میری بیوی کو ٹھڈے اور بیٹی کو تھپڑ مارے گئے شھر یار آفریدی اگر فوج نے کے پی میں جنگ کا اغاز ھم عوام کے ساتھ کھڑے گئے اب بھی وقت ھے عمران خان سے معافی مانگ لے بجٹ اجلاس جاری تفصیلات کے لئے بادبان نیوز سھیل رانا لاءیو اج رات 10 بجے حالات کشیدہ صورتحال نازک

عالمی بنک نے پنجاب حکومت کے ایک ارب ڈالر روک لئے ناقص کارکردگی تفصیلات کے لئے

عالمی بنک نے پنجاب حکومت کے فنڈز روک لیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عالمی بنک نے پنجاب حکومت کو 1ارب 39کروڑ روپے کی قسط ادا کرنا تھی لیکن پنجاب حکومت کی سست روی کی بنیاد پر عالمی بنک نے قسط ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔قسط کی ادائیگی روکنے کی وجہ عالمی بنک کی جانب سے محکمہ ماحولیات کو گرین ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں دیئے گئے ٹاسک پورا نہ کرنا بتائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ عالمی بنک نے پنجاب حکومت کو ماحولیاتی پالیسی پر لیگل فریم ورک تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا

بابر اعظم کو پاکستان کا کرکٹ مافیا بھارت کے ساتھ مل کر تنقید کا نشانہ بنا رھا ھے اس مے کوی شک نہیں بابر اعطم میں کمزوری ھے قائدانہ صلاحیت کی لکین سوال یہ ہے بھارتی مافیا شاھد آفریدی وقار یونس وسیم اکرم حفیظ انضمام الحق سیٹھی کون ہے جوا باز یونس خان سعید اجمل سرفراز کو یہ مافیا اور اب بابر اعطم کو بھارتی مافیا اور انکا سھولت کار وھاب ریاض تفصیلات کے لئے کلک کرے

عامر اور آصف کا عروج تھا تو ان کو فکسنگ میں پھنسادیا سعید اجمل دنیا کرکٹ پر حکمرانی کر رہا تھا تو اسکے ایکشن پر اسکو فارغ کروادیا گیا اور اب جب بابر اعظم تینوں فارمیٹ میں پرفارم کر رہا ہے تو پوری دنیا خاص کر انڈین اسکو تنقید کر کے دماغی تور پر کمزور کر رہے ہیں کیونکہ بہت دیر بعد پاکستان نے کوئی ورلڈ کلاس بیٹسمین پیدا کیا اور اس میں انڈین کے ساتھ ہمارے اپنے پاکستانی بھی بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں ۔ بھائیوں تنقید کرنے سے پہلے یے بتاؤ بابر اعظم کے بغیر پاکستان کی بیٹنگ کیا ہے یا اسکا متبادل کون ہے آپکے پاس؟ بابر اعظم برینڈ ہے اسوقت پاکستان کرکٹ کا اور آنے والے دنوں میں بھی رہے گا انشاالللہ ،????????????بھائی میرے بندے میں کچھ ہے تو ہر بندہ اسکے بارے میں بات کر رہا ۔خاص کر ٹویٹر پر دیکھ لے سپیشلی انڈین فارمر کرکٹر کے بیان

صحافی کا قلم جب ا تعریف میں چلنے لگے تو وہ قلم نہیں جھاڑو بن جاتا ہے حکومت نے مزید 6 ھزار ارب روپے 25 کروڑ عوام سے کمانے کا منصوبہ بنا لیا 12 ھزار ارب روپے کی کرپشن جاری رھے گی تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نیپرانے بجلی کے نئے ٹیرف متعارف کرادئیے ،بجلی صارفین پر فکسڈ چارجز لگا دئیے گئے جن کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا،صارفین پر ماہانہ 200 تا ہزار روپے فکس چارجز عائد کردیا گیا جبکہ تجارتی صارفین پر مقررہ چارجز میں 300 فیصد اور صنعتی استعمال پر 355 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ماہانہ 301-400 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین یکم جولائی 2024 سے 200 روپے ماہانہ کے مقررہ چارجز ادا کریں گے اور 401-500 یونٹ استعمال کرنے والے 400 روپے ادا کریں گے، 501-600 تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 600 روپے ادا کرنا ہوں گے جبکہ رہائشی صارفین جو 601-700 استعمال کرتے ہیں وہ ماہانہ 800 روپے ادا کریں گے اور 700 یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والے ماہانہ 1000 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے۔اسی طرح ٹی او یو (ٹائم آف یوز) میٹر استعمال کرنے والے رہائشی صارفین بھی ماہانہ 1000 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے۔5 کلو واٹ سے کم لوڈ والے کمرشل صارفین بھی ماہانہ 1000 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے تاہم 5 کلو واٹ یا اس سے زیادہ لوڈ والے بجلی کے کمرشل صارفین اب موجودہ 500 روپے سے 2000 روپے ادا کریں گے جس میں 300 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔ٹی او یو میٹرنگ کے تحت 25 کلو واٹ تک استعمال کرنے والے صنعتی صارفین جو بی ون کیٹیگری میں آتے ہیں وہ 1000 روپے ادا کریں گے تاہم بی ٹو کیٹیگری کے صارفین 500 کلو واٹ تک کے فکسڈ چارجز میں 300 فیصد اضافہ دیکھیں گے کیونکہ وہ اب 500 روپے ماہانہ مقررہ چارجز کے بجائے 2000 روپے ادا کریں گے۔صارفین یکم جولائی 2024 سے 200 روپے ماہانہ کے مقررہ چارجز ادا کریں گے اور 401-500 یونٹ استعمال کرنے والے 400 روپے ادا کریں گے، 501-600 تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 600 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ ڈسکوز کو مقررہ چارجز کے ذریعے اپنی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے ایرانی سفیر کی ملاقات ایران اور پنجاب کے ساتھ زراعت اور لائیو سٹاک پر تعاون کا فیصلہ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

‏صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیرڈاکٹر رضا امیری مغدام کی ملاقات ◾ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور ،تجارتی، ثقافتی، اقتصادی اور سماجی تعلقات پر گفتگو ◾پاک ایران بارڈر آف سکیورٹی کو بارڈر آف اکا نومی بنانے کی تجویز پر اصولی اتفاق ◾ایران اور پنجاب کے درمیان زراعت، لائیوسٹاک اور دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات جائزہ◾ایران کی پنجاب سے گوشت کی امپورٹ 40فیصد سے 70فیصد تک بڑھانے پر اتفاق ◾پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تجارت 10ارب ڈالر تک بڑھانے کے معاہدے میں پنجاب کے تجارتی کردار پر تفصیلی گفتگو ◾ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مغدام نے وزیراعلی مریم نوازشریف کو دورہ ایران کا تحریری دعوت نامہ پیش کیا◾ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مغدام نے صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) محمد نوازشریف کوبھی دورہ ایران کی دعوت دی◾صدر پاکستان مسلم لیگ ن محمد نواز شریف نے ملاقات میں دورہ ایران کی یادیں تازہ کیں◾وزیراعلی مریم نوازشریف اور صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) محمد نوازشریف کا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شہادت پر رنج کا اظہار

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹ میں دورانِ عدت نکاح کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹ میں دورانِ عدت نکاح کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کر رہے ہیں۔

دورانِ سماعت بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے، زاہد آصف نے وکالت نامہ جمع کروا دیا۔

پی ٹی آئی رہنما عون عباس، شاندانہ گلزار اور کنول شوزب کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

خاور مانیکا کے وکیل کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا
سماعت شروع ہوتے ہی خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں، آپ خاور مانیکا سے رابطہ کر لیں، پاور آف اٹارنی واٹس ایپ پر منگوا لیں۔

جج افضل مجوکا نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء سے کہا کہ میرے 2 سوالوں کےجواب دے دیں، مجھے سزا معطلی پر مطمئن کر دیں۔

بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں آج اپیلوں پر دلائل دوں گا، وکیل شکایت کنندہ نوٹ کر لیں۔

بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے کہا کہ عدالت کی مکمل معاونت کرنے کو تیار ہیں۔

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں آج دلائل نہیں دے سکتا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے سماعت ملتوی کرنے کی دوبارہ استدعا کر دی۔

بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر بھی عدالت عمل کرے، 1985ء کی آئینی ترمیم کے بعد صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے۔

بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے کہا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، پیر کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجہ دلائل دیں گے۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ پیر کو سماعت کرنا ممکن نہیں، منگل کو سماعت کریں گے۔

بانیٔ PTI کے وکیل کے دلائل
بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ آخری اتھارٹی ہے، شریعت عدالت کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، اسلام میں خاتون کے بیان کو حتمی مانا جاتا ہے، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد مزید نہیں دیکھا جائے گا، اعلیٰ عدلیہ نے سارا قصور شکایت کنندہ پر ڈالا جنہوں نے عورت کا بیان نہیں لیا، عدالت نے عدت کے 39 دن گزرنے پر شکایت خارج کر دی تھی۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ سیشن عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ مسلم فیملی لاء میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 روز گزرنے چاہئیں، اس کیس میں دونوں فریقین مان رہے ہیں کہ طلاق تو بہر حال ہو گئی، عدت کا تصور شرعی ہے، شریعت لاء کے بعد سپریم کورٹ نے شریعت پر مبنی فیصلے کیے، سیکشن 496 اور 496 بی کی بنیاد پر شکایت دائر ہوئی۔

اس موقع پر بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سیکشنز 496، 496 بی کی تفصیلات عدالت کو بتائیں اور کہا کہ 496 فراڈ شادی پر مبنی ہے، 1860ء میں یہ قانون آیا، ہندو، مسیحی اور مسلمانوں کی شادی میں زمین و آسمان کا فرق ہے، قانون سازوں کے مطابق مسیحی شادی تب تک نہیں ہو سکتی جب تک پادری خود نہ کروائے، فراڈ کون کر رہا ہے؟ کس کے ساتھ کر رہا ہے؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہو گا۔

جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ 496 بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟

بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 496 بی ختم کر دیا گیا تھا، سزا کی بات نہیں، فرد ِجرم بھی 496 بی میں عائد نہیں ہوا، 496 بی میں 2 گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے، خاور مانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017ء کو 3 بار تحریری طلاق دی گئی، ہمارے مطابق اپریل 2017ء میں بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا کی طلاق ہوئی، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں، جہاں وہ 4 ماہ رہیں، بشریٰ بی بی کو دورانِ ٹرائل اپنا مؤقف سامنے نہیں رکھنے دیا گیا، سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کر دیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، عدالت نے دیکھنا ہے کہ اسلامی شریعت عدت سے متعلق کیا کہتی ہے، شہنشاہِ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا، غیر معمولی صورتِ حال ہے، اعلیٰ عدلیہ نے ڈائریکشن دی کہ سزا معطل، اپیل پر فیصلہ کرنا ہے، اگر شکایت کنندہ کے الزامات بھی مان لیے جائیں تو کیس ثابت نہیں ہوتا، شکایت کنندہ نے بشریٰ بی بی کے خلاف ثبوت بھی پیش نہیں کیے، 2 فیصلوں سے ثابت ہوا کہ شریعت عدالت عورت کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے، قانون کا مقصد عورت کو سہارا دینا ہے، سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا، مجھے معلوم ہے کہ آئندہ 15 روز میں عدالت نے سزا معطلی و اپیل پر فیصلہ کرنا ہے، یکم فروری کو گواہی شروع ہوئی، 2 فروری کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔

جج افضل مجوکا نے 2 روز میں ٹرائل مکمل ہونے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ 2 روز میں فیصلہ؟

بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ 14، 14 گھنٹے 2 روز کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ نے کہا کہ آج ہی سب کریں، گواہ، دلائل، سب آج کریں، فیصلہ سنانا ہے، رات 12 بجے تک اڈیالہ جیل میں کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ کا اعلانِ جنگ تھا کہ 3 فروری کو ہی فیصلہ سنانا ہے، آپ نے کبھی کسی وکیل کو کہا ہے کہ رات 11 بجے دلائل دیں؟ خاور مانیکا نے کہا کہ بشریٰ بی بی دنیا کی سب سے شریف خاتون ہیں، خاور مانیکا نے کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی کا زندگی میں عمل دخل نہیں تھا تب تک وہ شریف تھیں، خاور مانیکا نے انٹرویو میں بانیٔ پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا کہ روحانی تعلق تھا، شکایت دائر کرنے سے قبل خاور مانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاور مانیکا کو گرفتار کیا گیا، 4 ماہ جیل میں رہے، خاور مانیکا 14 نومبر کو جیل سے باہر آئے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی، جو لوگ چِلّے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ عدالت نے نوٹ کر لیا کہ پریشر کے تحت، تاخیر سے شکایت دائر کی گئی۔

بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مفتی سعید کا جھوٹ عدالت کے سامنے لانا چاہتا ہوں، مفتی سعید کے لیے میرے پاس جھوٹ کے لیے اور کوئی شائستہ لفظ نہیں، خاور مانیکا سے قبل، ہوا میں کہیں نمودار ہونے والے حنیف نامی شہری نے شکایت دائر کی، محمد حنیف کی شکایت میں وہی گواہان تھے جو خاور مانیکا کی شکایت میں تھے، عون چوہدری شکایات کے کرتا دھرتا ہیں، تمام گواہان کو عون چوہدری جمع کرتے، میرا دل نہیں مانتا کہ میں مفتی سعید کو عالم کہوں، کوئی سوچ سکتا ہے کہ عدالت میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولا جا سکتا ہے، مفتی سعید نے کہا کہ دوسرے نکاح میں معلوم نہیں کون کون گواہان تھے، عون چوہدری کی موجودگی میں مفتی سعید نے کہا کہ معلوم نہیں کون گواہ تھا، مفتی سعید بھروسے کے لائق نہیں، عون چوہدری کو استحکام نامی پارٹی سے بدلے میں ٹکٹ سے نوازا گیا۔

اس موقع پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے خاور مانیکا کے ملازم اور گواہ محمد لطیف کا بیان عدالت میں پڑھا۔

جج افضل مجوکا نے سوال کیا کہ خاور مانیکا کو کب معلوم ہوا کہ بشریٰ بی بی اور بانیٔ پی ٹی آئی کا نکاح ہوا؟

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے جواب دیا کہ میں خاور مانیکا سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کر دوں گا۔

بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی پر تو کوئی الزام بھی نہیں ہے۔

یہ تو مانیں فراڈ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے: جج
جج افضل مجوکا نے کہا کہ یہ تو مانیں فراڈ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے۔

جج افضل مجوکا کے اس جملے پر عدالت میں قہقہے گونجنے لگے۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ 27 جون سے قبل فیصلہ کرنا ہے، اگر کوئی فریق حاضر نہ ہوا تو فیصلہ پھر بھی کروں گا۔

سماعت ملتوی
اس کے ساتھ ہی عدالت نے عدت میں نکاح کیس میں دائر سزا معطلی کی درخواست پر سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی۔

مقبوضہ کشمیر: ریاستی دہشتگردی اور مودی کے دورے کیخلاف آج مکمل ہڑتال*کل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے دورے کیخلاف  آج  21 جون بروز جمعہ علاقے میں مکمل ہڑتالہڑتال کا اعلان

*مقبوضہ کشمیر: ریاستی دہشتگردی اور مودی کے دورے کیخلاف آج مکمل ہڑتال*کل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے دورے کیخلاف  آج  21 جون بروز جمعہ علاقے میں مکمل ہڑتالہڑتال کا اعلان کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کیاہڑتال کا مقصد بھارت کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ جموں کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے اور کشمیری غیر قانونی بھارتی تسلط کے خاتمے تک اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھیں گےانہوں نے نریندر مودی کے دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قیادت اس طرح کے دوروں کے ذریعے عالمی برادری کو علاقے کی صورتحال کے بارے میں گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہےمقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں مزید 2 کشمیری نوجوان شہید ہوگۓبھارتی قابض فوج نے ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے نوجوانوں کو عسکریت پسند ثابت کرنے کی ناکام کوشش کینوجوانوں کی شہادت کے بعد علاقہ مکین بڑی تعداد میں احتجاجاً باہر نکل آئے۔ مودی سرکار اور بھارتی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے جدوجہد آزادیٔ کشمیر کے حق میں نعرے بازی بھی کیمودی کے دورے کے موقع پر سرینگر اور ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی کی آڑ میں سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیںمودی کی قیادت میں بی جے پی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقے میں ترقی اور تشدد کا خاتمہ ہوگا۔حقیقت بھارتی جھوٹے دعوؤں سے مختلف ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے غیر لچکدار رویے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہےبھارت کا حالات کو  معمول پر لانے  اور ترقی کا دعویٰ ناکام ہو گیا ہے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی سے پہلے سے بھی بدتر ہے۔مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا بھارت کا دعویٰ صرف بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔ بھارت خطے کی اصل صورتحال کے بارے میں عالمی برادری کو گمراہ کر رہا ہے۔