تازہ تر ین

ملک بھر کو تعلیم دینے والے چانسلر کو لوٹ لیا گیا ڈکیتوں کو شیخوپورہ پولیس کا سی پی اور ایس ایچ او تھانہ ننکانہ فیروز بھٹی ڈکیتوں کے سھولت کار بن گئے کراچی کے چانسلر کے خاندان کو لوٹنے والے گروہ کو پولیس تحفظ فراہم کیوں کر رھی ھے کچے کے ڈاکوؤں کے بعد شیخوپورہ کے ڈاکو۔ڈاکو کراچی میں واردات کرنے کے بعد شیخوپورہ میں پناہ گزین ھو جاتے ہیں جھاں ڈی پی او شیخوپورہ اور تھانہ ننکانہ کا ایس ایچ او فیروز بھٹی انھے تحفظ فراہم کرتا ہے

http://baadban.tv/2023/08/21/%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%d8%b2%da%be%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%b9%d8%b1%d9%88%d8%ac-%d9%be%d8%b1-2023-%d8%ad/

ملک میں لاقانونیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ امام غزالی بہت یاد آرہے ہیں‘ ان کا قول ہے کہ شہر کے لوگوں نے پتھر باندھ رکھے ہیں اور کتے کھلے چھوڑ دیے گئے ہیں‘ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ جس روز اخبارات میں گھروں‘ شہروں‘ بازاروں‘ بنکوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی خبریں شائع نہ ہوتی ہوں‘

ڈکیتی کی ہر واردات دل پر خنجر کی طرح لگتی ہے‘ لیکن صوبائی حکومت ہو یا وفاقی حکومت کے کان پر جون تک نہیں رینگتی ہے‘ پوری کی پوری پولیس وزراء اور افسر شاہی‘ سیاست دانوں اور ان کی اولادوں کی سیکورٹی پر لگی ہوئی ہے اور جو پولیس پروٹوکول ڈیوٹی سے بچ گئی ہے وہ وارداتیوں کی پشت پناہی میں لگی ہوئی ہے‘

چور ہوں یا ڈاکو‘ یہ سب پولیس سرپرستی میں کام کرتے ہیں‘ پولیس انہیں تحفظ دیتی ہے‘ پولیس اگر کام کر رہا تو مجال نہیں کہ شہر میں ڈکیتی ہوجائے‘ چونلک میں ملک میں شہر ہو یا گاؤں‘ سب جگہ پولیس نے ایک آنکھ کھولی ہوئی ہے اور ایک آنکھ بند کی ہوئی ہے‘ کھلی آنکھ سے وہ مجرموں کو فرار ہونے والے راستے کی نشانہ دیہی کرتی ہے اور راہنمائی دیتی ہے اور بند آنکھ سے وہ ڈکیتی سے متاثرہ شخص کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتی‘ نہ اس کا مقدمہ درج ہوتا ہے اور نہ داد رسی‘ یہ اکتوبر کا مہینہ ہے اکتوبر کی پانچ تاریخ کو عالمی سطح پر یوم ٹیچر منایا جاتا ہے‘ ہمارے ہاں کیا ہوا‘ ابھی اکتوبر باقی ہے کہ ایک ایسے شخص کو ڈکیتی کا سامنا کرنا پڑا جو اس ملک کی نوجوان نسل کا معمار ہے‘ اور پولیس جس نے انہیں تحفظ دینا ہے وہ مجرموں کی نشان دیہی ہونے کے بعد انہیں گرفتار کرنے کی بجائے ان کی پشت پناہی کر رہی ہے

اور انہیں تحفظ دے رہی ہے‘ یہ پنجاب پولیس ہے‘ اور وزیر اعلی پنجاب نے صرف ان کی یونیفارم پہنہی تھی لگ رہا ہے کہ پولیس نے یونی فارم بھی اتار دی ہے اور شرم اور حیا بھی اتار دی ہے‘ اسی لیے تو مجرموں کی پشت پر جا کھڑی ہوئی ہے اور بے چارے استاد جنہیں‘ ڈاکوؤں نے لوٹ لیا ہے‘ ان کی داد رسی نہیں کی جارہی ہے‘ یہ سارے کام پنجاب میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ کیا پنجاب میں رہنے کے لییے صرف احد چیمہ کا ہی حق ہے کہ جنہیں ایچی سن کالج جیسے ادارے کے پرنسپل کے مقابلے میں اہمیت دی گئی اور ترجیح دی گئی‘ کیا س ملک کے اساتذہ صرف اس کام کے لیے رہ گئے ہیں کہ انہیں پولیس گردی کے حوالے کردیا جائے یا احمد چیموں کے حوالے کر دیا جائے‘ پنجاب حکومت کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ اس ملک میں معاشرے میں سب سے ذیادہ اہمیت کسی بھی استاد کی ہے اور اگر ان کے ساتھ پولیس بھی ظلم کرے دو نمبری کرے تو یہ لوگ کہاں جائیں گے؟

پنجاب میں ایک بیوروکریٹ کے بچوں کی تعلمی فیس میں رعائت اور معافی کے لیے ایک استاد کی بے حرمتی کی گئی‘ اور اب پنجاب پولیس ایک استاد کے گھر ہونے والی ڈکیتی پر ان کی داد رسی کی بجائے کھلم کھلا مجرموں کی پشت پناہ بن گئی ہے‘ یہ پنجاب پولیس بلاشبہ بہت کرپٹ ہے ان کی کرپشن کی وجہ سے راولپنڈی میں کرائم ریٹ بڑھ رہے ہیں‘ صرف راولپنڈی میں ہی 90 فی صد رکشہ اور بائیکیا کسی نمبر پلیٹ کے سڑکوں پر دوڑ رہے ہیں‘ یہ بغیر نمبر کے رکشہ اور موٹر سائکل لاقانونیت کی جڑ ہیں اور بنیادی وجہ ہیں یہ سب پنجاب پولیس کی سرپردتی میں ہو رہا ہے پنجاب میں پولیس نے قانون کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب میں قبضہ مافیا پولیس کی وجہ سے زندہ ہے‘ لاقانونیت پولیس کی وجہ سے ہے‘ منشیات فروخت ہورہی ہے تو اس کی وجہ بھی پولیس ہے‘ شہر میں ڈکیتیاں ہورہی ہیں تو وجہ پولیس ہے‘ پولیس کو ملنے والی سہولتیں‘ مراعات اربوں میں ہیں اور کام صفر ہے اس ملک اور وم کی بدقسمتی ہے کہ حکومت بدلے‘ چیف جسٹس بدلے یا کوئی اور شخصیت‘ سب آنے والے قانون کی بالدستی کی نوید سناتے ہیں جس طرح دانت کے درد کی گولی کھانے سے دو چار دن اچھے گذر جاتے ہیں،اسی طرح ملک میں ہونے والی تبدیلیوں سے چار دن تو خوب اطمینان سے گذرتے ہیں اور اُمید پیدا ہو جاتی ہے اب ہر طرف قانون کے ڈنکے بجیں گے اور خلقِ خدا کو انصاف ملے گا، جب ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالا تھا،

میں نے اُس وقت بھی یہی کچھ ہوا تھا‘ پھر عمر عطاء بندیال، قاضی فائز عیسیٰ نے ایسا ہی کہا تھا تو جھولیاں اُٹھا کر انہیں دُعا دی گئی لیکن جب وہ گئے ہیں تو دعائیں دینے والے ہی کوس رہے ہیں‘

یہی حال وزراء اعلی کا ہے‘ یہی حال آنے والے آئی جی پولیس کا ہوتا ہے لیکن پولیس کا مجوعی رویہ تبدیل نہیں ہوتا‘

یہ ہمیشہ مجرموں کے ساتھ کڑی نظر آتی ہے اسی لیے لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے اساتذہ سایہ دار درخت ہوتے ہیں‘ چھاؤں ہوتے ہیں‘

پیار محبت اور یگانگت کے اوصاف سے بہرہ مند ہوتے ہی علم و فن کے چراغ ہوتے ہیں تہذیبی و فکری اوصاف سے لیس ہوتے ہیں تدریسی بہت ہی معزز پیشہ ہے‘ سارے جرنیل‘ ڈاکٹرز‘ اور پولیس افسر انہی کی کوکھ سے نکلے ہیں لیکن ملک میں نظام ایسا بن گیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہوجائے تو یہ پولیس کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved