پی آئ اے کی 10 جنوری سے گوادر سے مسقط ڈائرکٹ فلائٹس شروع۔پاکستان سے کسی ملک کی یہ مختصر ترین فلائٹ ہے۔صرف 468 کلو میٹر بائ ائیر فاصلہ ہے۔پی آئ اے بہتری کی طرف جا رہی ہے۔بے شک جہاز پرانے ہیں ۔ سیٹیں کٹی پھٹی ہیں۔ائیر ہوسٹس بھی بعض لوگوں کے بقول پھوپھیا ں لگتی ہیں(یہ میری ذاتی رائے نہیں ہے ) اس کے باوجود پائیلٹ بہت ٹرینڈ ہیں۔انٹرنیشنل فلائٹ آپریشن میں پی آئ اے کی کارکردگی قدرے بہتر ہے ۔یقیننا پی آئ اے کا موازنہ ایمریٹس یا قطر ائیر ویزہ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ دنیا میں سب سے زیادہ plane crash ائیر فرانس اور امریکہ ائیر لائنز کے ہیں ان دونوں کے 11 11 جہاز کریش ہوئے ہیں۔ لیکن بدنام پھر بھی پی آئ اے ہے جو بھی ہے۔۔۔۔۔اپنی ہے ۔جب اردو میں انوسٹمنٹ ہوتی ہے ۔اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ہم نے غصے میں ملک کہ ہر چیز کو برا کہنا شروع کر دیا ہے۔










