تازہ تر ین

جنرل عاصم منیر جب ایک اہم انٹیلیجنس ذمہ داری پر فائز تھے تو اُن کے سامنے ایک ایسا معاملہ آیا جس میں طاقتور شخصیات کے نام شامل تھے۔ بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ اس رپورٹ کو نظر انداز کر دیا جائے یا نرم کر کے پیش کیا جائے، تاکہ کسی بڑے نام کو نقصان نہ پہنچے

جنرل عاصم منیر جب ایک اہم انٹیلیجنس ذمہ داری پر فائز تھے تو اُن کے سامنے ایک ایسا معاملہ آیا جس میں طاقتور شخصیات کے نام شامل تھے۔ بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ اس رپورٹ کو نظر انداز کر دیا جائے یا نرم کر کے پیش کیا جائے، تاکہ کسی بڑے نام کو نقصان نہ پہنچے۔لیکن جنرل عاصم منیر نے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا:”ریاستی ادارے افراد سے نہیں، اصولوں سے چلتے ہیں۔ اگر سچ دبایا گیا تو کل ملک اس کی قیمت چکائے گا۔”انہوں نے دباؤ کے باوجود رپورٹ کو بغیر کسی تبدیلی کے اعلیٰ حکام تک پہنچایا۔ اس فیصلے کی وجہ سے وقتی طور پر انہیں ذاتی نقصان اور عہدے سے ہٹائے جانے جیسے نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہی دیانت اور جرات ان کی پہچان بن گئی، اور یہی خصوصیات بعد میں ان کے اعتماد، ترقی اور قیادت کی بنیاد بنیں۔سبقیہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:سچ وقتی نقصان دے سکتا ہے، مگر مستقل عزت دیتا ہےاصولوں پر قائم رہنے والا شخص ہی حقیقی لیڈر ہوتا ہےدباؤ میں درست فیصلہ کرنا ہی کردار کی اصل پہچان ہے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved