
اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان سردار ایاز صادق پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کل ڈھاکہ، بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے، جہاں وہ بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم محترمہ خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔اسپیکر قومی اسمبلی محترمہ خالدہ ضیاء کے انتقال پر پارلیمانِ پاکستان، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے بنگلہ دیش کی حکومت، عوام اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کریں گے اور پاکستان کی جانب سے تعزیتی پیغام بھی پہنچائیں گے۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ محترمہ خالدہ ضیاء خطے کی ایک ممتاز اور باوقار سیاسی رہنما تھیں جنہوں نے بنگلہ دیش کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی خدمات، جدوجہد اور قیادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا انتقال نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ بنگلہ دیش کی پوری قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ محترمہ خالدہ ضیاء کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے

تین ڈالر کا ڈنڈا ۔ اظہر سید ۔ایجنسی والوں سے دوستی ہو بہت ساری ایسی باتیں پتہ چلتی ہیں جو بظاہر عوامی اضطراب کا باعث ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں ملک کے مفاد میں ہوتی ہیں۔ہے بھی پتہ چلتا ہے مخالف ایجنسی والے دس ہزار ڈالر میں ایجنٹ بناتے ہیں اور ہمارے والوں کے پاس ہزار ڈالر بھی مشکل سے ہوتے ہیں۔ہمارے والے پھر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے لنگور کی دم درخت سے باندھ کر پٹائی کرتے ہیں ۔ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آتا ہے ۔پٹائی والا ڈنڈا تو تین ڈالر میں مل جاتا ہے ،باندھنے کا کام ہنر مندی اور فنکاری سے ہوتا ہے اور ہمارے والے فطری فنکار ہیں ۔ کبھی بھارتیوں کی مقبوضہ کشمیر میں باندھ کر پٹائی کرتے ہیں، کبھی خالصتان کے ڈنڈے کے ساتھ مارتے ہیں ۔کبھی سوویت یونین کو افغان ڈنڈے کے ساتھ دل کھول کر پیٹتے ہیں اور کبھی امریکیوں اور ناٹو ممالک کی اسی ڈنڈے کے ساتھ بینڈ بجاتے ہیں۔امارات والے بلوچ عسکریت پسندوں کی چپکے چپکے مدد کر کے سمجھتے تھے گودار پورٹ روک لیں گے لیکن انہیں ہماری فنکاری اور ہنر مندی کا پتہ اب چلے گا

۔سعودی عرب اور امارات نے حوثی باغیوں کے خلاف مل کر یمن میں حملہ کیا تھا ہم نے پہلے ایران اور سعودیہ میں دوستی کرائی پھر وہاں جا کر سب کو ایک اتحاد میں پرو دیا ۔سب کو سعودی جھنڈے تلے کھڑا کر کے اماراتی اسلحہ بردار جہاز اڑا دئے ۔اتحاد میں نئے نئے شامل ہونے والے لیبیا آرمی چیف کی ہلاکت کا بدلہ بھی لے لیا اور اماراتیوں کو اکیلا بھی کر دیا۔اب شیخ صاحب راتوں رات یمن سے بھاگے ہیں اور سعودی عرب کی دھاک بھی بیٹھ گئی ہے ۔اب بلوچ عسکریت پسندی ختم ہو گی ۔ایران پہلے ہی پیچھے ہٹ گیا تھا۔ افغانی ملڑے کی طبیعت بھی صاف ہو چکی ہے ۔اخری سہارا اماراتی شیخ تھے ۔باز نہ آئے جلد ہی انکی دم بھی باندھ کر تین ڈالر کا ڈنڈا خرید لیا جائے گا۔کھسماں نوں کھانے

ٹی ٹی ایس کے تحت اساتذہ کی تنخواہیں مارکیٹ کے مطابق مسابقتی، معیارِ تعلیم بہتر بنانے کا فیصلہوفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت تعلیمی اداروں میں پے اسکیل نظام کے جائزے کے لیے قائم ٹاسک فورس کا ساتواں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اہم فیصلے اور ہدایات:📍 ٹی ٹی ایس کے تحت اساتذہ کی تنخواہیں مارکیٹ کے مطابق مسابقتی بنائی جائیں گی۔📍 قابل اساتذہ کو کارکردگی کی بنیاد پر مراعات دی جائیں گی اور انہیں برقرار رکھنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔📍 صوبائی حکومتیں اعلیٰ تعلیم میں مزید ذمہ داری ادا کریں۔📍 یونیورسٹیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کے معیار کو مضبوط بنایا جائے گا۔

📍 لائبریریوں اور لیبارٹریز کے 24 گھنٹے مؤثر استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں داخلہ شرح 13 فیصد سے کم ہے جسے کم از کم تین گنا بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ یو ایس، یو کے نالج کوریڈرز اور چین سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے اعلیٰ معیار کی افرادی قوت تیار کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2026 سے یونیورسٹیوں کی کارکردگی کے آڈٹ اور درجہ بندی کا آغاز کیا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔یہ اقدامات اساتذہ کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے اور مستقبل کے لیے مضبوط پاکستان کی تعمیر کی جانب اہم قدم ہیں۔Ahsan Iqbal University Of Narowal PML(N)

: بدھ ، 31 دسمبر ,2025*وزیراعظم اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ*وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم، عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔نہایت گرمجوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خادمِ حرمینِ شریفین، عزت مآب شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے پاکستان کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی محبت، خلوص اور گرمجوشی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں کو چھونے والے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا

۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور موجودہ پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا. وزیراعظم نے مختلف چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا.










