تازہ تر ین

وزیر اعلیٰ جو کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان لڑکا ہے، آپ اس کو کبھی دہشتگرد اور کبھی اسمگلر بناتے ہیں، آپ کو شرم نہیں آتی؟ اُس کا ایم فل اکنامکس میں آخری سمسٹر ہے۔ پہلے کسی کے بارے میں معلومات تو حاصل کرو، اسد قیصر۔سعودی ترک پاکستان دفاعی معاہدہ بڑے فیصلے 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری۔۔پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری صفر سب کچھ ختم۔بھارتی کرکٹ بورڈ اپنے بچھائے جال میں پھنس گیا۔ ‏ہر روز دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے اور پاک افغانستان کی آواز میں آواز ملا کر پاکستان کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف۔۔۔دھشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑ پھینکا ھے فیلڈ مارشل۔۔ دنیا کال کھول کر سن لے کسی نے ایڈوانچر کا سوچا بھی تو آخری حد تک جاے گءے فیلڈ مارشل عاصم منیر ان ایکشن۔ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل، سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا، کیس تھا کیا۔۔ ۔بھارت اور یواے ای میں قربتیں بڑھنے لگیں ۔۔ بھارت یو اے ای کا سب سے بڑا ایل این جی صارف بن گیا، 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا۔ابوظہبی کی سرکاری کمپنی بھارت کو 10 برس تک ہر سال 5 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرے گی۔۔مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ قانون و امن کا نفاذ پولیس کی مقدس امانت ہے۔ مسلح افواج ہمیشہ پاکستان پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر۔مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔۔پرچی زبان اور اسد قیصر طلال چوہدری امنے سامنے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر اس لیے کیسز بنے ہیں کیونکہ یہ مظلوموں کا ساتھ دیتے ہیں !!علامہ راجا ناصر عباس۔ ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*یہ مان لینا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ اس لئے نہ کر سکے کہ یو اے ای، سعودی عرب یا قطر کو خطرہ تھا — یہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے!*یہ وہ عالمی طاقتیں ہیں جو صدیوں سے دوسروں کی لاشوں پر اپنے مفادات کی عمارت کھڑی کرتی آئی ہیں، یہ کسی عرب ریاست، کسی مسلمان ملک، کسی اتحادی کی خاطر اپنی جنگ نہیں روکتیں — یہ صرف اور صرف اپنے خوف پر رُکتی ہیں۔اور وہ خوف اس دن پیدا ہوا جب فیصلہ سازوں کو یہ احساس ہوا کہ اگر ایران پر پہلا میزائل چلا تو آگ صرف تہران میں نہیں جلے گی، آگ پورے خطے میں بھڑکے گی!اسی لئے عین اس لمحے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا طیارہ قبرص یا نامعلوم محفوظ مقام کی طرف اڑا، یہ کوئی سفارتی دورہ نہیں تھا، یہ جان بچانے کی دوڑ تھی۔یہ اس بات کا اعلان تھا کہ کھیل خطرناک حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔مگر پردے کے پیچھے جو اصل کھیل کھیلا جا رہا تھا، وہ بھارت کھیل رہا تھا۔

ہاں، وہی بھارت جسے ایران برسوں تک دوست سمجھتا رہا!حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ایران کے اندر جاسوسی، تخریب کاری اور سیاسی گھس پیٹھ کا منظم جال بچھا رکھا تھا، جو اسرائیل اور امریکہ کے لئے مسلسل راستے ہموار کرتا رہا!ایران کے اندر جو کچھ احتجاج کے نام پر دکھایا گیا، وہ محض عوامی غصہ نہیں تھا — اس میں اسلحہ، ڈیوائسز، تربیت یافتہ عناصر اور منظم گروہ شامل تھے جو افغانستان کے راستے داخل ہوئے۔اور یہ بھی تلخ سچ ہے کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت نے یا تو اس راستے کو روکا نہیں، یا دانستہ آنکھ بند رکھی!یوں افغانستان ایک بار پھر بڑی طاقتوں کی جنگ کا لانچ پیڈ بنا دیا گیا!دہشت گرد احتجاج کے لبادے میں، اسلحہ لئے انسانی حقوق کے نعروں کے ساتھ، اور خون کو “عوامی تحریک” کے نام پر بہایا گیا!اور ایران ؟ایران برسوں تک بھارت کے ساتھ معاہدے کرتا رہا، تجارت کرتا رہا، اینٹی پاکستان سرگرمیوں میں سہولت کاری کرتا رہا، یہ سوچ کر کہ بھارت قابلِ اعتماد ہے!مگر جیسے ہی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ حقیقی جنگ کے دہانے پر پہنچا — بھارت کا اصل چہرہ، اس کا جاسوسی نیٹ ورک، اس کی ایران مخالف پالیسی سب ننگے ہو گئے!یہ بحران ایران کے لئے ایک تھپڑ تھا، ایک وارننگ تھی، ایک جاگنے کی گھنٹی تھی!اور جنگ کیوں رکی؟

اس لئے نہیں کہ عرب ممالک فریاد کر رہے تھے!جنگ اس لئے رکی کہ اگر ایران نے مکمل جواب دیا تو امریکی اڈے، اسرائیلی شہر، خلیجی بندرگاہیں اور عالمی تیل کی سپلائی ایک ہی آگ میں جل سکتی تھی!اس لئے رکی کہ روس اور چین جیسے کھلاڑی خاموش تماشائی بن کر بیٹھنے والے نہیں تھے!اس لئے رکی کہ امریکہ اور اسرائیل کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ یہ جنگ شروع کرنا تو ان کے اختیار میں ہے، مگر ختم کرنا ان کے اختیار میں نہیں رہے گا!اور اس پورے منظرنامے میں اگر کوئی ملک کھل کر، صاف، دوٹوک اور اصولی طور پر ایران کے ساتھ کھڑا نظر آیا تو وہ پاکستان تھا!پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ ایران کو کمزور کرنا پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہوگا!پاکستان کی یہ اسٹریٹجک للکار ہی وہ دیوار بنی جس پر دشمن کے منصوبے ٹکرا کر رہ گئے!اسی لئے یہ کہنا حق ہے، سچ ہے، اور وقت کی آواز ہے کہ ایران کی بقا کے دفاعی حصار میں پاکستان ایک مضبوط ستون بن کر کھڑا ہے!یہ جنگ اس لئے نہیں رکی کہ دشمن امن کا خواہاں تھا، یہ جنگ اس لئے رکی کہ دشمن کو پہلی بار یہ ڈر لگا کہ اس بار آگ اس کے اپنے گھر تک پہنچ سکتی ہے!اور جب سامراج کو اپنے ہی گھر جلنے کا خوف آ جائے تو وہ سب سے پہلے قدم پیچھے ہٹاتا ہے — اور یہی اس لمحے ہوا!الحمدللہ اس وقت ایران میں شورش پر قابو پایا جا چکا ہے، صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔اگر امریکہ پھر بھی جنگ کرے گا۔ تو امریکہ کا عالمی اقتدار ختم ہوگا۔

انڈین کرکٹ بورڈ اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے. اس نے گزشتہ چیمپئنز ٹرافی میں جس تذلیلی دلدل میں پاکستان کو پھینکنا چاہا تھا، اب خود اس میں سر کے بالوں تک دھنسا ہوا ہے. جنگ میں مار کھانے کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں سیاسی نفرتیں انڈیلنے کی کوشش کی، مگر اس کے ستارے کچھ اس بری طرح گردش میں ہیں اور نیّا کچھ اس طور گرداب میں پھنس چکی ہے کہ نکلنے کا راستہ سجھائی نہیں دے رہا. اگر کرکٹ کی بساط پہ دیکھا جائے تو انڈیا اس وقت سپر پاور ہے. اپنے ہاں مہنگی ترین لیگ کا انعقاد کرتا ہے. آئی سی سی کی سربراہی بھی اس کے پاس ہے. اس سب کے باوجود تنزل کی گھاٹی پہ گھاٹی اترتا چلا جارہا ہے. کچھ تو پاک بھارت جنگ کے نتائج نے پاکستان کو شیر بنا دیا، کچھ خطے کی بدلتی سیاسی صورتحال نے انڈیا کی مشکلات میں اضافہ کیا اور کچھ اسے اس کی حماقتیں لے ڈوبیں . اس سے بڑھ کر کیا ہزیمت ہوگی کہ ایشیا کپ جیتا تو انڈیا ہے مگر ٹرافی محسن نقوی کے پاس ہے.

آنے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے امریکا کی ٹیم میں شامل آٹھ پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو ویزے دینے میں لیت و لعل سے کام لیا ، مگر جب ساری دنیا نے دُھر دُھر کی تو راہِ راست پر آگیا. یہ سب رنگ ایک طرف، اس وقت اصل رنگ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے جمایا ہوا ہے. انڈیا بنگلہ دیش کے بیچ کچھ محسوس اور کچھ نامحسوس سا تناؤ تو تھا، مگر مستفیض الرحمن کا آئی پی ایل سے اخراج اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا اور جواب میں بنگلہ دیش نے سیکیورٹی کا بہانہ کرکے آئی سی سی سے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی. آئی سی سی نے جواب میں وقت کی کمی کی وجہ سے وینیوز کی تیاری نہ ہوسکنے کا بہانہ کیا تو پاکستان نے یہ کہتے ہوئے نہلے پہ دہلا مارا کہ ہمارے وینیوز بنگلہ دیش کی میزبانی کے لیے حاضر ہیں. اب منظر کچھ یوں تھا کہ سری لنکا شریک میزبان ہونے کی وجہ سے تمام میچز اپنے ملک میں کھیل رہا ہے. پاکستان بھی اپنے میچز سری لنکا میں کھیلے گا. بنگلہ دیش بھی ضد پکڑ رہا ہے. گویا خطے کے تین اہم ممالک ورلڈ کپ کھیلنے انڈیا نہیں جا رہے. آسٹریلین ٹیم سری لنکن گروپ کا حصہ ہے، لہذا وہ بھی پہلے مرحلے میں انڈیا نہیں جائے گی. انڈیا پاکستان سے کھیلنے سری لنکا جائے گا. بنگلہ دیش بھی سری لنکا جاتا ہے تو ایسے میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز بھی اپنے میچز انڈیا سے باہر کھیلیں گے. مزہ آیا کہ نہیں؟بنگلہ دیش سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان نے سردستِ دست ورلڈ کپ کے حوالے سے اپنی تمام مصروفیات ترک کر دی ہیں. بنگلہ دیش انڈیا نہ جانے کے فیصلے پر ابھی تک ڈٹا ہوا ہے. مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا پتہ بھی ہاتھ میں رکھا ہوا ہے. پاکستان نے بھی ” ایسی صورت میں ہم بھی نہیں کھیلیں گے” کہہ کر تنازعات کے جلتے الاؤ میں اپنی طرف سے دو چار لکڑیاں ڈال دی ہیں. پرسوں بنگلہ حکومت نے انڈین آفیشل کو ویزا جاری نہ کرکے شعلوں کو مزید ہوا دی. زمبابوے میں جاری انڈر نائنٹین ورلڈ کپ میں انڈیا بنگلہ دیش میچ کے دوران بنگلہ جوانوں نے مصافحہ نہ کرکے جلتی پر مزید تیل ڈال دیا.

دو سال قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انڈیا پہ زوال کی بارش یوں چھم چھم برسے گی. اس وقت اس بارش نے جنگ، کھیل اور سیاست کے تمام زاویوں سے انڈیا کو ہلکان، حیران اور پریشان کر کے رکھ دیا ہے. فی الحال بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی منت سماجت جاری ہے. ممکن ہے کہ پس پردہ پاکستان کے حضور بھی ہاتھ جوڑے جائیں کہ پائیں! ہنڑ مٹی پاؤ تے جانڑ دیو. تے نالے نکّے ویر نوں وی سمجھاؤ. صفدر حسین بھٹیکوآرڈینیٹر سوشل میڈیا ٹیم پاکستان مسلم لیگ ن چنیوٹ

فلوریس جان بویولینڈر، ہالینڈ کے فیلڈ ہاکی کھلاڑی، اپنی غیر معمولی مہارت اور کھیل میں خدمات کے لیے مشہور ہیں۔ 19 جنوری 1966 کو ہارلیم میں پیدا ہونے والے بویولینڈر نے 2 اکتوبر 1985 کو نیدرلینڈز کی قومی ٹیم کے لیے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 241 بین الاقوامی میچز کھیلے، جن میں 215 گول کیے۔ وہ اپنے تباہ کن پینلٹی کارنرز کے لیے مشہور تھے۔ بویولینڈر نیدرلینڈز کی قومی ٹیم کا حصہ تھے جس نے 1996 کے اٹلانٹا سمر اولمپکس میں سونے کا تمغہ اور 1988 کے سیؤل اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے 1990 کے ہاکی ورلڈ کپ میں لاہور، پاکستان میں عالمی ٹائٹل جیتنے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے 9 گول کیے۔ بویولینڈر کو ان کے یادگار پینلٹی کارنرز اور نیدرلینڈز میں ہاکی کے لیے انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا

فلوریس جان بویولینڈر، ہالینڈ کے فیلڈ ہاکی کھلاڑی، اپنی غیر معمولی مہارت اور کھیل میں خدمات کے لیے مشہور ہیں۔ 19 جنوری 1966 کو ہارلیم میں پیدا ہونے والے بویولینڈر نے 2 اکتوبر 1985 کو نیدرلینڈز کی قومی ٹیم کے لیے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 241 بین الاقوامی میچز کھیلے، جن میں 215 گول کیے۔ وہ اپنے تباہ کن پینلٹی کارنرز کے لیے مشہور تھے۔ بویولینڈر نیدرلینڈز کی قومی ٹیم کا حصہ تھے جس نے 1996 کے اٹلانٹا سمر اولمپکس میں سونے کا تمغہ اور 1988 کے سیؤل اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے 1990 کے ہاکی ورلڈ کپ میں لاہور، پاکستان میں عالمی ٹائٹل جیتنے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے 9 گول کیے۔ بویولینڈر کو ان کے یادگار پینلٹی کارنرز اور نیدرلینڈز میں ہاکی کے لیے انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا

بھارت اور یواے ای میں قربتیں بڑھنے لگیں بھارت یو اے ای کا سب سے بڑا ایل این جی صارف بن گیا، 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا ابوظہبی کی سرکاری کمپنی بھارت کو 10 برس تک ہر سال 5 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرے گی

نیازی اور دہشت گرد ایک ساتھ پی ٹی آئی ہماری اپنی پارٹی ہےعمران اور سہیل آفریدی نے کبھی ہمارے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالیاس لیئے ہم بھی انکے کاموں میں رکاوٹ نہیں بنتےیہ فوج ہمارا مشترکہ ٹارگٹ ہے ،،فتنہ الخوارج TTP کمانڈر کا ویڈیو پیغامپی ٹی آئی والے اسی لئے TTP کا نام نہیں لیتے بلکہ ان کو فنڈنگ بھی کرتے ہیں آج تک نیازی نے TTP کا نام نہیں لیا بس دہشت گردی کا ڈرامہ کرتا ہے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved