چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کے پاس انٹرنیٹ سلوکرنےکی کوئی صلاحیت نہیں، اکتوبر کے آخر تک سلو انٹرنیٹ کا مسئلہ ختم ہو جا ئیگا

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کے پاس انٹرنیٹ سلوکرنےکی کوئی صلاحیت نہیں، اکتوبر کے آخر تک سلو انٹرنیٹ کا مسئلہ ختم ہو جا ئیگا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کا کہنا تھا کہ2023میں بھارت میں116مرتبہ انٹرنیٹ بند ہوا پاکستان میں7مرتبہ بند ہوا، انٹرنیٹ کی بندش کا دفاع نہیں کرتا لیکن قومی سلامتی ترجیح ہے۔چیئرمین نے مزید کہا کہ اس مرتبہ10محرم کو موبائل سروس کم بند ہوئی ، صرف مخصوص وقت میں چند علاقو ں میں انٹرنیٹ سروس بند ہوئی تھی ، تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خط لکھا غیرقانونی مواد بندش کیلئےاے آئی کا استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ ایکس کی بندش کا فیصلہ وفاقی حکومت کا ہے، وفاقی حکومت جب کہے گی ایکس کھول دیں گے ، ہماری ایکس سے شکایات کی شرح بہت زیادہ ہے، ایکس شکایات کے حل کے حوالے سے پیشر فت کرے تو ایکس کھول دیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پہنچے جہاں ان کی مولانا سے ملاقات ہوئی۔ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے جے یو آئی کا بلامقابلہ امیر منتخب ہونے پر مولانا فضل الرحمان اور بلامقابلہ سیکریٹری جنرل منتخب ہونے پر مولانا عبدالغفور حیدری کو مبارکباد دی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پہنچے جہاں ان کی مولانا سے ملاقات ہوئی۔ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے جے یو آئی کا بلامقابلہ امیر منتخب ہونے پر مولانا فضل الرحمان اور بلامقابلہ سیکریٹری جنرل منتخب ہونے پر مولانا عبدالغفور حیدری کو مبارکباد دی اور گلدستے پیش کیے۔محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان اور مولانا عبدالغفور حیدری کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے مولانا فضل الرحمان کا کردار قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان زیرک، مدبر اور دور اندیش سیاسی رہنما ہیں. ان کی قیادت میں جے یو آئی نے اصولوں پر مبنی سیاست کی ہے۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی اپنی جماعت اور پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات ہیں. یہ سینئر ترین سیاستدان ہیں اور پاکستان کی سیاست میں ان کا بلند مقام ہے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے اعتراف کیا کہ تحریک انصاف کے دو اراکین قومی اسمبلی پارٹی سے رابطے میں نہیں ہیں۔ایک انٹرویو میں بیرسٹرگوہر نے کہا کہ تحریک انصاف کے دو اراکین قومی اسمبلی پارٹی سے رابطے میں نہیں ہیں.

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے اعتراف کیا کہ تحریک انصاف کے دو اراکین قومی اسمبلی پارٹی سے رابطے میں نہیں ہیں۔ایک انٹرویو میں بیرسٹرگوہر نے کہا کہ تحریک انصاف کے دو اراکین قومی اسمبلی پارٹی سے رابطے میں نہیں ہیں. لیکن وہ ان سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پورکے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور پر امن تھے اور ان کا کسی صوبے پر چڑھائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا بیان پارٹی کیلئے زحمت نہیں ہے وہ آئندہ بھی پرامن جلسوں میں شامل ہوتے رہیں گے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا ہے کہ سب کو معلوم ہے آج کل سپریم کورٹ میں کیا چل رہا ہے، اب جو ہوتا ہے سب کے سامنے ہوتا ہے

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا ہے کہ سب کو معلوم ہے آج کل سپریم کورٹ میں کیا چل رہا ہے، اب جو ہوتا ہے سب کے سامنے ہوتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے نظر ثانی کیس کی سماعت ہورہی ہے جہاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال مندوخیل 5 رکنی لارجربینچ میں شامل ہیں، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بھی بینچ کا حصہ ہیں۔بتایا گیا ہے کہ سماعت کے آغاز پر صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت اور پی ٹی آئی وکیل علی ظفر روسٹرم پر آئے جہاں بانی چیئرمین پی ٹی آِئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے بنچ پر اعتراض اٹھایا لیکن چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو بینچ پر اعتراض کرنے سے روک دیا تاہم عمران خان کے وکیل نے بار بار بات کرنے کی اجازت دینے پر اصرار کیا۔اس پر قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کو میری بات سمجھ نہیں آ رہی؟ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں تو آپ بھی خیال رکھیں، یہ طریقہ نہیں کہ آپ کسی اور کی باری میں بولیں، جمہوریت کا کبھی تو خیال کرلیں، آپ کو بعد میں سن لیں گے پہلے شہزاد شوکت کو بولنے دیں یہ آپ کے صدر نہیں ہیں؟ ہم آپ کو بھی سنیں گے جب آپ کی باری آئے گی، ابھی آپ بیٹھ جائیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اب کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہو رہا، سپریم کورٹ میں اب جو کچھ ہوتا ہے سب کے سامنے ہوتا ہے، جسٹس منیب اختر نے بنچ میں شمولیت سے معذوری ظاہر کی، میں نے جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس منصور علی شاہ کا نام تجویز کیا، آج صبح نو بجے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس بلایا، کمیٹی نے جسٹس منصور علی شاہ کا انتظار کیا۔چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور کی عدم شرکت پر ان کے دفتر سے رابطہ کیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شمولیت سے انکار کیا، جسٹس منصور علی شاہ کے انکار کے بعد ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچا تھا، میں نہیں چاہتا دوسرے بنچز کو ڈسٹرب کیا جائے اس لیے جسٹس نعیم اختر افغان کو بنچ میں شامل کر لیا گیا، اب بنچ مکمل ہو گیا ہے کارروائی شروع کی جائے۔

63 اے نظرثانی کیس میں جسٹس منیب اختر قاضی فائز عیسی کے لیے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں جنھیں نا نگل سکتے ہیں نا اگل سکتے ہیں کیونکہ جسٹس منیب اختر نے خط میں کہا کہ میں بنچ سے الگ نہیں ہو رہا صرف کیس میں سماعت میں شرکت نہیں کروں گا اور اس صورت میں قاضی فائز نیا بنچ بھی تشکیل نہیں دے سکتے، جسٹس منیب اختر نے قاضی کی خط کے ذریعے چھتر پریڈ کی ہے وہ درج ذیل ہے

بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ لبنان تباہ۔ڈینگیںی کا ڈنگ جاری ھلاکتوں کی تعداد مے اضافہ۔کینٹ کے ایگزیکٹو آفیسر سسرال کے گھر۔سپریم کورٹ کے ججز امنے سامنے حالات کشیدہ صورتحال نازک۔رائیٹ سائیزنگ 10 مزید وازرتیں بند۔سعودی عرب میں پاکستانیوں کو پھانسیاں۔پٹرول کی قیمتوں میں کمی۔پاکستان اور انگلینڈ کے دوران سیریز فائنل بڑے جوے کی گونج۔72 گھنٹے اھم ملاقاتیں رات گئے جاری۔40 ھزار استعفے کون کس کو بلیک میل کر رھا ھے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر