
*غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ہلاک ہونے والے کمانڈرز کی ایک مختصر فہرست :* غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ہلاک ہونے والے کمانڈرز کی ایک مختصر فہرست کرنل رائے لیوی، کمانڈر ملٹی ڈومین یونٹ کرنل آسف ہمامی، کمانڈر غزہ ڈویژن سدرن بریگیڈکرنل اتزہاک بین بسات، چیف فارورڈ کمانڈ ٹیم ، گولانی بریگیڈکرنل احسان ڈقسہ، کمانڈر 410آرمرڈ بریگیڈکرنل لیون بار،سینئر افسر ریزرو فورس ، سامریہ ڈویژنلیفٹیننٹ کرنل ٹومر گرین برگ، کمانڈر 13 ویں بٹالین،گولانی بریگیڈ لیفٹیننٹ کرنل سحر صہیون ماخلوف، کمانڈر 481ویں سگنل بٹالینلیفٹیننٹ کرنل یہوناتان زور، کمانڈر نحال ریکانسانس بٹالین لیفٹیننٹ کرنل ایلی گنس برگ، کمانڈر ٹیررازم یونٹلیفٹیننٹ کرنل علیم عبداللہ،ڈپٹی کمانڈر 300ویں بارام ریجنل بریگیڈلیفٹیننٹ کرنل میدان اسرائیل،سربراہ سپلائی، سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ کرنل سلمان حبکہ،کمانڈر 53 ویں بٹالین، 188ویں آرمڈ بریگیڈلیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) یوخائی گور ہرشبرگ، کمانڈر 98ویں ڈویژن (ریزرو)لیفٹیننٹ کرنل روئی یوہائی یوسف مردخائی،سینئر کمانڈر ٹریننگ بیس، نحال بریگیڈلیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) نیتانیل یعقوب الکوبی، کمانڈر 630 ویں بٹالین، سدرن کمانڈ غزہ ڈویژن لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) یتسحاق ہروش، سول ایڈمنسٹریشن یروشلممیجر روئی میلڈاسی،کمپنی کمانڈر13ویں بٹالین گولانی بریگیڈمیجر گال شبات، کمپنی کمانڈر 202ویں بٹالین پیرا ٹروپرز بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) یائر کوہن، قائم مقام کمپنی کمانڈر 630 ویں بٹالین، سدرن کمانڈ غزہ ڈویژن میجر موشے آورام بار اون، کمپنی کمانڈڑ51 ویں بٹالین گولانی بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) دان ماؤری، ڈپٹی کمانڈر،89ویں بٹالین 8ویں آرمڈ بریگیڈمیجر بین شیلی،اسکواڈ کمانڈر یونٹ 669اسرائیلی فضائیہ میجر جمال عباس، عمر 23 سال، پیرا ٹروپرز بریگیڈ کی 101ویں بٹالین میں کمپنی کمانڈرمیجر جمال عباس، کمپنی کمانڈر، 101ویں بٹالین، پیرا ٹروپرز بریگیڈمیجر عمری چائی بن موشے،

کمپنی کمانڈر، ڈیکل بٹالین، بہاد 1 آفیسرز اسکولمیجر اساخار ناتن، کمانڈو بریگیڈ کے افسرمیجر (ریٹائرڈ) موشے یدیدیہ لائٹر، کمپنی کمانڈر، 697ویں بٹالین، 551ویں بریگیڈمیجر یہودا ناتن کوہن، کمانڈر، ریکانسانس یونٹ، گیواتی بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) ایتائے گالیا، ڈپٹی کمپنی کمانڈر، 8679ویں یونٹ، یفتاح ریزرو آرمڈ بریگیڈمیجر یائر زلوف، کمانڈر، سرجیکل کمپنی، 401ویں آرمڈ بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) ایلیاو عمرام ابیتبول، ڈپٹی کمپنی کمانڈر، 8207ویں بٹالین، الون بریگیڈمیجر ڈیوڈ ناتی الفاسی، ڈپٹی بٹالین کمانڈر، 202ویں بٹالین، پیرا ٹروپرز بریگیڈمیجر یانیو کولا، کمپنی کمانڈر، 932ویں بٹالین، نہال بریگیڈمیجر گائے یعقوب نذری، کمپنی کمانڈر، 52ویں بٹالین، 401ویں آرمڈ بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) ایوگنی زینرشین، کمپنی کمانڈر، 9263ویں بٹالین، 226ویں ریزرو پیرا ٹروپرز بریگیڈ۔
*ایران کی حالیہ صورتحال اور احتجاج: ایک تجزیاتی جائزہ*ایران میں حالیہ احتجاج کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی طور پر اُجاگر کر کے مصنوعی ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم زمینی حقائق کے مطابق اس وقت تہران سمیت بڑے شہروں میں کسی منظم یا وسیع احتجاج کے شواہد موجود نہیں ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی احتجاجی سرگرمیوں کو عالمی میڈیا میں غیر معمولی اہمیت دی گئی، جس کے باعث صورتحال کو ضرورت سے زیادہ سنگین انداز میں پیش کیا گیا۔*ایران میں احتجاج کی نوعیت اور عالمی میڈیا کا کردار*تہران میں ہونے والے حالیہ احتجاج کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی طور پر نمایاں کیا، جس کا مقصد ایک مخصوص نوعیت کا مصنوعی ہیجان (Hype) پیدا کرنا تھا۔ یہی عالمی میڈیا یورپ کے متعدد ممالک، جن میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس شامل ہیں، میں مہنگائی کے خلاف لاکھوں افراد کے مظاہروں اور پولیس کے سخت و پرتشدد رویّے کو مسلسل نظرانداز کرتا رہا ہے۔ایران میں احتجاج کو اس غیر فطری انداز میں ابھارنے کی کوشش دراصل اسی حکمتِ عملی کا تسلسل معلوم ہوتی ہے جو ماضی میں وینزویلا کے خلاف آزمائی جا چکی ہے۔*تاجروں کا کردار اور احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش*ابتدائی طور پر یہ احتجاج تاجر اور بزنس مین طبقے کی جانب سے شروع ہوا تھا، تاہم یہاں یہ نکتہ خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ وہ شخص یا طبقہ جس کے اربوں ڈالر کسی ملک کے اندر سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہوں، عموماً ریاست کے خلاف کسی منظم تحریک کا حصہ نہیں بنتا۔بعد ازاں اس احتجاج کو شر پسند اور اجرت پر لیے گئے عناصر کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، جنہوں نے پولیس پر پتھراؤ، فائرنگ اور توڑ پھوڑ جیسے پرتشدد اقدامات کیے۔احتجاج کے دوسرے روز سڑکوں پر ایسے عناصر بھی دیکھے گئے جنہوں نے کھلے عام ریاست مخالف نعرے لگائے۔ تاہم تاجر برادری نے جلد ہی اس صورتحال کو ایک منظم سازش کے طور پر بھانپ لیا اور تیسرے دن تک ان عناصر سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد ریاستی اداروں کی جانب سے صرف شر پسند گروہوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔*موجودہ صورتحال اور سرحدی علاقوں کی حالت*موجودہ وقت میں تہران اور دیگر بڑے شہروں میں کسی بڑے یا منظم احتجاج کی اطلاعات موصول نہیں ہو رہیں۔ البتہ ایران کے بعض سرحدی علاقوں، بالخصوص کرد بیلٹ میں، چھوٹے چھوٹے گروہ—جو عموماً 20 سے 100 افراد پر مشتمل ہوتے ہیں—موٹر سائیکلوں پر آ کر عوامی یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں اور فوراً فرار ہو جاتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں کسی منظم عوامی تحریک کے بجائے محدود اور منتشر تخریبی کارروائیوں تک ہی محدود دکھائی دیتی ہیں۔*امریکی مداخلت اور تزویراتی اہداف*سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے لیے ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم ممکن نہیں، اسی لیے وہ ایران کو داخلی طور پر کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

وینزویلا کے صدر کو ہٹانے کی کوشش اور وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضے سے متعلق دھمکیاں امریکی طرزِ عمل کی نمایاں مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ایران میں حالیہ احتجاج کو بھی اسی حکمتِ عملی کی ایک کڑی کے طور پر اور ایک سیاسی بہانے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔واضح رہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اپنے حالیہ بیان میں واضح طور پر کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاکہ اپنے مطالبات کو پر امن، واضح اور شفّاف اور غیر متشدد انداز میں پیش کریں۔ جبکہ تخریب کاری (اغتشاش) ایک انجنیئرڈ منصوبہ ہوتا ہے جس کا مقصد اصلاح کے بجائے تخریب، خوف و ہراس پھیلانا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، لوگوں کی جان و مال اور آبرو پر دست درازی کرنا، ہوتا ہے۔حالیہ احتجاجات میں بھی یہ بات سامنے آئی جب تاجر اور عام عوام تخریب کاروں کے سامنے ڈٹ گئے جو پر امن احتجاج کو تخریب کاری میں بدلنا چاہتے تھے۔ جہاں کہیں احتجاج نے پر تشدّد رنگ اختیار کیا وہیں تاجر برادری اور عوام نے خود کو الگ کر لیا۔ملک جاوید اقبال ضلعی وائس چیئرمین چینوٹ صدر لاہور روڈ چینوٹ
فنگر پرنٹس میں دشواری کا مسئلہ ختم؛ نادرا نے بڑی سہولت متعارف کرادینادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سہولت کا آغاز کردیا گیاھےجس کے بعد بزرگوں یا طبی مسائل کے باعث شہریوں کو فنگرپرنٹس کی تصدیق میں دشواری کا مسئلہ ختم ہوگیا۔
100 سالہ مہاتیر محمد ہپ فریکچر کا شکارملائیشیا کے 100 سالہ سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو منگل کے اپنی رہائش گاہ پر گرنے کے بعد کولہے کی ہڈی میں فریکچر ہوا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی مطابق ان کے ایک معاون نے بتایا علاج کے لیے مہاتیر محمد کو زیر علاج رکھا گیا ہے ۔ مہاتیر محمد حالیہ برسوں میں مختلف صحت کے مسائل کا شکار رہے ہیں۔ اس سے قبل جولائی میں اپنی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے بعد تھکن کے باعث انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

*گیس صارفین کے لیے بڑی خوشخبری: وفاقی حکومت کا قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان*وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یکم جنوری 2026 سے گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا اور رواں سال قیمتیں مستحکم رہیں گی۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق گیس کے گردشی قرضے کا فلو اس وقت صفر ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھانے کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم مجموعی گردشی قرضہ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس میں 1700 ارب روپے صرف سود کی مد میں ہیں۔ بریفنگ میں قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود قطر نے سستی فراہمی جاری رکھی، جبکہ پاور سیکٹر کی جانب سے گیس کی طلب میں بار بار تبدیلی اور نئے جوائنٹ وینچرز کے لیے فنڈز کی ادائیگی جیسے چیلنجز پر بھی کام جاری ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام اور صنعتی شعبے کو بڑی راحت ملنے کی توقع ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام معاشی سرگرمیوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اسرائیل اور شام کے درمیان پیرس میں مذاکرات شام کے ساتھ بات چیت مثبت رہی، مذاکرات کی رفتار تیز کرنے، زیادہ ملاقاتیں کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ کے لیے صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیلی اہلکار کی Axios سے گفتگو
سوویت فوج کا ایک سپاہی، جسے 1980 میں جنگ میں مارا گیا قرار دیا گیا تھا، تین دہائیوں بعد افغانستان میں زندہ پایا گیا — ایک نئے نام کے ساتھ، اور روسی زبان کی یاد کے بغیر۔جب 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجیں بھیجیں، تو ہزاروں نوجوان سپاہی یہ سوچ کر سرحد پار کر گئے کہ وہ ایک دن ضرور واپس لوٹیں گے۔ انہی میں ایک نوجوان سپاہی تھا — بَخرالدین حکیموف — جسے 1980 میں جنگ کے ابتدائی اور خونی ترین مرحلے میں تعینات کیا گیا۔زیادہ وقت نہیں گزرا کہ سب کچھ بدل گیا۔ایک شدید لڑائی کے دوران حکیموف بری طرح زخمی ہوا۔ ہنگامہ خیز حالات میں وہ لاپتا ہو گیا۔ اس کی یونٹ نے اسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ اس کا نام خاموشی سے اُن سپاہیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا جو جنگ میں مارے گئے سمجھے جاتے تھے۔ گھر والوں نے اس کا سوگ منایا —

لاش کے بغیر، صرف یادوں کو دفن کر کے۔ ان کے لیے کہانی یہیں ختم ہو گئی۔مگر حقیقت ختم نہیں ہوئی تھی۔حکیموف زندہ تھا۔افغان دیہاتیوں نے اسے زخمی حالت میں پایا، اُسے اٹھایا، پناہ دی، علاج کیا — اور تنہا نہیں چھوڑا۔ صحت یابی سست تھی۔ جسم تو ٹھیک ہو گیا، مگر اُس کی پرانی زندگی واپس نہ آ سکی۔وقت گزرنے کے ساتھ، وہ اسی دنیا میں ڈھل گیا جو اس کے سامنے تھی۔ اس نے نیا نام اختیار کیا — شیخ عبداللہ۔ نئی شناخت، نئی زندگی، نیا معمول۔ آہستہ آہستہ وہ ہرات میں ایک معزز روایتی حکیم بن گیا۔ سال گزرتے گئے — پھر دہائیاں۔ اس کی روسی زبان مٹتی گئی، حتیٰ کہ بالکل ختم ہو گئی۔ وہ صرف مقامی زبانیں بولتا تھا۔ سپاہی ماضی کا حصہ بن چکا تھا — اب صرف افغان حکیم باقی تھا۔ادھر، دور کہیں، اس کا گھرانہ ایک بے نام غم کے ساتھ جی رہا تھا۔ فوجی ریکارڈ میں اس کا نام ویسے ہی درج رہا — جنگ کا ایک اور گم شدہ سپاہی۔پھر آیا سال 2013۔لاپتا سوویت فوجیوں کو تلاش کرنے والی ایک روسی رضاکار تنظیم نے پرانے سراغ اور مبہم خبروں کا پیچھا شروع کیا۔ ایک اشارہ ہرات کے ایک حکیم تک جا پہنچا — اور ٹکڑے جڑنے لگے۔اور ایک دن — تیس سے زیادہ برس بعد — حکام اُس شخص کے سامنے بیٹھے تھے جسے کبھی بَخرالدین حکیموف کہا جاتا تھا۔وہ زندہ تھا۔اس کی زبان بدل چکی تھی، زندگی بدل گئی تھی، برادری بدل گئی تھی۔ لمبی داڑھی، روایتی لباس، پُرسکون مزاج — روس اس کی یاد سے لگ بھگ محو ہو چکا تھا۔ وہ قیدی نہیں رہا تھا — بس ایک نئی زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔یہ بعد از سوویت دور کی سب سے حیران کن دریافتوں میں سے ایک تھی — اس یاد دہانی کے ساتھ کہ جنگ ہمیشہ ہیرو اور ولن پیدا نہیں کرتی؛ کبھی کبھی انسانوں کو زندگیوں کے درمیان کہیں گم کر دیتی ہے۔حکیموف نے افغانستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ بہت پہلے یہ جگہ اس کا گھر بن چکی تھی۔ جو شخص روس سے نکلا تھا — وہ لوٹا ہی نہیں، اور جس دنیا سے وہ آیا تھا — وہ بھی باقی نہ رہی۔مگر سچ سامنے آ ہی گیا۔ایک سپاہی، جسے مُردہ سمجھا گیا، دراصل دوسری زندگی میں داخل ہو کر آگے بڑھتا رہا۔اور ایک خاندان — جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ سوگ منا رہا تھا — آخرکار جان پایا کہ جس بیٹے کو انہوں نے دل میں دفن کر دیا تھا… وہ کبھی گرا ہی نہیں تھا۔










