Monthly Archives: June 2024
خورشید شاہ کا حکومت پر عدم اعتماد بجٹ پر عدم اعتماد
ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی کا پہلا بڑا اپ سیٹ پاکستان نے کینیڈا کو ہرا دیا…
سینیٹ نے اپوزیشن کی مخالفت اور واک آؤٹ کے باوجود چار بل منظور کر لیے۔
سینیٹ نے اپوزیشن کی مخالفت اور واک آؤٹ کے باوجود چار بل منظور کر لیے۔پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ترمیمی بل 2024 ،پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی بل 2024،پاکستان پوسٹل سروسز مینجمنٹ بورڈ ترمیمی بل 2024،نیشنل ہائی وے اتھارٹی ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کئے گئے۔چاروں بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کئے،چاروں بل گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظور کئے جا چکے ہیں۔ہنگامی بنیادوں پر بل منظور کرانے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کا کہنا تھا اچانک بل پیش کردئیے گئے جو افسوسناک ہے،ان بلوں کے مسودے آج دوپہر میرے دفتر بھجوائے گئے،یہ بل منظوری سے قبل کمیٹیوں کو بھجوانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ چاروں بل آرڈیننس کی شکل میں پہلے سے موجود تھے۔یہ بل کل سے سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل ہیں.یہ ہماری ریاست کی آئی ایم ایف سے کمٹمنٹ ہے۔مخالفت برائے مخالفت نہیں ہونی چاہئے،کل سے بجٹ آرہا ہے.بجٹ اجلاس میں کل سے بجٹ کے سوا کسی اور معاملے پر بات نہیں ہوسکے گی،بلوں کی منظوری کے خلاف اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کرگئی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہمیں غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک غیر جانبدار بین الاقوامی فورس کی تعیناتی پر غور کرنا چاہیے،
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہمیں غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک غیر جانبدار بین الاقوامی فورس کی تعیناتی پر غور کرنا چاہیے، پاکستان کی تجویز ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2735 کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے، پاکستانی عوام دکھ اور آزمائش کی اس گھڑی میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 کی منظوری ایک مستقل اور پائیدار جنگ بندی کا باعث بنے گی جس سے غزہ کی پٹی میں امن قائم ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اردن میں ”غزہ کے لیے فوری انسانی ردعمل“ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں اردن کے شاہ عبداللہ دوئم، مصر اور فلسطین کے صدور اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے دو ہزار ٹن سے زائد انسانی امداد فلسطینیوں کو پہنچائی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کے غزہ پر کئے جانے والے مظالم کی پاکستان شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس اہم بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی پر اردن کی ہاشمی سلطنت، عرب جمہوریہ مصر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کرتا ہوں، غزہ میں 8 ماہ سے جاری نسل کشی کی فوجی جارحیت میں37 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور 84500 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے جبکہ غزہ کی پوری 2.3 ملین آبادی بے گھر ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے مکمل استثنیٰ اور بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی برادری کی اجتماعی مرضی کو نظر انداز کیا ہے جبکہ فاقہ کشی کو جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ انسانی امداد اور جان بچانے والی امداد میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے، شہری بنیادی ڈھانچے، گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، امدادی قافلوں اور انسانی پناہ گاہوں کو جان بوجھ کر نشانہ اور تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک، اسرائیل نے بے گناہوں کے قتل عام کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، بین الاقوامی عدالت انصاف، او آئی سی اور حتیٰ کہ اپنے دوستوں اور سرپرستوں کے مطالبات سے انکار کیا ہے، اسرائیل کی طرف سے پوری آبادی پر مسلط وحشیانہ اور اندھا دھند تکالیف کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے ”نسل کشی“ قرار دیا ہے۔نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ اسرائیلی قیادت نے دو ریاستی حل سے انکار کردیا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو دوبارہ ان کے وطن سے بے دخل کرنا اور یہودی ریاست کا ”حتمی حل“ مسلط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اسرائیلی مظالم کی پرزور اور واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہے، پاکستان کی حکومت اور عوام آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم نے گزشتہ اکتوبر سے غزہ میں پھنسے ہوئے اپنے بھائیوں کے لیے 2000 ٹن سے زیادہ انسانی امداد لے کر 8 طیارے روانہ کیے ہیں اور ہم امدادی سامان اور امداد بھیجنا جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ساتھی اسلامی ممالک کی طرح ہم گزشتہ رات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 کی منظوری سے امید رکھتے ہیں جو امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے 31 مئی کو اعلان کردہ جنگ بندی کی نئی تجویز کا خیر مقدم کرتی ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ قرارداد ایک مستقل اور پائیدار جنگ بندی کا باعث بنے گی جس سے غزہ کی پٹی میں امن قائم ہوگا، ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ یہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی محفوظ اور موثر تقسیم میں سہولت فراہم کرے گا اور تمام فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس نازک موڑ پر ہمیں صورت حال سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے طلب کردہ جنگ بندی مکمل، پائیدار اور غیر مشروط ہو، اسے مغربی کنارے میں تشدد کو بھی روکنا چاہیے، ہمیں غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد کی فراہمی کو تیز کرنا چاہیے اور ان کی خوراک، ادویات، توانائی اور دیگر ضروری سامان کی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اپنی حمایت کو وسعت دینے کی ضرورت ہے اور اپریل میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی فلیش اپیل کا جواب دینا چاہیے اوراسرائیل کو تمام فوجی سپلائی اور فروخت پر پابندی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں قرارداد 2735 کے مطابق غزہ سے اسرائیلی قابض افواج کے فوری انخلاء کو یقینی بنانا چاہیے، ہمیں غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک غیر جانبدار بین الاقوامی فورس کی تعیناتی پر بھی غور کرنا چاہیے۔ پاکستان کی تجویز ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2735 کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متوازی طور پر ہمیں دو ریاستی حل کو نافذ کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے جس کی سلامتی کونسل کی قرارداد نے دوبارہ توثیق کی ہے، ہم غزہ میں کسی بھی آبادیاتی یا علاقائی تبدیلی کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، اس تناظر میں اور ایک اہم قدم کے طور پر یہ وقت ہے کہ ریاست فلسطین کو اقوام متحدہ کے مکمل رکن کے طور پر فوری طور پر تسلیم کیا جائے، یہ دو ریاستی حل کے ناقابل واپسی کو یقینی بنائے گا جو مقدس سرزمین میں پائیدار امن اور سلامتی کا واحد آپشن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے ٹائم ٹیبل اور روڈ میپ پر کام کرنے کے لیے بین الاقوامی امن کانفرنس کے مطالبات کی بھی حمایت کرتا ہے، سلامتی کونسل کے ارکان کے علاوہ اس عمل میں اہم عرب اور او آئی سی ممالک کی شرکت شامل ہونی چاہیے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی تقریباً ایک صدی سے تاریخی ناانصافی برداشت کر رہے ہیں، ہمیں ان کے مصائب کو ختم کرنے کی کوشش اور فلسطینیوں کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کا استعمال کرنے کے قابل اور ایک آزاد، خودمختار اور خودمختار عوام کے طور پر آزادی کے ساتھ رہنے میں ان کی مدد کرنی چاہیے جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے اندر ایک ریاست ہو اور ایک آزاد القدس شریف اس کا دارالحکومت ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2025/2026 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک غیر مستقل رکن کے طور پر دنیا میں امن، خوشحالی اور ترقی کو آگے بڑھانے سمیت دیرینہ تنازعات خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کوشش کرے گا۔
ایک طرف حکومت معیشت کو سہارا دینے کے لیے دوست ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی معاہدے کررہی ہے تو دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل ہورہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی ملک میں پوری طرح امن و امان قائم نہیں ہوا
ایک طرف حکومت معیشت کو سہارا دینے کے لیے دوست ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی معاہدے کررہی ہے تو دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل ہورہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی ملک میں پوری طرح امن و امان قائم نہیں ہوا۔ دہشت گردی کے واقعات میں کہیں تو براہِ راست سکیورٹی فورسز اور عوام پر حملے ہورہے ہیں اور کہیں دہشت گردوں کی بنائی گئی بارودی سرنگوں کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس وقت ملک کے دو صوبے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان، بری طرح دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں اور ان کے مختلف شہروں میں آئے روز ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور دنیا کو یہ تاثر دینا ہے کہ اس ملک کے ساتھ مل کر تجارت اور کاروبار جیسے معاملات کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں اتوار کو دو ناخوشگوار واقعات پیش آئے جن میں سے پہلے واقعے میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ دھماکے کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں ایک کیپٹن اور چھ جوان شہید ہو گئے۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں شہادتیں ہوئیں۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ علاقے میں موجود دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی صفائی کی جا رہی ہے اور اس گھناو¿نے فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔لکی مروت ہی میں پیش آنے والے دوسرے واقعے میں گاو¿ں سلطان خیل لکی کے قریب بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 6 نوجوان زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر سرچ آپریشن کیا۔ دھماکہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس بم دھماکے کا ہدف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا قافلہ تھا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے لکی مروت میں آئی ای ڈی دھماکے کی مذمت کی ہے اور واقعہ کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ صدر مملکت نے شہداءکے لواحقین سے اظہار تعزیت اور صبر جمیل کی دعا کی اور کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پوری قوم پرعزم ہے۔ ادھر، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں پاک فوج کے کیپٹن محمد فراز الیاس سمیت 7 اہلکاروں کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے لکی مروت میں پاک فوج کی گاڑی پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کے مذکورہ نوعیت کے واقعات بھی پیش آرہے ہیں اور پولیو ٹیموں پر بھی حملے ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی ) خیبر پختونخوا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال انسداد پولیو ٹیموں پر15 حملوں میں 13 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 36 زخمی ہوئے۔ سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق، رواں سال بنوں میں 4، باجوڑ اور ٹانک میں پولیو ٹیموں پر 3، 3 حملے ہوئے جبکہ خیبر، لکی مروت، مردان، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پولیو ٹیموں پر ایک ایک حملہ رپورٹ ہوا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ باجوڑ میں حملوں سے 9 پولیس اہلکار شہید جبکہ 30 زخمی ہوئے۔ بنوں میں پولیو ڈیوٹی پر تعینات 2 اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوئے۔ اسی طرح، جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں بھی ایک ایک اہلکار شہید ہوا۔ رپورٹ کے مطابق، بنوں، خیبر اور لکی مروت میں پولیو ٹیموں پر حملے میں ایک ایک اہلکار زخمی ہوا۔ سی ٹی ڈی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ انسداد پولیو ٹیموں پر حملوں میں دو شدت پسند تنظیموں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ان واقعات کو دیکھا جائے تو یہ بات پوری طرح واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ہمارا دشمن اس لیے بدامنی پیدا کر رہا ہے تاکہ یہاں سرمایہ کاری نہ ہوسکے۔ دہشت گردی کے ذریعے امن و امان خراب کر کے وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو بھی سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ بے شک سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہیں مگر دہشت گردوں کی کامیابی سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ سکیورٹی سسٹم میں کہیں نہ کہیں سقم موجود ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ملک میں امن قائم نہیں ہوتا، نہ سرمایہ کاری کی کاوشیں کامیاب ہو سکتی ہیں نہ سی پیک منصوبہ محفوظ رہ سکتا ہے۔ سکیورٹی اداروں کو اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں حکومت کو بھی دیکھنا چاہیے کہ کہاں سکیورٹی اداروں کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں اگر کہیں ترامیم و اضافہ جات کرنے کی ضرورت ہے تو اس پر کام کیا جانا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک اقتصادی استحکام کے لیے ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہیں لیکن اس معاملے کو تبھی آگے بڑھایا جاسکتا ہے جب پورے ملک میں امن و امان قائم ہو تاکہ سرمایہ کاری کے لیے یہاں آنے والے افراد خود کو بھی محفوظ سمجھیں اور انھیں یہ بھی یقین ہو کہ ان کا سرمایہ جہاں لگ رہا ہے وہاں سکیورٹی کی صورتحال تسلی بخش ہے۔
فوج کا دعوی۔۔اسلام آباد مارگلہ کی پہاڑیوں کی ھزار ایکڑ ھماری ھے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
فوج نے سپریم کورٹ میں بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں کی ہزار ایکڑ زمین اُس کی ملکیت ہے۔پوچھا گیا کب سے؟جواب ملا کہ سنہ 1917 میں انگریز کی فوج کے خچروں کے چرنے کے لیے ملی تھی۔پوچھا گیا ریکارڈ کہاں ہے؟فوج کے نمائندے نے عدالت سے دو گھنٹے کی مہلت مانگی مگر اس کے بعد بھی زمین کی ملکیت کی دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہے۔برسوں قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی یہی ہوا تھا۔دیکھتے ہیں کیا کسی بند لفافے میں کوئی دستاویز ججز کے چیمبر میں پیش کرتے ہیں۔جب تحریری فیصلہ آئے گا تو معلوم ہوگا کہ پہاڑیوں اسلام آباد کے وفاقی ترقیاتی ادارے کی ملکیت ہیں یا فوج کے لینڈ اینڈ
ہیڈ کوچ گری کرسٹن نے پاکستان ٹیم کے ساتھ مزید کام کرنے معذرت کرلی بھارت سے شکست کے بعد گری کرسٹن نے اپنے فیصلہ سے پی سی بی کو اگاہ کرلیا, گیری کرسٹن کے ساتھ چیمپینز ٹرافی 2025 تک معاہدہ طے ہوا تھا , رپورٹ کے مطابق گیری کرسٹن نے بھارت سےھار کے بعد کھلاڑیوں کو خوب ڈانٹا اور کہا جو پلان آپ کو دی جاتی ہے اس پر آپ تمام عمل نہیں کرتے اپنے مرضی سے کھیلتے ہو تو آپ کو کوچ کی کیا ضرورت ہے
نئی بھرتیوں پر پابندی نئی ترقیوں بھرتیوں کی تحقیقات جاری ۔ سپیکر کا کسی دباو میں انے سے انکار۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں نئی بھرتیوں پر پابندی لگا دی، غیرقانونی بھرتیوں اور ترقیوں کی تحقیقات تک قومی اسمبلی میں نئی بھرتیاں نہیں ہوں گی،رواں ماہ نئے اسٹنٹ ڈائریکٹرز سمیت دیگر پوسٹوں کیلئے ہونے والے ٹیسٹ انٹرویو منسوخ کردیئے گئے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں آپریشن کلین اپ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں اور سنگین بے ضابطگیوں پر سپیکر سردار ایاز صادق نے ایکشن لیتے ہوئے سپیشل سیکرٹری چوہدری مبارک کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔یہ بھی بتایاگیا ہے کہ کئی ملازمین کو بغیر دستاویزات اور تعلیمی اسناد کے بھرتی کیا گیا۔صرف ان کی فائلز میں آفر لیٹر لگے ہوئے ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی کا کوئی بھی دباﺅ قبول کرنے سے انکار۔ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ سپیکر نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کئی افسران و ملازمین کو 6 ماہ بعد ہی کنٹریکٹ سے مستقل کیا گیا تھا۔سپیکر نے ترقیوں کے عمل میں متاثرہ ملازمین کےلئے شکایات سیل بھی بنا دیا۔متاثرہ ملازمین کو سیل میں شکایات کے اندراج کا حکم دیدیا گیا۔یاد رہے گزشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے غیر حاضر ملازمین بارے ایکشن لیا تھا جس کے بعدقومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے غیر حاضرملازمین کی بڑی تعداد سامنے آئی تھی جن میں سے غیر رجسٹرڈ 90 ملازمین میں سے 45 نے بائیو میٹرک کیلئے درخواستیں دیدیں تھیں۔رجسٹریشن نہ کرانے والے ملازمین سے تحریری جواب بھی طلب کیا گیاتھا۔ بائیو میٹرک سسٹم میں 90 ملازمین رجسٹرڈ نہیں تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی کی وارننگ کے بعد 45 ملازمین نے بائیو میٹرک رجسٹریشن کیلئے درخواستیں جمع کرادیں تھیں۔درخواستیں دینے والے ملازمین کی رجسٹریشن شروع کردی گئی تھی۔ 45 ملازمین ابھی تک غیر حاضر ہیں۔جس پر اسمبلی سیکرٹریٹ نے رجسٹر کرنے کی ہدایت کردی تھی۔بائیو میٹرک رجسٹریشن نہ کرانے والے ملازمین سے تحریری جواب بھی مانگا گیاتھا۔









