40 قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل۔ سپیکر ایاز صادق ان ایکشن۔ افغان شہریوں کا اسلام آباد میں انٹرنیشنل فاسٹ فوڈ چین پر حملہ۔ جتھے میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد بھی شامل ایف ٹین اور جی ٹین میں خوف۔ وزیر خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات میں 10 روپے کمی کر دی۔ پاکستانی میڈیکل مشن کو سعودی حکومت کی طرف سے مشکلات کا سامنا۔تفصیلات بادبان نیوز ھفتہ کا روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل اسلام آباد کراچی

قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے دو ماہ سے زائد تاخیر کے بعد بالآخر جمعرات کو طاقتور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) سمیت 40 قائمہ کمیٹیاں تشکیل دے دیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے باضابطہ اعلامیہ کے مطابق سپیکر نے 17 مئی کو قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی تحریک کی روشنی میں کمیٹیوں کے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ایوان کی قائمہ کمیٹیاں حکومت کی متعلقہ وزارتوں کے کام کی نگرانی اور احتساب کا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پارلیمانی جمہوریتوں میں کمیٹیوں کو پارلیمان کا ’آنکھ، کان، ہاتھ اور دماغ‘ سمجھا جاتا ہے۔قائمہ کمیٹیاں ایوان کی طرف سے بھیجے گئے بلوں کی جانچ کرتی ہیں اور اپنی رپورٹیں ایوان کو پیش کرتی ہیں۔قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں خصوصی دفعات شامل ہیں جو قائمہ کمیٹیوں کو متعلقہ وزارت اور اس سے متعلقہ عوامی اداروں کے اخراجات، انتظامیہ، تفویض کردہ قانون سازی، عوامی درخواستوں اور پالیسیوں کا جائزہ لینے کا اختیار دیتی ہیں اور اپنی نتائج اور سفارشات کی رپورٹ وزارت اور وزارت کو بھجوا سکتی ہیں۔قاعدہ 200 کے تحت قواعد کے تحت 3 مارچ کو وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد تمام قائمہ کمیٹیاں اور ان کے اراکین کو تیس دن کے اندر اسمبلی کے ذریعے منتخب کرنا ضروری ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں میں کسی کون سی کمیٹی دی جائے پر اختلاف کی وجہ سے اس مرتبہ یہ تشکیل تاخیر کا شکار رہیاگرچہ قومی اسمبلی کے اعلامیے میں کمیٹی سربراہان کے نام نہیں دیئے گئے لیکن اطلاعات ہیں کہ متفقہ فارمولے کے مطابق اب اپوزیشن سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کو دس کمیٹیوں کی سربراہی ملے گی، جن میں اہم پبلک اکاون کمیٹی بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کو 13 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو بالترتیب آٹھ اور دو کمیٹیوں کی چیئرمین شپ ملے گی۔ باقی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں میں تقسیم کی جائے گی۔ابتدائی طور پر تحریک انصاف کے شیر افضل مروت کو پی اے سی چیئرمین کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا تاہم بعد میں اس عہدے کے لیے شیخ وقاص اکرم کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھانوٹیفکیشن کے مطابق پی اے سی کے ارکان میں وزیر دفاع خواجہ آصف، سردار یوسف زمان، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، جنید انور چوہدری، شیذرا منصب کھرل، رضا حیات ہراج اور مسلم لیگ ن کے رانا قاسم نون شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ محمود، شازیہ مری، سید حسین طارق، سید نوید قمر اور حنا ربانی کھر۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان بطور آزاد؛ ثناء اللہ مستی خیل، جنید اکبر، ریاض خان، وقاص اکرم، عامر ڈوگر اور ایس آئی سی کے خواجہ شیراز محمود، ایم کیو ایم پی کے معین عامر پیرزادہ اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کی شاہدہ بیگم شامل ہیں۔تشکیل کردہ قائمہ کمیٹیوں میں قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی، قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن، قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ، قائمہ کمیٹی برائے تجارت، قائمہ کمیٹی برائے مواصلات، قائمہ کمیٹی دفاع، قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، قائمہ کمیٹی برائے اکنامک افیئرز ڈویژن، قائمہ کمیٹی برائے توانائی و پیٹرولیم ڈویژن، قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن پروفیشنل ٹرینگ نیشنل ہیریٹیج و کلچر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و مالیات، قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور، قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں، قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس، قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف، صنعت و پیداوار، قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات، قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن، قائمہ کمیٹی برائے داخلہ،قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ، قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان، قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز، قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول، قائمہ کمیٹی برائے تحفظ خوراک و تحقیق، قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز و ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن، قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی افرادی قوت و ترقی، قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ و خصوصی اقدامات، قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن،قائمہ کمیٹی برائے انرجی پاور ڈویژن، قائمہ کمیٹی برائے نجکاری، ریلویز، قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور بین المذاھب ہم آہنگی، قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق، قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، قائمہ کمیٹی برائے اسٹیٹ اینڈ فرائنٹیر ریجنز، قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل، قائمہ کمیٹی ہاؤس اینڈ لائبریری اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پی اے سی شامل ہیں۔اس سے قبل سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی رہنما عرفان صدیقی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوگئے۔

جج مجوکا ان ایکشن 10 روز مے فیصلہ کرونگا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے جج افضل مجوکا نے دوران عدت نکاح کیس میں سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ زندہ رہا توکیس کا10 دنوں میں فیصلہ کر دوں گا، آج کی سماعت کا آرڈر لکھ رہا ہوں اس میں نوٹس سے بڑا کچھ ہوگا،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے، خاور مانیکا اور ان کے وکیل کو 21 جون کو عدالت پیش ہونے کی ہدایت، دیگر صورت میں ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سزا کے خلاف اپیلیں جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے اور سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے سماعت کی، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے۔عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ عدالت میں پیش کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈائریکشن آچکی ہے کیس کی سماعت کل کیلئے رکھ لیں۔جج افضل مجوکا نے ریمارکس دئیے کہ اگر میں ، کل ممکن نہیں ہے کیونکہ بہت سی ضمانت کی درخواستیں لگی ہوئی ہیں، اگر دوسری پارٹی پیش نہ بھی ہوئی تب بھی فیصلہ کر دوں گا۔عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ نے کہا کہ کل کیلئے سماعت رکھ لیں پھر نوٹس ریکارڈ کا حصہ ہو جائیں گے۔دلائل کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کر دی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقامی عدالت کو دوران عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر دس روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔سزا کیخلاف مرکزی اپیلوں پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں سیشنز جج شارخ ارجمند کو واپس بھیجنے کی بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ خاور مانیکا کی جانب سے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ محکمہ موسمیات نے عیدالاضحی پر بارشوں کی نوید سنا دی ،ملک کے مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ،اسلام آباد اور گر دو نواح میں آندھی چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارشیں جبکہ بالائی پنجاب میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں چند مقامات پر بارش ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔خیبرپختونخوا ہ کے اکثر بالائی علاقوں میں بارش کی توقع ہے۔ خضدار، قلات، لسبیلہ، پنجگور اورآواران میں بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مری، گلیات، راولپنڈی، اٹک، تلہ گنگ، چکوال اورجہلم میں بھی بارش ہونے کی توقع ہے۔اسی طرحخوشاب، بھکر، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد، ساہیوال، اوکاڑہ، قصور، ننکانہ صاحب، گجرات، میانوالی، لاہور، حافظ آباد، منڈی بہاوالدین، وزیر آباد، سیالکوٹ، نارووال اور گوجرانوالہ میں بارش کا امکان ہے۔ڈیرہ غازی خان، تونسہ، لیہ اور راجن پور میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے، دیر، سوات، مالاکنڈ، باجوڑ، کوہستان، چترال، شانگلہ، بٹگرام اور بونیرمیں بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، کرم اور وزیرستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش ہونے کی توقع ہے، پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، ہنگو اورکرک میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے۔بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک، مہمند، خیبر اور اورکزئی میں بھی بارش ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔۔محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان اور سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔ سندھ کے ساحلی علاقوں میں گرم اور مرطوب رہے گا۔ سندھ میں رواں سال معمول سے زائد بارشوں کا امکان ہے جبکہ جولائی میں کراچی میں مون سون بارشوں کا آغاز ہو سکتا ہے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ گالم گلوچ کا کلچر ختم نہیں ہو سکتا لیکن کم ضرور ہو سکتا ہے، عدالتی رپورٹنگ بہت مشکل کام ہے، بعض اوقات عدالتی رپورٹنگ میں ایسا ایسا ماضی کا پس منظر بیان کیا جاتا ہے جو ہم بہت عرصہ پہلے بھول چکے ہوتے ہیں، اچھا لکھنے کیلئے پڑھنا بھی نہایت ضروری ہے۔سپریم کورٹ، پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی حلف برداری تقریب منعقد ہوئی۔چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی ایشن کے ممبران سے حلف لیا، حلف برداری کی تقریب میںسپریم کورٹ کے ججز جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے بھی شرکت کی۔اس موقع پرحلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے، اس لئے اب اس پر رائے دی جا سکتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کیس کے فیصلے میں 627 پیرا گرافل لکھے تھ۔ اور سپریم کورٹ نے اسی کیس میں 963 پیرا گراف لکھے ہیں۔ فوجداری مقدمات میں اتنا طویل فیصلہ شاید اور کوئی موجود نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ میں بھی بہت سال پہلے لکھا کرتا تھاجبکہ میری والدہ سعیدہ قاضی عیسیٰ بھی آرٹیکل لکھتی رہیں ہیں۔ اس زمانے میں بہت تحقیق کے بعدآرٹیکل لکھا جاتا تھا لیکن آج کل کا زمانہ بہت آسان ہو گیا ہے اب تو فون اٹھاو اور جو کہنا ہے کہ دو۔ چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے سب سے پہلے میڈیا قوانین مرتب کر کے اسے باقاعدہ کتاب کی شکل میں شائع کیا۔انہوں نے کہا کہ ایک کتاب کے مطابق اچھی تحریر کیلئے ٹھنڈی آنکھ اور کھلا دل ہونا چاہئے۔آج کل کافی آسانیاں ہوگئیں ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس چوروں، نادہندگان اور انکی معاونت کرنے والے عناصر کا خاتمہ کر کے چھوڑیں گے، بجٹ کی تیاری کے دوران میں نے واضح ہدایت دیں کہ اشرافیہ کو ٹیکس دینا ہی ہوگا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ٹیکس اصلاحات، معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن اور محصولات میں اضافے کیلئے اقدامات پر اعلی سطح جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم کو محصولات بڑھانے کے حوالے سے قلیل مدتی اور وسط مدتی پلان پیش کیا گیا۔اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں موجودہ پالیسیوں کے مکمل نفاذ سے ہی ملکی آمدن میں ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے کا اضافہ ممکن ہے، ملکی معیشت کی ویلیو چین کی ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن سے محصولات بڑھیں گی اور معیشت کی ڈاکیومینٹیشن ہو سکے گی۔اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر ملکی معیشت کا اہم ترین پہیہ ہے، حکومت ایف بی آر کی ہیومن ریسورس ترقی اور ڈیجیٹائز یشن کے لئے تمام وسائل مہیا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس چوروں اور ٹیکس نادہندگان اور انکی معاونت کرنے والے عناصر کا سد باب کر کے چھوڑیں گے۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران میں نے واضح ہدایت دیں کہ اشرافیہ کو ٹیکس دینا ہی ہوگا، حکومت نے حالیہ بجٹ میں غریب و متوسط طبقے پر کم سے کم ٹیکس عائد کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کی ہماری اولین ترجیح ٹیکس کی شرح کو کم جبکہ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہے، ٹیکس نظام کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن اور افرادی قوت کی استعداد میں ترجیحی بنیادوں پر اضافہ کر رہے ہیں۔شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس دینے کے اہل افراد کو جلد سے جلد ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔اجلاس کو بین الاقوامی فرم میک کینزی اور کار انداز نے وزیراعظم کو ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور محصولات میں اضافے کے حوالے سے گزشتہ چار ہفتوں میں کی گئی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ،محمد اورنگزیب، وزائے مملکت شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل، سابق نگران وزیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر شمشاد اختر، ڈاکٹر اکرام الحق، سلمان احمد، چئیر مین ایف بی آر ، متعلقہ اعلی حکام ، میک کینزی اور کار انداز کے نمائندگان نے شرکت کی۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر)سجاد غنی نے ملاقات کی ہے ،ملاقات میں گورنر خیبر پختونخوا نے چشمہ لفٹ کینال کے لئے 19 ارب روپے مختص کرنے پر وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے ایم پی اے احمد کنڈی بھی موجود تھے۔چیئرمین واپڈا نے گورنر خیبر پختونخوا کو یقین دلایا کہ چشمہ لفٹ کینال پر جلد ہی کام شروع کردیا جائے گا یہ منصوبہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ چشمہ لفٹ کینال ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا ۔ ہمارے صوبہ کے حق کا پانی اس نہری منصوبہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہورہا تھا ، اس منصوبے سے ڈیرہ اسماعیل خان کا وسیع قابل کاشت رقبہ آباد ہوگا جس سے اس خطے میں زرعی انقلاب آئے گا اور صرف خیبر پختونخوا ہی اجناس میں خود کفیل نہیں ہوگا بلکہ ہم ملک کی اجناس کی بڑی ضرورت اس منصوبے کی تکمیل سے پورا کرینگے، ملاقات میں ٹانک ذام اور درابن ذام منصوبوں پر بھی بات کی گئی چیئرمین واپڈا نے ان منصوبوں کے حوالہ سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

پاکستان منی میں حج مشن ختم 1947 سے لے کر 2023 تک موجود حج منی میں مشن ختم کیوں ختم کیا آفریدی اور ضیا الرھمان اربوں روپے کی کرپشن مے مصروف معاونین اور میڈیکل مشن عزیزیہ سے سیدھا عرفات اور مزدلفہ سے شیطان صاحب کو کنکریاں مار کر واپس بلڈنگز پھنچے گا وزیر اعظم کاکڑ اور نگران حکومت کے وزیر انیق کو بڑے شیطان کے ساتھ کھڑے کر کے کنکریاں مروای جاے تھوڑی دیر بعد منی سے سھیل رانا لاءیو میں

افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح میں سنگین حد تک اضافہ 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے سیاہ ترین باب کا آغاز ہوا

افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح میں سنگین حد تک اضافہ

2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے سیاہ ترین باب کا آغاز ہوا

طالبان کی ناقص پالیسیوں، جنگ اور غربت کے باعث افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے

12 جون کو دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن منایا گیا

چائلڈ لیبر کے عالمی دن پر اقوام متحدہ دفتر برائے انسانی امور کی خصوصی رپورٹ پیش کی گئی

رپورٹ میں تمام ممالک میں چائلڈ لیبر کے اعداد و شمار بتائے گئے

رپورٹ میں افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح کو سنگین ترین قرار دیا گیا

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 19 فیصد افغان بچے چائلڈ لیبر میں ملوث ہیں

افغانستان میں بچوں کی موجودہ صورتحال مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے، OCHA

اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان پر زور دیا گیا کہ وہ چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں

اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان سے مطالبہ کیا گیا کہ چائلڈ لیبر میں ملوث بچوں کے خاندانوں کی کفالت کی جائے

بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے

طالبان نے بچوں کی آزادی اور بچپن کو چھین کر ان کو اپنے حقوق سے محروم کردیا

طالبان کے دور میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا اور معاشی حالات کی وجہ سے بچے کام کرنے پر مجبور ہوگئے

افغانستان میں لاتعداد بچے اینٹوں کی تیاری، قالین کی بُنائی، تعمیرات، کان کنی اور کھیتی باری کا کام کر رہے ہیں

اسکے علاوہ بڑی تعداد میں بچے سڑکوں پر بھیک مانگ رہے یا کچرا جمع کر رہے ہیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک طالبان اپنی ناقص حکمرانی سے افغانستان کے مستقبل کو گہری تاریکیوں میں دھکیلتے رہیں گے؟

پاکستان ہائی کمیشن، نئی دہلی مورخہ 14 جون 2024ءٹکرزپاکستان نے بھارت سے 509 سکھ یاتریوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لئے ویزے جاری کر دیئےیہ سکھ یاتری 21 سے 30 جون 2024ءتک پاکستان میں منعقدہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کریں گے

پاکستان ہائی کمیشن، نئی دہلیمورخہ 14 جون 2024ءٹکرزپاکستان نے بھارت سے 509 سکھ یاتریوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لئے ویزے جاری کر دیئےیہ سکھ یاتری 21 سے 30 جون 2024ءتک پاکستان میں منعقدہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کریں گےناظم الامور پاکستان ہائی کمیشن سعد احمد وڑائچ نے سکھ یاتریوں کے لئے نیک تمناﺅں کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے انہیں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیاویزوں کا اجراءمذہبی مقامات کے دوروں سے متعلق 1974ءکے پاکستان ۔ انڈیا پروٹوکول فریم ورک کے تحت کیا گیا ہےہر سال بھارت سے بڑی تعداد میں یاتری مختلف مذہبی تہواروں اور تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستان کا دورہ کرتے ہیں

وزیراعظم محمد شہباز شریف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش پرگئے اوران کی خیریت دریافت کی

وزیراعظم محمد شہباز شریف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش پرگئے اوران کی خیریت دریافت کی۔جمعرات کو وزیراعظم آفس کےمیڈیاونگ سے جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کی آمد کا خیر مقدم کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے ہمیشہ جمہوری اقدار کی حفاظت کے لیے پر امن جد وجہد کو فروغ دیا۔وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی دینی خدمات کو بھی سراہا۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نے سیاسی مسائل کے باہمی تعاون سے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی۔
:کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 0.15 ملین میٹرک ٹن فاضل چینی کی برآمد کی مشروط منظوری دیدی ہے۔ اجلاس میں پی ایس او سمیت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے واجبات کی ادائیگی کیلئے 9 ارب روپے جاری کرنے کی تجویز کی منظوری بھی دیدی گئی۔ اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔ کا بینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کویہاں وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب کی زیرصدارت منعقدہ ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر صنعت و پیداور رانا تنویر حسین، وزیر پٹرولیم مصدق مسعودملک، وزیر بجلی سردار اویس احمدخان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویزملک، وفاقی سیکرٹریز، متعلقہ وزارتوں کے سینئرحکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کا بینہ ڈویژن کے کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی ادائیگی کیلئے126.848 ملین روپے، ملازمین کے اخراجات کی ادائیگی کے ضمن میں صدارتی سیکرٹریٹ کیلئے 29 ملین روپے، وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کیلئے وزارت قومی صحت خدمات کیلئے 5400 ملین روپے، گلگت بلتستان میں تنخواہوں، الائونسز، فیملی اسسٹنس پیکجز اور صحت وتعلیم کے مختلف منصوبوں کے ضمن میں وزارت امورکشمیر وگلگت بلتستان کیلئے 4.92 ارب روپے، پاسکو کے زیرالتواء واجبات کی ادائیگی کیلئے 6596 ملین روپے،وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کیلئے 370 ملین روپے، نادرا کی جانب سے صومالی آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم کے ضمن میں وزارت اقتصادی امورکیلئے 332 ملین روپے، خواتین کی مالی شمولیت کے منصوبہ کی تکمیل کے ضمن میں وزارت خزانہ کیلئے 14250 ملین روپے، آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے ضمن میں وزارت خزانہ کیلئے 96.9 ارب روپے، گرین ٹورازم پاکستان پراجیکٹ کے ضمن میں دفاع ڈویژن کیلئے 5 ارب روپے، جاری مالی سال میں شارٹ فال کے ضمن میں وزارت دفاع کیلئے 23.945 ارب روپے، فرنٹیئر کورہیڈکوارٹرز اور گلگت بلتستان سکائوٹس ہیڈکوارٹرز کے زیرالتواء راشن کے واجبات کی ادائیگی کے ضمن میں وزارت داخلہ کیلئے 10 ارب روپے، تین اضافی کورہیڈکوارٹرز بنانے کے ضمن میں وزارت داخلہ کیلئے 600 ملین روپے،وزارت داخلہ کے اضافی فنڈز ضروریات کیلئے 5.986 ملین روپے، پرزن ایڈمنسٹریشن کیلئے نیشنل اکیڈیمی کے قیام کے ضمن میں وزارت داخلہ کیلئے 9.576 ملین روپے، فرنٹیئر کورہیڈکوارٹرز خیبرپختونخوا کیلئے 87 ملین روپے، سول آرمڈ فورسز کے آپریشنل اور راشن کے زیرالتواء واجبات کی ادائیگی کیلئے 4637 ملین روپے اور جاری مالی سال کے نظرثانی بجٹ تخمینہ کے ضمن میں وزارت اقتصادی امور کیلئے 168.83 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزارت قومی تعلیم کی تجویز پر ہائیرایجوکیشن کمیشن کو خودمختاراداروں سے بیرونی قرضوں و کریڈٹ کی ری لینڈنگ پالیسی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی تجویز پر قیمتوں میں فرق کے تناظرمیں پی ایس اوسمیت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے واجبات کی ادائیگی کیلئے 9 ارب روپے جاری کرنے کی تجویز کی منظوری دیدی گئی۔اجلاس میں وزارت صنعت وپیداوارکی تجویز پر 0.15 ملین میٹرک ٹن فاضل چینی کی برآمد کی مشروط منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے چینی کی برآمدکو قیمتوں میں اضافہ سے مشروط کردیا ہے، قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں چینی کی برآمدکی اجازت واپس لی جائیگی۔علاوہ ازیں ای سی سی نے ہدایت کی برآمدات سے حاصل ہونے والی رقم کسانوں کے ملوں کے ذمہ واجبات کی ادائیگی کیلئے استعمال میں لائے جانے کی یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں پاورڈویژن کی سمری پر او جی ڈی سی ایل کی جانب سے پاکستان ہولڈنگز کمپنی کو 82 ارب روپے کی مالیاتی سہولت کی ادائیگی کی تجویز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ اوجی ڈی سی ایل اس انتظام کے ذریعہ حکومت پاکستان کے واجبات کو کلیئر کرے گا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے ڈیجیٹل ایپلی کیشنز پر تمام ٹیکسوں کو ختم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے اوگرا اور وزارت پٹرولیم کو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح میں اضافہ کیلئے طریقہ ہائے کارکو واضح کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وفاقی وزیرخزانہ سینیٹرمحمداورنگزیب نے کمیٹی کوبتایا کہ ٹیکس کے نظام کوشفاف بنانے اورٹیکس کی بنیادمیں وسعت وقت کی ضرورت ہے اور عالمی معیارکے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کم ہے جس میں اضافہ کرنا ہوگا۔ فنانس بل 2024 کے بارے میں سفارشات کا جائزہ لینے کیلئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا افتتاحی اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، کمیٹی کے اراکین سینیٹر شیری رحمان، محسن عزیز، انوشہ رحمان، احمد خان، شازیب درانی، سینیٹر فاروق حامد نائیک، فیصل واوڈا اور سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ کمیٹی کے ممبران نے منی بل 2024 کا جامع جائزہ لیا۔

اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمن اور احمد خان نے کہا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد آن لائن فری لانسنگ اور سوشل ایپس پرکام کرہی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ایپلی کیشنز پر تمام ٹیکسوں کو ختم کرنے کی تجویز دی اورکہا کہ فری لانسرز ترسیلات زر لانے کا اہم ذریعہ ہیں۔انہوں نے 500 ڈالرتک کمانے کے بعد فون کے استعمال پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ سینیٹر محسن عزیز نے فنانس بل 2024 پر تنقید کی تاہم انہوں نے بل کا شق وار جائزہ لینے کے عمل میں حصہ لینے کے کا عزم کا اظہار کیا۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے منی بل 2024 کے ذریعے ٹیکسوں میں اضافہ کی تجویز پر تشویش کا اظہار کیا۔وزیرخزانہ نے کمیٹی کوبتایا کہ ٹیکس کے نظام کوشفاف بنانے اور ٹیکس کی بنیادمیں وسعت وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کم ہے جس میں اضافہ کرنا ہوگا۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ تنخواہ دارطبقہ کیلئے نئے مالی سال کے بجٹ میں 6 لاکھ روپے تک کی آمدن پرانکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ شفاف معیشت کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن کاعمل جاری ہے ، معیشت کو دستاویزی بنایا جا رہا ہے اور نان فائلرزکے حوالہ سے تعزیری اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں جن میں بین الاقوامی سفر کے لیے پاسپورٹ پر این ٹی این نمبر درج کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔ کمیٹی نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت پٹرولیم کو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح میں اضافہ کیلئے طریقہ ہائے کار کو واضح کرنے کی ہدایت بھی کی ۔ کمیٹی نے کسٹمز ایکٹ 1969 میں ترامیم کا جائزہ لیا اور خاص طور پر فنانس بل کے ذریعے ڈائریکٹر جنرل کی تشکیل میں طریقہ کار کی بے ضابطگیوں کو نوٹ کیا۔

کمیٹی کے اراکین نے تنازعات کے متبادل حل اے ڈی آر میں ترامیم کے لیے تجاویز پیش کیں، اراکین نے اے ڈی آر نوٹیفیکیشن کی عدم تعمیل کے لیے بورڈ پر جرمانے کو شامل کرنے کی ضرورت پرزوردیا ۔ شق 3، ذیلی شق 16 کا جائزہ لیتے ہوئے سینیٹر انوشہ رحمن اور احمد خان نے کیس مینجمنٹ سسٹم کے قیام کے لیے ہائی کورٹ کو ہدایات جاری کرنے کی فزیبلٹی پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مذکورہ شق پر عمل درآمد نہ کرنے پر جرمانے کی کمی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے ہائی کورٹ اور پارلیمنٹ دونوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔ چیئرمین اوگرا نے کمیٹی کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں مجوزہ اضافے پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے پٹرول سٹیشنوں پر سبسڈی فراہم کرنے یا معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے دو نرخ متعارف کرانے کے علاوہ مستحق طبقات کو مراعات فراہم کرنے کا کوئی عملی طریقہ کار تلاش کرنے کے ضمن میں اوگرا کو سفارش و ہدایات جاری کیں۔ اجلاس میں نئے مالی سال کے بجٹ میں متعارف کرائے گئے ٹیرف کی ساخت پر غور کیاگیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت نے مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنی قرار دیا ہے ۔ حکام نے مزید کہا کہ ایروسول پروڈکٹس، بھرے میٹل سے ملبوس پرنٹ شدہ سرکٹ بورڈز اور ٹی وی پینلز بنانے والے شیشے کے بورڈز پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان سے تازہ اور خشک میوہ جات کی درآمد پر 10 فیصد، گندم پر 11 فیصد اور چینی، چقندر، سفید کرسٹل اور سفید کرسٹل بیٹ شوگر پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ اجلاس کوبتایاگیا کہ حکومت نے شمسی توانائی کی اشیاء کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

حکام نے کہا کہ یہ قدم سولر پینلز اور انورٹرز کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ریلیف تمام شعبوں کیلئے ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جہاں سولر انڈسٹری کو چھوٹ دی ہے، وہیں اس نے برقی گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی بھی بڑھا دی ہے۔اجلاس کو بتایاگیا کہ حکومت نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی آرڈیننس کے تحت قائم کیے گئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں درآمد اور برآمد کیے جانے والے سامان پرکسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے اس معاملے پرسرمایہ کاری بورڈ سے رائے لینے کا فیصلہ کیا اور بحث موخر کر دی۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آسان کاروبار ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی شروع کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول کی ترویج حکومت کی اولین ترجیح ہے ،ون ونڈو آپریشنز کے تحت کاروباری اور تاجر برادری کے لئے دستاویزی مراحل آسان کئے جائیں ،چین کے شہر شینزین کے ون سٹاپ شاپ کی طرز پر تجرباتی (پائلٹ) سہولت مرکز کے قیام کے حوالے سے چینی ماہرین سے معاونت حاصل کی جائے۔جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار اور سرمایہ کاری کرنے میں آسانی کے حوالے سے اقدامات پر اہم جائزہ اجلاس وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوا۔

وزیراعظم نے آسان کاروبار ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی شروع کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول کی ترویج حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ون ونڈو آپریشنز کے تحت کاروباری اور تاجر برادری کے لئے دستاویزی مراحل آسان کئے جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ چین کے شہر شینزین کے ون سٹاپ شاپ کی طرز پر ایک تجرباتی (پائلٹ) سہولت مرکز کے قیام کے حوالے سے چینی ماہرین سے معاونت حاصل کی جائے۔اجلاس کو آسان کاروبار اور دیگر اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کاروبار کی رجسٹریشن ، لائیسنسز سرٹیفیکیٹس اور دیگر دستاویزات کے لئے الیکٹرانک رجسٹری کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آن لائن ون ونڈو پاکستان بزنس پورٹل کا نظام متعارف کروایا جائے گا جس کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں کی خدمات حاصل کی جا سکیں گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اسلام آباد بزنس فیسیلیٹیشن مرکز کے قیام کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک ،وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل ،چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس کے نفاذ پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے یہ بات اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس کے نفاذ پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے یہ بات اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔پریس کانفرنس سے قبل تلاوتِ قرآن مجید پیش کی گئی۔صحافیوں کا احتجاجوزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس اضافے کے خلاف صحافیوں نے نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔’’نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی‘‘وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا کہ نان فائلرز کے لیے بزنس ٹرانزیکشن پر ٹیکس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، نان فائلرز کی اختراع کو ختم کرنے کی طرف یہ ایک قدم ہے، نان فائلرز کے لیے ٹیکس ریٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن ترجیح ہے، ڈیجیٹائزیشن سے کرپشن کم ہو گی اور شفافیت بڑھے گی۔’’پیٹرولیم لیوی میں فوری اضافہ نہیں ہو رہا‘‘وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں فوری طور پر اضافہ نہیں ہو رہا، پیٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مدِ نظر رکھا جائے گا ، تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 35 فیصد ہے، ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ 10 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشیو نا قابلِ برداشت ہے، غیر دستاویزی معیشت کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، ٹیکسوں کی کمپلائنس اور انفورسمنٹ نہیں ہوئی، اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن کی جا رہی ہے، اس سے انسانی مداخلت کم ہو گی، رشوت کم ہو گی۔’’پاکستان میں دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر پاپولیشن ہے‘‘وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر پاپولیشن ہے، آئی ٹی سیکٹر کے لیے بہت بڑی رقم مختص کی ہے، مختص رقم سے آئی ٹی سیکٹرمیں انفرااسٹرکچر بہتر کیا جا سکے گا، ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام تمباکو، سیمنٹ، کھاد اور دیگر سیکٹرز میں جانا تھا، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ میں شاید مسئلہ تھا۔ان کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس میں بہت بڑی لیکیج ہے جس کو پلگ کرنا ہے، سیلز ٹیکس سے متعلق ترجیح ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائز کریں، ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ کس کے پاس کتنی گاڑیاں اور وہ کتنا بل دیتے ہیں۔’’کس کے پاس کتنی گاڑیاں اور کتنا بل دیتے ہیں، ڈیٹا موجود ہے‘‘وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ کس کے پاس کتنی گاڑیاں اور کتنا بل دیتے ہیں، لائف اسٹائل کا سارا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے، اس ڈیٹا کے جائزے کے لیے ٹیم بنائیں گے جو چیک کرے، اس کے بعد فیلڈ ٹیم کو اس پر عمل درآمد کا کہیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت جس جس سیکٹر سے نکل جائے اتنا ہی بہتر ہے، حکومت کو پرائیوٹ سیکٹر کو آگے لانے کے لیے ماحول دینا ہو گا، ٹیکسز لیکیج کو کم کرنے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لایا گیا، جس کا مقصد تمباکو اور سیمنٹ سمیت ہر شعبے میں ٹیکس چوری روکنا تھا۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ شہریوں کے لائف اسٹائل کا تمام ڈیٹا ہمارے پاس ہے، ڈیٹا کو کراس چیک کیا جائے گا، اس کے بعد فیلڈ فارمیشن کو دیا جائے گا۔’’سب اسٹیک ہولڈرز بشمول پیپلز پارٹی کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں‘‘ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن کا مقصد ہیومین انٹروینشن کو کم کرنا ہے، نان فائلرز کی ٹیکسیشن میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، نان فائلرز کی اختراع ختم کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے، سیلری سلیب ہم پہلی بار نہیں لگانے جا رہے.وزیرِ خزانہ نے کہا کہ تمام ریٹیلرز کو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے تھا، اس وقت 9 ٹریلین کا کیش ان سرکولیشن ہے، ترقیاتی بجٹ 81 فیصد ایسے منصوبوں کو دیا جا رہا ہے جو تکمیل کے قریب ہیں، ، تمام اتحادیوں کو بجٹ پر پریزینٹیشن دی ہے، آن بورڈ لیا ہے، سب اسٹیک ہولڈرز بشمول پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔’’ابھی ملکی خزانہ تعلیم و صحت کے اخراجات بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا‘‘انہوں نے کہا کہ کیپٹل گین ٹیکس اس لیے نہیں لگایا کیونکہ یہ سیکٹر پہلے سے ٹیکسڈ ہے، ای او آئی بی پرائیویٹ ادارہ ہے وہ پینشن میں اضافہ خود کریں گے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناظر میں ریاست کی ذمے داری ہے کہ تعلیم اور صحت پر بھی رقم بڑھائیں، ابھی ملکی خزانہ تعلیم و صحت کے اخراجات بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ورچول مذاکرات چل رہے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ ہماری بات چیت مناسب سمت میں جا رہی ہے، آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول سمجھوتہ ہونے تک حتمی بات نہیں کر سکتے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس چوروں، نادہندگان اور ان کی معاونت کرنے والوں کا سدِباب کر کے چھوڑیں گے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس چوروں، نادہندگان اور ان کی معاونت کرنے والوں کا سدِباب کر کے چھوڑیں گے۔

ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹائزیشن پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بجٹ تیاری کے دوران واضح ہدایات دی تھیں کہ اشرافیہ کو ٹیکس دینا ہی ہوگا، اولین ترجیح ٹیکس کی شرح کم کرنا اور ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھانا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ بجٹ میں غریب و متوسط طبقے پر کم سے کم ٹیکس عائد کیا، ٹیکس دینے کےاہل افراد ٹیکس نیٹ میں لانے کےلیے اقدامات کر رہے ہیں۔

اجلاس میں وزیراعظم کو ایف بی آرکی ڈیجیٹائزیشن اور محصولات بڑھانے پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ملکی معیشت کی ویلیو چین کی ڈیجیٹائز یشن اور آٹومیشن سے محصولات بڑھیں گی۔