چور مچاے شور کھربوں روپے کی کرپشن کے بعد کاکڑ شھباز حکومت پر الزام لگانے لگا افغان پاسپورٹ پر لندن میں ٹیکسی چلانا رھا بھن کو برطانیہ کی شہریت دلا کر واپس ایا تفصیلات کے لئے کلک کرے

سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے خود کو گندم امپورٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے پیش کردیا۔اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ وہ ثبوتوں کے ساتھ کسی بھی عدالت میں حساب دینے کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ ریاستی اداروں کی وجہ سے ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جارہا۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گندم امپورٹ کرنے کی اجازت 2019 میں دی گئی، شہبازحکومت نے اسی اجازت کے تحت امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔سابق نگران وزیر اعظم نے کہا کہ چار ہزار روپے امدادی قیمت پچھلی حکومت مقرر کر کے گئی، عالمی قیمتیں گرنے کے بعد وہی لوگ آٹا سستا ہونے کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔انور الحق کاکڑ نے کہا کہ ان کے دور میں 4 لاکھ ٹن اور شہباز حکومت آنے کے بعد 9 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی۔انہوں نے کہا کہ صرف ڈھائی دن کے استعمال کی گندم امپورٹ کرنے پر قیامت آگئی ہے، 20 سال سے 13 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا نہ کرنے کے پیسے دینے سے کوئی قیامت نہیں آئی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اسلام آباد کے تین حلقوں کے کیسز دوسرے ٹریبونل کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اسلام آباد کے تین حلقوں کے کیسز دوسرے ٹریبونل کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے ن لیگی ارکان قومی اسمبلی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنادیا، چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے محفوظ فیصلہ سنایا، جس میں الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں میں ٹربیونل جج تبدیل کرنے کی ن لیگی اراکین قومی اسمبلی انجم عقیل، طارق فضل چوہدری اور راجہ خرم نواز کی درخواست منظوری کرلی اور تینوں حلقوں کی درخواستیں دوسرے ٹریبونل کو منتقل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں کی کیس دوسرے ٹریبونل کو منتقل نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی، اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے سماعت مکمل ہونے کے بعد گزشتہ جمعہ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جہاں ن لیگ کے طارق فضل چوہدری، راجہ خرم نواز اور انجم عقیل نے کیسز دوسرے ٹریبونل کو منتقل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں بینچ نے اس معاملے پر سماعت کی جہاں درخواست گزار طارق فضل چوہدری کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’کوڈ آف سول پراسیجر کے تحت ٹربیونل الیکشن کمیشن کے اختیارات کے ماتحت ہے جہاں ایک امیدوار نے جیب سے دستاویز نکالی تو اسے ٹربیونل نے مان بھی لیا، ہم پیش نہیں ہوئے تو جرمانے شروع کردیئے، فارم 45 جو پیش کیا گیا اس کو کراس چیک کرنے کے بجائے مان لیا گیا‘۔وکیل نے دلائل میں کہا کہ ’ٹریبونل کی جانب سے کوئی قانونی ضابطہ نہیں اپنایا گیا اور پروسیڈنگ شروع کردی گئیں‘، چیف الیکشن کمشنر نے دریافت کیا کہ ’آپ کہنا چارہے ہیں گواہ پیش کرتے اور اسے کراس چیک کیا جاتا؟ آپ کا ایشو کیا ہے؟ کیا ٹربیونل کا فیصلہ آنے جا رہا ہے؟‘، وکیل نے جواب دیا کہ ’ٹرائل شروع نہیں ہوا اور ججمنٹ دی جانے لگی، فیصلہ تو ایک قسم کا دیا جاچکا ہے، جلدی میں کیس لے کر چلا جارہا ہے، ہماری استدعا ہے ٹربیونل کی کارروائی کو فوری روکا جائے‘۔چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ ’کس قانون کے تحت کارروائی روکی جاسکتی ہے؟ آپ نے تبادلے کا تو کہا ہے‘، وکیل نے جواب دیا کہ ’تمام اختیارات الیکشن کمیشن کے پاس ہیں، الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن جتنے چاہے ٹربیونل قائم کرسکتا ہے، ہائی کورٹ کا رجسٹرار دفتر کیسے ان درخواستوں کو لے سکتا ہے؟ ٹربیونل کی جانب سے کس طرح کارروائی کی گئی ٹربیونل تبدیلی کے لیے یہ ہی کافی ہے‘، بعد ازاں الیکشن کمیشن نے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنا دیا گیا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کااعلان کرتے ہوئے شرح سود میں کمی کا اعلا ن کردیا،سٹیٹ بینک نے مہنگائی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے شرح سود کم کی

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کااعلان کرتے ہوئے شرح سود میں کمی کا اعلا ن کردیا،سٹیٹ بینک نے مہنگائی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے شرح سود کم کی، بنیادی شرح سود 22 سے کم ہوکر 20.5 فیصد پر آگئی ،سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 150 بیسس پوائنٹ کمی کی ہے۔اعلامیے کے مطابق مہنگائی میں کمی کے باعث شرح سود میں کمی کی گئی۔ مئی میں مہنگائی کی شرح 11.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ سخت زری پالیسی اور غذائی اشیاءکی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی تیزی سے کم ہوئی۔4 سال بعد سٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کی۔آخری بار سٹیٹ بینک نے 25 جون 2020 کو شرح سود میں ایک فیصد کمی کی تھی۔واضح رہے کہ اس سے قبل 18مارچ کو سٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا تھا جس میں شرح سود 22فیصد کی سطح پر پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاگیا تھا۔سٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 22 فیصد تھا جسے برقرار رکھا گیا تھا۔اعلامیے میں اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال معاشی نمو 2 سے 3 فیصد رہے گی، معاشی نمو میں زرعی شعبے کی کارکردگی اہم ہے۔گورنر سٹیٹ بینک کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہواتھا جس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور شرح سود میں ردوبدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہاگیا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سٹیٹ بینک کو سخت مانیٹری پالیسی رکھنے کوکہاگیاتھا۔فروری 2024ءمیں ماہانہ مہنگائی 28.3فیصدسے کم ہو کر23.1فیصد آگئی ہے۔جنوری 2024ءمیں پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 269ملین ڈالر رہا ہے۔ملکی معیشت کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔آئندہ آنے والے دنوں میں مہنگائی میں کمی کا امکان ہے۔مہنگائی توقعات کے مطابق کم ہونا شروع ہوئی تھی۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ ستمبر 2025ءتک مہنگائی 5 سے 7 فیصد تک لانے کیلئے موجودہ پالیسی کا تسلسل ضروری تھا۔

9 میی کیس جلاو گھیراؤ امجد نیازی بیرسٹر عمیر نیازی ٹوانہ باعزت بری

سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے 2 کیسز کا فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے میانوالی ائربیس و دیگر سرکاری املاک پر حملے کے تمام ملزمان کو باعزت بری کردیا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے امجد نیازی ، ملک احسان اللہ ٹوانہ، بیرسٹرعمیرنیازی اوردیگر کارکنوں کو باعزت بری کیا۔

تاریخی دورہ چین کے ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچیں گے، وفاقی وزیر اطلاعات وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کا چین جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے سیکورٹی معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا،

تاریخی دورہ چین کے ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچیں گے، وفاقی وزیر اطلاعاتوزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کا چین جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے سیکورٹی معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، وفاقی وزیر اطلاعاتچین کے سیکورٹی خدشات دور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، وفاقی وزیر اطلاعاتدورہ چین میں چینی باشندوں کی سیکورٹی کے حوالے سے بھرپور یقین دہانی کرائی ہے، وفاقی وزیر اطلاعاتدہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، سیکورٹی ادارے اور پولیس اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعاتملک میں چینی باشندوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، وفاقی وزیر اطلاعات

اے پی پی اردو نیوز سروس
اہم ترین—وفاقی وزیر اطلاعات ۔۔۔پریس کانفرنس
پاکستان کی ترقی ملک دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، ایک نام نہاد لیڈر نے پاکستان کو ہر جگہ رسوا اور تنہائی کا شکار کیا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کے تاریخی دورہ چین کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے، عطاءاللہ تارڑ

اسلام آباد۔10جون: وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی ملک دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، ایک نام نہاد لیڈر نے پاکستان کو ہر جگہ رسوا اور تنہائی کا شکار کیا، آج پاکستان کی عزت بن رہی ہے، عالمی سطح پر پاکستان کے اندر سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے معاہدے کئے جا رہے ہیں، انشاءاللہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی کامیابی حاصل کریں گے اور پاکستان کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، وزیراعظم شہباز شریف کے تاریخی دورہ چین کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہ چین انتہائی کامیاب رہا، اس تاریخی دورہ میں وہ موضوعات بھی زیر بحث آئے جو پہلے کبھی نہیں آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر دور میں لازوال اور مثالی رہی ہے، اس دورہ سے پاک چین دوستی میں ایک نئی جہت اور نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان 182 ووٹ حاصل کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بھاری اکثریت سے رکن منتخب ہوا جو بہت بڑی کامیابی ہے، اس کامیابی پر چین کے صدر اور چینی وزیراعظم نے بھی وزیراعظم محمد شہباز شریف کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی چینی صدر کے ساتھ سوا تین گھنٹے ملاقات جاری رہی، چینی قیادت نے سی پیک کو اپ گریڈ کرنے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہماری لائف لائن ہے، پاکستان کے اندر معاشی ترقی، معاشی استحکام، انڈسٹرلائزیشن، مہنگائی میں کمی، تجارت کے فروغ کے حوالے سے اس کی بہت اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ چین کے دوران مین لائن ون کے حوالے سے بھی بات ہوئی، مین لائن ون پر ورکنگ کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی قیادت کے ساتھ ہر اعلیٰ سطحی میٹنگ میں کراچی سرکلر ریلوے کا ذکر کیا، چینی قیادت نے بھی کراچی سرکلر ریلوے کو اچھے پیرائے میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے چین میں 32 بی ٹو بی معاہدوں پر دستخط ہوئے، پاکستانی کاروباری شخصیات کی چینی کمپنیوں کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں اور شراکت داری کے بہت سے ایم او یوز پر دستخط ہوئے، اس کے علاوہ پاک چین بزنس کانفرنس میں 500 کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر جو کبھی 4 ارب ڈالر ہوا کرتے تھے، اب 14 ارب ڈالر کی سطح کو پہنچ گئے ہیں، اسی طرح روپے کی قدر بھی مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اقتصادی اشاریے مثبت ہیں، پٹرول کی قیمت اور مہنگائی میں کمی ہوئی ہے۔ مہنگائی پچھلے مہینے 17 فیصد تھی اب 11 فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سنجیدہ حکومت ہے، اس کی کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شین زن میں تین معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں چین کی ٹیک کمپنی پاکستان کے دو لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبہ میں تربیت فراہم کرے گی، کلائوڈ سروسز فراہم کی جائیں گی، سمارٹ سٹیز کے قیام کے حوالے سے معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تربیت سے آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا، ٹیک سٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیک کمپنیوں کا آگے آنا اور معیشت میں حصہ ڈالنا بہت حوصلہ افزاءہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیک کمپنیاں بیرون ملک کی ٹیک کمپنیوں سے مقابلے کر رہی ہیں، ہم نے اس طرح کے ماحول کی حوصلہ افزائی کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمارے خون میں شامل ہے، چین نے ہمیشہ پاکستان کا اور پاکستان نے ہمیشہ چین کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی اپ گریڈیشن کا فائدہ دونوں ممالک کے عوام کو پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن و ترقی پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، پاک چین دوستی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں امن قائم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج بھی ہم قصور میں ایک شہید کی قبر سے ہو کر آئے ہیں، دہشت گردی کیخلاف اس جنگ میں افواج، عسکری ادارے اور پولیس جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، انشاء اللہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات پروان نہ چڑھیں، وہ کوئی نہ کوئی رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں، سیاسی لیڈر اور سیاست یہ تمام چیزیں بعد میں ہیں، پاکستان سب سے پہلے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نام نہاد لیڈر نے پاکستان کو ہر حوالے سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کیا تھا، آج پاکستان کی عزت بن رہی ہے، عالمی سطح پر پاکستان کے اندر سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے معاہدے کئے جا رہے ہیں، ہم انشاءاللہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی کامیابی حاصل کریں گے اور پاکستان کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک پاکستان کے اندر ایک حکومت تھی جس نے عالمی سطح پر دوست ممالک کو ناراض کیا، 190 ملین پائونڈ کے سکینڈل ہوئے، یہ کاش آج اس شہید کی قبر پر کھڑے ہو کر اس شہید کی فیملی کا غم محسوس کرتے تو پھر 1971 اور شیخ مجیب کی بات کرتے، ان کی اپنی سیاسی قربانی کیا ہے، پیپلز پارٹی سے پوچھیں جنہوں نے لاشیں اٹھائی ہیں، ہم سے پوچھیں جن کا وزیراعظم اپنی اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر آیا لیکن کبھی پاکستان کی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کا چین جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے سکیورٹی کے معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وزیراعظم نے دورہ چین کے دوران خود ہی بشام کے واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میری اور میرے بچوں کی سکیورٹی سے بڑھ کر چینی باشندوں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی اور اس بات کو بار بار دوہرایا، حکومت کی اس پر پوری توجہ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ متعدد ایم او یوز پر دستخط ہوئے ہیں اور معاملات آگے بڑھے ہیں، اس حوالے سے حتمی اعداد و شمار جلد آ جائیں گے، حکومت کے ابھی سو دن پورے نہیں ہوئے لیکن سالوں کا کام مہینوں میں ہو رہا ہے، یہ ایک تاریخی موڑ ہے، ہم ترقی کی نئی منازل طے کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ملک میں ایل سیز کھلنا بند ہو گئی تھیں، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر موجود نہیں تھے، اب دو ماہ کا فارن ایکسچینج ریزرو موجود ہے، ڈالر 278 روپے پر آ کر کھڑا ہو گیا ہے، ڈالر کے ذخیرہ اندوز مافیا کے خلاف کریک ڈائون ہوا، آج مہنگائی 11 فیصد پر آ گئی ہے، امید کرتے ہیں کہ پٹرول کی قیمت آئندہ بھی مزید کم ہوگی، عوام تک فائدہ مثالی طور پر پہنچے گا، لوگوں سے کہوں گا کہ وہ معیشت کے حوالے سے افواہوں پر کان نہ دھریں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ چین سے دو لاکھ افراد کی آئی ٹی ٹریننگ کا معاہدہ چھوٹی بات نہیں، یہ کروڑوں روپے میں جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام معاشی استحکام کے لئے لازم و ملزوم ہے، 190 ملین پائونڈ کا کیس ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن سکینڈل ہے، پی ٹی آئی دور میں کابینہ کے اجلاس کے اندر 190 ملین پائونڈ کے بند لفافے پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟، پانچ قیراط کی انگوٹھی کس نے اور کیوں مانگی تھی؟ القادر ٹرسٹ کی زمین کہاں سے آئی تھی؟ فرح گوگی کو بنی گالا میں کئی سو کنال زمین کیوں ملی؟ کے پی کے میں ہائوسنگ سوسائٹی کو بغیر لینڈ کے این او سی دینے کا قانون کیوں بنایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی فائدے کے لئے سیاق و سباق سے ہٹ کر سائفر لہرا کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی، سائفر کی پوری دنیا گواہ ہے، ان کی آڈیو موجود ہے جس میں کہہ رہے ہیں کہ ہم نے سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے، یہ سنگین کرپشن کے کیسز ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب حکومت کی ہتک عزت قانون پر صحافتی تنظیموں کے ساتھ بات چیت جاری تھی اور جاری رہنی چاہئے، ہتک عزت کا قانون سب کے لئے ہے، یہاں سے بڑے بڑے چینلز بیرون ملک جا کر ہتک عزت کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم وقت میں فیصلہ ہو جاتا ہے، پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ انہوں نے کہا کہ صحافتی تنظیموں کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔

اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—وفاقی وزیر اطلاعات ۔۔۔پریس کانفرنسپاکستان کی ترقی ملک دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، ایک نام نہاد لیڈر نے پاکستان کو ہر جگہ رسوا اور تنہائی کا شکار کیا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کے تاریخی دورہ چین کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے، عطاءاللہ تارڑاسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی ملک دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، ایک نام نہاد لیڈر نے پاکستان کو ہر جگہ رسوا اور تنہائی کا شکار کیا، آج پاکستان کی عزت بن رہی ہے، عالمی سطح پر پاکستان کے اندر سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے معاہدے کئے جا رہے ہیں، انشاءاللہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی کامیابی حاصل کریں گے اور پاکستان کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، وزیراعظم شہباز شریف کے تاریخی دورہ چین کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہ چین انتہائی کامیاب رہا، اس تاریخی دورہ میں وہ موضوعات بھی زیر بحث آئے جو پہلے کبھی نہیں آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر دور میں لازوال اور مثالی رہی ہے، اس دورہ سے پاک چین دوستی میں ایک نئی جہت اور نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان 182 ووٹ حاصل کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بھاری اکثریت سے رکن منتخب ہوا جو بہت بڑی کامیابی ہے، اس کامیابی پر چین کے صدر اور چینی وزیراعظم نے بھی وزیراعظم محمد شہباز شریف کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی چینی صدر کے ساتھ سوا تین گھنٹے ملاقات جاری رہی، چینی قیادت نے سی پیک کو اپ گریڈ کرنے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہماری لائف لائن ہے، پاکستان کے اندر معاشی ترقی، معاشی استحکام، انڈسٹرلائزیشن، مہنگائی میں کمی، تجارت کے فروغ کے حوالے سے اس کی بہت اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ چین کے دوران مین لائن ون کے حوالے سے بھی بات ہوئی، مین لائن ون پر ورکنگ کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی قیادت کے ساتھ ہر اعلیٰ سطحی میٹنگ میں کراچی سرکلر ریلوے کا ذکر کیا، چینی قیادت نے بھی کراچی سرکلر ریلوے کو اچھے پیرائے میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے چین میں 32 بی ٹو بی معاہدوں پر دستخط ہوئے، پاکستانی کاروباری شخصیات کی چینی کمپنیوں کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں اور شراکت داری کے بہت سے ایم او یوز پر دستخط ہوئے، اس کے علاوہ پاک چین بزنس کانفرنس میں 500 کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر جو کبھی 4 ارب ڈالر ہوا کرتے تھے، اب 14 ارب ڈالر کی سطح کو پہنچ گئے ہیں، اسی طرح روپے کی قدر بھی مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اقتصادی اشاریے مثبت ہیں، پٹرول کی قیمت اور مہنگائی میں کمی ہوئی ہے۔ مہنگائی پچھلے مہینے 17 فیصد تھی اب 11 فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سنجیدہ حکومت ہے، اس کی کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شین زن میں تین معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں چین کی ٹیک کمپنی پاکستان کے دو لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبہ میں تربیت فراہم کرے گی، کلائوڈ سروسز فراہم کی جائیں گی، سمارٹ سٹیز کے قیام کے حوالے سے معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تربیت سے آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا، ٹیک سٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیک کمپنیوں کا آگے آنا اور معیشت میں حصہ ڈالنا بہت حوصلہ افزاءہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیک کمپنیاں بیرون ملک کی ٹیک کمپنیوں سے مقابلے کر رہی ہیں، ہم نے اس طرح کے ماحول کی حوصلہ افزائی کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمارے خون میں شامل ہے، چین نے ہمیشہ پاکستان کا اور پاکستان نے ہمیشہ چین کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی اپ گریڈیشن کا فائدہ دونوں ممالک کے عوام کو پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن و ترقی پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، پاک چین دوستی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں امن قائم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج بھی ہم قصور میں ایک شہید کی قبر سے ہو کر آئے ہیں، دہشت گردی کیخلاف اس جنگ میں افواج، عسکری ادارے اور پولیس جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، انشاء اللہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات پروان نہ چڑھیں، وہ کوئی نہ کوئی رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں، سیاسی لیڈر اور سیاست یہ تمام چیزیں بعد میں ہیں، پاکستان سب سے پہلے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نام نہاد لیڈر نے پاکستان کو ہر حوالے سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کیا تھا، آج پاکستان کی عزت بن رہی ہے، عالمی سطح پر پاکستان کے اندر سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے معاہدے کئے جا رہے ہیں، ہم انشاءاللہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی کامیابی حاصل کریں گے اور پاکستان کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک پاکستان کے اندر ایک حکومت تھی جس نے عالمی سطح پر دوست ممالک کو ناراض کیا، 190 ملین پائونڈ کے سکینڈل ہوئے، یہ کاش آج اس شہید کی قبر پر کھڑے ہو کر اس شہید کی فیملی کا غم محسوس کرتے تو پھر 1971 اور شیخ مجیب کی بات کرتے، ان کی اپنی سیاسی قربانی کیا ہے، پیپلز پارٹی سے پوچھیں جنہوں نے لاشیں اٹھائی ہیں، ہم سے پوچھیں جن کا وزیراعظم اپنی اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر آیا لیکن کبھی پاکستان کی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کا چین جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے سکیورٹی کے معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وزیراعظم نے دورہ چین کے دوران خود ہی بشام کے واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میری اور میرے بچوں کی سکیورٹی سے بڑھ کر چینی باشندوں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی اور اس بات کو بار بار دوہرایا، حکومت کی اس پر پوری توجہ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ متعدد ایم او یوز پر دستخط ہوئے ہیں اور معاملات آگے بڑھے ہیں، اس حوالے سے حتمی اعداد و شمار جلد آ جائیں گے، حکومت کے ابھی سو دن پورے نہیں ہوئے لیکن سالوں کا کام مہینوں میں ہو رہا ہے، یہ ایک تاریخی موڑ ہے، ہم ترقی کی نئی منازل طے کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ملک میں ایل سیز کھلنا بند ہو گئی تھیں، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر موجود نہیں تھے، اب دو ماہ کا فارن ایکسچینج ریزرو موجود ہے، ڈالر 278 روپے پر آ کر کھڑا ہو گیا ہے، ڈالر کے ذخیرہ اندوز مافیا کے خلاف کریک ڈائون ہوا، آج مہنگائی 11 فیصد پر آ گئی ہے، امید کرتے ہیں کہ پٹرول کی قیمت آئندہ بھی مزید کم ہوگی، عوام تک فائدہ مثالی طور پر پہنچے گا، لوگوں سے کہوں گا کہ وہ معیشت کے حوالے سے افواہوں پر کان نہ دھریں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ چین سے دو لاکھ افراد کی آئی ٹی ٹریننگ کا معاہدہ چھوٹی بات نہیں، یہ کروڑوں روپے میں جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام معاشی استحکام کے لئے لازم و ملزوم ہے، 190 ملین پائونڈ کا کیس ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن سکینڈل ہے، پی ٹی آئی دور میں کابینہ کے اجلاس کے اندر 190 ملین پائونڈ کے بند لفافے پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟، پانچ قیراط کی انگوٹھی کس نے اور کیوں مانگی تھی؟ القادر ٹرسٹ کی زمین کہاں سے آئی تھی؟ فرح گوگی کو بنی گالا میں کئی سو کنال زمین کیوں ملی؟ کے پی کے میں ہائوسنگ سوسائٹی کو بغیر لینڈ کے این او سی دینے کا قانون کیوں بنایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی فائدے کے لئے سیاق و سباق سے ہٹ کر سائفر لہرا کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی، سائفر کی پوری دنیا گواہ ہے، ان کی آڈیو موجود ہے جس میں کہہ رہے ہیں کہ ہم نے سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے، یہ سنگین کرپشن کے کیسز ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب حکومت کی ہتک عزت قانون پر صحافتی تنظیموں کے ساتھ بات چیت جاری تھی اور جاری رہنی چاہئے، ہتک عزت کا قانون سب کے لئے ہے، یہاں سے بڑے بڑے چینلز بیرون ملک جا کر ہتک عزت کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم وقت میں فیصلہ ہو جاتا ہے، پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ انہوں نے کہا کہ صحافتی تنظیموں کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔

کرک میں دھشت گردوں کا حملہ پولیس یرغمال حالات کشیدہ صورتحال نازک فوجی دستے روانہ

کرک میں سام بانڈہ آئل فیلڈ پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا۔پولیس اور دہشت گردوں میں شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کی نفری روانہ ہوگئی۔حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

قائد حزب اختلاف عمر ایوب کو سرگودھا میں عدالت جانے سے روکنے پر اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔شہباز شریف کے حکم پر مجھے عدالت میں جانے سے روکا گیا

قائد حزب اختلاف عمر ایوب کو سرگودھا میں عدالت جانے سے روکنے پر اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔شہباز شریف کے حکم پر مجھے عدالت میں جانے سے روکا گیا، عمر ایوب خان واک آؤٹ سے قبل قومی اسمبلی سے خطاب میں اسد قیصر نے سوال کیا کہ کیا پنجاب میں مارشل لاء لگا ہوا ہے؟ اپوزیشن لیڈر کو عدالت جانے سے روکنے کی مذمت کرتے ہیں۔اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سمیت تمام ارکان کے استحقاق کا تحفظ اسپیکر کی ذمہ داری ہے۔

*9 جون 2024 کو ضلع لکی مروت میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں شہید ہونے والےکیپٹن محمد فراز الیاس (عمر: 26 سال، ساکن ضلع قصور ) صوبیدار میجر محمد نذیر (عمر: 50 سال، ساکن ضلع سکردو)، لانس نائیک محمد انور (عمر: 34 سال، ساکن ضلع گانچھے)، لانس نائیک حسین علی (عمر: 36 سال، ساکن ضلع غذر) ، سپاہی اسد اللہ (عمر: 33 سال، ساکن ملتان)، سپاہی منظور حسین (عمر: 27 سال، ساکن ضلع گلگت)، سپاہی راشد محمود (عمر:31 سال، ساکن ضلع راولپنڈی) کی نماز جنازہ بنوں میں ادا کر دی گئی

*راولپنڈی، 10 جون 2024:*9 جون 2024 کو ضلع لکی مروت میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں شہید ہونے والےکیپٹن محمد فراز الیاس (عمر: 26 سال، ساکن ضلع قصور ) صوبیدار میجر محمد نذیر (عمر: 50 سال، ساکن ضلع سکردو)، لانس نائیک محمد انور (عمر: 34 سال، ساکن ضلع گانچھے)، لانس نائیک حسین علی (عمر: 36 سال، ساکن ضلع غذر) ، سپاہی اسد اللہ (عمر: 33 سال، ساکن ملتان)، سپاہی منظور حسین (عمر: 27 سال، ساکن ضلع گلگت)، سپاہی راشد محمود (عمر:31 سال، ساکن ضلع راولپنڈی) کی نماز جنازہ بنوں میں ادا کر دی گئی نماز جنازہ میں کور کمانڈر پشاور حاضر سروس افسران, جوانوں اور عوام کی شرکت شہداءکے جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے جہاں انھیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گاپاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر شہداء کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں