
*اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے بھرپور جواب دیں گے، ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا: حکومت کا اعلان*سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے افغانستان میں کارروائی سے متعلق حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے بھرپور جواب دیں گے، ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائےگا۔سینیٹ سے خطاب میں طارق فضل چوہدری کا کہنا تھاکہ پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ، اس کا ایک پس منظر ہے، پاکستان نے باربار افغانستان کوبارڈر پار سے ہونے والی دراندازی کے بارے میں آگاہ کیا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ افغانستان میں ائیر فورس نے اسٹرائيک کیں، 100 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، اسٹرائيک انٹیلی جنس بیسڈ اور ہدف پرتھیں۔
پاکستان ہاکی ٹیم اج ورلڈکپ کوالیفائر کیلئے مصر روانہ ہوگی۔سابقہ منیجمنٹ کے انکار کے بعد پی ایچ ایف نے نئے کوچنگ اسٹاف کا اعلان کر دیا ہے۔ قومی ٹیم کی باگ ڈور تجربہ کار کوچ خواجہ جنید کے سپرد، جبکہ اظفر یعقوب اسسٹنٹ کوچ اور سلطان اشرف ویڈیو اینالسٹ کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔آپ اس کوچنگ اسٹاف پر کیا رائے دیں

یہ پنجابی کسان چاہتے تو ان آلوں کو سڑک پر پھینک کر احتجاج بھی کر سکتے تھے لیکن انہوں نے آگ لگا کر رونا دھونا مناسب سمجھا – مجھے آج بھی پنجابی سکھ کی بات یاد ہے کہ لہندا پنجاب میں تم صرف استرا لے کر گھر سے نکل جاؤ شام تک سارا لہندا پنجاب فتح کر کہ واپس آجاو گے..یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم پنجابی ایک بزدل قوم ہیں، جو اپنے حق کے لیے بھی کھڑے نہیں ہو سکتے۔تاریخ گواہ ہے کہ پنجابیوں نے کبھی کوئی جنگ نہیں لڑی، ہمیشہ باہر کے لوگ پنجابیوں پر حکومت کرتے رہے۔ ایک انگریز جنرل نے کہا تھا کہ یہ دھرتی دنیا کے بہترین غلام پیدا کر رہی ہے۔

یہ پنجابی کسان چاہتے تو ان آلوں کو سڑک پر پھینک کر احتجاج بھی کر سکتے تھے لیکن انہوں نے آگ لگا کر رونا دھونا مناسب سمجھا – مجھے آج بھی پنجابی سکھ کی بات یاد ہے کہ لہندا پنجاب میں تم صرف استرا لے کر گھر سے نکل جاؤ شام تک سارا لہندا پنجاب فتح کر کہ واپس آجاو گے..یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم پنجابی ایک بزدل قوم ہیں، جو اپنے حق کے لیے بھی کھڑے نہیں ہو سکتے۔تاریخ گواہ ہے کہ پنجابیوں نے کبھی کوئی جنگ نہیں لڑی، ہمیشہ باہر کے لوگ پنجابیوں پر حکومت کرتے رہے۔ ایک انگریز جنرل نے کہا تھا کہ یہ دھرتی دنیا کے بہترین غلام پیدا کر رہی ہے۔

چکری چوہدری مجید مجھ سے آ کر بحث کرے، میں فیصل ٹاؤن کی زمینوں سے متعلق بڑی بات کرنے کو تیار ہوں۔ اگر میری ایک بات بھی غلط ہو تو مجھے سزا دی جائے۔” • “سوسائٹیوں کے بورڈ لگے ہوئے ہیں، آر ڈی اے حکام بھی آ جائیں، میں سب کو بے نقاب کروں گا۔” • “ہم سے 501 کنال زمین لی گئی، جس کے بدلے صرف پچاس لاکھ روپے دیے گئے، جبکہ اصل مالیت اربوں روپے بنتی ہے۔” • “ان لوگوں نے اسلحہ رکھا ہوا ہے، مجھ سے اور میرے بیٹے سے گاڑی چھینی گئی۔” • “سی پی او راولپنڈی کو بھی آگاہ کیا ہے کہ مجھے قتل کیے جانے کا خدشہ ہے۔” • “میرے گھر سے پلاٹوں کی رجسٹریاں بھی لے جائی گئیں۔”متاثرین نے متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی اور انصاف فراہم
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے متعدد ڈی پی اوز کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کردئیے، نوٹیفکیشن ڈاکٹر اسد ملہی کو ڈی پی او اوکاڑہ تعینات کردیا گیاکیپٹن ریٹائرڈ دوست محمد کو ڈی پی او سیالکوٹ تعینات کردیا گیاساجد حسین کھوکھر کو ڈی پی او جھنگ تعینات کردیا گیاارسلان زاہد کو ڈی پی او ننکانہ صاحب تعینات کردیا گیاوقار عظیم کو ڈی پی او میانوالی تعینات کردیا گیامحمد عابد کو ڈی پی او خانیوال تعینات کردیا گیااخلاق اللہ تارڑ کو ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ تعینات کردیا گیاشفیق احمد چودھری کو ڈی پی او جہلم تعینات کردیا گیا
پنجاب حکومت نے ڈی آئی جیز کے تقرروتبادلے کردئیے عثمان اکرم گوندل کو آر پی او ملتان تعینات کردیا گیاسہیل چودھری کو کماننڈٹ پولیس ٹریننگ کالج لاہور تعینات کردیا گیمحبوب اسلم کو ڈی آئی جی ایلیٹ فورس تعینات کردیا گیافیصل علی راجہ کو ڈی آئی جی پٹرولنگ پولیس تعینات کردیا گیاکامران عادل کو ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن تعینات کردیا گیا

اسلام آباد: 23 فروری عمران خان کے نامزد لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج پی ٹی آئی کے بانی راہنما اکبر ایس بابر کے وکیل جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے آئینی پٹیشن دائر کی۔محمود خان اچکزئی کی تعیناتی آئین، قانون، اور جمہوری تقاضوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ پٹیشنلیڈر آف دی اپوزیشن کی تعیناتی رول39 (تین) کی قانونی شرائط پوری نہیں کرتی، پٹیشن میں موقفاپوزیشن لیڈر کے لئے ارکان قومی اسمبلی کی آزادانہ رائے، دستخطوں کی غیرجانبدارانہ تصدیق کا قانونی تقاضا پورا نہیں ہوا، پٹیشن میں موقفآئین کی شق 62 اور 63 کے تحت کوئی نااہل شخص بالواسطہ یا بلاواسط سیاسی عمل میں قانونا مداخلت نہیں کرسکتا، عدالت سے استدعا سپیکر کورول 39 (تین) کے مطابق اپوزیشن لیڈر کے تعیناتی کا نیا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی جائے، عدالت سے استدعا پٹیشن پر حتمی فیصلے تک محمود خان اچکزئی کو لیڈر آف دی اپوزیشن کی آئینی عمل میں شرکت سے روکا جائے، عدالت سے استدعا اسلام آباد:23 فروری 2026 قومی اسمبلی میں بانی پی ٹی آئی کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردی گئی۔ پی ٹی آئی کے بانی راہنما اکبر ایس بابر کے وکیل جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے محمودخان اچکزئی کی تعیناتی کے خلاف آئینی پٹیشن پیر کو دائر کی۔ سپریم کورٹ کے وکیل عمران شفیق اور حنبل مراد صدیقی ایڈووکیٹ بھی مقدمے میں جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی معاونت کریں گے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر قرار دے کر آئین کی متعلقہ شقوں اور قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تعیناتی کے لئے اختیار کیاگیا طریقہ کار آزادانہ اور قواعد کے مطابق نہیں جبکہ متعلقہ ارکان اسمبلی کی آزادانہ رائے اور مرضی کے تعین کا قانونی عمل بھی پورا نہیں ہوا جس سے آئین کے آرٹیکل 4 اور 17 میں درج آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اکبر ایس بابر کا موقف ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن آئین کی سنگین خلاف ورزی کا مظہر ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو جیل میں موجودایک ایسے شخص (عمران خان احمد خان نیازی) نے نامزد کیا جسے عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیاجاچکا ہے ۔ پٹیشن کے مطابق اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن قانونی نہیں کیونکہ اس عمل میں قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے رول 39 (تین) کی خلاف ورزی ہوئی اور اس میں درج لازمی شرائط پوری نہیں کی گئیں۔ قاعدہ 39 (تین) میں واضح ہے کہ سپیکر اراکین اسمبلی کے دستخطوں کی تصدیق کے بعدہی سب سے زیادہ عددی طاقت رکھنے والے رکن کو اپوزیشن لیڈر قرار دے گا۔ قانون کے تحت ارکان قومی اسمبلی کے دستخطوں کی تصدیق محض رسمی کارروائی یا صوابدیدی اختیار نہیں ہوتا بلکہ ایک لازمی شرط ہے جسے پورا کرنے کے بعد ہی سپیکر اپوزیشن لیڈر کے اعلان کا مجاز ہے۔

ارکان کے دستخطوں کی تصدیق کا مطلب آزادانہ طور پر دستخطوں کی صداقت اور رضامندی کی جانچ پڑتال کرناہے۔اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے اعلان کا سپیکر کا اختیار ’خلا‘ میں نہیں بلکہ آزادانہ اور رضاکارانہ رائے کی تصدیق سے مشروط ہے وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر قرار دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم، غیر قانونی اور قانونی اختیار سے ماورا قرار دیا جائے جس سے پاکستان کے شہریوں کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق ، آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کی خلاف ورزی ہوئی۔ وفاقی آئینی عدالت سے استدعاکی گئی کہ آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل کسی فرد کو بالواسطہ یا بلاواسط سیاسی عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ساتھ ہی ساتھ سپیکر کو ہدایت کی جائے کہ وہ رول 39 (تین) کے مطابق اپوزیشن لیڈر کے تعیناتی کا نیا عمل شروع کریں ۔پٹیشن پر حتمی فیصلے تک محمود خان اچکزئی کو آئین کے آرٹیکل 175 اے، 213 اور 224 اے کے تحت آئینی عمل میں شرکت سے روکا جائے۔*******

_وزیراعظم محمد شہباز شریف امیر قطر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے۔_*دوحہ کے کنگ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قطر کے وزیر مملکت, وزارت خارجہ امور عزت مآب ڈاکٹر محمد بن عبد العزیز الخلیفی، قطر میں تعینات پاکستانی سفیر محمد عامر اور سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔ اپنے دورہء قطر کے دوران وزیراعظم امیر قطر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی سے دو طرفہ ملاقات کریں گے جس میں اقتصادی تعاون، توانائی کی شراکت داری، اور عوام سے عوام کے تبادلوں کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔ دونوں فریق تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور افرادی قوت کی برآمد کے شعبوں میں اشتراک کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے بھی تبادلہء خیال کریں گے۔وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور کثیر جہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان کے مشترکہ عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ __










