
کال ریکارڈنگ کو قانونی حیثیت حاصل ہو گئی۔ پاکستان میں نوٹیفکیشن جاری تفصیلات بادبان نیوز پر


آئی بی اور سپیشل برانچ کی نااہلی 76 افسران کی تقرریاں لٹک گئیںفیڈرل پبلک سروس کمیشن نے 8 ماہ پہلے 76 افسران کو گریڈ 17 میں نامزدگی دیملک بھر کے 76 افسران نے سٹیٹکس آفیسرز کا امتحان پاس کیاہزاروں سکیورٹی کلیرنس کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔۔ ذرائع وزارت داخلہ
وفاقی حکومت نے محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی، صوبوں کی درخواست پر فوج کو بطور کوئیک رسپانس فورس تعینات کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے باقاعدہ مراسلہ جاری مراسلہ جاری کردیا گیا۔مراسلے کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں سمیت گلگت اور آزاد کشمیر حکومت کو مراسلہ جاری کردیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کتنی تعدادمیں اور کہاں کہاں فوج تعینات ہونی ہے، فیصلہ صوبے کریں گے، فوج کی واپسی سے متعلق فیصلہ باہمی مشاورت کی کیا جائے گا۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ فریقین کے باہمی مشورے سے فوجی دستے ضرورت کے مطابق تعینات ہوں گے۔اس سے قبل سندھ میں محرم الحرام کے دوران فوج اور ایف سی تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ۔وفاقی وزارت داخلہ نے محکمہ داخلہ سندھ کی درخواست پر سندھ میں فوج رینجرز اور ایف سی کے دستے تعینات کرنے کا حکم دے دیا گیا۔فوج اور ایف سی سول انتظامیہ کے حکم پر فوری کسی بھی علاقے کا کنٹرول سنبھال سکتی ہیں، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 سیکشن 4 اور 5 کے تحت ملک بھر کی طرح سندھ میں فوج تعینات ہوگی۔واضح رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام کے دوران امن و امان یقینی بنانے کے سلسلے میں پولیس کی معاونت کیلئے فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کی تھیں۔ترجمان محکمہ داخلہ کا کہنا تھا کہ فوج اور رینجرز کی 150 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔فوج کی 69 اور رینجرز کی 81 کمپنیاں تعینات کرنے کیلئے مراسلہ جاری کیا گیاتھا۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا تھا کہ یکم سے 12 محرم کے دوران خدمات طلب کی گئیں تھیں۔قبل ازیں پنجاب اور سندھ میں محرم الحرام کے موقع پر ڈبل سواری پرپابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ دفعہ 144کا نفاذ بھی کر دیاگیا تھا اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا
صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 9 جولائی بروز منگل شام 5 بجے طلب کرلیا ۔صدر مملکت نے قومی اسمبلی اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت طلب کیا ہے ۔واضح رہے کہ 23 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا میں ’آپریشن عزم استحکام‘ کے خلاف اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاج کیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی جلسہ کی اجازت منسوخ کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی ۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی جلسہ کی اجازت منسوخ کرنے اور تحریک تحفظ آئین اور عامر مغل کے بیٹے کی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس بابر ستار نے کی ۔پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین نے اپنے دلائل میں کہا کہ پولیس نے ڈپٹی کمشنر دفتر سے عامر مغل کو گرفتار کر لیا، عامر مغل کو اٹھانے کے پورے ایک دن تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ مقدمہ ہے تو متعلقہ فورم پر جائیں. یہ توہینِ عدالت تو نہیں بنتی۔جلسے کا این او سی معطل کرنے پر توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت میں شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری آرڈر پڑھا ۔پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں نوٹیفکیشن پیش کیا، ڈپٹی کمشنر نے جلسے کی پچھلی رات ڈیڑھ بجے مجھے جلسہ معطلی کا نوٹیفکیشن بھیجا، آج محرم کی یکم ہے اور ہمارا جلسہ دو دن پہلے تھا، چیف کمشنر کے نوٹیفیکیشن میں لکھا گیا کہ انہوں نے ہمیں بھی بلایا، ضلعی انتظامیہ نے ہمیں بالکل بھی اجلاس میں شرکت کیلئے نہیں بلایا۔جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیئے کہ اگر کمشنراسلام آباد نے آرڈر معطل کر دیا ہے آپ نے اس آرڈر کو چیلنج کرنا ہو گا۔شعیب شاہین نے کہا کہ انکو سزا تو دیں انکی ملی بھگت سامنے آئے جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ دلوں کے حال تو اللّٰہ جانتا ہے ہم نے تو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں، آپ آرڈر کو چیلنج کریں گے تو آرڈر کی لیگیلیٹی کا تعین ہو گا، میں اس درخواست پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں کر سکتا آپ مجھے بتائیں کس آرڈر پر توہین عدالت کی کارروائی کروں.آپ وکیل کی حثیت سے جو کر سکتے ہیں وہ کریں، پچھلی سماعت میں ڈی سی اسلام آباد نے جلسے کی اجازت دی ، چیف کمشنر نے اس آرڈر کو معطل کر دیا ، آپ چیف کمشنر کے احکامات کو چیلنج کریں۔عدالت نے پی ٹی آئی کی توہین عدالت درخواست خارج کردی ۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 500 یونٹ تک کے بجلی صارفین کو سولر پینلز دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔مریم نواز نے ’روشن گھرانہ‘ پروگرام کی منظوری کےلیے کل صوبائی کابینہ کا اجلاس بلالیا ہے، جس میں سولر پینلز کی فراہمی کے منصوبے کی کل باضابطہ منظوری دی جائے گی۔اعلامیے کے مطابق سولر پینلز کی لاگت کا 90 فیصد پنجاب حکومت ادا کرے گی، سولر پینلز 5 سال کی آسان اقساط پر صارفین کو فراہم کیے جائیں گے۔اس بارے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ عوام کو مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، ماضی کی تباہی کے اثرات سے عوام کو بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 5 سال بعد عوام کو موجودہ مسائل کا سامنا نہیں ہوگا۔
پاکستان سے افغانستان چینی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک گودام میں غیرقانونی ذخیرہ شدہ چینی کاایک بڑا ذخیرہ کامیابی سے قبضے میں لے لیا گیا۔
سپریم کورٹ میں کسی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان نہ لینے پر پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے سے متعلق درخواست دائر کردی گئی۔سپریم کورٹ میں درخواست شہری قاضی محمد سلیم کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں کہا گیا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں بھی الیکشن کمیشن معاملے پر کنفیوژن کا شکار دکھائی دیا۔درخواست گزار نے کہا کہ پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہ ملنے کے بعد مشکلات سلجھانے کیلئے سپریم کورٹ نے کاوشیں کیں، ایسا کیس پہلے نہیں آیا کیونکہ آئین ایسے مسائل کےلیے خاموش ہے۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ پارلیمنٹیرینز نے ایسے تنازع کا کبھی نہیں سوچا تھا جس کے باعث قانون سازی نہیں کی۔عدالت میں دائر کردہ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ نشان نہ چھینے جانے سے متعلق پارلیمنٹ کو قانون سازی کی ہدایت دے۔