوجی سے بچ نہیں پایا ۔لڑائی کے دوران چینی اور روسی مدد کے کوئی شواہد موجود نہیں لیکن امریکی میڈیا روسی معاونت کی خبریں دے رہا ہے لیکن بغیر شواہد کے ۔دو چیزیں ممکن ہیں چینی معاونت پہلے سے شروع تھی اور متوقع حملہ کے تناظر میں تھی ۔شائد چینی ہنر مند اب بھی زیر زمین میزائل ٹھکانوں پر موجود ہوں جو چینی سٹلائٹ کی معاونت سے سو فیصد درست نشانہ بازی کروا رہے ہیں ۔سو فیصد درستگی کا یہ عالم ہے امریکی فوجی کویت کے ہوٹل کے جس کمرے میں موجود تھے اسے نشانہ بنایا گیا ۔سات امریکی فائٹر جیٹ کویت میں “فرینڈلی” فائرنگ کا نشانہ بن گئے بقول امریکی کویتی موقف کے لیکن ایوی ایشن کے عالمی ماہرین امریکہ کویت موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں امریکی طیارے برتر ٹیکنالوجی کا نشانہ بنے ہیں ۔ابرہم لنکن میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے ۔خلیج میں موجود لڑاکا جیٹ قبرص منتقل ہو گئے ہیں ۔قطر،بحرین اور اردن میں فوجی اہلکار وہاں سے نکال لئے گئے ہیں۔خلیج میں بچے کچھے ریڈار وہاں سے اسرائیل منتقل کر دئے گئے ہیں ۔لگتا ہے ایران ،روس اور چین کا ہوم ورک زیادہ مکمل تھا اور اس میں ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت کے قتل ہونے کا باب بھی شامل تھا ۔آسان لفظوں میں ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کرنے،سیاسی اور فوجی قیادت کو راہ سے ہٹانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ ہار گئے ہیں۔جوابی حملوں کی ایرانی صلاحیت برقرار ہے۔ ایسا لگتا ہے زمینی قبضے کے بغیر یہ صلاحیت ختم کرنا ممکن نہیں ۔

صرف دو آپشن باقی ہیں ۔ایران میں زمینی افواج اتریں اور کامیابی حاصل کریں ۔امریکہ ایٹمی حملہ کرے ۔جیٹ طیاروں سے بمباری میں تباہی مچانا ممکن ہے زیر زمین میزائل کے سارے ٹھکانے ختم کرنا ممکن نہیں کہ اب ایرانی میزائل سو فیصد درستگی کے ساتھ ریڈار بیٹریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آبنائے ہرمز بند ہوئے آج چھٹا دن ہے صدر ٹرمپ کے تمام تر بلند بانگ دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھولا نہیں جا سکا ۔دنیا بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔امیر ترین خلیجی ریاستوں سے سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں اور مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ہر گزرتے دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے کپڑے اترتے جا رہے ہیں کچھ دن اور گزر گئے دونوں دہشت گرد دنیا کے سامنے ننگے کھڑے ہونگے ۔پاکستان کی باری تو جب آئے گی تب آئے گی ابھی ایران پر حملہ کے نتایج تو بھگت لیں ۔ایٹمی حملہ کی آپشن استمال کریں گے اسکی قیمت تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ہے ۔زمینی افواج اتریں گے تو پتہ نہیں روس اور چین نے اسکی ایران کو کیسی تیاری کرا رکھی ہے ۔سیاسی اور فوجی قیادت کے ختم ہونے کے باوجود جو مزاحمت ہو رہی ہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ہوم ورک مکمل تھا ۔ایران پر حملہ کے نتایج آئیں گے اور ضرور آئیں گے جو مغربی دنیا کیلئے ناقابل برداشت ہونگے ۔

غلام شبیر جھنگ کچہری میں بطور عدالتی ریکارڈ کیپر تعینات تھا۔ 2018ء میں ضلعی عدلیہ میں چند آسامیوں پر بھرتیوں کا اشتہار آیا۔ شبیر نے سلیم (فرضی نام) کو کہا کہ تم مجھے اتنے لاکھ روپے دیدو تو میں تمہارے رشتہ داروں کو ان آسامیوں پر بھرتی کروا دوں گا۔ سلیم نے 4 جون 2018ء کو اڑھائی لاکھ روپے دو چیکس کی صورت میں شبیر کو دیے جو اس نے البرکہ بنک کے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر پیسے نکلوا لیے۔ 16 جولائی کو سلیم نے مزید ایک لاکھ 30 ہزار روپے کیش دو وکلاء علی شہزاد بھٹی اور رانا دلبر حسین کی موجودگی میں غلام شبیر کو دیے۔ بعد ازاں شبیر، سلیم کے رشتہ داروں کو بھرتی نہ کروا سکا اور سلیم کے مطالبہ پر پیسے دینے سے بھی انکار کردیا۔سلیم نے ضلعی عدلیہ کی ڈسٹرکٹ اتھارٹی کے پاس غلام شبیر کیخلاف شکایت درج کروا دی۔ ڈسٹرکٹ اتھارٹی نے انکوائری بٹھائی اور سینئر سول جج کو انکوائری آفیسر مقرر کردیا۔ انکوائری آفیسر نے اپنے طور پر انکوائری کے علاوہ فریقین کو سنا اور بنک کا ریکارڈ بھی دیکھا۔ سلیم نے چیکس کی تفصیل دی اور گواہوں کو پیش کیا۔ شبیر نے اعتراف کر لیا کہ اس نے سلیم سے پیسے تو لیے ہیں لیکن بطور ‘قرض’۔۔۔ نہ کہ رشوت، البتہ اپنے معاملے میں نرمی برتے جانے کی استدعا کی۔ انکوائری آفیسر نے کرپشن ثابت ہونے پر غلام شبیر کو نوکری سے برطرفی کی سفارش کی، جو ڈسٹرکٹ اتھارٹی نے قبول کرتے ہوئے اسے 17 اکتوبر 2018ء کو نوکری سے نکال دیا۔غلام شبیر نے اپنی برطرفی کو پنجاب سروس ٹربیونل میں چیلنج کیا۔ ٹربیونل اس نتیجے پر پہنچا کہ ٹھیک ہے، کرپشن ثابت ہوتی ہے لیکن ملازمت سے برخاستگی اس جرم کے مقابلے میں بہت بڑی اور سخت سزا ہے جو اصولِ توازن کیخلاف ہے۔ ٹربیونل نے 9 جولائی، 2019ء کو سزا میں کمی کرتے ہوئے نوکری کے دو سال کم کر دیے اور ملازمت بحال کردی۔ ڈسٹرکٹ اتھارٹی نے اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی۔

جس کی سماعت دو رکنی بنچ نے کی اور جسٹس منصور علی شاہ نے گزشہ سال مئی میں فیصلہ تحریر کیا۔سپریم کورٹ نے لکھا کہ ٹربیونل بھی اس نتیجے پر پہنچا کہ شبیر کی کرپشن ثابت ہوتی ہے لیکن اسکے باجود شبیر نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔ ٹربیونل کے فیصلے کو قبول کرکے گویا اس نے اقبال جرم کرلیا ہے۔ ملزم کا ایک طرف رشوت کو ‘قرض’ کہنا اور ساتھ ہی نرمی کی درخواست کرنا، اسکے اپنے موقف میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ٹربیونل کا یہ کہنا کہ برطرفی کی سزا جرم کے مقابلے میں بڑی سخت سزا ہے۔۔۔ درست نہیں ہے۔ عدالتی ریکارڈ کیپر (اہلمد) کا عہدہ ایک عوامی امانت ہے۔ جب عدالتی اہلکار ہی رشوت ستانی میں ملوث ہوں تو وہ نظام انصاف پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ ٹربیونل نے کسی ٹھوس وجہ کے بغیر برطرفی کی سزا کو ‘سخت’ قرار دیتے ہوئے فقط سروس میں دو سال کی کٹوتی کی ہے۔ موجودہ کیس میں ملازمت سے برطرفی کی سزا عوامی اعتماد کی حفاظت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم اور غلام شبیر کی نوکری سے برطرفی برقرار رکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رشوت کو ریکارڈ کیلئے چیک کی صورت وصول کرنا، پھر اپنے ہی اکاؤنٹ وہ بھی البرکہ جیسے بابرکت اسلامی بنک میں کیش کرنا۔۔۔ پکڑے جانے پر اسے قرض حسنہ کہہ کر واپسی کا ارادہ رکھنا۔۔۔۔ بلاشبہ اس دھرتی کا سسٹم غلام شبیر جیسے دیانتدار سرکاری ملازمین کی وجہ سے ہی چل رہا ہے۔#کورٹ_کہانی از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

معیشت کی جنگ ۔اظہر سیدپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ روکنا ممکن ہی نہیں ۔کمزور معیشت کی وجہ سے ہمارے پاس اٹھائیس دن کے محفوظ زخائر ہیں ،بھارت کے پاس ڈھائی ماہ کے باقی ممالک کے پاس بھی انکی معیشت کے حوالہ سے محفوظ زخائر ہیں۔اس بات پر بحث ممکن ہے حکومت دوسرے شعبوں کی مراعات کم کر کے عوام کو تحفظ دے لیکن اس بات پر بحث ممکن نہیں حکومت پر خیلج کے بحران کا اضافی بوجھ آن پڑا ہے ۔تنقید کرنے والے بکواس کرتے ہیں پہلے سے خریدے گئے تیل پر حکومت کمائی کر رہی ہے ۔سادہ بات اتنی ہے اٹھائیس دن کے زخائر محفوظ رکھنے کیلئے ہیں ،ریاست کا پہیہ چلانے کیلئے ہر روز نئی عالمی قیمتوں کا اطلاق ہو گا ۔پہیہ ریاست کی زندگی چلانے کیلئے بنیادی چیز ہے ۔ایک لیٹر میں پچاس پچپن روپیہ اضافہ کا دوسرا مطلب غریب لوگوں کی پہلے سے سسکتی زندگی کی اذیت میں اضافہ ہے ۔حکومت بنیادی فیصلے کر کے عوام کو ریلیف دے سکتی ہے ۔کم از کم ڈیزل جو تجارتی اشیاء کی نقل و حمل کا مرکزی نکتہ ہے اسکی قیمتوں میں عوام کو تحفظ ملنا چاہئے تاکہ منڈی تک اشیاء کی نقل و حمل پہلے کی قیمت پر جاری رہے ۔پٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کر دیں ۔انتظامی فیصلوں سے تیرہ سو سی سی کی گاڑیوں کیلئے پٹرولیم مہنگا کر دیں ۔مخصوص علاقوں میں موٹر سائیکل اور کار کی جگہ سائیکل لازمی قرار دے دیں ۔غیر ضروری حکومتی اخراجات پر پابندی لگا دیں ۔ریاست کے پاس عوام کو تحفظ دینے کے سو راستے ہوتے ہیں ۔وی آئی پی اگر گاڑیوں کی جلو میں سفر کریں گے تو یقیناً اسکی قیمت عوام نے ادا کرنا ہے ۔پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونگی اور ہوتی جائیں گی ۔ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے آج بند ہو جائیں اثرات چھ ماہ تک دنیا کو بھگتنا ہیں ۔یہ جنگ جاری ہے اور اس کے انڈے بچے مستقبل کی دنیا تبدیل کر دیں گے ۔دنیا گیارہ ستمبر کے ردعمل میں ہے اور گیارہ ستمبر کی آڑ میں جنہوں نے اپنی جنگی صنعت چلائی پچھلے تین دن سے وہ جنگی صنعت والوں کے ساتھ اجلاس کر رہے ہیں اور میڈیا کو بتاتے ہیں “پیداوار” میں جنگی بنیادوں پر اضافہ کیا جا رہا ہے ۔میڈیا میں جو ہائپ بنائی جاتی ہے فلاں کے پاس دفاعی میزائل کم ہوتے جا رہے ہیں وہ اصل میں جنگی پیدوار میں اضافہ کے جواز ہیں ۔جب مختلف ممالک میں میزائل گرتے ہیں تو اصل میں مستقبل کے دفاعی سودے پکے کئے جاتے ہیں ۔ایران پر حملہ حقیقت میں چین سے خوفزدہ مغرب کی دفاعی جنگ ہے جس میں مغرب ہار جائے گا کہ چینی معیشت محفوظ ہے اور دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی میں مغرب سے پیچھے نہیں ۔

امریکا نے اشارہ دیا ہے وہ ایران میں سپیشل دستے اتارنے کا سوچ رہا ہے جن کا کام ایران کے پاس موجود 450 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورنیم کو قبضے میں لے کر اس کو محفوظ مقام تک پہنچانا ہو گا۔ اس پر ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آ جا تینوں اکھیاں اُڈیکدیاں دل واجاں ماردا۔ سعودیہ نے بھائی صاحب کو پھر پیغام بھیجا ہے کہ او باز نئیں آ رے۔ بھائی صاحب نے کہا ہے بہت برا ہو رہا۔ آپ کے سامنے ٹویٹ تو ان سے کرا دی تھی۔ کال بیک کرتا ہوں آپ فون بند کریں۔ پھر سے ایران رابطہ کیا گیا ہے کہ خدارا ہماری مجبوری سمجھیں۔ انہوں نے پھر کہا ہے کہ وہ تو ٹھیک ہے آپ ہمارے بھائی ہیں لیکن پاسداران انقلاب کے اہلکار سینٹرل کمانڈ کے نہ ہونے کے سبب آزاد امیدوار کے طور پر جگہ جگہ ٹولیوں میں بٹ چکے ہیں اور ان کے ہاتھ میں چھوٹے بڑے میزائلز ہیں۔ تسی دسو میں کی کراں ؟۔ صورتحال عرب لیگ کے اجلاس میں ڈسکس ہونے پہنچ گئی ہے۔ بہرحال، بھائی صاحب پریشان ہیں، ولی عہد زیادہ پریشان ہیں اور ایرانی سب سے زیادہ پریشان ہیں اور ٹرمپ بھی واش روم میں جا کر روتا ہے۔ مڈل ایسٹ میں آٹھ تھاڈ سسٹمز انسٹال تھے جن میں سے چار کو ایران کامیابی سے نشانہ بنا کر اڑا چکا ہے۔ جنگ سب کے دائرے سے باہر ہو گئی ہے۔ چینی بھائیوں کے ہاتھ سے وینزویلا جا چکا ہے۔ وہ وینزویلین آئل کے سب سے بڑے گاہک تھے۔ اس کے بعد وہ ایرانی تیل کے گاہک تھے۔ چینی بھائی بھی سخت پریشان ہیں۔ وہ ایران میں امریکا نواز رجیم دیکھنا چاہتے ہیں نہ ایران میں امریکی شہہ پر کوئی خانہ جنگی افورڈ کر سکتے ہیں۔البتہ ان کو ایک بات کی راحت ہے کہ تائیوان کے دفاع واسطے نصب کیے گئے اینٹی میزائل سسٹم امریکا منتقل کر رہا ہے۔تاحال تائیوان کا دفاع کمزور ہو رہا ہے البتہ چین اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تائیوان کا محاذ نہیں کھولنا چاہے گا۔ اس کا ملٹری ڈاکٹرائن ایکسپنشن اور جنگ لگانے کے خلاف ہے۔چائنہ کا مفاد صرف و صرف عالمی تجارت میں ہے جو اسے معاشی سپرپاور بنا رہا ہے۔ جنگیں اس کے مفاد کے خلاف ہیں۔ اور ایران میں کوئی بھی تبدیلی یا جنگی صورتحال بھی اس کے مفادات کے خلاف ہے۔جاپانی اور ساؤتھ کورین بھائی بھی پریشان ہو چکے ہیں۔ وجہ تائیوان کے دفاعی نظام کو مڈل ایسٹ کی جانب منتقل کرنا ہے۔ یہ دفاعی نظام جاپان اور کوریا کا بھی راکھا تھا۔ گویا ان کے لیے تو ایسا ہے جسے ابا نے سر سے ہاتھ اُٹھا لیا ہو۔ وہ دونوں امریکا کو واٹس ایپ کر رہے ہیں کہ مرو ساڈا کی قصور اے ؟ اس سارے جنجال پورے میں اگر کوئی خوش ہے تو وہ پوٹن ہے۔ پوٹن بھیا کے لیے خوشخبری ہے۔ یوکرین سے توجہ ہٹ رہی ہے اور یوکرین کا ساز و سامان بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔ امریکا نے اس سے ایرانی شاہد ڈرونز کے توڑ واسطے مدد مانگی ہے۔ زلینسکی نے بھی موقع پر چوکا لگاتے کہا ہے ہاں ہاں کیوں نہیں مدد لے لو مگر سالو، ہماری باری تو ہاتھ اُٹھا دیتے ہو۔ دراصل یوکرین کو روسی ایم نائن ڈرونز سے نپٹنے کا تجربہ ہے۔ ایم نائن دراصل ایرانی شاہد ڈرونز کا ہی دوسرا نام ہے۔ وہی ٹیکنالوجی ، وہی ساخت۔ بس نام تبدیل ہیں۔ جنگ کا پھیلاؤ پوٹن کے حق میں ہے۔ کئی ممالک تیل کی خریداری کے لیے اس کی جانب دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ اور آپ پاکستانیو، آپ کے لیے آنے والے دن بہت زیادہ مالی پریشانیاں لانے والے ہیں۔ تُسی اودوں تائیں ریلز ویخو، میزائل اڈدے انجوائے کرو، زندہ باد مردہ باد دے نعرے لاؤ۔ والسلام

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved