تازہ تر ین

پشاور کو محفوظ، ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور تمام ریسکیو اداروں کو ایک ہی نظام کے تحت مربوط کرنے کی غرض سے پشاور سیف سٹی منصوبہ 18 سال کے طویل انتظار کے بعد مکمل ہونے کے بعد فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بلوچستان میں امن و امان اور سیکیورٹی فورسز کی معاونت کیلئے 10 ارب روپے دینے کا۔ایرانی فوجی حکا م اور وزیرخارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، خطرات کا مقابلہ کرنے کی تیاری کا عزم۔۔ ۔ایران کے قومی سلامتی سیکرٹری علی لاریجانی عمان پہنچ گئے۔۔امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوں گی۔سونے کا فراڈ جاری جوا بازوں کا کھیل۔بجلی کا بل اور شھری کی خودکشی۔۔مافیا کی بجلی سستی اور مافیا کی مھنگی۔فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کے حوالے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی زندگی خطرے میں۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ آمدوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبائی کابینہ اور اراکین اسمبلی کی جانب سے پرتپاک استقبال وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی بلوچستان کابینہ اور اتحادی جماعتوں کے اراکین سے ملاقات وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے مریم نواز شریف کو بلوچستان آمد پر خوش آمدید کہاوزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی کوئٹہ میں بات چیت خوشی ہے کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ میرا پہلا دورہ بلوچستان کا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریفبلوچستان کے عوام کا جذبہ اور پاکستان سے وابستگی قابلِ ستائش ہے۔ مریم نواز شریفبلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی۔ مریم نواز شریفہم بلوچستان کے ساتھ ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔ مریم نواز شریفبلوچستان میں امن ، استحکام اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان میں خیرمقدم کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی شکر گزار ہوں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کے لوگوں کی ملک کے ساتھ عقیدت کو سراہتی ہوں۔ مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بلوچستان موجودہ حالات میں بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کے لئے پنجاب کے وسائل اور خدمات حاضر ہیں۔ مریم نواز شریف بلوچستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔ مریم نواز شریف دعا ہے کہ بلوچستان خوب آگے بڑھے، امن و امان اور خوشیوں کا گہوارہ بنے۔

مریم نواز شریفخوشی ہوگی کہ بلوچستان کے عوام کی خدمت کر سکوں۔ مریم نواز شریفحوصلے اور استقامت کے ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صوبے کے معاملات چلارہے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کو فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن میں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ مریم نواز شریفدعا ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی کا جلد خاتمہ ہو۔ مریم نواز شریفعزت افزائی کرنے پر گورنر اور سی ایم بلوچستان کی شکر گزار ہوں۔ مریم نواز شریفسیکیورٹی کے لئے معاونت مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹیبلوچستان میں امن اور عوامی فلاح کے لئے متحد ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

راولپنڈی پیرودھائی کے لوہارہ بازار میں ایک شخص نے بجلی کا بل زیادہ آنے پر چھری سے اپنا گلا کاٹ کر خودکشی کرلی۔ ذرائع یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ کس حد تک پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں ۔

*کےپی میں امن وامان سے متعلق اجلاس، مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ*خیبر پختونخوا میں امن وامان سے متعلق اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتِحال سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر اور قومی سلامتی کے مشیر نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں مستقل قیامِ امن کے لیے بات چیت کی گئی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سب نے مل بیٹھ کر امن وامان کی صورتحال پرمتفقہ طورپر بات چیت کی، اجلاس اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا فالو اپ تھا۔اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو بطور ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ماڈل کو خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

نقابِ مظلومیت بے نقاب: بی ایل اے کی خاتون خودکش بمبار دہشت گردی کی اصل ساخت عیاں کر گئیرانا تصدق حسینکوئٹہ — حالیہ ناکام بنائے گئے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے آپریشن “ہیروف-2” کے دوران ہلاک ہونے والی خاتون خودکش بمبار حاتم ناز سملانی محض کسی نام نہاد مظلوم کا کردار نہیں تھی، بلکہ ایک طویل عرصے سے سرگرم دہشت گرد آپریٹو تھی—یہ حقیقت اب خود بی ایل اے کی جانب سے بھی کھلے عام تسلیم کر لی گئی ہے۔مصدقہ تفصیلات کے مطابق حاتم ناز نے کم عمری میں کالعدم دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 2015ء میں باقاعدہ طور پر بی ایل اے کے خودکش ونگ، نام نہاد “مجید بریگیڈ” کا حصہ بنی۔2016ء میں وہ سیکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران زخمی بھی ہوئی، جو مجید بریگیڈ کے بانی کمانڈر اسلم اچھو کے خلاف کیا گیا تھا—یہ امر اس کے فعال عملی کردار کی مزید تصدیق کرتا ہے۔بعد ازاں، مستند خفیہ معلومات کی بنیاد پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے حاتم ناز کو گرفتار کر لیا۔تاہم، اس گرفتاری کو فوری طور پر سیاسی رنگ دے دیا گیا۔نام نہاد “ویمن کارڈ” کے پردے میں بی وائی سی (BYC) کی جانب سے ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی، جس میں گرفتاری کو “بلوچ غیرت اور وقار” پر حملہ قرار دیا گیا۔سڑکوں پر احتجاج اور دباؤ کے نتیجے میں حکام کو مجبوراً اسے رہا کرنا پڑا۔رہائی کے بعد حاتم ناز دوبارہ پہاڑوں میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں پر جا پہنچی، بی ایل اے کے مسلح نیٹ ورک میں شامل ہوئی اور بالآخر خودکش حملہ کر کے ناکام ہیروف-2 آپریشن کے دوران انجام کو پہنچی۔قابلِ غور امر یہ ہے کہ اب بی وائی سی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جبکہ خود بی ایل اے نے اعتراف کیا ہے کہ حاتم ناز کئی برسوں سے تنظیم سے وابستہ تھی—یوں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے مؤقف کی مکمل توثیق ہو گئی ہے۔یہ واقعہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے:دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ قوم، نہ جنس اور نہ عمر۔دہشت گرد 16 سالہ لڑکا بھی ہو سکتا ہے، 22 سالہ طالب علم بھی، نوجوان عورت بھی اور کوئی معمر فرد بھی۔دہشت گردی مظلومیت کی شناخت نہیں، بلکہ تشدد پر مبنی ایک نظریہ ہے۔بلوچ لبریشن آرمی، جسے بین الاقوامی سطح پر کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے، شہری آبادی، ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی ایک طویل اور خون آلود تاریخ رکھتی ہے۔

اس کی سرگرمیوں کے بارے میں یہ حقیقت مستند ذرائع سے ثابت ہے کہ انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کی سرپرستی، سہولت کاری اور مالی معاونت حاصل رہی ہے، جبکہ بعض دیگر علاقائی دشمن عناصر بھی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اس میں شریک رہے ہیں۔تاہم، ایسے تمام عزائم ناکامی سے دوچار ہوں گے۔جب تک پاکستان فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر (چیف آف ڈیفنس اسٹاف) کی قیادت میں، اور پاکستان ایئر فورس و مسلح افواج کے معرکہ آزمودہ غازیوں کے سائے تلے محفوظ ہے، ریاست کے خلاف ہر سازش نہ صرف ناکام ہوگی بلکہ اپنے ہی سرپرستوں پر الٹ کر کہیں زیادہ شدت سے گرے

صوبے کے تمام 9 تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں پر مشتمل بورڈ کمیٹی نے امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں روایتی دستی چیکنگ اور نگرانی کا طریقہ ختم کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد امتحانی عمل کو جدید، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔نئے نظام کے تحت امتحانات میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ و طالبات کے لیے بایومیٹرک حاضری لازمی ہوگی۔ 2026 سے جماعت نہم اور گیارہویں میں رجسٹریشن کے وقت طلبہ کے انگوٹھوں کے نشانات لیے جائیں گے، جنہیں امتحانی مراکز میں داخلے اور تصدیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔کمیٹی نے پرچوں کی مکمل ڈیجیٹل مارکنگ کی بھی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت جوابی کاپیاں اسکین کر کے کمپیوٹر اسکرین پر چیک کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق اس سے غلط مارکنگ، حسابی غلطیوں کا خاتمہ اور شفافیت میں بہتری آئے گی۔سائنس کے پریکٹیکل امتحانات کو بھی مؤثر اور بامقصد بنایا جا رہا ہے۔ رواں سال یہ اصلاحات جزوی طور پر نافذ ہوں گی، جن کا آغاز نہم اور گیارہویں جماعت کے طلبہ کی بایومیٹرک رجسٹریشن سے کیا جائے گا۔

شہری کو زنجیروں میں جکڑنے کا معاملہ، آئی جی پنجاب عبدالکریم کا سخت نوٹساے ایس پی آپریشنز کاہنہ (لاہور) آغا فصیح رحمان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، نوٹیفکیشن

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved