تازہ تر ین

سکھ کو پگڑی پر ہیلمٹ پہننے کا ریلیف مل سکتا ہے تو مسلمان کا امامہ شریف اس پگڑی سے بہت افضل اس کو ھیلمٹ استثناء کیوں نہیں۔امریکہ ایران کا بھی کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو چین اتنی آسانی سے تیل حاصل نہیں۔۔وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ٹرمپ کی فیورٹ ہے وھی صدر ھو گی امن کا ایوارڈ دیا گیا جو ٹرمپ کے نام کر دیا گیا۔۔شمالی وزیرستان میں صبح 5 سے شام 7 بجے تک دفعہ 144 نافذ، تمام داخلی و خارجی راستے بند۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وہ وقت جب گاماں پہلوان نے مالی حالات سے مجبور ہو کر قائداعظم محمد علی جناح کو مدد کے لیے خط لکھا اور اپنی روزانہ کی خوراک کی فہرست بھیجی ۔۔۔۔۔گاماں پہلوان قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے تھے ا‘ وہ مالی لحاظ سے ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا‘ وہ پہلوانی بھی جاری رکھنا چاہتے تھے اور اپنا اکھاڑہ بھی قائم کرنا چاہتے تھے لیکن روپیہ پیسہ نہیں تھا‘ اس زمانے میں پہلوانوں کی خوراک بہت اچھی ہوتی تھی‘ اس میں بادام اوردرجن بھر مغزیات ہوتے تھے اور بکرے کا تازہ گوشت اور دیسی گھی بھی‘ گاماں صاحب مالی تنگی کی وجہ سے خوراک کے بحران کا شکار ہو گئے چناں چہ انہوں نے امداد کے لیے قائداعظم کو خط لکھ دیا‘قائداعظم جسمانی لحاظ سے کم زور تھے‘ ان کا وزن بھی کم تھا اور وہ دھان پان بھی تھے‘انسانی نفسیات کے مطابق جسمانی لحاظ سے کم زور لوگ ہمیشہ مضبوط‘ لمبے تڑنگے اور صحت مند لوگوں کو پسند کرتے ہیں‘ قائداعظم کو بھی پہلوان‘ ریسلر‘ باڈی بلڈر اور باکسر اچھے لگتے تھے

لہٰذا قائداعظم ہمیشہ تگڑے اور مضبوط کاٹھی کے لوگوں کو ملازم رکھتے تھے‘ قائد کا ڈرائیور آزاد بھی سوا چھ فٹ کا ’’ویل بلڈ‘‘ شخص تھا‘ آزاد قیام پاکستان کے بعد فلموں میں آیا اور بڑا نام کمایا‘ قائداعظم گاماں پہلوان کو بھی پسند کرتے تھے چناں چہ انہوں نے گاماں کا خط اس کی خوراک کی فہرست کے ساتھ پنجاب کے گورنر سر فرانسس مودی کو بھجوا دیا‘ گورنر نے خط پڑھا‘ خوراک کی فہرست دیکھی اور مسکرا کر کہا ’’پورے پنجاب کی خوراک ایک طرف اور گاماں پہلوان کا کھانا ایک طرف‘ ہم دیوالیہ ہو جائیں گے‘‘ ۔گاماں پہلوان کی زندگی کا ایک اور دلچسپ مگر سبق آموز واقعہ : ‘ گاماں پہلوان ایک دن لاہور کی کسی تنگ گلی سے گزر رہے تھے ‘ سامنے کسی کا اڑیل بیل کھل گیا‘ بیل تیزی سے گاماں پہلوان کی طرف دوڑ پڑا‘ پہلوان صاحب نے چند لمحوں میں صورت حال کا اندازہ کیا‘ واپس مڑے اور دوڑ لگا دی‘ اب صورت حال یہ تھی رستم ہند گاماں پہلوان آگے آگے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے اور لوگ گاماں پہلوان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے‘ راستے میں کسی کا گھر آ گیا‘ گاماں پہلوان نے چھلانگ لگائی اور اس گھر میں گھس کر پناہ لے لی‘ لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے‘ وہ بہت حیران ہوئے‘ کیوں؟ کیوں کہ انہوں نے گاماں کی بہادری کے بے شمار قصے سن رکھے تھے جن میں پہلوان صاحب بیل کو سینگ سے پکڑ کر زمین پر بھی گرا دیتے تھے لیکن جب بہادری کا عملی ثبوت دینے کا وقت آیا تو گاماں آگے تھا اور بیل پیچھے‘ یہ دیکھ کر لوگوں کو بہت افسوس ہوا

اورگاماں پہلوان کی بہادری کے سارے قصے جھوٹے اور زیب داستان محسوس ہونے لگے‘ اس کا اظہار شام کے وقت ان کے ایک شاگرد نے کر بھی دیا‘ گاماں پہلوان سن کر ہنسے اور پھر بولے ’’پتر میرا میدان اکھاڑہ ہے‘ گلی نہیں اور میں پہلوانوں سے لڑتا ہوں بیلوں سے نہیں‘‘ یاد رکھو ساری لڑائیاں آپ کی لڑائیاں نہیں ہوتیں‘ وہاں لڑو جہاں عزت ہو‘ بے عزتی کا سودا نہ کرو‘‘۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved