تازہ تر ین

لاہور ھای کورت کے چار ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر۔۔اڈیالہ کی چھت کا فضائی راستہ دھند کی وجہ سے معدوم۔۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل افریدی اج ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وکلاء سے“پاکستان کی بقا جمہوریت میں ہے” کے عنوان سے خطاب کریں گے۔: پولیس بغیر عدالتی اجازت شہریوں کا موبائل فون چیک نہیں کر سکتی ،لاہور کی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ: پولیس بغیر عدالتی اجازت شہریوں کا موبائل فون چیک نہیں کر سکتی ، پرائیویسی کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول قرار۔۔ افغانستان کے ساتھ 18 ارب ڈالر کا معاہدہ جھوٹ یا سچ۔۔مولانا فضل الرھمان سے چند مولانا کی ملاقاتیں۔۔پرایٹویزشن کے نام پر فراڈ اور فراڈ 1000 ھزار ارب روپے کا ڈاکہ۔۔پاور ڈویژن نے 46 ارب روپے کے 15 پلانٹ پرائٹوز کئے 2 ارب موصول نہ ھو سکے۔۔پاور ڈویژن کا ایک ڈیپوٹیشن پر ایا ایک آفیسر ریٹائرڈ سینٹر اور پی او ایف واہ کا آفیسر ملوث ۔پی او ایف کا لیٹر کس نے جاری کیا 9 اقساط کا شیڈول بھی جاری ھوا۔“مثالی کارکردگی” کا بیانیہ صرف ایک مہنگا سرکاری اشتہار رہے گا—حقیقت نہیں۔۔۔کھربوں روپے کی بارش میرٹ کا قحط تعریفیں آسمان پر فائلیں زمین میں دفن۔۔ بلوچستان اربوں روپے کی بارش 3 ماہ میں 111 ارب روپے کی کرپشن۔۔ سعودی عرب متحدہ عرب امارات ایران کا مستقبل خطرے میں چین دنیا کا حکمران امریکہ کا ڈاون فال نیو ورلڈ آرڈر جاری ۔۔شمالی وزیرستان میں صبح 5 سے شام 7 بجے تک دفعہ 144 نافذ، تمام داخلی و خارجی راستے بند۔۔۔ ریڈ الرٹ برائے تمام ہاسٹل میں مقیم طلبہاطلاع دی جاتی ہے کہ ایک بار پھر گیٹ نمبر 2 سھیل رانا لاءیو۔۔جعلی تحریک انصاف کے سابقہ لیڈر فراڈیے قرار۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

تین دن پہلے افغان دارالحکومت کابل میں چین، افغانستان، ایران، روس ازبکستان، تاجکستان، ترکمنستان، کرغستان، ازبکستان، قزاکستان اور ارمینیا کے سیکرٹری خارجہ کا اجلاس ھوا۔اجلاس میں تمام ممالک نے ایران کے شہر زیدان سے افغانستان کے راستے سے تمام ممالک میں موٹروے بنانے پر اتفاق کیا۔اگلے سال جنوری میں چین اور روس 30 30 ارب ڈالر فراھم کریگا، ایران 5 ارب ڈالر فراھم کریگا۔افغانستان کو راستے کے مد میں ٹیکس فری ملک قرار دیاگیا۔جو سالانہ افغانستان کو ٹول ٹیکس سے 18 ارب ڈالر امدنی ھوگی۔۔۔!

اسلام آباد:4 جنوری 2026ٹیکرز:جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے راولپنڈی اسلام آباد کے جید علماء کرام کے وفد کی ملاقات مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مدارس مساجد کے تحفظ کے تعاون کی یقین دہانی مساجد مدارس کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔مولانا فضل الرحمان بیرونی دباؤ پر حکومت کی مدارس مساجد کے خلاف کسی قسم کی سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے ۔مولانا فضل الرحمان دینی مدارس کیخلاف یہ رویہ انکا اپنا نہیں بلکہ بیرونی ایجنڈا ہے کہ مذہبی نوجوانوں کو مشتعل کرکے ریاست سے لڑایا جائے۔مولانا فضل الرحمان مدارس کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ قوتیں ملک میں ایسے ماہرینِ شریعت نہیں دیکھنا چاہتیں جو شریعت کے مطابق قانون سازی کر سکیں۔مولانا فضل الرحمان دینی مدارس کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کا رویہ دراصل بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے ،جس کا مقصد نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانا ہے

۔مولانا فضل الرحمان راولپنڈی اسلام آباد میں مساجد اور مدارس کے انہدام کی حکومتی اقدامات پر اظہار تشویش ۔ترجمان جے یو آئی اسلام آباد حکومتی بدنیتی کے باعث مدارس رجسٹریشن کی تاخیر پر اسلام آباد میں بڑے احتجاجی مظاہرے پر غور وفکر ۔ترجمان جے یو آئی اسلام آبادملاقات میں مدنی مسجد کی تعمیر نو کے بعد کی صورتحال پر غور وخوض ۔ترجمان جے یو آئی اسلام آباد وفد کی قیادت امیر جے یو آئی اسلام آباد مفتی اویس عزیز نے کی ۔ ترجمان جے یو آئی اسلام آباد اجلاس میں صوبائی رہنماء جے یو آئی پنجاب مولانا سعید الرحمان سرور ، مفتی عبدالرحمان ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،ڈاکٹر ضیاء الرحمان ،مولانا نذیر احمد فاروقی ،مولانا عبدالغفار ،مفتی عبدالسلام ،مفتی امیر زیب ،ارشد عباسی ، مفتی عبداللہ ،مفتی مسرت اقبال ، قاری اسرار اللہ ، مولانا عبدالکریم ، مولانا عبدالقدوس محمدی ،مولانا احمد الرحمان شریک ۔میڈیا سیل جےیوآئی پاکستان

وینزویلا نہیں ایران ٹارگٹ ہے ۔ ستمبر سے امریکہ بحریہ کشتیوں کو یہ کہہ کر نشانہ بنا رہی تھی کہ ان میں وینزویلا سے منشیات آ رہی ہیں ۔ یہ صدر نکولس مادورو کے لیے میسج تھا کہ نس بھج جا مکئ کے دانے ۔ نومبر میں امریکی ائر کرافٹ کیریر دس ہزار ٹروپس لے کر وینزویلا کے نزدیک تعینات ہو گیا ۔ اگست میں سی آئی اے نے اپنی ٹیم وینزویلا کے دارالحکومت کراکاس میں اتار دی تھی جو سٹیلتھ ڈرون ، ڈیجیٹل جاسوسی اور اک ہیومن سورس کے ذریعے وینزویلا کے صدر کی نگرانی کر رہی تھی ۔ یو ایس آرمی کی ایلیٹ کمانڈور فورس نے صدارتی محل کا ماڈل بنا کر ریہرسل شروع کر رکھی تھی ۔ مارکو روبیو نے دو دسمبر کو انٹرویو دیا فاکس نیوز کو اس میں بتایا کہ امریکہ فسٹ کرنا ہے تو پہلے اپنا گھر امریکہ ہی صاف کرنا ہو گا ۔ وینزویلا میں ایران نے پہنچ کر ہماری پشت میں جھنڈا گاڑ رکھا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسرائیلی نیوز سائٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ دل سے سمجھتا ہے کہ امریکہ کے سابق صدور باقاعدہ چول (اصل لفظ کچھ اور لکھا ہے وہاں ) تھے ۔امریکی صدور کو یہ سمجھنے کے باوجود ٹرمپ استاد نے جو نیشنل سیکیورٹی سٹریٹجی دسمبر میں جاری کی اس میں مونرو ڈاکٹرائن کو بحال کرنے کی ایک لائین لکھی ہوئی ہے ۔ جیمز مونرو پانچواں امریکی صدر تھا

۔ اس نے ایک بیان نمبر 1823 دیا تھا ، جس کو بعد میں گیارہویں صدر نے مونرو ڈاکٹرائن قرار دیا ۔ ٹرمپ کے دل کو وجا ہے یہ بیان ۔ اور اس کا ماننا ہے کہ اگر اسے امریکہ (براعظم) میں کوئی کاروائی کرنی ہے تو یو این ماسی لگتی ہے کہ اس سے پوچھوں ، وہ پردہ کر لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کافی خجل خوار ہو کر پی کے پلس کے لیے اک رپورٹ بنائی ہے ۔ اس محنت کی وجہ اک پیارے جماعتی دوست کا دکھ ہے ، جو سرخوں کو ورغلا کر امریکی جارحیت پر کوئی غیرت وغیرہ دکھانے کو اکساتی دکھ بھری تحریر لکھی جا رہا ۔ سرخے پاکستان میں جتنے بھی ہیں ان کا کل وزن پونے دو سالم بندوں سے زیادہ نہیں بنتا ۔ یہ طاقت کا کھیل ہے ، اس کو نظریاتی ، اصولی ، اخلاقی بنیادوں پر دیکھیں گے تو سرپرائز ہی ملیں گے ۔ تو سرپرائز سے بچنا اہم ہے ۔ سرپرائز ملیں تو نہ کاروبار چلتے ہیں نہ سرکار اور نہ عقل کام کرتی ہے ۔

**بلوچستان:اربوں کی بارش، میرٹ کا قحط**تعریفیں آسمان پر،فائلیں زمین میں دفن*کوئٹہ —بلوچستان حکومت کی “مثالی کارکردگی” پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے *ذرائع کے مطابق سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری (P&D) نے صرف تین ماہ میں کمیشن کی مد میں مبینہ طور پر 11 ارب روپے کمائے۔ عام آدمی اگر اتنی دولت کا خواب بھی دیکھ لے تو نیند اُڑ جاتی ہے، مگر یہاں سب کچھ “نارمل” ہے۔اب نئے آنے والے افسر زاہد سلیم نے گویا اعلانِ مقابلہ کر دیا ہے—کہ میدان خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔ چنانچہ “گڈ گورننس” کا آغاز یوں ہوا کہ اربوں کے منصوبے جونیئر ترین افسران کے حوالے کر دیے گئے۔یہ وہی طبقہ ہے جو خود کو ایمانداری اور شفافیت کا پوسٹر بوائے بنا کر پیش کرتا رہا،مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے دفاتر کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کی بازگشت ہے۔ شفافیت شاید اب صرف شیشے کے دروازوں تک محدود ہے—فائلوں تک نہیں۔*چاغی ماسٹر پلان: میرٹ کی تدفین باقاعدہ سرکاری اعزاز کے ساتھ*اربوں روپے کے چاغی ماسٹر پلان میں گریڈ 17 کے جونیئر افسر امتیاز احمد کو پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا،جبکہ یہ پوسٹ قواعد کے مطابق گریڈ 20 کی ہے۔مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ذرائع بتاتے ہیں کہ جب امتیاز احمد نصیرآباد میڈیکل کالج کے پی ڈی تھے تو سرکاری گاڑی وزیر ایریگیشن صادق عمرانی کے بیٹے کے زیرِ استعمال رہی۔ بعد ازاں وہی بیٹا اسی گاڑی کو چلاتے ہوئے کراچی میں ایک عام غریب کو قتل کرنے کے مقدمے میں ملوث پایا گیا۔

*نتیجہ؟*امتیاز احمد معطل ہوئے—اور پھر “سزا” کے طور پر صوبے کا ایک اور سب سے بڑا کماؤ منصوبہ ان کے حوالے کر دیا گیا۔بلوچستان میں شاید یہی اصول رائج ہے:جتنا بڑا سوال،اتنا بڑا پراجیکٹ۔*خاران ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو:اربوں، رشتہ داریاں اور خاموشی*خاران ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، جس کی لاگت 30 ارب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، اس میں پی ڈی مقرر کیا گیا شہاب کو—جو گریڈ 17 کے الیکٹرونکس انجینئر ہیں،جبکہ پوسٹ گریڈ 20 کی ہے۔ذرائع کے مطابق شہاب، وزیر خزانہ و معدنیات شعیب نوشیروانی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔یہ محض اتفاق ہے؟یا پھر *بلوچستان میں اب اہلیت سے زیادہ خاندان کا شجرہ دیکھا جاتا ہے؟**یونیورسٹی یا سرکاری تجربہ گاہ؟*حال ہی میں ایک اور “تاریخی اصلاح” کے تحت گریڈ 18 کے ایک افسر کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا—ایسا عہدہ جو عملی طور پر گریڈ 22 کے برابر سمجھا جاتا ہے۔*تعلیم کے شعبے میں اصلاحات شاید اب ٹری اینڈ ایرر کے اصول پر کی جا رہی ہیں—اور تجربہ عوام پر ہو رہا ہے۔**بلوچستان کے مفتوح عوام کی جانب سے چند سوالات*یہ رپورٹ الزامات نہیں،بلکہ وہ سوالات ہیں جو خود نظام چیخ چیخ کر پوچھ رہا ہے:کیا بلوچستان میں میرٹ اب صرف پرانی فائلوں میں دفن ہے؟کیا اربوں کے منصوبے “پسندیدہ چہروں” کی ٹریننگ اسکیم بن چکے ہیں؟کیا معطلی سزا نہیں بلکہ پروموشن کا نیا راستہ ہے؟اور کیا احتساب صرف چھوٹے ملازمین کے لیے مخصوص ہو چکا ہے؟جب تک ان سوالات کے جواب نہیں دیے جاتے،تب تک “مثالی کارکردگی” کا بیانیہ صرف ایک مہنگا سرکاری اشتہار رہے گا—حقیقت نہیں۔

بہاولپور کے 5 نوجوانوں کی سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلا۔کت : کیس کی سماعت 5 جنوری کو : اگر آفتاب باجوہ پانچوں نوجوانوں کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو انکے ساتھ کیا ہو گا ؟ یاد رہے کہ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ پچھلے کئی روز سے وزیراعلیٰ مریم نواز ، سہیل ظفر چٹھہ اور متعدد سی سی ڈی افسران پر مختلف پلیٹ فارمز پر سنگین الزامات لگا جکے ہیں ، انکی ویڈیوز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں ، آفتاب باجوہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز پر سنگین الزام لگایا کہ اختر گروپ کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے سہیل ظفر چٹھہ کو اس مقابلے کے احکامات جاری کیے ، ظاہری سی بات ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بیٹھ کر مریم نواز صاحبہ نے ایک کرمنل کی سفارش کسی کو کی ہو اس بات پر اعتبار کرنا مشکل ہے اور پھر اس بات کا علم آفتاب باجوہ کو کیسے ہوا یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔۔۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 5 جنوری کو اس کیس کی سماعت کے بعد سنگین الزامات پر ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے ، ماسوائے اسکے کہ وہ عدالت میں اپنے مدعی فریق کے 5 نوجوانوں کو معصوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، یا پھر سی سی ڈی ان پانچ نوجوانوں کو مجرم ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔۔۔۔یاد رہے کہ آٖفتاب باجوہ کئی سال قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف بھی ایسا ہی ایک کیس دائر کر چکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم نوعیت کے ہائی پروفائل کیس کا پانچ جنوری کو کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟؟ ظاہر ہے 5 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ تو نہیں ہو گا لیکن اس سماعت میں کیس کے حوالے سے کافی حقائق سامنے آجائینگے ۔۔۔۔

بہاولپور کے 5 نوجوانوں کی سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلا۔کت : کیس کی سماعت 5 جنوری کو : اگر آفتاب باجوہ پانچوں نوجوانوں کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو انکے ساتھ کیا ہو گا ؟ یاد رہے کہ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ پچھلے کئی روز سے وزیراعلیٰ مریم نواز ، سہیل ظفر چٹھہ اور متعدد سی سی ڈی افسران پر مختلف پلیٹ فارمز پر سنگین الزامات لگا جکے ہیں ، انکی ویڈیوز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں ، آفتاب باجوہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز پر سنگین الزام لگایا کہ اختر گروپ کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے سہیل ظفر چٹھہ کو اس مقابلے کے احکامات جاری کیے ، ظاہری سی بات ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بیٹھ کر مریم نواز صاحبہ نے ایک کرمنل کی سفارش کسی کو کی ہو اس بات پر اعتبار کرنا مشکل ہے اور پھر اس بات کا علم آفتاب باجوہ کو کیسے ہوا یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔۔۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 5 جنوری کو اس کیس کی سماعت کے بعد سنگین الزامات پر ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے ، ماسوائے اسکے کہ وہ عدالت میں اپنے مدعی فریق کے 5 نوجوانوں کو معصوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، یا پھر سی سی ڈی ان پانچ نوجوانوں کو مجرم ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔۔۔۔یاد رہے کہ آٖفتاب باجوہ کئی سال قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف بھی ایسا ہی ایک کیس دائر کر چکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم نوعیت کے ہائی پروفائل کیس کا پانچ جنوری کو کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟؟ ظاہر ہے 5 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ تو نہیں ہو گا لیکن اس سماعت میں کیس کے حوالے سے کافی حقائق سامنے آجائینگے ۔۔۔۔

بہاولپور کے 5 نوجوانوں کی سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلا۔کت : کیس کی سماعت 5 جنوری کو : اگر آفتاب باجوہ پانچوں نوجوانوں کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو انکے ساتھ کیا ہو گا ؟ یاد رہے کہ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ پچھلے کئی روز سے وزیراعلیٰ مریم نواز ، سہیل ظفر چٹھہ اور متعدد سی سی ڈی افسران پر مختلف پلیٹ فارمز پر سنگین الزامات لگا جکے ہیں ، انکی ویڈیوز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں ، آفتاب باجوہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز پر سنگین الزام لگایا کہ اختر گروپ کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے سہیل ظفر چٹھہ کو اس مقابلے کے احکامات جاری کیے ، ظاہری سی بات ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بیٹھ کر مریم نواز صاحبہ نے ایک کرمنل کی سفارش کسی کو کی ہو اس بات پر اعتبار کرنا مشکل ہے اور پھر اس بات کا علم آفتاب باجوہ کو کیسے ہوا یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔۔۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 5 جنوری کو اس کیس کی سماعت کے بعد سنگین الزامات پر ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے ، ماسوائے اسکے کہ وہ عدالت میں اپنے مدعی فریق کے 5 نوجوانوں کو معصوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، یا پھر سی سی ڈی ان پانچ نوجوانوں کو مجرم ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔۔۔۔یاد رہے کہ آٖفتاب باجوہ کئی سال قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف بھی ایسا ہی ایک کیس دائر کر چکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم نوعیت کے ہائی پروفائل کیس کا پانچ جنوری کو کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟؟ ظاہر ہے 5 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ تو نہیں ہو گا لیکن اس سماعت میں کیس کے حوالے سے کافی حقائق سامنے آجائینگے ۔۔۔۔

🔴 ریڈ الرٹ برائے تمام ہاسٹل میں مقیم طلبہاطلاع دی جاتی ہے کہ ایک بار پھر گیٹ نمبر 2 (سرینگر روڈ) کے سامنے، نالہ کی جانب اسی علاقے میں جہاں پہلے بھی دیکھا گیا تھا، لیپرڈ دیکھے جانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں اور متعلقہ سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے متعلقہ IWMB (وائلڈ لائف) دفتر کو مطلع کر دیا گیا ہے۔طلبہ سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی قومی کانفرنس کے حوالے سے کہا ہے کہ تحریک کو سابقہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی بلائی گئی کانفرنس کا دعوت نامہ موصول ہوگیا۔ترجمان کے مطابق تحریک انصاف پہلے ہی اپنے سابقہ رہنماؤں سے اظہارِ لاتعلقی کرچُکی ہے اور تحریک انصاف کا اعتماد حاصل نہ ہونا اس کانفرنس کو بے معنی کر دیتا ہے لہٰذا اِس صورتحال کے پیشِ نظر تحریکِ تحفظ آئین پاکستان کیلئے کانفرنس میں شرکت ممکن نہ ہوسکے گی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved