**بلوچستان:اربوں کی بارش، میرٹ کا قحط**تعریفیں آسمان پر،فائلیں زمین میں دفن*کوئٹہ —بلوچستان حکومت کی “مثالی کارکردگی” پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے *ذرائع کے مطابق سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری (P&D) نے صرف تین ماہ میں کمیشن کی مد میں مبینہ طور پر 11 ارب روپے کمائے۔ عام آدمی اگر اتنی دولت کا خواب بھی دیکھ لے تو نیند اُڑ جاتی ہے، مگر یہاں سب کچھ “نارمل” ہے۔اب نئے آنے والے افسر زاہد سلیم نے گویا اعلانِ مقابلہ کر دیا ہے—کہ میدان خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔ چنانچہ “گڈ گورننس” کا آغاز یوں ہوا کہ اربوں کے منصوبے جونیئر ترین افسران کے حوالے کر دیے گئے۔یہ وہی طبقہ ہے جو خود کو ایمانداری اور شفافیت کا پوسٹر بوائے بنا کر پیش کرتا رہا،مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے دفاتر کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کی بازگشت ہے۔ شفافیت شاید اب صرف شیشے کے دروازوں تک محدود ہے—فائلوں تک نہیں۔*چاغی ماسٹر پلان: میرٹ کی تدفین باقاعدہ سرکاری اعزاز کے ساتھ*اربوں روپے کے چاغی ماسٹر پلان میں گریڈ 17 کے جونیئر افسر امتیاز احمد کو پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا،جبکہ یہ پوسٹ قواعد کے مطابق گریڈ 20 کی ہے۔مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ذرائع بتاتے ہیں کہ جب امتیاز احمد نصیرآباد میڈیکل کالج کے پی ڈی تھے تو سرکاری گاڑی وزیر ایریگیشن صادق عمرانی کے بیٹے کے زیرِ استعمال رہی۔ بعد ازاں وہی بیٹا اسی گاڑی کو چلاتے ہوئے کراچی میں ایک عام غریب کو قتل کرنے کے مقدمے میں ملوث پایا گیا۔*نتیجہ؟*امتیاز احمد معطل ہوئے—اور پھر “سزا” کے طور پر صوبے کا ایک اور سب سے بڑا کماؤ منصوبہ ان کے حوالے کر دیا گیا۔بلوچستان میں شاید یہی اصول رائج ہے:جتنا بڑا سوال،اتنا بڑا پراجیکٹ۔*خاران ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو:اربوں، رشتہ داریاں اور خاموشی*خاران ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، جس کی لاگت 30 ارب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، اس میں پی ڈی مقرر کیا گیا شہاب کو—جو گریڈ 17 کے الیکٹرونکس انجینئر ہیں،جبکہ پوسٹ گریڈ 20 کی ہے۔ذرائع کے مطابق شہاب، وزیر خزانہ و معدنیات شعیب نوشیروانی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔یہ محض اتفاق ہے؟یا پھر *بلوچستان میں اب اہلیت سے زیادہ خاندان کا شجرہ دیکھا جاتا ہے؟**یونیورسٹی یا سرکاری تجربہ گاہ؟*حال ہی میں ایک اور “تاریخی اصلاح” کے تحت گریڈ 18 کے ایک افسر کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا—ایسا عہدہ جو عملی طور پر گریڈ 22 کے برابر سمجھا جاتا ہے۔*تعلیم کے شعبے میں اصلاحات شاید اب ٹری اینڈ ایرر کے اصول پر کی جا رہی ہیں—اور تجربہ عوام پر ہو رہا ہے۔**بلوچستان کے مفتوح عوام کی جانب سے چند سوالات*یہ رپورٹ الزامات نہیں،بلکہ وہ سوالات ہیں جو خود نظام چیخ چیخ کر پوچھ رہا ہے:کیا بلوچستان میں میرٹ اب صرف پرانی فائلوں میں دفن ہے؟کیا اربوں کے منصوبے “پسندیدہ چہروں” کی ٹریننگ اسکیم بن چکے ہیں؟کیا معطلی سزا نہیں بلکہ پروموشن کا نیا راستہ ہے؟اور کیا احتساب صرف چھوٹے ملازمین کے لیے مخصوص ہو چکا ہے؟جب تک ان سوالات کے جواب نہیں دیے جاتے،تب تک “مثالی کارکردگی” کا بیانیہ صرف ایک مہنگا سرکاری اشتہار رہے گا—حقیقت نہیں۔










