تازہ تر ین

ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے 48 گھنٹے۔ھوای اڈوں کی مانٹئیرنگ جاری کچھ نیا نہیں بھت کچھ تبدیل۔اسلام آباد روالپندی کی سڑکوں پر ٹریفک اور چوراہوں پر کچھ نہیں سب کچھ تبدیل۔اسلام آباد روالپندی کے 3 تھانوں میں خصوصی انتظامات مکمل۔اسلام آباد ریڈ زون سیل اضافی سیکورٹی طلب۔موجودہ حالات غیر معمولی ھے کے پی 40 سے حالت جنگ میں۔سیاسی مداخلت نھی ھو گی بیورو کریسی عوام کو ریلیف فراہم کرے وزیر ۔اھم ترین خاندان کے لئے مشکلات 100 سے بیورو کریٹ شکنجے میں۔50 ھزار ارب روپے کی کرپشن 700 اکاونٹس فریز کرنے کا فیصلہ۔سب کچھ تبدیل 21 صحافیوں سمیت بڑے مگر مچھوں اور بڑی تعداد میں اشرافیہ وزراء بھی شکنجے مے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا پولیس فورس اور سول افسران کے مشترکہ دربار سے خطابموجودہ حالات غیر معمولی ہیں۔ خیبر پختونخوا چار دہائیوں سے دہشت گردی کی زد میں ہے، مگر اس کے باوجود صوبے کی بہادر پولیس نے کم وسائل کے باوجود 21 سال تک دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف پولیس کی بے مثال قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔پولیس جوان جس حوصلے اور جوانمردی سے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔ اللہ کی رضا اور عوام کے مفاد کے لیے لڑیں گے تو جیت ہمیشہ ہماری ہوگی۔ کسی بھی قیمت پر خیبر پختونخوا میں امن بحال کریں گے۔ بند کمروں کے فیصلے اب مزید قبول نہیں ہوں گے۔

عوام کے لیے اوپن ڈور پالیسی اپنائی گئی ہے اور اب ہر سرکاری افسر کی کارکردگی پرفارمنس انڈیکیٹرز سے ناپی جائے گی۔ فیصلہ سازی صرف اور صرف عوامی مفاد میں ہوگی۔پولیس فورس کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ اور اینٹی ڈرون سسٹم فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی ہنگامی بنیادوں پر دی جا رہی ہے۔ وسائل کی کمی کو سیکیورٹی کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ شہید سول سرونٹس کے اہل خانہ کے لیے خصوصی پالیسی تشکیل دی جائے گی تاکہ ریاست ان کی مکمل دیکھ بھال کر سکے۔

افسران کے معاملات میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی، مگر ہر افسر سے نتائج ضرور لیے جائیں گے۔ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے اور اس سلسلے میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ انصاف دینے کے ذمہ دار ہیں وہ اپنا کام صحیح طرح نہیں کر رہے، جس سے حالات خراب ہوتے ہیں۔ ہم عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو ریلیف دیں گے۔ فیصلہ سازی ہمیشہ عوام کے لیے ہوگی۔ ایمان، حوصلے اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کو شکست

😭 آج ایک باپ… چند روپے کے چالان کی مار سے ڈھیر ہو گیا…آج دل ٹوٹ گیا…سچ کہوں تو انسانیت شرما گئی…اور میں سوچتی رہ گئی کہ غریب کی زندگی اتنی سستی کیوں ہے؟ایک دیہاڑی دار رکشہ والا…وہ جس کا پسینہ بھی قرض ہوتا ہے،جس کی روٹی بھی دعا سے پکتی ہے،جس کی مزدوری بھی نصیب سے ملتی ہے…آج اسے وارڈن نے 2000 روپے کا چالان کیا۔2000 روپے…ہمارے لیے شاید کچھ نہیں۔لیکن اس کے لیے؟اس کے لیے یہ پورے دن کی امید تھی…پورے گھر کی شام تھی…پورے بچوں کی خوشیاں تھیں۔چالان سنتے ہی اس نے ایک لمبی سانس لی…دھیرے سے رکشے پر بیٹھا…اور اگلے ہی لمحے ہارٹ اٹیک سے گر پڑا۔لوگ بھاگے… رکشہ ایک طرف کیا…سامان اتارا…اور وہاں سے ایک چھوٹا سا شاپر ملا۔بس…

وہ شاپر کھلتے ہی سب کی آنکھیں بھر آئیں۔میں لکھ رہی ہوں اور ہاتھ کانپ رہے ہیں۔💔 شاپر میں کیا تھا؟آدھا کلو آٹاپاؤ چاولتھوڑا سا گھیچٹکی بھر چینیتین آلودو پیازنمکچائے کی پتیدو پیناڈولایک شیمپو ساشےصابن کی ٹکیاپانچ روپے کی نسواربچوں کے لیے ایک رنگین سی سیٹیایک پلاسٹک کی ننھی کاراور… چھوٹی سرخ چوڑیاںجی ہاں… سرخ چوڑیاں۔وہ جو اس نے اپنی دو ماہ کی بیٹی کے لیے لی تھیں۔وہ بیٹی جو رنگ سرخ دیکھ کر ہنس پڑتی تھی۔کچھ دیر پہلے وہ ہارٹ اٹیک سے پہلے مسکرا کر کہہ رہا تھا:“کار میرے تین سال کے بیٹے کی ہے…اور چوڑیاں میری بیٹی کی…

یہ دیکھ کر خوش ہوتی ہے…”😭ہائے اللہ…ایک باپ اپنی آخری سانس تک بچوں کا سوچتا ہے۔اور یہی وہ آخری سوچ تھی…جس کے ساتھ وہ دنیا چھوڑ گیا۔—😢 یہ ایک رکشہ والے کی نہیں… سب کی کہانی ہےوہ کرائے پر بائیک چلانے والا جو روز 500 مالک کو دیتا ہے…پھر پیٹرول ڈالتا ہے…اور رات کو ہاتھ میں صرف یہی شاپر لیے گھر جاتا ہے۔وہ چنگ چی والا جو 30 روپے فی سواری میں سارا دن دھواں اور گالیاں کھا کر گزار دیتا ہے…آخر میں اسی شاپر میں گھر کی امید بھر کر لاتا ہے۔وہ پھٹہ رکشہ والا جو پہلے مالک کو روز کرایہ دیتا ہے…پھر سارا دن محنت کرتا ہے…اور آخر میں اللہ کا دیا چند سو روپے جیب میں ڈال کربچوں کے لیے ایک چھوٹی چیز ضرور لے جاتا ہے…کہ گھر میں خوشی کی آواز آجائے۔—😭 اصل درد یہ ہے…چالان صرف کاغذ نہیں تھا…وہ چالان اس کے گھر کی روٹی تھا۔اس کے بچوں کی خوشی تھا۔اس کی بیٹی کی سرخ چوڑیاں تھیں۔اس کے بیٹے کی وہ پانچ روپے والی کار تھی۔اور ہاں…وہ چالان ہی اس کی جان لے گیا۔—🙏 خدا کے لیے… تھوڑا رحم، تھوڑی انسانیت…کبھی رک کر سوچیں…غریب کے شاپر میں صرف سودا نہیں ہوتا…اس میں اس کی پوری دنیا ہوتی ہے۔اللہ ان محنت کشوں پر آسانی کرے…اور ہمیں بھی انسان بنا دے۔

سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کَیس لاہور نے ۳ دسمبر ۲۰۲۵ کو “جنگی محاذ سے پرے: عسکری سفارت کاری بطور تزویراتی محرک” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ ایک آزاد تحقیقی ادارے کے طور پر کَیس لاہور باقاعدگی سے علمی و پالیسی سطح کی سرگرمیوں کا اہتمام کرتا ہے جہاں محققین اور ماہرین سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور پالیسی سے متعلق اہم موضوعات پر مکالمہ کرتے ہیں۔ اس تقریب میں بھی ماہرین، محققین اور دانش وروں نے شرکت کی۔ افتتاحی خطاب ایئر مارشل عرفان احمد ریٹائرڈ ڈائریکٹر کَیس لاہور نے پیش کیا۔سابق سیکرٹری خارجہ سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ خارجہ پالیسی قومی اہداف کا تعین کرتی ہے جبکہ سفارت کاری بالخصوص عسکری سفارت کاری ان اہداف کے حصول کا ایک بنیادی ذریعہ ہے جو مکالمے، مشترکہ مشقوں اور تربیتی تعاون سے آگے بڑھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عسکری سفارت کاری پاکستان کے لئے مواقع میں وسعت پیدا کرتی ہے، اس کی روک تھام کی صلاحیت کو مضبوط کرتی ہے اور اثر و رسوخ میں اضافہ کرتی ہے لیکن اسے ہمیشہ دیگر سفارتی ذرائع کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اور مناسب مواقع پر استعمال کرنا چاہئے۔ڈی جی پبلک ریلیشنز اینڈ کارپیوریٹ پلاننگ ڈویژن نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (نیسٹیپ)، ایئر وائس مارشل ڈاکٹر لیاقت اللہ اقبال نے کہا کہ نیسٹیپ دراصل موجودہ ایئر چیف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا وژن ہے جس کا مقصد پاکستان کا خود مختار ایرو اسپیس اور ٹیکنالوجی ایکو سسٹم قائم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک فضائیہ کے اندر تیز رفتار جدیدیت، مقامی تیاری اور نوجوانوں کی جدت انگیزی نہ صرف آپریشنل تیاری کو بڑھا رہی ہیں بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی تکنیکی شراکت داریوں میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق انہی ترقیاتی اقدامات کی بدولت مئی ۲۰۲۵ کی جنگ میں پاکستان ایئر فورس نے بھارت کو فیصلہ کن شکست دی۔وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی ایئر مارشل عبدالمعید خان (ریٹائرڈ )نے کہا کہ پی اے ایف کی بین الاقوامی مشقیں، تربیتی تبادلے اور بیرونی تعیناتیاں اسے پیشہ ورانہ مہارت اور عملی لچک کے حوالے سے منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۱ کے بعد موجودہ ایئر چیف کی جرات مندانہ اور تخلیقی قیادت میں ایئر فورس نے روایتی فائٹر سینٹرک تصور سے آگے بڑھ کر ایک ہمہ جہتی طاقت کی صورت اختیار کی ہے جو سائبر، اسپیس، الیکٹرانک وارفیئر اور ڈرونز کے نظاموں پر مشتمل ہے۔

اسے مقامی تیاری، جدید ڈھانچے اور تیز رفتار صنعتی معاونت نے مزید مضبوط کیا ہے جس سے پی اے ایف کی اہمیت جدید تیز رفتار جنگی ماحول میں واضح طور پر ابھری ہے۔اختتامی خطاب میں صدر کَیس لاہور ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے کہا کہ معرکۂ حق پاکستان کی عسکری سفارت کاری کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا جس نے پاکستان ایئر فورس کے نظم و ضبط اور ہمہ جہتی برتری کو نمایاں کیا اور ملک کے تزویراتی اثر و رسوخ کو نئی جہت دی۔ انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی دوراندیش قیادت کو سراہا جس نے پی اے ایف کی تکنیکی برتری، دفاعی شراکت داریوں اور عالمی سفارتی رسائی کو مضبوط کیا۔ ان کے مطابق یہ کامیابیاں پاکستان کی بطور ابھرتی ہوئی مڈل پاور حیثیت کو مزید مستحکم کرتی ہیں اور عسکری صلاحیت کو جدید سفارت کاری کا مؤثر ذریعہ ثابت کرتی ہیں

۔سیمینار ایک مؤثر سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس میں نیسٹیپ کے بڑھتے ہوئے کردار، پاکستان بھارت ادارہ جاتی فرق، پی اے ایف کی ڈومین سینٹرک تبدیلی، نوجوانوں کی ایرو اسپیس میں شمولیت، مئی ۲۰۲۵ کی جنگ کے بعد وسعت پاتی سفارتی رسائی اور ڈرون وارفیئر کے ارتقا میں پاکستان کی پوزیشن جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ شرکاء نے کَیس لاہور کی علمی اور فکر انگیز کاوشوں کو بھرپور سراہا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved