
دنیا جس کے سامنے کبھی بچھ بچھ جاتی تھیاقتدار چھنتے ہی سب نے اس سے منہ موڑ لیا! محمد رضا شاہ پہلوی کی زندگی کے آخری ایام کسی افسانوی فلمی داستان سے کم نہیں ہیں۔ جاہ و جلال سے جلاوطنی، اور پھر بیماری کی حالت میں وفات ان کا مقدر بنیں۔وہ ایک وقت تھا جب”ملکہ برطانیہ ملکہ الزبھ” نے شہنشاہِ ایران کے بیٹے “رضا پہلوی” کو اپنا بیٹا بنایا تھا”پھر شہنشاہ ایران کا داستان عبرت و حسرت! شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کا اقتدار جب سوا نیزے پر تھا۔ اسکے ولی عہد بیٹے رضا پہلوی (اج کل امریکا میں مقیم) نے برطانیہ کے دورے پر بکنگھم پیلس میں ٹھہرنے کی خواہش کا اظہار بہ اصرارکیا۔ شاہی روایات، قانون اورپروٹوکول کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کے سوا کسی کو شاہی محل میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں مگر اس دور میں ایران جیسی بادشاہت کو ناراض بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ملکہ برطانیہ نے ایران کے ولی عہد کو “اپنا منہ بولا بیٹا” بنایا جس سے اسے شاہی محل میں ٹھہرنے کی اجازت مل گئی۔گردش زمانہ اور بے رحمی افلاک ملاحظہ فرمائیے!جب شہنشاہ ایران تخت نشینی سے خاک نشین ہوا تو دنیا نے آنکھیں پھیر لیں۔جب شہنشاہ کے جہاز کا رخ برطانیہ کی طرف ہوا، اسی برطانیہ کی طرف جس شہنشاہ کے ولی عہد بیٹے کے نخرے اٹھانے کے لئے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا اسی حکومت نے شہنشاہ کا جہاز اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہ دی۔

شاہ سب سے پہلے مراکش گئے، پھر بہاماس میں بھی مقیم رہے، اور پھر میکسیکو کا رخ کیا، میکسیکو نے اگر چہ پناہ دے دی لیکن اس میں پروٹوکول نہیں تھا بلکہ عام سیاسی پناہ تھی۔ امریکہ نے سیاسی مصلحتوں اور ایران میں یرغمال بنائے گئے امریکی سفارت کاروں کے خوف سے شاہ کو پناہ دینے سے انکار کر دیا۔اس موقع پر ملکہ فرح دیبا جو اوجِ ثریا سے زمین پر آکر پستیوں میں گر چکی تھی۔

اپ نے مصر کے “جیہان” سے رابطہ کرکے مدد کی درخواست کی۔ جیہان نے اپنے خاوند سے بات کی۔ اتفاقاً عین اس موقع پر شہنشاہ کا خط صدر انور سادات کو ملا جس میں اس نے کہا…. ”میں دنیا کا سب سے بڑا بدنصیب اور بھکاری ہوں۔ خدا کے واسطے مجھے مصر میں آنے دو اور میری پہلی بیوی شہزادی فوزیہ کے وطن میں دفن ہونے دو“اس خط کو پڑ ھ کر ”مصری صدر“ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے یہ درخواست قبول کر لی۔ جب دنیا کا کوئی ملک شاہ کو مستقل ٹھکانہ دینے کو تیار نہ تھا، تو مصر کے صدر انور سادات نے جرأت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے شاہ کو ایک عظیم لیڈر اور دوست کے طور پر نہ صرف مصر انے اجازت دی بلکہ پورے احترام کے ساتھ مہمان بنا کر رکھا۔پس مارچ 1980 میں شاہ پاناما سے ہوتے ہوئے شہنشاہ ایران قاہرہ پہنچے، جہاں ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔یہ بھی کہا جاتاہے کہ قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے مصری صدر نے اپنی بیٹی کی شادی”رضا شاہ پہلوی“ کے بڑے بیٹے محمد رضا پہلوی سے کر دی پھر ”سمدھی “ہونے کے ناطے ان کو ”شہنشاہ ایران “کے مصر میں آنے کا جواز مل گیا۔ بعد میں شادی کا انجام علیحدگی پر ہوا۔شاہ کو طویل عرصے سے کینسر (Non-Hodgkin Lymphoma) تھا، جسے انہوں نے برسوں تک دنیا سے چھپائے رکھا۔ جلاوطنی کے دوران ان کی حالت بگڑنے لگی۔ جب انہیں علاج کے لیے مختصر وقت کے لیے امریکہ جانے کی اجازت ملی، تو ایران میں غصے کی لہر دوڑ گئی اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا گیا۔ قاہرہ میں شاہ کا آپریشن کیا گیا لیکن کینسر ان کے پورے جسم میں پھیل چکا تھا۔ 27 جولائی 1980 کو صرف 60 سال کی عمر میں شاہ کا قاہرہ کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوا۔ مصری صدر نے ان کا سرکاری سطح پر جنازہ پڑھایا۔ انہیں قاہرہ کی مشہور مسجد الرفاعی میں سپردِ خاک کیا گیا (اسی مسجد میں مصر کے آخری بادشاہ اور ان کی بیوی فوزیہ کا باپ فاروق اول بھی دفن ہیں)۔شاہِ ایران نے بسترِ مرگ پر اپنی یادداشتوں میں لکھا تھا کہ انہیں اس بات کا سب سے زیادہ دکھ ہوا کہ جن دوستوں کے لیے وہ وفادار رہے، انہوں نے مشکل وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دیا۔محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایران نے ترقی کی منزل پر منزل طے کی۔ شاہ ایران عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ کر سکتے تھے کیا۔ ایران کو دنیا میں بلند مقام تک لے گئے۔ اس دور میں کرپشن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ایرانی شاہی خاندان کی کہانیوں کے آخر میں اہم ناموں کی وضاحت یہ ہے۔▪️ایران کے آخری شاہ کا نام محمد رضا شاہ پہلوی تھا۔▪️ان کے والد کا نام رضا خان تھا۔▪️ولی عہد کا نام رضا پہلوی ہے جو فی الحال امریکہ میں مقیم ہیں۔انسان کی غرورشاہ کے والد رضا خان نے احمد شاہ قاچار کا تختہ الٹ کر پہلے وزیر اعظم اور بعد میں بادشاہ کی حیثیت اختیار کی۔ برطانیہ اور روس نے جرمنی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر انہیں اقتدار سے ہٹا کر ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کو تخت نشین کرایا۔محمد رضا شاہ پہلوی، جنہیں 6 سال کی عمر میں ولی عہد قرار دیا گیا تھا،

22
سال کی عمر میں ایران کے بادشاہ بنے اور تقریباً 38 سال تک ایران پر حکمرانی کی۔ وہ اپنی سلطنت کو تین ہزار سال پرانی ایرانی سلطنت کا تسلسل قرار دیتے تھے۔انہوں نے خود کو محض “بادشاہ” کہلانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خود کو “شہنشاہ” یعنی بادشاہوں کے بادشاہ کا لقب دیا۔ بلکہ “آریہ مہر” کا خطاب اختیار کیا جس کا مطلب ہے آریائی قوم کا بادشاہ – یہ قوم ہندوستان، پاکستان، افغانستان، ایران، ترکی، یورپ، وسط ایشیا کے بیشتر علاقوں اور روس میں آباد ہے۔شہنشاہ اپنی ذہانت کو لاثانی اور خود کو عقلِ کل سمجھتے تھے۔ اقتدار کی مضبوطی کو وہ اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا نتیجہ گردانتے تھے۔انہیں یقین تھا کہ ان کی سلطنت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا،

مگر جب زوال آتا ہے تو تمام تر تدبیریں، منصوبے اور حکمت عملیاں ہوا کے رُخ پر رکھے چراغوں کی مانند بے نور ثابت ہوتی ہیں۔شہنشاہ کے پاس بے پناہ دولت تھی – ان کے اثاثوں کی مالیت ایک سو پچاس ارب ڈالر سے زیادہ تھی – مگر سکون میسر نہ تھا۔ انہوں نے وسیع و عریض مملکت پر تقریباً 40 سال حکومت کی، مگر اسی سلطنت میں انہیں قبر کے لیے دو گز زمین بھی میسر نہ آ سکی۔ایسی دربدری دنیا کے طاقتور افراد اور دولت کے انبار لگانے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔یہ ہے زندگی کا منظرنامہ…اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔










