پی آئی اے کی تاریخ کی لیجنڈ ائیر ہوسٹس مومی گل درانی ، رشیدہ اور 2 جڑواں بچوں کے طویل سفر کا دلچسپ واقعہ ۔۔۔۔یہ تصویر اگست 1962 میں لی گئی جب مومی گل اور رشیدہ کی گود میں یہ بچے لندن سے کراچی کا طویل سفر کرکے پہنچے تھے۔ دونوں جڑواں بچوں، فہیم احمد اور سوزین افراح محض پانچ ماہ کی عمر میں 4,500 میل کا فضائی سفر بغیر والدین کے طے کر کے کم عمر ترین جیٹ مسافر بن گئے۔ وہ لندن سے پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچے اور بیس منٹ بعد راولپنڈی کے لیے متصل پرواز لے کر مزید 700 میل کا سفر اپنی فلائٹ لاگ میں شامل کیا۔ان کے والدین کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے انگلینڈ میں ہی قیام کرنا پڑا۔لندن سے کراچی تک کے سفر کے دوران یہ بچے مکمل طور پر پی آئی اے کی ایئر ہوسٹسز مومی گل درانی اور رشیدہ کی نگرانی میں رہے۔کراچی میں لینڈنگ کے بیس منٹ بعد جڑواں بچوں کو ایئر ہوسٹسز کی ایک اور جوڑی کے سپرد کر دیا گیا، جنہوں نے راولپنڈی تک سفر کے دوسرے مرحلے میں ان کی دیکھ بھال کی۔مومی گل درانی 1950 اور 1960 کی دہائی میں پی آئی اے کے نہایت تربیت یافتہ کیبن کریو ارکان میں سے ایک تھیں۔ وہ قدآور، گوری رنگت کی حامل اور فلمی ستاروں جیسی وجاہت رکھتی تھیں، اور پی آئی اے نے انہیں اپنے متعدد اشتہارات میں نمایاں کیا تھا۔ ان اشتہارات نے مومی کو اپنے دور کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی پی آئی اے ایئر ہوسٹس بنا دیا تھا۔ 20 مئی 1965 کو مومی پی آئی اے کے بوئنگ 720B جیٹ لائنر پر ڈیوٹی پر تھیں جو قاہرہ ایئرپورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس افسوسناک سانحے میں مومی گل سمیت 114 افراد جاں بحق ہو گئے تھے ، اللہ کریم مومی گل درانی اور اسے حادثے میں تمام جان بحق مسافروں کے درجات بلند فرمائے آمین










