Monthly Archives: October 2024
تحریک انصاف کے 500 افراد گرفتار۔اسرائیل کا سفیر اغواء۔اسلام آباد کا ریڈ زون سیل۔وکلا اپے سے باھر۔وکلا کا پولیس اور پولیس کا وکلا پر لاٹھی چارج۔عمران خان کے لیے 43 دن اھم۔وزیراعظم شہباز شریف کی 3اھم ترین ملاقاتیں کس سے۔3 اھم اسلامی ممالک کے خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی۔25 اکتوبر کے بعد آئین میں ترامیم مشکلات ھونگی۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
سپریم کورٹ میں سوموار کے روز بڑے فیصلے کی گونج
سپریم کورٹ میں 63 اے کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ آئیں اور ہمیں بےعزت کریں یہ ہم ہرگزبرداشت نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 63 اے کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران آج ایک پی ٹی آئی ورکر مصطفین کاظمی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ یہ 5 رکنی لارجر بینچ غیرآئینی ہے، ہمارے 500 وکیل باہر ہیں، دیکھتے ہیں آپ کیسے ہمارےخلاف فیصلہ دیتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے مصطفین کاظمی کو بیٹھنے کی ہدایت کرنے کے باوجود نہ بیٹھنے پر جسٹس قاضی فائز نے پولیس کو ہدایت کی کہ انہیں باہر نکالیں۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹرعلی ظفرکو مخاطب کرکے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ علی ظفر آپ آئیں اور ہمیں بے عزت کریں یہ ہم ہرگزبرداشت نہیں کریں گے, ججز سے بدتمیزی کا یہ طریقہ اب عام ہوگیا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے بیرسٹرعلی ظفرسے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے رویے سے جو تھوڑی ہمدردی تھی، وہ بھی ختم ہوگئی۔چیف جسٹس نے علی ظفر سے کہا کہ آپ نےکہا فیصلہ سنادیں توہم نے سنادیا، ہم سب کا مشترکہ فیصلہ ہے بینچ کا اعتراض مستردکرتےہیں۔اس پر علی ظفر نے کہا کہ بینچ بنانے والی کمیٹی کے ممبر بینچ کا حصہ ہیں، خود کیسے بینچ کی تشکیل کو قانونی قرار دے سکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو ججز کمیٹی کے ممبر کسی بینچ کا حصہ ہی نہ بن سکیں، آپ ہمیں باتیں سناتے ہیں تو پھر سنیں بھی، ہم پاکستان بنانے والوں میں سے ہیں، توڑنے والوں میں سے نہیں، ہم نے وہ مقدمات بھی سنے جو کوئی سننا نہیں چاہتا تھا، پرویز مشرف کا کیس بھی ہم نے سنا۔اس موقع پر جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں 63 اے کیس میں بینچ کا حصہ تھا،کیا اب میں نظرثانی بینچ میں بیٹھنے سے انکار کرسکتا ہوں؟ کیا ایسا کرنا حلف کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہاں تو فیصلوں کو رجسٹرار سے ختم کرایا جاتا رہا ہے، میں نے بینچ میں ان ہی ججز کو شامل کرنے کی کوشش کی، میں کسی کو مجبور نہیں کرسکتا۔بعدا زاں عدالت نے کیس کی سماعت کل دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔
190 ملین ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے نیب کے آخری گواہ پر جرح نہ مکمل ہونے کے باعث سماعت ملتوی کردی گئی
190 ملین ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے نیب کے آخری گواہ پر جرح نہ مکمل ہونے کے باعث سماعت ملتوی کردی گئی۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی، سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ملزمان کی جانب سے عثمان ریاض گل اور چوہدری ظہیر عباس عدالت میں پیش ہوئے اس کے علاوہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی بھی لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت وکلا صفائی نے مؤقف اپنایا کہ عدالت سے ملزمان کی درخواست بریت خارج کرنے کے خلاف ہائی کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے، درخواست بریت مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ میں حاضر ہوں گے۔وکلاء صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام اباد ہائی کورٹ میں پیشی کے باعث نیب کے آخری گواہ پر جرح کرنا ممکن نہیں اس لیے سماعت ملتوی کی جائے۔عدالت نے وکلا صفائی کو سماعت ملتوی کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کرنے کا حکم دیا، ملزمان کے وکلا کی جانب سے عدالت میں سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی۔بعد ازں عدالت نے وکلا صفائی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ریفرنس پر سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد نہ ہو سکی
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت سینٹرل جیل اڈیالہ میں کی، دوران سماعت بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی ای) کی جانب سے وکیل ذوالفقار عباسی نقوی اور عمیر مجید لیگل ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے۔وکیل انتظار پنجوتہ نے جج سے استدعا کی ملزمان کی جانب سے وکیل کی تقرری نہ ہو سکی، ہمیں وقت دیا جائے، پہلے مقدمے کی سماعت آئندہ منگل کے بعد تک ملتوی کی جائے تاکہ ملزمان اپنی پیروی کے لیے اچھے وکیل کا تقرر کرسکیں۔پراسیکیوشن نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے وکیل کی جانب سے سماعت اگلے منگل تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کی جائے۔پراسیکیوشن کی جانب سے کہا گیا کہ عدالت ملزمان کو وکیل مقرر کرنے کے لیے اتنی لمبی تاریخ نہ دے،کل ملزمان سے ملاقات کا دن ہے،کل ہی ملزمان اپنے وکلا سے بیٹھ کر وکیل کا تقرر کر لیں۔بعد ازاں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی گئی۔دوسری جانب 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بھی نیب کے آخری گواہ پربشریٰ بی بی کے وکیل کی جرح مکمل نہ ہو سکی جس کے سبب سماعت (آج) جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔یاد رہے کہ 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت کا فیصلہ جلد کرنے کی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے تین صفحات پر مشتمل محفوظ فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے مطابق مجسٹریٹ کے لیے 3 دن میں ضمانت کا فیصلہ کرنا لازم ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کردیا۔پشاور میں پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا
پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کردیا۔پشاور میں پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کی،اجلاس میں کابینہ اراکین ،پارٹی قیادت اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔اجلاس میں پارٹی قیادت اور اراکین نے فیصلہ کیا کہ4 اکتوبر کو ڈی چوک میں ہر صورت احتجاج کیا جائے گا۔اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ گزشتہ احتجاج میں منصوبہ بندی ناقص تھی اس لئے درمیانی راستے سے واپس ہونا پڑا جبکہ احتجاج کے دوران ورکرز اور رہنماؤں کے پاس معیاری ماسک اور حفاظتی آلات نہیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس بار مخصوص اور تربیت یافتہ دستہ قافلوں سے پہلے جائے گا اور مشینری قافلوں سے آگے ہوگی، پچھلی بار مشینری قافلوں کے پیچھے تھی، راستے بند ہوئے تو ڈی چوک پہنچنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں،اس بار تمام تیاریوں کے ساتھ جائیں گے۔آخر میں اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ 11بجے پشاور اور 12 بجے کے بعد صوابی سے قافلے جائیں گے، اس بار بھی تمام قافلوں کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا خود قیادت کریں گے۔
*حکومت پنجاب نے ممبر قومی اسمبلی میجر طاہر اقبال کو 29 کروڑ 50 لاکھ کے ترقیاتی فنڈز جاری کر دئیے۔ حلقہ این اے 58 کی ہر یونین کونسل میں تقریباً 68 لاکھ فنڈز دئیے جائیں گے۔حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز کو 30/29 کروڑ کے ترقیاتی فنڈز دینے کی منظوری دی ہے۔*

اسلام آباد ریڈ زون سیل، فیصل آباد، میانوالی بھی سیل، شہری پیدل سفر پر مجبور
پاکستان اور ڈنمارک نے میری ٹائم سیکٹر میں سرمایہ کاری اور تشکیل نو کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخظ کئے ہیں۔ بدھ کو وزارت بحری امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصراحمد شیخ نے پائیدار انفراسٹرکچر پراجیکٹ کے لیے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پردستخط کیے
پاکستان اور ڈنمارک نے میری ٹائم سیکٹر میں سرمایہ کاری اور تشکیل نو کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخظ کئے ہیں۔ بدھ کو وزارت بحری امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصراحمد شیخ نے پائیدار انفراسٹرکچر پراجیکٹ کے لیے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پردستخط کیےجبکہ پاکستان میں تعینات ڈنمارک کے سفیر جیکب لنلف نے ڈنمارک کے وزیر صنعت، کاروبار اور مالیاتی امور کی جانب سے دستخط شدہ ایم او یو پیش کیا۔ اس مفاہمتی یادداشت کے بعد مارسک (ڈنمارک کی شپنگ کمپنی) پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں تقریباً 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔اس سے قبل پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کے لئے اتنی بڑی سرمایہ کاری کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ مفاہمتی یادداشت کی اس تقریب میں وزیر خزانہ محمد اور نگزیب، وزیر تجارت جام کمال، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر صنعت و تجارت رانا تنویر، وزیر توانائی اویس لغاری، ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قیصراحمد شیخ نے کہا کہ ہم میری ٹائم سیکٹر میں اس شاندار پیش رفت پر ڈنمارک کی حکومت کے بے حد مشکور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس یادداشت کے نتیجے میں وزارت بحری امورتمام بندرگاہوں میں لاجسٹک کے نظام کو مربوط کرسکتی ہے، کراچی میں گہرے پانی کا کنٹینر ٹرمینل قائم کرسکتی ہے، بین الاقوامی بحری تنظیم اوریورپی یونین کے معیار کے مطابق گڈانی میں جہازوں کی ری سائیکلنگ کی سہولیات بہتربناسکتی ہے، پاکستان میرین اکیڈمی کے نصاب اور دیگر چیزوں میں جدت کے لانے کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں کو مسلسل تکنیکی اور تربیتی مدد فراہم کرے گی۔بحری امورکے وزیر قیصراحمد شیخ نے پاکستان کی شپنگ انڈسٹری میں مارسک کمپنی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کنٹینرائزڈ درآمدات اور برآمدات میں مارسک کے پاس سب سے زیادہ (بیس فیصد) مارکیٹ شیئر ہے۔ اس کے علاوہ اس کمپنی کا عالمی مارکیٹ میں سرمایہ تقریباً 175 بلین ڈینش کرون ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت بحری اموراورڈنمارک کی حکومت اس مفاہتمی یادداشت کے لئے گزشتہ چھ ماہ سے مسلسل کام کررہی تھی۔ پاکستان میں ڈنمارک کے سفیرجیکب لنلف نے بھی اس پیش رفت پر حکومت پاکستان اور وزیربحری امور کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقین نے بحری شعبے کی ترقی کے لیے تعلقات کو مضبوط بنانے کا اعادہ کیا۔
فلسطین کے بعد لبنان تباہ سعودی عرب خطرے میں۔10 ھزار اسرائیلیئوں کو عرب امارات میں شھریت دے دی گئی۔سعودی عرب میں عمرہ زایرین کی تعداد میں کمی ھلٹن ھوٹل 4 سو ریال میں بھی لینے کے لیے تیار نہیں۔اسرائیل نے ایران کی اھم شخصیات کو شھید کر دیا تمام اسلامی ممالک اپنی باری کے انتظار میں۔پھلی دفعہ پاکستان بھی خاموش عرب ممالک نے ھمیشہ پاکستان سے عسکری مدد لی اور پاکستان کے لیے آواز نہ اٹھای۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
دو ہفتے قبل حزب اللہ اور یونیفیل کے انکار کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے زمینی دراندازی کے اعلان کے بعد دسیوں ہزار لبنانیوں نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے تصدیق کی ہے کہ ملک کو تاریخ کے انتہائی خطرناک مرحلے کا سامنا ہے۔انہوں نے منگل کو اقوام متحدہ کی تنظیموں اور عطیہ دینے والے ممالک کے سفیروں کے ساتھ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں نقل مکانی کے بحران پر حکومتی ردعمل کے منصوبے کے فریم ورک کے اندر ایک اجلاس منعقد کیا، اس اجلاس میں انہوں نے کہا تباہ کن جنگ کی وجہ سے تقریباً دس لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ حکومت بے گھر ہونے والوں کی بنیادی ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے تندہی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بے گھر شہریوں کو مزید مدد فراہم کرنے کی فوری اپیل بھی کی۔ انہوں نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ لبنان کے ساتھ کھڑے رہیں اور لبنان کے عوام کی حفاظت میں مدد کریں۔سکولوں اور پناہ گاہوں میں پناہ لینے والے بے گھر لوگوں میں سے کچھ نے شکایت کی ہے کہ اس صورت حال نے لبنانی حکام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ لبنانی حکومت کے مطابق حزب اللہ کے اعلان کے مطابق 8 اکتوبر کو غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے آغاز کے بعد سے جنوب اور مضافاتی علاقوں سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد تقریباً 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔لبنان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ہفتے سے جاری شدید اسرائیلی حملوں میں 700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے پیر کو بتایا تھا کہ اس نے لگ بھگ ایک لاکھ لوگوں کو سرحد پار فرار ہونے پر اکسایا ہے۔









