
سیاست ناممکنات کا کھیل ہے۔پیپلز پارٹی اپنی بدترین مخالف ن لیگ کے ساتھ بیٹھ گئی۔ق لیگ کو قاتل لیگ کہا،پھر اسی کا پرویز الہی ڈپٹی وزیراعظم بنا دیااگست میں وزیراعظم کی تبدیلی کہ معاہدے کی باتیں زبان زد و عام ہیںکیا PPP ممکنہ اتحاد کے لیے راستے کھول رہی ہےسیاست میں کچھ بھی ممکن ہے
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ اظہر سیدجتنی تیزی سے دن مہینے اور سال گزر رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی سے دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔صرف چوبیس گھنٹوں میں امریکیوں نے روسی آئل ٹینکر ضبط کیا ۔سعودی عرب نے یمن میں عرب امارات کی پراکیسوں پر خوفناک بمباری کی ۔افغانستان میں چینی انجینئرز پر خوفناک حملہ میں متعدد چینی ہلاک متعدد اغواء کر لئے گئے۔وین ویلا میں صدر کے اغواء کے خلاف لاکھوں شہری احتجاج پر نکل آئے ۔صدر کی سیکورٹی کے زمہ دار چھ اعلی افسران کو حکام نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ان پر اغواء میں امریکیوں کی معاونت کا الزام تھا۔یورپین یونین کے چھ طاقتور ملکوں جرمنی،فرانس سمیت گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی کوشش کو نیٹو توڑنے کے مترادف قرار دے دیا۔جدید ترین امریکی لڑاکا جیٹ اور اسلحہ بردار ٹرانسپورٹ طیارے برطانیہ پہنچ گئے ہیں ۔کہا جا رہا ہے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کیلئے جنگ مسلط کی جائے گی۔یہ تمام خبریں گزشتہ چوبیس گھنٹے کی ہیں۔امریکی دیوالیہ ہو چکے ہیں ۔وسائل کے حصول کیلئے کبھی صدر کو اغوا کرتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ پر قبضہ کے اعلانات کرتے ہیں ۔کبھی غزہ کو سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔امریکی معیشت کا یہ حال ہو چکا ہے دو ماہ قبل شٹ ڈاؤن کے دوران سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے صدر ٹرمپ نے اپنے دوست سے قرضہ لیا تھا ۔امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سی آئی اے ملازمین کو رضاکارانہ فراغت کی پیشکش کی گئی ہے ۔ہزاروں ملازمین فارغ کر دئے گئے ہیں ۔تین لاکھ ملازمین کو برطرفی کے نوٹس دے جا چکے ہیں۔امریکہ کا حال کسی ترقی پزیر غریب ملک سے بھی بدتر ہو چکا ہے ۔صحت کے بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے۔یو ایس ایڈ ،وائس آف امریکہ سمیت چالیس وفاقی محکمے ختم کر دیے گئے ہیں ۔یورپین یونین سمیت دنیا بھر کے ممالک کی درآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا ہے

تاکہ اضافی پیسے ملیں قرضوں کی ادائیگی ہو اور امریکی سرکاری مشنری چلائی جا سکے ۔امریکی سینٹ نادہندگی سے بچنے کیلئے جی ڈی پی کا حجم بڑھا کر قرضوں کی حد تو بڑھا دیتا ہے لیکن قابل ادا قرضوں کی ادائیگی تو بڑھتی ہی جائے گی اور ربڑ مزید کھنچنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی ۔نادہندگی کے خوفناک خواب کی تعبیر سے بچنے کیلئے جہاز کے ڈیک پر چوہے بھاگتے پھر رہے ہیں ورنہ خاموشی سے جہاز کے نچلے حصوں کے سٹور روم میں خوراک کترتے رہتے تھے ۔ایک بڑی جنگ ہی امریکی معیشت کو بچا سکتی ہے کہ اسلحہ کی صنعتیں چل پڑیں اور نادہندگی ٹال دی جائے ۔جتنا بڑھا قرضہ اور جتنی بڑی ادائیگیاں ہیں یہ ڈھول جلد پھٹ جائے گا۔ہر عروج کو زوال ہے ۔امریکیوں نے عروج دیکھ لیا اب زوال کی باری ہے ۔
اسکولز اور کالجز 12 جنوری کو کھلیں گے، وزیر تعلیم رانا سکندرتعلیمی اداروں میں چھٹیوں سے متعلق گمراہ کن خبروں سے اجتناب کریں، وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر
💥 دفاعی روٹ تعطل کا شکار: 23.8 ارب روپے مختص، چھ ماہ میں صرف 5 فیصد کام مکمل 💥سوان–سہالہ–کہوٹہ ڈوئل کیرج وے فنڈنگ رکاوٹوں کے باعث ٹھپ، اسٹریٹجک کوریڈور دم گھٹنے لگا“چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز، حکومتِ پنجاب، کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (KRL)، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی بروقت اور مربوط مداخلت ہی فنڈنگ کے اس تعطل کو توڑ کر اس نہایت اہم دفاعی و سیاحتی کوریڈور کو بروقت مکمل کر سکتی ہے۔” رانا تصدق حسینکہوٹہ: مالی سال 2025–26 کے وفاقی بجٹ میں 23 ارب 84 کروڑ 50 لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص ہونے کے باوجود، نہایت اہم سوان–سہالہ–کہوٹہ روڈ ڈوئل کیرج وے منصوبہ پہلے چھ ماہ میں محض پانچ فیصد پیش رفت دکھا سکا ہے، جو دائمی تاخیر، کمزور بین الاداراتی ہم آہنگی اور فنڈنگ کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔28.4 کلومیٹر طویل راولپنڈی سوان–کہوٹہ روڈ، جو ایک باقاعدہ دفاعی روٹ ہے اور آزاد جموں و کشمیر کے علاقوں کوٹلی اور راولا کوٹ تک رسائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، 27 جولائی 2023 کو ECNEC کی منظوری کے تقریباً 18 ماہ بعد بھی بڑی حد تک غیر فعال پڑا ہے۔صرف 2 کلومیٹر تعمیر، 26.4 کلومیٹر ابھی نشان زد بھی نہیںاب تک تعمیراتی کام صرف کہوٹہ وائی کراس سے ہوتھلہ اسٹاپ تک دو کلومیٹر ڈوئل کیرج وے تک محدود ہے۔باقی 26.4 کلومیٹر حصے پر نہ تو نشاندہی ہوئی ہے اور نہ ہی عملی تیاری دکھائی دیتی ہے، جو زمینی سطح پر سنگین غفلت کا ثبوت ہے۔

ہوتھلہ اسٹاپ پر کام مکمل طور پر بند ہے جبکہ سہالہ
ریلوے کراسنگ پر انتہائی ضروری اوورہیڈ برج کا آغاز تک نہیں ہو سکا، جس کے باعث ٹریفک کا مسئلہ ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ریلوے کراسنگ پر بدنظمی، مسافروں کے لیے روزانہ اذیتاوورہیڈ برج نہ ہونے کے باعث جب بھی سہالہ ریلوے کراسنگ بند ہوتی ہے، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے راولپنڈی، کہوٹہ اور آزاد کشمیر کے درمیان سفر کرنے والے مسافر شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔مقامی آبادی کے مطابق اس کے نتیجے میں:ٹریفک حادثات میں اضافہسفر میں غیر معمولی تاخیرٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہکاروباری سرگرمیوں میں شدید خللاسٹریٹجک، معاشی اور سیاحتی کوریڈور نظراندازماہرین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ منصوبے کی بروقت تکمیل سے 40 کلومیٹر طویل راولپنڈی–کہوٹہ سفر محض 30 سے 40 منٹ میں طے ہو سکے گا، جس سے ہموار اور محفوظ آمدورفت ممکن ہو گی، بالخصوص:دفاعی و اسٹریٹجک ٹریفکآزاد کشمیر جانے والے مسافرپاکستان ٹورازم ہائی وے کا ٹریفکاوورسیز پاکستانی ہاؤسنگ سوسائٹیتعلیمی ادارے، بشمول عبادت یونیورسٹی اور دیگر جامعاتیہ سڑک علاقائی رابطہ کاری، سیاحت، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود بدستور نظرانداز ہے۔منصوبہ منظور، بجٹ مختص، مگر رقم جاری نہیںاگرچہ منصوبہ مکمل طور پر منظور شدہ اور بجٹڈ ہے، مگر موجودہ مالی سال میں اب تک صرف 800 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث بڑے تعمیراتی اجزاء عملی طور پر منجمد ہو چکے ہیں۔این ایچ اے کے ایک ترجمان نے بڑھتی ہوئی تنقید کے جواب میں کہا کہ:پیکیج-I کا انحصار حکومتِ پنجاب (راولپنڈی ڈویژن) کی فنڈنگ پر ہے، اور رقم ملتے ہی کام “فوری” شروع کر دیا جائے گا۔پیکیج-II این ایچ اے کی براہِ راست ذمہ داری ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالی سال کے اختتام سے قبل اس کی رفتار میں تیزی آئے گی۔تاہم، زمینی حقائق ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔اہم شراکت داروں کو کردار ادا کرنا ہوگاباخبر ذرائع کے مطابق، مالی ذمہ داری بنیادی طور پر راولپنڈی ڈویژن (حکومتِ پنجاب) پر عائد ہوتی ہے، جبکہ ثانوی شراکت داروں میں شامل ہیں:کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (KRL)پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC)ان اداروں کی جانب سے بروقت مالی تعاون نہ ہونے کے باعث ایک قومی اہمیت کا حامل منصوبہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔حکمرانی اور ترجیحات کا امتحاندفاع، سیاحت، تعلیم اور علاقائی رابطہ کاری جیسے اہم قومی مفادات کے تناظر میں، سوان–سہالہ–کہوٹہ روڈ اب حکمرانی، بین الاداراتی ہم آہنگی اور ترقیاتی ترجیحات کا کڑا امتحان بن چکا ہے۔اگر فنڈنگ کی رکاوٹیں فوری طور پر دور نہ کی گئیں تو یہ اسٹریٹجک شاہراہ ایک اور مثال بن جائے گی:تاخیر زدہ منصوبوں کیلاگت میں بے پناہ اضافے کیاور عوامی مشکلات و محرومی کیجو کسی طور بھی قومی مفاد کے مطابق نہیں۔

وزیر اطلاعات ۔۔۔پریس کانفرنسآج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے اس کے پیچھے تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کی زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں، عطاء اللہ تارڑاسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے اس کے پیچھے تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کی زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں، ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے، آخری دم تک اس کا تعاقب کر کے اس کا خاتمہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما زاہد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سال 2025ء ہر لحاظ سے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا، اسی برس پاکستان نے معرکہ حق میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے فتح کے جھنڈے گاڑے۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء جہاں عسکری کامیابیوں کا سال رہا وہیں معاشی محاذ پر بھی ملک کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، معیشت کو سمجھنے والے میڈیا کے افراد کی جانب سے جب معاشی امور پر تنقید کی جاتی ہے تو اسے مثبت پیش رفت سمجھتا ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک وقت تھا

جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، فارن ایکسچینج ریزروز میں کمی، ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھائو، روپے کی قدر میں کمی، کاروباری سرگرمیوں کا جمود، برآمدات کی بندش، ایل سیز کا نہ کھلنا اور مجموعی طور پر غیر یقینی اور ہیجانی کیفیت موجود تھی، یہاں تک کہ یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ ملک آج ڈیفالٹ کرے گا یا کل۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ وہی ہوتا جس کی خواہش کا اظہار سیاسی حریف کرتے رہے اور ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو بینکوں کے باہر طویل قطاریں لگ جاتیں، عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل جاتا، رقوم نکلوانے کی بھگدڑ، لوٹ مار، بین الاقوامی ایئرلائنز کی پاکستان آمد کی بندش اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط معطل ہو جاتے، جس سے ملک میں مکمل افراتفری کی صورتحال پیدا ہو جاتی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ الحمدللہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے نکل کر ایک ابھرتی ہوئی معیشت کی جانب گامزن ہو چکا ہے، ملکی سٹاک مارکیٹ روزانہ کی بنیاد پر نئی بلندیاں چھو رہی ہے جس کی بنیادی وجہ حکومتی پالیسیوں پر بزنس کمیونٹی، صنعتکاروں اور تاجروں کا بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ بخوبی جانتا ہے کہ ملک میں سٹرکچرل ریفارمز کا عمل جاری ہے اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے قومی مفاد میں معیشت کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، اس پورے عمل میں ریاستی اداروں کا بھی بھرپور کردار ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی قیادت میں اکنامک ریوائیول کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں، صرف دسمبر کے مہینے میں ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو سال بہ سال بنیاد پر 17 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ایک سیاسی جماعت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر پاکستان نہ بھیجنے اور بائیکاٹ کی کال دی تاہم وزیراعظم اور حکومت کی طرف سے اوورسیز پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ترسیلات زر بھیجنے کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملکی معیشت میں گروتھ کا مومنٹم برقرار ہے،

فارن ایکسچینج ریزروز میں اضافہ ہو رہا ہے، سٹاک ایکسچینج شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اوورسیز پاکستانی بھرپور اعتماد کے ساتھ سرمایہ اور ترسیلات وطن بھیج رہے ہیں جبکہ پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم بیرونِ ملک دوروں کے دوران ہر فورم پر پاکستانی مصنوعات کے فروغ کی بات کرتے ہیں، ملائیشیا نے پاکستان سے حلال گوشت اور چاول درآمد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان آنے والے اعلیٰ سطحی وفود اور سربراہان مملکت سے بھی دوطرفہ تجارت بڑھانے پر بات چیت کی جاتی ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعاون میں اضافہ کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم کے بیرونِ ملک دوروں پر تنقید کی جاتی ہے لیکن یہ دیکھنا چاہئے کہ ان دوروں کے ملکی معیشت پر کیا مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم جس بھی ملک کا دورہ کرتے ہیں وہاں تجارتی محاذ پر نئی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتنے زیادہ دوروں کی کیا ضرورت ہے وہ درحقیقت نادان ہیں، وزیراعظم بیرون ملک دورے دعوت پر کرتے ہیں، دعا کرنی چاہیے کہ ہر وزیراعظم کو دنیا بھر سے دعوتیں ملیں اور پاکستان کے اعزاز میں غیر ملکی سربراہان مملکت کا دورہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ایک شخص تکبر کے انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کہا کرتا تھا کہ تمہاری ثقافت اور تاریخ تمہارے سے زیادہ بہتر مجھے پتہ ہے، اس طرز عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرق بھی ناراض ہوا اور مغرب بھی، ایک فرد کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے ممالک پاکستان کے لئے ریڈ کارپٹ بچھا رہے ہیں جو وزیراعظم پاکستان اور پوری قوم کے وقار اور عزت کی عکاسی کرتا ہے، بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے اور عالمی برادری پاکستان کے ساتھ تجارت اور دفاعی شعبے میں تعاون کی خواہاں ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کی ٹیموں کا شفاف انداز میں آکشن ہوا جسے پوری دنیا نے دیکھا، ایک گروپ کا تعلق آسٹریلیا میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں سے جبکہ دوسرے گروپ کا تعلق امریکہ سے ہے، دونوں گروپس کے سربراہان نے کہا کہ دنیا بدل چکی ہے، ہم پاکستان آئے ہیں، ہم نے پی ایس ایل کی دو ٹیمیں خریدی ہیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ سرمایہ امریکہ میں بھی لگا سکتے تھے، انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اوورسیز پاکستانیز پاکستان میں سرمایہ کاری پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ایک اہم سنگ میل ہے، اوورسیز پاکستانی پاکستان میں سرمایہ کاری کو باعث فخر سمجھتے ہیں، پاکستان اب سفارتی محاذ پر مسلسل کامیابیاں سمیٹ رہا ہے، بھارتی جنگی طیارے گرانے کے بعد دنیا پاکستان کی معترف ہے، آج پاکستان کے گرین پاسپورٹ کو ہر جگہ عزت اور وقار حاصل ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور پالیسی فریم ورک جبکہ ملائیشیا کے ساتھ تجارتی میدان میں پیشرفت حکومت کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا پیارا اور عزیز صوبہ ہے جہاں کے عوام غیرت مند اور بہادر ہیں تاہم بدقسمتی سے وہاں ایسی حکومت مسلط ہے جس کی سوچ محدود اور رویے قابل افسوس ہیں۔ لاہور کے دورے کے موقع پر انہوں نے خواتین کی توہین کی، وزیر اطلاعات پنجاب کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ کسی بھی مرد کو زیب نہیں دیتے، یہ طرز عمل شرمناک اور قابل مذمت ہے، ایک صوبے کا وزیر اگر دوسرے صوبے کی خاتون وزیر اطلاعات کے بارے میں ایسی گفتگو کرتا ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ کیا وہ یہی الفاظ اپنی بہن بیٹیوں کے بارے میں استعمال کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خواتین کو نشانہ بنانا بزدل لوگوں کا کام ہے،

یہ بزدلی کی بدترین مثال ہے، اگر ان کی بزدلی بیان کرنا شروع کی جائے تو لوگ شرما جائیں گے کہ ایسے عناصر کے پاس خیبرپختونخوا کی حکومت ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایک ٹی وی پروگرام میں خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات کے سامنے تحریک طالبان پاکستان کا نام لیا گیا تو وہ لاجواب ہو گئے حالانکہ ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے اور ریاست اس کا خون کے آخری قطرے تک تعاقب کرے گی، ہمیں افواج پاکستان، سکیورٹی اداروں اور ان جوانوں پر مکمل اعتماد ہے جو روزانہ جان ہتھیلی پر رکھ کر گھر سے نکلتے ہیں، جنہیں ان کی مائیں اور گھر والے دعائوں اور اس عزم کے ساتھ رخصت کرتے ہیں کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے جا رہے ہیں اور اگر خوش قسمت ہوں تو شہادت کا رتبہ پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے باہمت اور قربانی دینے والے لوگ اس ملک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کا کیا کردار ہے؟ ان کا کردار یہ ہے کہ وہ خواتین کو طعنے کستے ہیں، تذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ٹی ٹی پی کی باری آتی ہے تو یہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی ٹی پی بیرونی فنڈنگ، را اور بھارتی سرپرستی کے تحت پاکستان پر حملے کرتی ہے مگر خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندوں کی جانب سے اس کی مذمت میں دو الفاظ بھی ادا نہیں کیے جاتے، طعنے کستے وقت ان کی زبان رواں ہوتی ہے لیکن جب تحریک طالبان پاکستان کا ذکر آتا ہے تو گھبرا کر خاموش ہو جاتے ہیں، ان کا لیڈر دہشت گردوں کو شہید کہتا رہا، مگر پاک فوج کے کسی جوان کے لیے کبھی ایک لفظ تک لکھنے یا کہنے کی جرات نہیں کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں، بلور خاندان دہشت گردی کا نشانہ بنا اور اس کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف دہشت گردوں کے خلاف نرم گوشہ رکھتی ہے، پی ٹی آئی والے ڈرتے ہیں کہ ہمارے پر حملہ نہ ہو، ان پر حملہ اس لئے نہیں ہوتا کہ یہ ان کی سہولت کاری کرتے ہیں، انہیں پناہ گاہیں فراہم کی جاتی ہیں، واپس لا کر بسایا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے بعد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا تھا تاہم تحریک انصاف نے دوبارہ دہشت گرد عناصر کو واپس لا کر بسایا ۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکائونٹس پر فیلڈ مارشل اور افواج پاکستان کے خلاف تنقیدی بیانات تو دکھائی دیتے ہیں مگر پاک فوج کے کسی جوان یا افسر کے حق میں ایک لفظ بھی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ آج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے، اس کے پس پردہ تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے، اسی وجہ سے ان کے ترجمان بھی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف بات کرنے سے گھبراتے ہیں، یہی ان کی نام نہاد بہادری اور حوصلے کا معیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹی ٹی پی میں دس اچھے لوگوں کا نام بتا دیں جو پرو پاکستانی ہوں اور جن کی خدمات پاکستان کی محبت میں ہوں، حقیقت یہ ہے کہ یہ اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاق، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں حکومتی اقدامات کے ثمرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، پنجاب کی ترقی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، صوبے میں سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں فعال ہیں، الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں، جدید ترین آئی ٹی ادارے قائم ہو رہے ہیں، بیوٹیفیکیشن کے منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں، پارکس بن رہے ہیں اور ہر شعبے میں ترقی کا سفر جاری ہے۔ اس کے برعکس ایک صوبہ ایسا ہے جہاں ایک سیاسی جماعت گزشتہ بارہ برس سے برسرِ اقتدار ہے مگر وہاں گورننس مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی تحریک انصاف نے بنایا تو اس پر افسوس کے ساتھ ہنسی بھی آتی ہے، کاش یہ لوگ لاہور اور پنجاب کا وژن خیبرپختونخوا لے جاتے، دیکھتے کہ گرین بسیں کیسے چلائی گئیں، شہباز شریف نے میٹرو بس اور اورنج لائن کا جدید نظام کیسے متعارف کرایا، سیف سٹیز کے کیمروں کا وہ ماڈل کیا ہے جسے شہباز شریف نے شروع کیا اور مریم نواز اسے آگے بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاش یہ لوگ صحت کے نظام کو سنجیدگی سے سٹڈی کرتے، صرف نعرے لگانے، حبیب جالب کے اشعار پڑھنے اور تقریروں پر اکتفا نہ کرتے، یہ یونیورسٹیوں میں تالیاں اور نعرے بازی کر کے خوش ہو جاتے ہیں، نئی یونیورسٹیاں بنا کر دکھائیں، یہ صرف کرتب دکھانے کے ماہر ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ صحت اور تعلیم کی صورتحال کیا ہے تو حقائق سامنے آ جاتے ہیں، خیبرپختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں میں کوئی علاج کروانے کو تیار نہیں، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سب سے زیادہ مریض خیبرپختونخوا سے آتے ہیں، پورے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈاکٹر اور ایک لیڈی ڈاکٹر موجود ہے، کیا یہ کام کسی اور نے آ کر کرنا تھا، اگر یہ ضلع مسلم لیگ (ن) کو دے دیا جاتا تو ہم وہاں کام کر کے دکھاتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے کئی علاقوں میں صاف پینے کا پانی تک میسر نہیں اور دعوے بڑے بڑے کیے جا رہے ہیں، درجن سے زائد یونیورسٹیاں ایسی ہیں جہاں عملہ موجود نہیں، جہاں عملہ ہے وہاں تنخواہوں کے لیے فنڈز نہیں، صوبے بھر میں پانچ سے سترہ سال کی عمر کے 49 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تورغر، کوہستان، لوئر کوہستان اور الائی پالس جیسے علاقوں میں لڑکیوں کے لیے ایک بھی کالج موجود نہیں، کوہستان میں اربوں روپے کے سکینڈلز سامنے آ جاتے ہیں مگر بچیوں کے لیے ایک تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا جاتا، لوئر دیر میڈیکل کالج تیمرگرہ پر چار ارب روپے خرچ کیے گئے، سٹاف بھرتی ہو چکا ہے، 32 کروڑ روپے ماہانہ تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں مگر اس کے باوجود کالج آپریشنل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان، صحت اور تعلیم کی سہولیات سب کی حالت سب کے سامنے ہے، ان سے پوچھا جائے کہ ان کے پاس ان شعبوں کے لیے کیا روڈ میپ ہے تو جواب ندارد، شعر و شاعری کر لیتے ہیں، وکٹری کا نشان بنا لیتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرنی مگر خواتین کے خلاف طعنے ضرور کسنے ہیں، گورننس کی ابتر صورتحال بھی سب پر عیاں ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وہاں سیاسی عناصر کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط موجود ہیں، تیل اور منشیات کی سمگلنگ، اشیائے خوردونوش، ٹمبر اور ٹوبیکو مافیا سرگرم ہے، انہی نیٹ ورکس کے ذریعے ان کے کاروبار چلتے ہیں، یہ ان کا اصل اور گھنائونا چہرہ ہے، دہشت گردی کے پسِ پشت انہی کے اپنے لوگ کارفرما ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا حکومت سے صحت، تعلیم کے بجٹ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور خواتین کی یونیورسٹیوں و کالجوں پر خرچ ہونے والی رقم کا حساب مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سارا فوکس اپنی بزدلی پر ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ نہ کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں دہشت گردوں کا خوف موجود ہے وہیں مالی مفادات اور کمائی کا نیکسس بھی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ سکیم متعارف کرائی ہے تاکہ خیبر پختونخوا کا ٹیلنٹ بھی اس سہولت سے محروم نہ رہے۔

وفاقی منصوبے وفاقی حکومت ہی مکمل کر رہی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی پر جو بھی بجٹ خرچ ہوتا ہے وہ مکمل طور پر وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی شکل میں یہ اخراجات وفاق ہی برداشت کرتا ہے، صوبے اس میں حصہ نہیں ڈالتے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی نئی فورس کھڑی کرتی، سیف سٹی کا مربوط نظام قائم کرتی، جدید فارنزک لیبارٹریاں بناتیں، اگر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرنا تھا تو کم از کم جرائم پر قابو پا لیا جاتا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹمبر، ٹوبیکو، آئل اور ڈرگ مافیا کے سرغنے انہی کے دوست ہیں اور ان ہی کی پارٹی میں موجود ہیں، اسی لیے وہاں اصلاحات نہیں لائی جاتیں اور نظام کو جان بوجھ کر اسی حالت میں چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی اور ملک کے مفاد میں اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہئے کہ اپنی گورننس بہتر بنائے، اگر قانون سازی کے حوالے سے یا کسی بھی قسم کی معاونت درکار ہو تو وفاقی حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر پہاڑوں کو کاٹ کر معدنیات نکالی جا رہی ہے، خدا را صوبے کے قدرتی وسائل پر ڈاکے مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر گز یہ نہیں چاہتی کہ مظلومیت کا کوئی بیانیہ پی ٹی آئی کے ہاتھ میں دیا جائے، گزشتہ بارہ برسوں میں صوبے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری دلی خواہش ہے کہ پشاور لاہور سے بہتر ہو، وہاں کی سڑکیں، سکول، ہسپتال، کالجز اور یونیورسٹیاں زیادہ معیاری ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرے گی، ہر حکومت کے پاس گورنر راج کا آئینی آپشن موجود ہوتا ہے تاہم اس حوالے سے اس مرحلے پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعدد بار بات چیت کی پیشکش کی ہے کہ صوبے کے معاملات کس طرح بہتر بنائے جا سکتے ہیں، اگر کوئی بات کرنے کو تیار ہی نہ ہو تو مسائل کیسے حل ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں خیبرپختونخوا کے نمائندے بھی شامل ہوں گے تاکہ مشترکہ طور پر معاملات کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد دنیا کے صاف ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، اگرچہ کچھ علاقوں میں صفائی کے مسائل موجود ہو سکتے ہیں مگر یہ تاثر درست نہیں کہ مرکزی سڑکوں کو توڑ کر دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹوبیکو مافیا کے خلاف ایف بی آر متحرک ہے، ایف بی آر نے بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں پر چھاپے مارے، انہیں سیل کیا، جرمانے عائد کیے اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا اور بھارت کے ساتھ اس کا واضح گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، یہ عناصر صرف اور صرف پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پاکستان کا مقابلہ کرنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں تو اللہ کے فضل سے انہیں ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑے گی، ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ پاکستان کا سامنا کر سکیں، یہ دہشت گرد ہیں، دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں اور ہر پہلو سے ان کی آئیڈیالوجی ایک ہی ہے، دہشت گرد کا نہ کوئی رنگ ہوتا ہے، نہ نسل اور نہ ہی کوئی ایمان۔ تحریک انصاف سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مذاکرات پہلے بھی ہو چکے ہیں، پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی، سوال یہ ہے کہ مذاکرات سے بھاگا کون؟ سپیکر قومی اسمبلی ایوان میں مذاکرات کے حوالے سے بارہا بات کر چکے ہیں، وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں بھی واضح طور پر کہا تاہم یہ بھی طے ہے کہ ایسا رویہ قابل قبول نہیں ہو سکتا جس میں ملک کی سالمیت اور افواج پاکستان کے خلاف بیانیہ جاری رکھا جائے، اس طرز عمل کو ترک کرنا ہوگا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر اتنے گروپس بن چکے ہیں کہ یہ بھی واضح نہیں کہ مذاکرات کون کرے گا، یہ مختلف اور متضاد بیانات دے رہے ہیں مگر مذاکرات کے لیے ایک بھی نمائندہ نامزد نہیں کر سکے۔ وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور بات چیت ہونی بھی چاہیے،

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عناصر مذاکرات کے عمل میں سنجیدہ نہیں، اگر سنجیدہ ہوتے تو ایپکس کمیٹی اور دیگر اہم اجلاسوں میں شرکت کرتے، یہ نہ عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں، نہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ہی ملک کے مفاد میں کوئی مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو نیب کو نیازی گٹھ جوڑ کی اصلاحات کے تحت استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس وقت مرزا شہزاد اکبر نیب کے معاون خصوصی تھے اور وزیراعظم ہائوس میں ایک سیل قائم تھا جو طے کرتا تھا کہ کس کو کس طریقے سے اندر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ہمارے وزیراعظم احتساب اور رول آف لاء پر یقین رکھتے ہیں مگر انہوں نے سیاسی وکٹمائزیشن کے لیے کوئی سیل قائم نہیں کیا، ہمارے پاس کوئی مشیر احتساب نہیں ہے، نیب ایک آزاد ادارہ ہے اور اس کا اپنا مینڈیٹ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا کام نہیں کہ نیب کے معاملات میں مداخلت کرے یا کہیں کہ کسی مخصوص کیس کو آگے بڑھایا جائے، کوہستان میں اربوں روپے کا کرپشن کیس سامنے آیا، نیب اپنا کام کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں میں آنے والے کیسز کا نوٹس لیتی ہے اور ان کی پیروی بھی کرتی ہے، مگر نیب کا مینڈیٹ مکمل طور پر حکومت سے علیحدہ اور خود مختار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متعدد ایسی انڈسٹریاں تھیں جن کے سمگلنگ کے ساتھ روابط تھے، ان نیٹ ورکس کو توڑا گیا، اشیائے خوردونوش پر کیو آر کوڈز متعارف کرائے گئے، تمباکو فیکٹریوں پر چھاپے مارے گئے، انہیں سیل کیا گیا اور قانون کے مطابق کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں انفورسمنٹ کا مینڈیٹ وفاق کے پاس ہے وہاں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی تاہم جو امور صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں وہ صوبوں کی ذمہ داری ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے، اربوں ڈالر مالیت کے قیمتی جیمز اور سٹونز پائے جاتے ہیں مگر ان کی برآمدات پر توجہ نہیں دی گئی، اسی طرح تین سو ڈیم بنانے کے دعوے کیے گئے، سوال یہ ہے کہ وہ ڈیم کہاں گئے؟ کتنے ڈیم بنے؟ ان تمام ذرائع سے خطیر ریونیو حاصل کیا جا سکتا تھا مگر انہیں استعمال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کوئی منظم ٹمبر مافیا موجود نہیں ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے سٹرکچرل ریفارمز کا عمل جاری ہے، بجلی کے بلوں میں 35 روپے پی ٹی وی فیس ختم کی جا چکی ہے جس طرح غیر ضروری اخراجات ختم کیے گئے اسی طرح آئی پی پیز کے معاملے پر بھی عملی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بین الاقوامی معاہدوں اور پیچیدہ معاملات کو حل کیا گیا، آئی پی پیز کے متعدد معاہدے ختم کیے گئے جن میں بڑے بڑے کنٹریکٹس شامل تھے، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری بہترین وزراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سولر اور توانائی کے دیگر شعبوں میں مؤثر پالیسیاں تشکیل دیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام ڈسکوز میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد تعینات ہیں اور کسی ایم این اے یا ایم پی اے کو وہاں جا کر سفارش کرنے کی اجازت نہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردوں کی ہارڈ ٹارگٹس تک پہنچنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے، دہشت گردوں نے خضدار میں بچوں کی بس پر اس لئے حملہ کیا کہ وہ ہارڈ ٹارگٹس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری تندہی سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انشاء اللہ دہشت گردی کی اس جنگ میں
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی: برقع پوش دہشت گرد گرفتاراسپن وام، شمالی وزیرستان 🇵🇰سیکیورٹی فورسز نے خواتین کے لباس میں ملبوس ایک مشکوک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاری کے بعد کی جانے والی تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ فرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا خودکش بمبار (SB) ہے اور اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔
تاجر برادری کا ایف بی آر پالیسیوں کے خلاف احتجاج، بدعنوان افسران کی برطرفی اور میرٹ پر مبنی نظامِ حکومت کا مطالبہ”رانا تصدق حسیناسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں آج ایک بڑے اور بھرپور احتجاج کے دوران آل پاکستان انجمنِ تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، دیگر سینئر تاجر رہنماؤں اور انجمنِ تاجران جی-13 کے صدر ریاض خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دفاتر کے باہر مظاہرین سے خطاب کیا اور موجودہ ٹیکس پالیسیوں اور انتظامی بدعنوانیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔تاجر رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر کے بعض افسران من مانے اقدامات، ہراسانی اور آڈٹ و اسیسمنٹ کے غیر شفاف طریقۂ کار کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، جس سے دارالحکومت کی کاروباری برادری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فوری ٹیکس اصلاحات، متاثرہ تاجروں کو ریلیف اور محصولات کی وصولی میں مکمل شفافیت کے مطالبات درج تھے۔اجمل بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تاجروں کے جائز مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو شہر کے تجارتی مراکز میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر متوازن اور جابرانہ پالیسیوں نے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی تاجر برادری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ریاض خان نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری طویل عرصے سے نظامی ناانصافی، نظراندازی اور ریونیو اداروں کے غیر منصفانہ رویے کا سامنا کر رہی ہے۔ایک سخت سیاسی و انتظامی پیغام دیتے ہوئے مظاہرین نے بدنام اور کرپٹ افسران کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا اور طاقت کے ارتکاز کو روکنے کے لیے مؤثر روٹیشن پالیسی کے نفاذ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدوں پر میرٹ، اہلیت اور جوابدہی کی بنیاد پر تعیناتیاں ہونی چاہئیں، نہ کہ ایسے “عالی جاہوں اور لارڈز” کو نوازا جائے جو سرکاری عہدوں کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں۔مبصرین کے مطابق یہ احتجاج پاکستان کے بیوروکریٹک نظام میں موجود گہرے اور وسیع تر مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں اقربا پروری، پسند ناپسند اور بدعنوانی مسلسل نظامِ حکومت اور عوامی اعتماد کو کمزور کر رہی ہے۔مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک عملی اور ٹھوس اصلاحات نافذ نہیں کی جاتیں اور تاجر برادری کے حقوق کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، ان کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی سیکرٹری پٹرولیم مومن آغا کو عہدے سے ہٹا دیا مومن آغا ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ 22 کے سینئر آفیسر ہیں مومن آغا کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت، او ایس ڈی بنا دیا گیا ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے بعض پالیسی امور پر اختلاف پر انھیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے










