مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن کے حکم کا انتظار ہے سپیکر صادق۔ مخصوص نشستوں کو تحریک انصاف کی جھولی میں ڈالنے کا فیصلہ۔چیف الیکشن کمشنر راجہ جی مکمل طور پریشان نوٹیفکیشن جاری کرنے کا فیصلہ۔48 گھنٹوں میں مخصوص نشستیں حاصل ھونے کے بعد قومی اسمبلی میں دما دم مست قلندر۔وزارت قانون اور الیکشن کمیشن میں رات گئے بتیاں جلا دی گئیں۔سوڈان میں جھاز اور رکشہ تصادم 5افرادجان بحق۔سلامتی کونسل کا اجلاس طلب۔۔ایران اسرائیل۔۔ ۔پاکستان کو 3 ارب ڈالرکی امداد ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے

شھباز بلاول ملاقات 27ویں آئین کی ترمیم۔ مولانا فضل الرھمان کی تلاش۔نئے چیف جسٹس کے پھلے روز کے ایکشن پر تبادلہ خیال ملاقات میں مامعلات طے نہ پا سکے

وزیر اعظم شہبازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندروانی کہانی سامنے آگئی، ملاقات میں 26 ویں آئینی ترمیم میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے 27 ویں آئینی ترمیم لانے اور اس مقصد کےلیے مولانا فضل الرحمٰن کو اعتماد میں لینےکا فیصلہ کرلیا۔وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات کی ، بلاول بھٹو زرداری نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لیے مل کر چلیں گے۔لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں گورنرپنجاب سلیم حیدر، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم تارڑ اور رانا ثنا اللہ بھی ملاقات کا حصہ تھے تھے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اہم اتحادی جماعت ہے، پیپلزپارٹی نے ملکی معیشت کے استحکام کے لیے حکومت کاہر اقدام میں ساتھ دیا، 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا کریڈٹ تمام اتحادی جماعتوں کو جاتا ہے، پیپلز پارٹی کے وفد نے ملکی معیشت کے استحکام کے لیے حکومتی پالیسیوں کی تعریف کی، وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کے وفد کے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات پراعتماد کاخیرمقدم کیا۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری تاریخی ہے، غیرجمہوری طاقتوں کوروکنے کے لیے 26ویں آئینی ترمیم کارگر ثابت ہوگی، پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلیں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اہم ملاقات کے دوران 26ویں آئینی ترمیم میں خامیوں کے باعث 27 آئینی ویں ترمیم لانے اور اس مقصد کےلیے مولانا فضل الرحمٰن کواعتماد میں لینےکا فیصلہ کرلیا، ملاقات میں 27 ویں آئینی ترمیم کے لیے دوبارہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم پرجمیعت علمائے اسلام (ف) کےسربراہ کو پیشگی آن بورڈ لیاجائےگا، آئینی و قانونی ماہرین 27ویں ترمیم کےلیے 28اکتوبر کواسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری ستائیسویں آئینی ترمیم پرنوازشریف کوبھی اعتماد میں لیں گے، چیئرمین پیپلزپارٹی وطن واپسی پرنوازشریف سےستائیسویں آئینی ترمیم پرلاہورمیں ملاقات بھی کریں گے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کےلئے پارلیمنٹ کومتحرک کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو اورشہبازشریف ملاقات میں نئےچیف جسٹس کےحلف اٹھانےکےبعد کی صورتحال پربھی تفصیلی گفتگو کی گئی، ملاقات میں نئے چیف جسٹس کی طرف سےسنیارٹی لسٹ اپ ڈیٹ کرنے اور فل کورٹ اجلاس بلانے پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔مولانا فضل الرحمٰن پہلے ہی 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف بھرپور مزاحمت کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

فخر زمان، شاداب خان، افتخار احمد، محمد عامر، عماد وسیم، اعظم خان، اسامہ میر، سعود شکیل، وسیم جونئیر، امام الحق پاکستان ٹیم سے ڈراپ کر دئیے گئے۔

چیئرمین پی سی بی کا رضوان کو ون ڈے , ٹی20 کا کپتان بنانے کا اعلان ,;;;;;…( بادبان رپورٹ);;;;;;;;;چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) محسن نقوی نے محمد رضوان کو پاکستان کی ون ڈے اور ٹی20 کا کپتان مقرر کرنے کا اعلان کردیا جبکہ سلامن علی آغا ان کے نائب ہوں گے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ بابر اعظم ہماری قومی ٹیم کا اثاثہ ہیں اور کافی عرصے بعد ایسے بڑے کھلاڑی آتے ہیں، انہوں نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا کہ میں بطور کپتان کام جاری نہیں رکھنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ بیچ میں بہت ساری باتیں سامنے آتی رہیں لیکن پی سی بی سے کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا تھا کہ آپ نے قیادت چھوڑنی ہے، انہوں نے پہلے کوچز اور باقی لوگوں سے مشورہ کیا اور پھر مجھے کہا کہ میں بطور کپتان کام جاری نہیں رکھنا چاہتا، وہ کھیل پر زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں اور ہم سب کی خواہش ہے کہ وہ اپنی فارم میں واپس آئے اور اسی طرح کی پرفارمنس دے جیسی دیتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بابر کے استعفے کے بعد ہم نے اندرونی طور پر مشاورت شروع کی، میں نے پانچوں مینٹور اور سلیکشن کمیٹی کے پانچوں ارکان کے ساتھ اس پر تفصیلی گفتگو کی اور سب لوگوں کا یہ مشترکہ رائے تھی کہ بابر کے بعد رضوان کپتان اور سلمان علی آغا نائب کپتان ہونے چاہئیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ مینٹورز اور سلیکشن کی اکثریت کا یہ فیصلہ تھا اور اس رائے کو دیکھتے ہوئے میری کل رضوان سے تفصیلی بات ہوئی، پھر سلمان سے بھی بات ہوئی اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ قیادت رضوان کے سپرد کریں اور میری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں، پوری ٹیم اور سلیکٹرز کو کامیاب کرے۔ میرا ماننا ہے کہ ہمیں ینگ ٹیلنٹ کو موقع دینا ہو گا، اپنی ڈومیسٹک کرکٹ کو عزت دینی ہو گی اور ہم جب تک اپنے ینگ ٹیلنٹ کو سامنے نہیں لاتے رہیں گے اور ایک جگہ پر رک جائیں گے تو اسی طرح کے نتائج آتے رہیں گے۔ چیئرمین پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے انہوں نے آخری دو ٹیسٹ میچوں میں محنت کی ہے اور دو، دو دن لگاتار کام کرتے رہے ہیں، یقیناً ٹیم نے بھی پرفارم کیا ہے لیکن اس جیت کے پیچھے اس سلیکشن کمیٹی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دورہ آسٹریلیا اور زمبابوے کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کیاانگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد سابق کپتان بابراعظم، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو ڈراپ کیا گیا تھا اور اب انہیں دورہ آسٹریلیا کے لیے اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے تاہم دورہ زمبابوے کے لیے تینوں کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وائٹ بال کے ممکنہ کپتان محمد رضوان دورہ آسٹریلیا میں ٹیم کا حصہ ہیں لیکن انہیں زمبابوے کے خلاف ٹی20 میچز کے لیے آرام دیا گیا ہےخیال رہے کہ دورہ آسٹریلیا میں 4 سے 10 نومبر تک پاکستان 3 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے گی اور 14 سے 18 نومبر تک ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں آسٹریلیا کے مدمقابل ہوگی۔ دورہ آسٹریلیا کے بعد قومی ٹیم زمبابوے جائے گی جہاں پر 24 سے 28 نومبر تک دونوں ٹیموں کے درمیان 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز شیڈول ہیں جس کے بعد یکم دسمبر سے 5 دسمبر تک 3 ٹی20 میچز کھیلے جائیں گے۔ قومی سلیکٹرز کی جانب سے روٹیشن پالیسی اور ڈومیسٹک میں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے جب کہ دونوں سیریز کیلئے عامر جمال، عرفات منہاس، فیصل اکرم، حسیب اللہ، محمد عرفان خان نیازی کو پہلی بار اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ ایسے ہی جہانداد خان اور سلمان علی آغا کو پہلی بار ٹی20 میں شامل کیا گیا ہے جب کہ کامران غلام، عمیر بن یوسف اور سفیان مقیم کو بھی موقع دیا گیا ہے۔ چیمپئنز ون ڈے کپ میں 17 وکٹیں حاصل کرکے مین آف دی سیریز رہنے والے فاسٹ باؤلر محمد حسنین کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے، جنہوں نے آخری بار جنوری 2023 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میچ کھیلا تھا۔ بابراعظم، محمد رضوان، سلمان علی آغا، نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کے علاوہ 4 کھلاڑیوں کو دونوں فارمیٹس میں شامل کیا گیا ہے، جن میں عرفات منہاس، حارث رؤف، حسیب اللہ اور محمد عرفان خان شامل ہیں۔ اسی طرح، عامر جمال، عبداللہ شفیق، فیصل اکرم، کامران غلام محمد حسنین اور صائم ایوب کو صرف ون ڈے میں منتخب کیا گیا ہے اور ان ٹی20 میں ان کھلاڑیوں کی جگہ جہانداد خان، محمد عباس آفریدی، عمر بن یوسف، صاحبزادہ فرحان، صفیان مقیم اور عثمان خان لیں گے۔

جب ساجد خان پر کرکٹ ٹیم کے دروازے بند تھے تو اس وقت ٹیم کی کامیابی کے دروازے بھی بند تھے آج ساجد خان نے خون دیا ہے تو کرکٹ میں خون پینے والے جو ے کے دروازے بند ہونے جار ہے ہیں سو سال بعد بھی خون دینے کا لمحہ یادگار رہے گا اس کے بز رگوں نے بھی مُلک کے لیے خون دیا اور مُلک بچایا ساجد خان نے خون دے کر کرکٹ بچا لی ہے