
حکومتِ پاکستانوزیرِاعظم آفسبورڈ آف انویسٹمنٹ (BOI)پیکج IV کے تحت تاریخی ریگولیٹری اصلاحات کی منظوری، پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کی جانب بڑا قدماسلام آباد، 4 فروری 2026کیبنٹ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (CCORR) نے پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو مؤثر، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات کے پیکج IV کی منظوری دے دی ہے
۔ ان اصلاحات کا مقصد ریگولیٹری رکاوٹوں کا خاتمہ او کاروباری اداروں کے لیے تیز، واضح اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کرنا ہے۔وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ، جناب قیصر احمد شیخ نے CCORR کے چھٹے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، جناب ہارون اختر بھی اجلاس میں شریک تھے۔وفاقی وزیر نے پاکستان کو ایک مسابقتی اور کاروبار دوست ملک بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریگولیشنز کو سمارٹ، مؤثر اور بروقت ہونا چاہیے۔ انہوں نے کمپنیز ایکٹ 2017 کے جامع جائزے پر SAPM کی کاوشوں کو سراہا اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور BOI کے مابین قریبی تعاون کو ایک جامع اور مشاورتی عمل قرار دیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اب تک 68 ریگولیٹری اصلاحات کامیابی سے نافذ ہو چکی ہیں جبکہ 82 اصلاحات تاخیر کا شکار ہیں، جن پر متعلقہ اداروں سے تفصیلی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے تمام اداروں کی فعال شرکت کو سراہتے ہوئے BOI کی مسلسل نگرانی اور رابطہ کاری کی تعریف کی۔وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریگولیٹری اصلاحات موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

منظور شدہ اصلاحاتی پیکج میں فارِن ایکسچینج مینجمنٹ کی بہتری، وینچر کیپیٹل کے جدید فریم ورک کی تشکیل، سرجیکل آلات کی صنعت کے لیے ریگولیٹری تقاضوں میں نرمی، اور خیبر پختونخوا میں اہم ریگولیٹری اصلاحات شامل ہیں۔بورڈ آف انویسٹمنٹ ریفارمز ٹیم نے فارن ایکسچینج مینجمنٹ کے لیے مرحلہ وار اصلاحاتی حکمتِ عملی پیش کی، جس میں 16 قلیل مدتی اصلاحات، درمیانی مدت میں لبرلائزیشن روڈ میپ، اور طویل مدتی اصلاحات بشمول FERA ایکٹ 1947 کی جگہ نیا قانون شامل ہے۔کمیٹی نے BOI کی جانب سے پیش کردہ تمام اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات سرمایہ کی آمد و رفت اور برآمدات کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان اصلاحات پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وینچر کیپیٹل اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے BOI نے اسٹارٹ اپس اور جدت طرازی میں سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا۔ SAPM نے نوجوان آبادی کو پاکستان کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اصلاحات وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر کی جا رہی ہیں۔ کمیٹی نے SECP کو 30 دن میں علیحدہ وینچر کیپیٹل فریم ورک جمع کرانے کی ہدایت دی۔سرجیکل آلات کی صنعت کے لیے سنگل ونڈو درخواست فارم متعارف کرانے کی منظوری دی گئی، جہاں اس وقت 114 دستاویزات جمع کروائی جاتی ہیں۔ DRAP کے تحت رسک بیسڈ ریگولیٹری نظام کی تجویز دی گئی، جس سے 6.8 ملین روپے کے معاشی فوائد متوقع ہیں۔

پنجاب حکومت کو صوبائی سطح پر عملدرآمد کی قیادت سونپی گئی۔خیبر پختونخوا میں 46 اہم ریگولیٹری طریقہ کار کے جائزے کو سراہتے ہوئے کمیٹی نے فوری عملدرآمد کی ہدایت کی۔اجلاس کے اختتام پر حکومتِ پاکستان نے سرمایہ کار دوست، مربوط اور مؤثر ریگولیٹری اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔بورڈ آف انویسٹمنٹ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری آسانیوں اور ریگولیٹری اصلاحات کے تسلسل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، جو وزیرِاعظم کے معاشی وژن سے ہم آہنگ ہیں۔










