Monthly Archives: June 2024
حکومت کو بڑی شرمندگی کا سامنا۔ فی کیس دو / دو لاکھ جرمانہ بھی ۔۔ راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی،عمران خان شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت اہم شخصیات کیخلاف 9 مئی کے مقدمات حکومت پنجاب کی کیسز ٹرانسفر کرنے کیلئے درخواستوں پر سماعت عدالت نے حکومت کی 11 ٹرانسفر درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں
حکومت کو بڑی شرمندگی کا سامنا۔ فی کیس دو / دو لاکھ جرمانہ بھی ۔۔ راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی،عمران خان شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت اہم شخصیات کیخلاف 9 مئی کے مقدمات حکومت پنجاب کی کیسز ٹرانسفر کرنے کیلئے درخواستوں پر سماعت عدالت نے حکومت کی 11 ٹرانسفر درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں عدالت نے فی کیس دو لاکھ روپے جرمانے کا حکم سنا دیا عدالت نے درخواستیں واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی مدعی بھی آپ پولیس بھی آپ پھر بھی انصاف کی توقع نہیں، چیف جسٹس اگر جیل میں بھی تھریٹس ہیں تو آسمان پر جاکر بسیرا کرلیں، چیف جسٹس ہم نے پنڈی عدالت کے جج سے وجہ ہوچھی، چیف جسٹس وہاں بھی سائلین کو عدالت میں نہیں جانے دیا گیا، چیف جسٹس جس فریق کا جی چاہے وہ ٹرانسفر کی درخواست دے کر سماعت رکوا دے چیف جسٹس آپ کو لاہور ہائیکورٹ کے ججوں پر اعتماد نہیں، چیف جسٹس آپ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز پر اعتماد نہیں ہے کیا چاہتے ہیں، چیف جسٹس جن لوگوں نے آئین اور قانون کی عملداری یقینی بنانا ہے وہی سب کچھ کررہے ہیں، چیف جسٹس چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے محکمہ پراسیکیوشن کی درخواستوں پر سماعت کی راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نو مئی واقعات کے کیسز زیر التوا ہیں موقف بانی چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت دیگر رہنما کیسز میں نامزد ہیں موقف عدالت نمبر ایک راولپنڈی کے جج سے انصاف کی توقع یے موقف جج کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے کیسز کسی دوسری عدالت میں ٹرانسفر کئے جائیں استدعا
نان فائیلر کو بغیر غسل دفنانا ھو گا اس کے ساتھ وہ عید قربان پر قربانی نھی کر پائینگے
ڈپٹی وزیر اعظم اسحا ق ڈار ،رضا ربانی اور مشاہد حسین سیّد کی سینیٹر عرفان صدیقی کو مبارک بادآپ کی سربراہی میں امور خارجہ قائمہ کمیٹی سے بہترین راہنمائی کی توقع ہے۔اسحا ق ڈار
ڈپٹی وزیر اعظم اسحا ق ڈار ،رضا ربانی اور مشاہد حسین سیّد کی سینیٹر عرفان صدیقی کو مبارک باد
آپ کی سربراہی میں امور خارجہ قائمہ کمیٹی سے بہترین راہنمائی کی توقع ہے۔اسحا ق ڈار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد(13جون) ڈپٹی وزیر اعظم ،وزیر خارجہ اور سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے سینیٹر عرفان صدیقی کے نام اپنے پیغام میں انہیں سینیٹ امور خارجہ کمیٹی کا بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹر صدیقی کی سربراہی میں امور خارجہ کمیٹی وزارت خارجہ کے لئے بہتر راہنمائی کا ذریعہ بنے گی۔ سینیٹ کے سابق چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما رضا ربانی نے بھی عرفان صدیقی کو مبارک باد دی اور نیک توقعات کا اظہار کیا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے سابق چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سیّدنے بھی سینیٹر عرفان صدیقی کو مبارک باد دی اور اپنے پیغام میں کہا کہ وزارت امور خارجہ کے لئے عرفان صدیقی کی راہنمائی نہایت نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔
آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، عالمی معیشت میں ہمارے نوجوانوں نے بڑاحصہ ڈالا ہے،وزیراطلاعات
آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے،وزیراطلاعات
عالمی معیشت میں ہمارے نوجوانوں نے بڑاحصہ ڈالا ہے،وزیراطلاعات
ہنر مند افراد کی دنیا بھر میں مانگ ہے،وزیراطلاعات
موجودہ حکومت میں معاشی اشاریے مثبت سمت میں چل رہے ہیں،وزیراطلاعات
مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی آ رہی ہے،وزیراطلاعات
تعلیم معاشرے اور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،عطا اللہ تارڑ
دنیا کی طلب کے مطابق نوجوانوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا،عطا اللہ تارڑ
ہماری توجہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے پر مرکوز ہے،عطا اللہ تارڑ
نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر عالمی معیشت میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں،عطا اللہ تارڑ
حکومت کی توجہ ہمیشہ جدید تعلیم کے فروغ پر مرکو ز رہی ہے،عطا اللہ تارڑ
نان فائیلر کے لیے بیرون ملک سفر پر پابندی
وفاقی حکومت نے بجٹ میں نان فائلرز کے بیرون ملک سفر پر پابندی کی تجویز دے دی۔چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) زبیر ٹوانہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والے بیرون ملک سفر نہیں کر سکیں گے۔پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 60 سے بڑھاکر 80 روپے فی لیٹر کردی گئیزبیر ٹوانہ نے کہا کہ پاور ڈویژن سے تفصیلات مانگ رہے ہیں کس گھر میں بجلی کا میٹر کس کے نام پر ہے، کچھ کیسز میں گھر کسی اور کے نام اور بجلی کا میٹر کسی اور کے نام پر ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں 3800 ارب روپے سے زائد اضافہ کیا جا رہا ہے، پالیسی اور انفورسمنٹ کے ذریعے 1800 ارب روپے کے ٹیکسز جمع کیے جائیں گے۔زبیر ٹوانہ نے کہا کہ 400 سے 450 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 150 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کو ختم کیا گیا، تنخواہ دار طبقہ پر 75 ارب روپے کا ٹیکس بوجھ ڈالا گیا ہے، غیر تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکسوں کا بوجھ 150 ارب روپے کا ہوگا۔موبائل فونز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویزانہوں نے کہا کہ غیر منقولہ جائیداد پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے، پلاٹس اور کمرشل پراپرٹیز پر بھی ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کی بجٹ میں مشروط امد۔ بجٹ وڑ گیا سپیکر کو بازیاب کرا و کچے کے ڈاکوؤں سے ملک آزاد کرواو۔بجٹ کی خبروں کے لئے صرف باتیں نھی بادبان نیوز کو فالو کرے
٭ موجودہ حکومت کے پہلے بجٹ اجلاس میں نوازشریف ، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمان ، اختر مینگل سمیت اہم رہنمائوں نے شرکت نہیں ۔ اجلاس کے ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا تو اجلاس کے آغاز سے اختتام تک سنی اتحاد کونسل مسلسل احتجاج کرتی رہی اورایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر وزیراعظم اوروزیرخزانہ کی طرف پھینکتی رہی۔ ایوان میں سیٹیاں اور باجوں کی آواز آتی رہی ۔٭ اپوزیشن کے شور پرشیزہ فاطمہ نے وزیراعظم کو ہیڈ فون پہنایا۔ اس موقع پر شہبازشریف اپنے ارکان کو اپوزیشن سے نہ الجھنے کی ہدایت دیتے رہے۔٭ اپوزیشن کے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کے دوران جمشید دستی ،ثنا ء اللہ مستی خیل اور نثار جٹ جذباتی انداز میں نعرے لگاتے رہے، گوشہباز گو، گلی گلی میں شور ہے سارا ٹبر چور ہے، تیرا یار میرا یار قیدی نمبر 804 ، آئی ایم ایف کابجٹ نامنظور نامنظور کے نعرے ایوان میں بلند ہوتے رہے ۔٭ وزیرخزانہ نے اپوزیشن نے شور و احتجاج کے باوجود بغیر ہیڈ فون اپنی تقریر جاری رکھی اور اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم سمیت ساتھی ارکان سے شاباش وصول کرتے رہے ۔٭ اپوزیشن رکن شاندانہ گلزار نے فلسطینی جھنڈے اورفلسطینی رومال نما چادر پہن رکھی تھی ۔٭ اپوزیشن نے شرم کرو حیا کرو ،عمران کو رہاکرو، ہم لیکررہیں گے آزادی ، گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو ٭اپوزیشن رکن زرتاج گل اپنے ساتھی اراکن کے احتجاج کی فوٹیج بناتی رہیں۔٭ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب وزیراعظم کی ایوان آمد سے قبل بجٹ دستاویزات اپنے ڈائس پر کھڑے ہوکر ترتیب دیتے رہے ۔٭وزیرخزانہ کے لئے ان کی میز پر گلاس اور پانی کی بوتل ان ی تقریر سے پہلے ہی رکھ دی گئی ۔٭ موجودہ وزیرخزانہ کا بطور غیرسیاسی وزیرخزانہ پہلا کسی پارلیمان کے فورم پر خطاب تھا ۔٭وزیراعظم کی کرسی دوسری قطار سے دوبارہ واپس لائی گئی ان کی کمر کے پیچھے فوم کی گدی لگی ہوئی تھی ۔٭سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے عمران خان ، شاہ محمود قریشی اور مراد سعید کی تصاویر کے پوسٹر لگائے رکھے ۔٭ بجٹ تقریر کے ختم ہوتے ہی وزیراعظم اور نائب وزیراعظم تیزی سے ایوان سے نکل گئے جبکہ اپوزیشن نعرے لگاتی رہی۔٭اجلاس کے آغاز سے اختتام تک پارلیمنٹ کے سارجنٹس کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایوان کے اندر ہائی الرٹ رہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سزاکامطلب یہ نہیںہوتا کہ پیسے جیب میں رکھ لیں،سزابرقراررہی ہے تواس کا مطلب ہے آپ نے جرم کیا ہے۔ کیسز چلانا ہمارے لئے بڑی دشواری ہورہی ہے
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سزاکامطلب یہ نہیںہوتا کہ پیسے جیب میں رکھ لیں،سزابرقراررہی ہے تواس کا مطلب ہے آپ نے جرم کیا ہے۔ کیسز چلانا ہمارے لئے بڑی دشواری ہورہی ہے، وکیل کیسز کی فائل پڑھ کر اورسمجھ کرآیا کریں۔ 10سال بعد بھی دعویٰ کیسے زیر سماعت ہوسکتا ہے۔ فیصلہ جج کا نہیں بلکہ عدالت کاہوتا ہے۔ وکیل سپریم کورٹ کا مذاقت نہ اڑائیں ، معاونت خاک کررہے ہیں، ہائی کورٹ کے نظرثانی کے فیصلے کے اپیل دائر کیوں نہیں کی، سادہ سوال کاجواب دیں، بڑ، بڑکررہے ہیں کچھ سمجھ نہیں آرہی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اورجسٹس نعیم اخترافغان پر مشتمل 3رکنی بینچ نے بدھ کے روز مختلف کیسز کی سماعت کی۔بینچ نے افسر خان کی جانب سے سرورخان اوردیگر کے خلاف زمین کے تنازعہ پر دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے حاجی محمد ظاہر شاہ بطور وکیل پیش ہوئے۔ چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وکیل سپریم کورٹ کا مذاقت نہ اڑائیں ، معاونت خاک کررہے ہیں، ہائی کورٹ کے نظرثانی کے فیصلے کے اپیل دائر کیوں نہیں کی، سادہ سوال کاجواب دیں، بڑ، بڑکررہے ہیں کچھ سمجھ نہیں آرہی۔جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہناتھا کہ ہائی کورٹ سے نظرثانی خارج ہوئی اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کی بجائے سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کردی۔جسٹس نعیم اخترافغان کاکہنا تھا کہ ہم کیس کے فیکٹس میں نہیں جائیں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بیٹھ کرپورا بیان پڑھ رہے ہیں، سوال کاجواب دے دیں، کیا یہ طریقہ ہوتا ہے کیس چلانے کا۔ چیف جسٹس کا حکم لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے دوماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قراردیئے ہیں۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی۔ بینچ نے مسمات مہربانو اوردیگر کی جانب سے حاجی محمد امین خان اوردیگر کے خلاف زمین کے تنازعہ پر دائر درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب حاجی محمد ظاہر شاہ سپریم کورٹ پشاور رجسٹری سے بطور وکیل پیش ہوئے۔ چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں آرڈر کروں گاکہ آپ کاکوئی کیس ویڈیو لنک پر نہ لگائیں۔چیف جسٹس کا کہناتھا کہ 10سال بعد بھی دعویٰ کیسے زیر سماعت ہوسکتا ہے۔چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ کچھ کہہ رہے ہیں سمجھ ہی نہیں آرہی،کیوں کھڑے ہوئے ہیں ہمارے سامنے،آپ نے عجیب کھچڑی بنائی ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کیسز چلانا ہمارے لئے بڑی دشواری ہورہی ہے، وکیل کیسز کی فائل پڑھ کر اورسمجھ کرآیا کریں۔ عدالت نے مدعا علیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔بینچ نے شیر علی خان مرحوم کے لواحقین کی جانب سے حاجی محمد جمیل کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فیصلہ جج کا نہیںبلکہ عدالت کاہوتا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کے وکیل محمد اعجاز خان صابی پشاو ر ہائی کورٹ کے جج بن گئے ہیں اس لئے انہیں نیاوکیل کرنے کے لئے وقت دیا جائے۔ عدالت نے وکیل کرنے کے لئے وقت دیتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی۔بینچ نے میر بادشاہ کی جانب سے سیکرٹری وزارت خزانہ ، حکومت خیبر پختونخوا اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت خانزادہ اجمل زیب خان نے پیش ہوکربتایا کہ وہ بیمار ہیں اورانہوں نے پریکٹس چھوڑ دی ہے۔اس پر چیف جسٹس کا کہناتھا کہ میربادشاہ کو بلائیں وہ خود بحث کرنا چاہتے ہیں توہم ان کوسن لیتے ہیں۔چیف جسٹس کا میربادشاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 42لاکھ روپے خردبرد کی رقم آپ دیں اس فیصلے میں غلطی کیاہے ، سزاکامطلب یہ نہیںہوتا کہ پیسے جیب میں رکھ لیں،سزابرقراررہی ہے تواس کا مطلب ہے آپ نے جرم کیا ہے۔چیف جسٹس کا کہناتھا کہ سرکارنے مقدمہ کیا کہ آپنے غبن کیا ہے وہ کیس ڈگری ہو گیا، کیس چلتے ہی رہتے ہیں کوئی قانونی بات بتائیں۔ اس پر میربادشاہ کا کہناتھا کہ مجھے وکیل کرنے کے لئے وقت دے دیں۔ عدالت نے درخواست گزار کووکیل کرنے کے لئے دوماہ کاوقت دیتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی۔
پراپرٹی کی خریدوفروخت پر فائلر پر 15 فیصد اور نان فائلر 45 فیصد ٹیکس عائد تفصیلات بادبان ٹی وی پر
:آئندہ مالی سال 25-2024 میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)کےتحت پمز ہسپتال میں سٹروک انٹروینشن اینڈ کریٹیکل کیئرکی سہولیات میں اضافہ کے قومی وزارت صحت کے منصوبہ کے لئے4000 ملین روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔پی ایس ڈی پی کے مطابق منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 8895.904 ملین روپے ہے جس کی منظوری سی ڈی ڈبلیو پی نے 7 جون 2024کو دی تھی۔ یہ منصوبہ قومی وسائل سے مکمل کیاجائےگا جس کے لئے آئندہ مالی سال 25-2024 کے دوران 4000 ملین روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں۔









