تازہ تر ین

شدید سردی : تعلیمی ادارے بند ، فیصلہ ہو گی۔۔تیرہ میں آپریشن کھلی بدمعاشی ھے وزیر اعلی کے پی۔منفی ساٹھ ڈگری کی وہ یخ بستہ ہوائیں اور برف کے طوفان،جہاں سانس لینا بھی اک کٹھن امتحان بن جاتا ہے۔مگر وطن کے پاسبانوں کا عزم اور ہمت اس برف سے زیادہ بلند ہے،جو ان سنگلاخ چوٹیوں پر بھی سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھتے ہیں۔*چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت 2 ججز کے خلاف شکایت دائر حکومت کا زیادہ خسارے والے بجلی کے فیڈرز کوشمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ 22 رنز سے ورلڈکپ جیت کر 22 سال کی جدو جہد کے بعد22واں وزیراعظم 22ویں سپارے کا لفظ خاتم النبیین نہ پڑھ سکنے والا عیدالفطر سے 22 دن پہلے2022 میں زلیل وخوار ہوکے نکلا۔۔۔بھارتی سٹاک ایکسچینج کریش جبکہ پاکستان میں الفلاح بینک دیوالیہ۔۔ کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

منفی ساٹھ ڈگری کی وہ یخ بستہ ہوائیں اور برف کے طوفان،جہاں سانس لینا بھی اک کٹھن امتحان بن جاتا ہے۔مگر وطن کے پاسبانوں کا عزم اور ہمت اس برف سے زیادہ بلند ہے،جو ان سنگلاخ چوٹیوں پر بھی سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای:▪️”ٹرمپ کو اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔”▪️ “ایران اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔”▪️ “ہم ملک میں ایجنٹوں کو برداشت نہیں کریں گے۔”

*چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت 2 ججز کے خلاف شکایت دائر*جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس ابہر گل خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کی گئی`کونسل دونوں ججز کی تعلیمی اسناد اور مجموعی اہلیت کا تفصیلی جائزہ لے،درخواست گزار ‏پیپلز پارٹی کی جانب سے سعید غنی نے وزیراعلی سہیل آفریدی کا استقبال کیا۔یہ ایک بہترین عمل تھا اسکو ہم سب سراہتے ہیں۔,‏سہیل آفریدی کا استقبال پیپلز پارٹی نے سندھی ٹوپی پہنا کے کیا ن لیگ کو کوئی خوب ذلیل کر رہا ہے .😂

پنجاب میں اب جعلی مقدمات دائر نہیں ہوں گے چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کا جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے منصوبہ پر عمل درامد شروع لاہور ہائیکورٹ کا ضلعی عدلیہ میں بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاریپنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے سے قبل بائیو میٹرک لازمدرخواست گزار، مدعا علیہان اور فریقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمیضمانتی بانڈ جمع کرانے والوں اور بیانات دینے والوں پر بھی بائیو میٹرک لاگوبائیو میٹرک تصدیق کا اطلاق 20 جنوری 2026 سے ہوگااقدام کا مقصد نقالی کی روک تھام اور عدالتی شفافیت یقینی بناناچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاریڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کیا نوٹیفکیشن کی نقول صوبہ بھر کے سیشن ججز سمیت دیگر کو بھجوائی گئیں

یہ اسی کی دہائی میں افغانستان کی ایک برفیلی اور خاموش رات تھی جب کنڑ میں سوویت یونین کی سب سے خونخوار ایلیٹ فورس یعنی روسی گوریلوں ‘اسپیٹناز’ کو ایک خاص مشن سونپا گیا؛ مشن تھا افغان مجاہدین کی شہ رگ یعنی ان کی سپلائی لائن کو کاٹ کر بے ضرر کر کے چن چن کر مارنا، روسی کمانڈوز اپنے جدید ہتھیاروں اور دنیا کی سخت ترین تربیت کے زعم کے ساتھ پہاڑی دروں میں پیراشوٹ سے چھلانگیں لگا کر زمین پر پوزیشن سنبھال ہی رہے تھے کہ اچانک اندھیرے میں کچھ سائے سنگلاخ پہاڑوں پر نمودار ہوئے یہ اس احتیاط سے حرکت کر رہے تھے گویا ہوا میں معلق ہوں کوئی آواز نہ، پتھر کنکر لڑھکنے کی آواز… روسی گوریلے ان سایوں کی آمد سے بے خبر اپنے کمانڈر کے اگلے احکامات کا انتظار کر رہے تھے، ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ انتظار انکی موت پر ختم ہوگا اور یہ موت کا تحفہ افغان مجاہدین کی جانب سے نہیں ہوگاسیاہ رات میں بمشکل دکھائی دینے والے یہ حرکت کرتے سائے ان روسی کمانڈوز کے حصار میں گھس گئے، پوزیشنیں لے لی گئیں اور پھر برفیلی رات کا سکوت گولیوں کی گھن گرج نے توڑ دیا، روسی کمانڈوز َ دنیا کی سخت ترین بے رحم فورس سمجھی جاتی ہے ان کی جان لیوا ٹریننگ کو مکمل کرتے کرتے بچ رہنے والوں کی تعداد پانچ سے دس فیصد ہوتی ہے باقی ناکام ہوجاتے ہیں،اس سنگدل ٹریننگ کے باوجود وہ پہاڑوں سے اترنے والے پراسرار سایوں کا مقابلہ نہ کرسکے، یہ شب خون اتنا اچانک اور شدید تھا کہ روسیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا، جب اگلی صبح جب سورج طلوع ہوا تو وادی میں موت کی سی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں وہاں کے منظر نے روسی جنرلوں کو ہلا کر رکھ دیا، انہیں بھاری جانی نقصان ہوا تھا لیکن سوال یہ تھا کہ یہ نقصان کس نے پہنچایا کس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا… اس کا جواب ایک روسی میجر کے سینے میں پیوست خنجر سے ملا یہ خنجر عام تھا نہ اس کا استعمال کرنے والا کوئی عام انسان تھا، یہ روایتی فولادی خنجر پاکستان کے ایس ایس جی کمانڈوز کے لئے مخصوص تھا اور اس بات کا اعلان تھا کہ یہاں مقابلہ صرف گولیوں کا نہیں بلکہ دو بدو بھی ہوا ہے، یہیں سے تربیلا کے پاس چراٹ کے گھنے جنگلوں میں بے رحم. اور سفاک تربیت کرنے والے کمانڈوز کا نام بلیک اسٹورکس پڑا، اس کے بعد روسی سپاہی ایک عجیب خوف میں مبتلا ہوگئے،حال یہ ہوگیا کہ کہیں میدان گرم ہوتا تو روسی اپنے وائرلیس پر چلاتے ملتے “کالے بگلے آ گئے ہیں…. !” روسی پائلٹوں نے اپنی ڈائریوں میں لکھا کہ پاکستانی کمانڈوز سیاہ وردی میں پیرا شوٹ سے ایسے اترتے تھے جیسے شکاری پرندے اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں بگلا اسی طرح چپکے سے بجلی کی سی سرعت سے حملہ کرتا ہے. ایس ایس جی کی بات چلی ہے تو سیلانی بتاتا چلے کہ اس ہیبت ناک دنیا کا حصہ بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں. یہاں بھرتی کا طریقہ کار انتہائی سخت اور اعصاب شکن ہے۔ اس فورس کے لئے براہِ راست کوئی بھرتی نہیں ہوتی، بلکہ پاک فوج کے وہ جوان اور افسر جو جگرا رکھتے ہیں خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان امیدواروں کو پہلے کئی ہفتوں کے کٹھن جسمانی اور ذہنی ٹیسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے اور عموما اسی فیصد سے زائد امیدوار رہ جاتے ہیں، جو باقی بچتے ہیں، انہیں چراٹ کے پہاڑوں میں ‘ایس ایس جی کورس’ کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کے حوصلے ہمت جرت کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں تربیت صرف جسمانی ورزش کا نام نہیں بلکہ یہ ایک انسان کو فولاد میں ڈھالنے کا عمل ہے، جس میں 12 گھنٹوں میں 58 کلومیٹر اور تیس سے چالیس منٹ میں اٹھ کلو میٹر کی دوڑ بھاری بھرکم سامان کے ساتھ طے کرنا ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔تربیت کا سب سے خوفناک اور دلچسپ مرحلہ ‘سروائیول ٹریننگ’ کہلاتا ہے، جہاں کمانڈو کو” دشمن” کے علاقے میں بغیر کسی خوراک اور پانی کے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں زندہ رہنے کے لیے انہیں وہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے

جس کا ایک عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پیاس مٹانے کے لیے انہیں جنگلی پودے جڑی بوٹیوں کی پہچان کرائی جاتی ہے جنہیں چبا کر ان کے رس سے پیاس بجھائی جاسکے ، مینڈک اور سانپ پکڑ کر کھانے اور جانوروں کا خون پینے اور ان کے ذریعے اپنی توانائی برقرار رکھنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے تاکہ مشن کی تکمیل میں بھوک کبھی رکاوٹ نہ بنے۔ اسی دوران انہیں دنیا کے جدید ترین اسلحے کے استعمال میں اس قدر ماہر بنایا جاتا ہے کہ وہ اندھیرے میں بھی صرف آواز کی دستک پر دشمن کو نشانہ بنا سکتے ہیں، چاہے وہ اسنائپر رائفل ہو یا ہینڈ گن، ان کا ہر وار حتمی ہوتا ہے ایس ایس جی کی تربیت کا سب سے خفیہ اور مشکل ترین پہلو ‘تشدد سہنے کی صلاحیت تربیت’ (Resistance to Interrogation) ہے۔ اس مرحلے میں جوانوں کو فرضی طور پر دشمن کی قید میں دیا جاتا ہے جہاں ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کے وہ تمام طریقے آزمائے جاتے ہیں جو ایک دشمن، ٹارچر سیل میں ان پر کر سکتا ہے۔ انہیں بھوکا رکھا جاتا ہے، نیند سے محروم کیا جاتا ہے اور انتہائی تکلیف دہ حالات میں نہایت بے رحمی سے رکھا جاتا ہے تاکہ اگر کبھی وہ اصل جنگ میں دشمن کے ہتھے چڑھیں تو ہڈیاں ٹوٹ جائیں لیکن عزم نہ ٹوٹے…..یہی “من جانب اللہ “والوں کی پہچان ہے!عدنان شریف جٹ

22 رنز سے ورلڈکپ جیت کر 22 سال کی جدو جہد کے بعد22واں وزیراعظم 22ویں سپارے کا لفظ خاتم النبیین نہ پڑھ سکنے والا عیدالفطر سے 22 دن پہلے2022 میں زلیل وخوار ہوکے نکلا۔۔۔🙃کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے😂

*پنجاب میں دھند کا زور کم ، سرد ترین صبح کا امکان*محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب میں اگلے دو گھنٹوں کے دوران دھند کے بادل مکمل طور پر تحلیل ہو جائیں گے۔ آج دوپہر سے شمالی علاقوں کی خشک ہوائیں داخل ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دھند کی موجودہ تہہ کمزور ہو رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کل صبح بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں دھند پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم بعض موسمی ماڈلز کے مطابق صبح کے ابتدائی اوقات میں شدید کہرا چھا سکتا ہے اور درجہ حرارت معمول سے کم رہنے کی وجہ سے یہ سرد ترین صبح بھی ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ صبح کے وقت گاڑی چلانے یا سفر کے دوران احتیاط برتی جائے، خاص طور پر کھلی سڑکوں اور دیہی علاقوں میں جہاں دھند کی شدت زیادہ ہو سکتی ہے۔مزید برآں، محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کم روشنی اور محدود نظر کے باعث ٹریفک کے دوران ہلکی رفتاری اور ہیڈلائٹس کے استعمال کا خیال رکھا جائے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved