*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہءِ سعودی عرب**وزیرِ اعظم کی شاہی دیوان میں ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے دئیے گئے خصوصی ظہرانے میں بطور مہمانِ خاص شرکت**ولی عہد سعودی عرب نے وزیرِ اعظم کا خصوصی استقبال کیا اور خود گاڑی چلا کر وزیرِ اعظم کو ظہرانے میں شرکت کیلئے لے کر گئے**ظہرانے میں سعودی ولی عہد نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا بھرپور استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں کے مابین غیر رسمی گفتگو ہوئی**ظہرانے میں مشرق وسطی کے اہم رہنماؤں سمیت سعودی کابینہ کے ارکان اور اعلی سعودی سول و عسکری قیادت شریک تھے**وزیرِ اعظم کا سعودی ولی عہد کی جانب سے شاندار استقبال اور ظہرانے میں بطور مہمان خاص شرکت، پاکستان و سعودی عرب کے دیرنہ برادرانہ تعلقات اور وزیرِ اعظم کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا مظہر ہے*
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کو انسداد دہشت گردی کمیٹی کا نائب چئیر اور طالبان پر پابندی کے نفاذ کے لیے قائم نگران کمیٹی کا چیئر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ دونوں عہدے پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھے جارہے ہیں لیکن انڈیا میں اس پر زبردست ردعمل سا
==میں ذاتی طور پر اس مفروضے پر یقین نہیں رکھتا کہ اسلام آباد شہر کا مخفی انتظام و انصرام چند “بابوں” یعنی چند ضعیف العمر اور کشادہ کمر بڈھوں کے ہاتھ میں رہا ہے یا اب بھی ہے۔ اس مفروضے کو بنیاد بنا کر کئی سفید ریش اور گریز ریش نفوس نے علم و ادب کی دکان بھی سجائی اور انواع و اقسام کی تحریریں بیچ کر منافع بھی کمایا۔مگر ؛ چونکہ یہ کاٹھ کی ہنڈیا تھی ، زیادہ نہ چڑھ سکی اور بالآخر جل گئی ،
کہ اس طرح اور طرز کے تحریری اور تقریری تماشوں کو دوام نہیں ملتا۔ ہاں البتہ یہ بات قرین قیاس ہے کہ ہر شہر کی تعمیر اور توقیر میں قد آور شخصیات ،دانشوروں ، عالموں اور ادیبوں کی مساعی شامل حال رہتی ہے ،اور ایسے ہی نام وروں کو مرزا غالب “پوشیدہ ولی ” قرار دیتے ہیں ، جو کہ ؛ وہ خود بھی تھے ۔اسلام آباد جیسے ہجوم گریز اور کم آمیز شہر کے مزاج اور ماحول پر اثر انداز ہونے والے عصر رواں کے پوشیدہ ولی کا نام قاسم بگھیو ہے، قاسم بگھیو لسانیات کے ڈاکٹر اور انسانیت کے اسیر ہیں ۔ انسان دوستی عقیدہ اور انسان پرستی ان کا مذہب ہے ۔قاسم بگھیو سندھ دھرتی کی جملہ خوبیوں کا مجموعہ اور متعدد خرابیوں کی عمدہ مثال ہیں،
خوبیوں کو آپ خود تلاش کرلیں،خرابیاں میں بتا دیتا ہوں ۔ان کی سب سے بڑی خرابی دوست داری اور محفل سازی ہے۔دوست داری کی بنیاد یک طرفہ اعتماد اور بلا وجہ کا اعتبار ہے۔ یہ خرابیاں قاسم بگھیو کی کمزوریاں بننے کی بجائے ان کی طاقت بن کر سامنے آتی ہیں۔ان کی ایک خرابی نت نئے راستوں کی تلاش ہے۔حیرت اس وقت ہوتی ہے جب نت نئے راستوں کی تلاش کی ہر مہم قاسم بگھیو کو بھٹکانے کی بجائے کسی نئی منزل تک پہنچا دیتی ہے ۔قاسم بگھیو کی ایک اور خرابی عقل گریزی اور عشق شماری ہے۔لیکن یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ وہ عقل اور عشق کی باہم آویزش کے نازک نکات اور باہم التفات کے مقامات سے بخوبی واقف و آگاہ ہیں ،قاسم بگھیو کے ہاں عقل اور عشق یمین و یسار کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ رانجھا بن کر بھی جوگی نہیں بنتے، وہ مرزا جٹ ہو کر بھی نہ تو نیند کے حصار میں آتے ہیں ،اور نہ ہی اپنے تیر تڑواتے ہیں۔ وہ ہمہ وقت کسی نئے اور جدا خیال کی تجسیم میں مصروف رہتے ہیں ۔ سوچنے اور تخلیق کرنے والے عموماً کم آمیز اور محفل گریز ہوتے ہیں۔لیکن جب بات قاسم بگھیو کی ہو رہی ہو تو پھر سارے اصول و قیاس ایک طرف منہ لپیٹ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ قاسم بگھیو نے اسلام آباد کو اپنی جائے قرار بنا کر یہاں کی فضا اور یہاں کے ماحول میں ایک طرح کا تحرک اور ایک طرز کا جوش و جنون پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ،اور یہ بھی کوئی چھوٹی برائی تو ہے نہیں۔وہ جو مرزا غالب نے کہا تھا کہ؛میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیابلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیںتو بالکل اسی طرح قاسم بگھیو کے ورود اسلام آباد نے یہاں کی ذہنی فضا پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔اور کتنی ہی بلبلیں غزل خواں ہو چکی ہیں۔حال ہی میں مجلس ترقی ادب لاہور کے زیر اہتمام ان کی ایک سندھی زبان میں لکھی کتاب ‘ شخص و عکس ‘ کا اردو ترجمہ ‘تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو ‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے ۔میں شاید اس کتاب کے چند ابتدائی خواستگاروں میں شامل ہوں ،کیونکہ میں نے مجلس ترقی ادب سے فوری طور پر یہ کتاب منگوا لی تھی،اور ایک دو روز کی تاخیر کے باعث جب مجلس کے دفتر سے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ پریس سے آتے ہی پہلی کتاب آپ کو ارسال کی جائے گی۔یوں میرے پاس پہنچنے والی کتاب پہلی ہو یا نہ ہو ، ترو تازہ ضرور ہے۔قاسم بگھیو جیسے زبان شناس اور سماج فہم دانشور کی سندھی زبان و ادب اور ثقافت و سماج سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات کے حوالے سے باتیں اور یادیں یقینی طور پر دلچسپی کے ہزار سامان اپنے اندر رکھتی ہوں گی ، یہی خیال اس کتاب کا بے چینی سے انتظار کرنے کا باعث بنا تھا۔میرا تاثر ہے کہ ؛ کتاب کے اردو ترجمے کا عنوان کتاب کے مندرجات کی بجائے کتاب کے مصنف کی شخصیت کو سامنے رکھ کر منتخب کیا گیا ہے۔ اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ اکیسویں صدی کے فرشتوں کو وضو کرنے کے لیے کسی “تر دامن” پر شیخ کی دراز دستی کا محتاج ہونا پڑے گا۔اور پھر شیخ بے چارے کو تو کیا کہیں کہ وہ ہماری ادبیات کا مطعون اور معتوب ترین کردار ہے ہی ،اور یہ سعادت بھی شیخ کو اپنے الٹے سیدھے اعمال کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر قاسم بگھیو کی مبینہ تر دامنی سے قطع نظر ؛ ان کی شیخ شناسی اور شیخ شکنی ہمیشہ مثالی رہی ہے ۔وہ جو میر تقی میر نے کہہ رکھا ہے کہ؛تمہیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرورخدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہگاروں کاتو اسی اعتماد کی بنیاد پر ڈاکٹر قاسم بگھیو بھی تر دامنی اور شیخ کے بیانیے کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے۔ سندھی دانش اور بصیرت کی نقاب کشائی کے لیے ڈاکٹر قاسم بگھیو نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے
،اور متنوع خوبیوں سے متصف سندھی شخصیات پر گاہے گاہے لکھے گئے شخصی خاکوں اور تاثراتی مضامین کو یکجا کر کے ” عکس و شخص” کے عنوان سے کتابی صورت میں یکجا کیا تھا۔سندھی زبان کا یہ مجموعہ مقبول ہوا اور بے حد پسند کیا گیا تھا۔اب پروفیسر ساجد سومرو نے ڈاکٹر قاسم بگھیو کے سندھی میں لکھے شخصی خاکوں کی اس کتاب کو “تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو” کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ساجد سومرو نے اپنے رواں اردو ترجمے کے ذریعے ہمیں ڈاکٹر قاسم بگھیو کی زمین سے جڑی اور آسمان تک پھیلی دانش کے روبرو کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اس کتاب میں علامہ آئی آئی قاضی پر دو مضامین کے بعد تیسرا مضمون مرزا قلیچ بیگ پر ہے۔
مرزا قلیچ بیگ کو مضمون نگار نے سندھ کا سدا روشن سورج قرار دیا ہے۔لیکن میرے لیے مرزا قلیچ بیگ کی سب سے نمایاں خوبی اور کارنامہ یہ ہے کہ وہ پروفیسر قاسم بگھیو کے ساتھ میرے تعارف ، تعلق اور دوستی کا باعث بنے تھے۔قصہ 2009 ء کا ہے۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں مرزا قلیچ بیگ کی علمی ،ادبی اور ثقافتی خدمات پر انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔مجھے اس کانفرنس میں مقالہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ اس کانفرنس سے آغاز کرتے ہوئے آج تک ڈاکٹر قاسم بگھیو کی دوستی ، توجہ اور التفات کا لطف جاری ہے۔شیخ ایاز ڈاکٹر قاسم بگھیو کے ممدوح اور مربی تھے۔ ایک مشرقی عاشق کے برعکس ،ڈاکٹر قاسم بگھیو نے شیخ ایاز کے ساتھ اپنی عقیدت ،مروت اور محبت کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ان پر لکھے دونوں مضمون اس بات کی گواہی پیش کرتے ہیں ۔ڈاکٹر قاسم بگھیو کی تحریر میں اختصار کے باوجود کمال درجے کا ابلاغ پایا جاتا ہے۔تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو میں شامل مختلف مضامین اور خاکے مختلف اوقات اور جدا جدا مزاج میں لکھے گئے تھے ،اس لیے ان تمام تحریروں میں وحدت تاثر کو تلاش کرنا مناسب نہیں
۔ہر مضمون ایک الگ محل اور الگ تاثر کا حامل ہے ،لیکن ان سب میں مصنف کی شخصیت اور انداز کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔میں نے شروع میں ڈاکٹر قاسم بگھیو کی چند برائیوں کا ذکر کیا تھا۔ان برائیوں میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ؛ وہ لکھتے ہوئے اور بات کرتے ہوئے اپنی رائے اور اپنی فہم کو مستور نہیں رکھتے۔کسی کو اچھا لگے یا برا محسوس ہو ،وہ لکھ جاتے ہیں ،وہ بات کر گزرتے ہیں۔وہ عمومی طور پر اپنے دل کو پاسبان عقل کی قربت کی بجائے تنہا رکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو کی باتیں اور یادیں جابجا میرے اس تاثر کی تصدیق کریں گی۔ ڈاکٹر قاسم بگھیو کبھی کسی ناصح یا محتسب کو قریب نہیں آنے دیتے، اور یہ کوئی چھوٹی برائی نہیں ہے۔اس کے برعکس ان کا دل اور در ،دونوں دوستوں کے لیے ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ان کے سارے دوست از راہ احتیاط و مروت ؛ مرزا غالب کے اس شعر کو ہمہ وقت پیش نظر رکھتے ہیں، کہ؛دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئیہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
گردے نکال لیےصادق آباد پنجاب میں 25 افراد کو گردوں میں پتھری کے اپریشن کا کہہ کر سب کے گردے نکال لیے گئےمیں اپنی اور اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کر رہا ہوں لیکن جس ملک میں میرے بچے رہتے ہیں اس ملک سے انصاف اٹھا ہے اس لیے برکت اور رحمت بھی روٹتی جا رہی ہے یہاں اناج ہوگا رزق نہیں پیسے ہوں گے خوشحالی نہیں قانون ہوگا انصاف نہیں اج حقیقت میں انکھوں میں نمی اگئی کہ میری یا اس قوم کی نسل کا کیا ہوگا اگے
👈 *یومِ عرفہ کا زندگی بدل دینے والا سبق* 👉۔ایک بھائی نے یہ دل کو چھو لینے والا واقعہ شیئر کیا:بالکل ایک سال پہلے، میرے سپرمارکیٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی، جس نے میری دکان کے تین چوتھائی سے زیادہ مال کو جلا کر راکھ کر دیا۔یہ واقعہ یومِ عرفہ سے صرف دو دن پہلے پیش آیا!آپ تصور کر سکتے ہیں کہ میری حالت کیا تھی — عیدالاضحی قریب تھی، مگر میری دکان، میرا سامان، میرا کاروبار — سب تباہ ہو چکا تھا۔ نہ کوئی عیدی، نہ خوشی، نہ مسرت — صرف غم، پریشانی، اور قرض کا بوجھ۔اس وقت میری شادی کو صرف دو ماہ ہوئے تھے۔ جلا ہوا مال تقریباً 15,000 ڈالر کے برابر تھا۔ میں سوچنے لگا: اب کیا کروں؟ کیسے اس نقصان کی تلافی ہو؟ کیا اپنی نئی نویلی دلہن سے کہوں کہ اپنا سونا بیچ دے؟ یا کسی سے قرض لوں؟ لیکن کس سے؟آخرکار میں نے سوچا کہ دوستوں سے قرض لینا بہتر ہے۔ مگر جب بھی کسی دوست سے بات کی، وہ یہی کہتا، “عید قریب ہے، معاف کرنا — اس وقت مدد نہیں کر سکتا۔”دو دن اسی حالت میں گزر گئے — ذہنی دباؤ اور مایوسی کے ساتھ۔ بمشکل 800 ڈالر جمع کر پایا — جو میرے نقصان کے مقابلے میں ایک قطرہ بھی نہیں تھے۔اس رات میں گھر واپس جا رہا تھا تو ایک پڑوسی ملا، کہنے لگا:“عید مبارک بھائی! کل روزہ نہ بھولنا!”میں نے دل میں سوچا: روزہ؟ اس حال میں؟ مجھے اکیلا چھوڑ دو…میری بیوی نے میرا دل ہلکا کرنے کے لیے کہا کہ تھوڑی دیر چہل قدمی کرتے ہیں۔ ہم باہر نکلے، مگر میرا دل غم سے بوجھل تھا —
میں کسی چیز سے لطف نہیں اٹھا پا رہا تھا۔جب گھر واپس آئے، تو وہ بولی:“چلو سحری کی تیاری کرتے ہیں؛ فجر کا وقت قریب ہے۔”میں نے تلخی سے جواب دیا:“سحری؟ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا کہ کل یومِ عرفہ ہے!تم اور میں جیسے دو مختلف دنیاؤں میں جی رہے ہیں۔ کیا سحری؟ کیا عرفہ؟ کیا تمہیں ہماری حالت نظر نہیں آ رہی؟”اس نے نرمی سے کہا:“اللہ نے ہمارے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ لیکن روزہ ضرور رکھو۔”اس نے اصرار کیا — اور ہم نے نیت کر کے روزہ رکھ لیا۔افطار کے وقت، وہ بولی:“اللہ سے دعا مانگو۔”میں نے کہا:“کس چیز کی دعا؟”کہنے لگی:“جو دل چاہے، مانگو۔”میں نے طنزیہ انداز میں کہا:“کیا مانگوں؟ یہ کہ آسمان سے 15,000 ڈالر آ جائیں؟ کیا یہ ممکن ہے؟”وہ بولی:“جس نے آسمان بنایا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔”وہ چپ چاپ نماز پڑھنے لگی اور دعا میں مشغول ہو گئی۔ میں نے بھی دعا کی، مگر دل میں صرف وہی 15,000 ڈالر گھوم رہے تھے — میں چاہتا تھا سب کچھ واپس مل جائے۔مغرب کے ایک گھنٹے بعد، میرے ایک دوست کا فون آیا:“کافی شاپ آؤ، تم سے ضروری بات کرنی ہے۔”میں گیا، تو اس نے کہا:“میرے ایک جاننے والے نے پیسے جمع کیے ہیں اور وہ کسی کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ تم سے بہتر کوئی نہیں لگا مجھے۔”ہم نے اس شخص کو بلایا — وہ آیا اور کہا:“میرے پاس 30,000 ڈالر ہیں، اور میں کاروبار میں لگانا چاہتا ہوں۔”میں نے کہا:“میری دکان کو 15,000 ڈالر کے مال کی ضرورت ہے۔ کیوں نہ آدھے پیسے مال میں لگاؤ اور آدھے دکان کی تزئین و آرائش میں؟ منافع میں 50/50 کا حصہ ہوگا، جب تک تمہارا اصل سرمایہ پورا واپس نہ ہو جائے۔”ہم نے معاہدہ کر لیا۔ میں نے دکان دوبارہ بنائی، مال خریدا، اور عید کے بعد دکان کھول دی۔ اس دن میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔اوہ! میں بھول گیا —
دکان میں آگ لگنے سے ایک ہفتہ پہلے میری والدہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ٹیسٹ کروا لیے تھے، اور نتائج عرفہ کے دن آنے تھے۔نتیجے آئے — منفی تھے۔ الحمدللہ، وہ مکمل طور پر صحت مند تھیں!جب امی کو پتہ چلا، تو وہ خوشی سے پورا دن روتی رہیں — اللہ کا شکر ادا کرتی رہیں۔دکان دوبارہ کھل گئی، امی شفا یاب ہو گئیں، اور پھر میری بیوی نے فون کر کے بتایا کہ اس نے حمل کا ٹیسٹ کیا ہے — وہ حاملہ ہے!پھر اُس نے مجھ سے کہا:“اب سمجھ آیا روزہ رکھنے اور عرفہ کے دن دعا مانگنے کی طاقت کیا ہوتی ہے؟”میں نے دل میں کہا:سبحان اللہ!کچھ دن پہلے لگ رہا تھا جیسے پوری دنیا ختم ہو گئی ہے، اور آج صرف ایک مخلص دعا سے سب کچھ پلٹ گیا۔اس دن میں نے اللہ کے سامنے عاجزی کا وہ سبق سیکھا جو کبھی نہیں بھولوں گا۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔کبھی وہ ہمیں آزماتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں۔عید کے بعد کاروبار اچھا چلنے لگا، اور جلد ہی وہ 30,000 ڈالر واپس ہو گئے۔میں وہ پیسے واپس دینے گیا — مگر تب کہانی میں ایک نیا موڑ آیا۔اس شخص نے کہا:“سچ یہ ہے کہ یہ پیسے میرے نہیں تھے۔ کسی شخص نے، جس کی بیوی کینسر سے صحت یاب ہوئی تھی، اللہ کی رضا کے لیے یہ تمہیں دلوائے۔ وہ تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا — گمنام رہ کر۔”“یہ پیسے تمہارے ہیں — کوئی واپس نہیں مانگے گا۔”اللہ کی قسم، میں گھر آ کر کمرے میں بند ہو گیا — اور ایک گھنٹہ بچوں کی طرح رویا۔اللہ کی رحمت اور عنایت پر — جو میں نے محسوس کی۔اب بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے، آنکھوں سے صرف آنسو نہیں — خون کے آنسو نکلتے ہیں — کہ میں نے رب سے دوری میں وقت گزارا، جب کہ وہ تو ہمیشہ قریب تھا۔اسی تجربہ نے مجھے یومِ عرفہ، روزہ، دعا، اور اللہ پر اعتماد کا اصل مطلب سکھایا۔یہ میری زندگی کا نقطۂ آغاز بن گیا — میں نے توبہ کی اور دین سے جُڑ گیا۔سبق:> “اللہ کبھی کبھی دینے کے لیئے روکتا ہے، اور روکنے کے لیئے دیتا ہے — یہی اُس کی حکمت ہے۔”یہ ذوالحجہ کے پہلے دس بابرکت دن ہیں، ہم دعا، توبہ، اور ذکر میں محنت کریں — اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کو نہ بھولیں۔> رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*”جو کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اُسے بھی وہی اجر ملے گا جو نیکی کرنے والے کو ملتا ہے۔”*(مسلم)اس لیئے اس واقعے کو ضرور دوسروں سے شیئر کریں۔کیا پتہ آپ کی زندگی ختم ہو جائے — اور آپ کے اعمال نامے میں یہ نیکی کی دعوت باقی رہ جائے۔
—وزیراعظم ۔۔۔۔خطابخیبر پختونخوا کے لیے این ایف سی میں مقرر کردہ ایک فیصد فنڈ دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا پشاور میں جرگہ سے خطابپشاور۔ 03 جون وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبر پختونخوا کے لیے این ایف سی میں مقرر کردہ ایک فیصد فنڈ دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، 2010ء سے اس مدد میں خیبرپختونخوا کو 700 ارب روپے سے زیادہ فنڈز دئیے گئے ہیں، 1960 ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو زندگی کا وہ سبق سکھایا جو وہ تاقیامت نہیں بھلائیں گے، اگر ہندوستان نے پھر کوئی حرکت کی تو انہیں پھر سبق سکھائیں گے، خیبرپختونخوا کےغیور عوام نے پاکستان کے دفاع کےلیے قربانیاں دی ہیں، خیبرپختونخوا عظیم صوبہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں منگل کو پشاور میں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ،وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری ،وفاقی و صوبائی وزراء، سینیٹرز، اراکین صوبائی اسمبلی اور قبائلی زعماء بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لئے بہت عزت کی بات ہے کہ میں اس جرگے میں آپ کے سامنے موجود ہوں، ہم نے زعماء کی باتیں سنیں، وزیراعلی خیبر پختونخوا کی باتیں سنیں، ہم سب آپ کی باتیں سننے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا عظیم صوبہ ہے، میں نے ہمیشہ اپنی تقاریر میں کہا کہ یہ پاکستان کے خوبصورت ترین صوبوں میں ہے جہاں پر برف پوش پہاڑ ہیں، وادیاں اور انتہائی دلیر عوام ہیں، آپ نے 1947ء میں ریفرنڈم میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دے کر ثابت کیا کہ آپ واقعی پاکستان کے بہت بڑے حامی تھے۔ آپ نے پاکستان کا دفاع کیا، خیبر پختونخوا کے ہمارے بے شمار بھائی، بزرگ اور بہنیں شہید ہوئیں، یہ وہ عظیم قربانیاں ہیں جن کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔یقیناً جب بھی پاکستان کی بات آئی، آپ نے تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کرپاکستان کا سبز ہلالی جھنڈا بلند کیا، میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے تحسین پیش کرنے آیا ہوں۔ پشاور میں 2016ء میں اے پی ایس کا واقعہ ہوا، وہاں پر بچوں اور اساتذہ کو شہید کیا گیا اور پھر پشاور میں میٹنگ ہوئی، سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا گیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے، آج جو باتیں عمائدین اور مشران نے کی ہیں، اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور مل بیٹھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے این ایف سی پر نظر ثانی کی بات کی، یہ بات اسلام آباد میں ڈیرھ ماہ قبل ہوئی اور میں نے فوراً کمیٹی بنائی، این ایف سی کے لیے جو صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے، اس کےلیے نام دیئے گئے ہیں، پہلی میٹنگ اگست میں بلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ میں سب سے پہلے آئٹم میں چاروں صوبوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبرپختونخوا کےلیے ایک فیصد فنڈز پر اتفاق کیا۔ یہ جائز اور درست فیصلہ تھا جو دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا تاہم اس میں بلوچستان شامل نہیں کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اب تک اس مد میں خیبرپختونخوا کو 700 ارب روپے سے زیادہ فنڈز حوالے کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ نے دوسرے مطالبات کئے ان پر مل بیٹھ حل نکال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ہمارے پاس وسائل ہیں، وہ پاکستان کے وسائل ہیں جس میں سارے صوبوں کا حصہ ہے، میں معاملات کے حل کےلئے کمیٹی تشکیل کرتا ہوں جو گورنر خیبر پختونخوا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کور کمانڈر اور قبائلی زعماء کے ساتھ بیٹھے گی اور معاملہ آگے بڑھا تو ہم اس کو پارلیمنٹ میں بھی لے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابھی ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی ، پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام کی دعائیں شامل تھیں، 6 اور 7 مئی کو جس طرح دشمن نے گھات لگا کر حملہ کیا اور ہمارے بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو زندگی کا سبق سکھایا ہے جو وہ قیامت تک نہیں بھولیں گے۔ اتحاد سے ہم پاکستان کی تقدیر بدلیں گے، جس طرح اس جنگ میں کامیابی عطا ہوئی، اسی طرح پاکستان معاشی میدان میں بھی کامیابیاں حاصل کرے گا۔
ابھی چار ممالک کا دورہ کرکے آیا ہوں، سب کے چہروں پر خوشی تھی، آج پوری قوم یکجا ہے ،ہمیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کےلیے بڑے فیصلے کرنے ہیں، چاروں صوبوں کی قیادت بلا کر ہم مل کر بیٹھیں گے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کو شکست فاش ہوئی ہے اور مودی سرکار اپنے زخم چاٹ رہی ہے، ہندوستان پانی کی دھمکیاں دیتا ہے، 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کے ایک ایک قطرہ پر پاکستانی عوام کا حق ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانی کے اوپر ہمیں فیصلہ کرنا ہے تاکہ ہندوستان کے مذموم عزائم دفن ہو جائیں، ہمارے پاس بے شمار ڈیم ہیں جہاں پر ہم پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ شرکا نے پاکستان کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سویلین اور فوجی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔