پینشنرز اور تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا

وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے افسران کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو بنیادی تنخواہ پر یکم جولائی 2024 سے ریلیف ملے گا۔ وفاقی ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ پنشن میں اضافے کا اطلاق سول اور آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ ملازمین پر ہوگا جبکہ یکم جولائی 2024 یا بعد میں ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو بھی ریلیف ملے گا۔پنشن میں 15 فیصد اضافہ ریٹائرڈ ملازمین کی نیٹ پنشن پر ہوگا۔ ایڈہاک ریلیف پنشن اور گریجویٹی کا تعین کرتے وقت شامل نہیں ہوگا۔ملازمین کے ہاؤس رینٹ الاؤنس کے تعین میں بھی اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ وفاقی ملازمین کی بیرون ملک تعیناتی کے دوران ایڈہاک ریلیف الاؤنس نہیں ملے گا، بیرون ملک تعیناتی، ڈپوٹیشن سے واپسی پر ایڈہاک ریلیف الاونس لاگو ہو جائے گا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسد قیصر میرے لیے قابل احترام ہیں، جب یہ اسپیکر تھے اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی یہ ریکارڈ پر ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے گندم ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی، گندم درآمد کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں پہلے گندم امپورٹ ہوئی اور پھر ایکسپورٹ ہوئی۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اربوں کھربوں روپے کہاں گئے کسی کو کوئی معلوم نہیں۔وزیرِ اعظم کے اسد قیصر سے متعلق ریمارکس پر اپوزیشن کی جانب سے نعرے لگائے گئے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے میرے متعلق بات کی، آپ سے درخواست ہے کہ پرانا ریکارڈ نکال لیں، میاں صاحب بطور اپوزیشن لیڈر کئی کئی گھنٹے تقریر کرتے تھے۔اسد قیصر کا کہنا ہے کہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا بجٹ اجلاس میں وزیر خزانہ کی تقریر سے پہلے اپوزیشن نے بات کی، شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر 84 گھنٹے تقریر کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دورِ حکومت میں تو تقریریں لائیو چلتی تھیں، اب یہاں پر سینسرشپ ہے جو شرم کا مقام ہے، یہاں کیمرے نہیں چل رہے، اب اپوزیشن لیڈر کے گھر چھاپے مارے جاتے ہیںوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ نائن بچت بازار میں آگ لگنے سے 700 دکانیں جل گئیں۔اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق آگ جوتوں اور گارمنٹس سیکشن میں لگی، بعد میں آگ نے برتنوں والے سیکشن کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔کافی جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا، 31 فائر بریگیڈز نے آگ بجھانے میں حصہ لیا۔آگ بجھانے میں پاکستان نیوی، ایئر فورس اور راولپنڈی انتظامیہ سے بھی معاونت لی گئی۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔انہوں نے چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد سے اس حوالے سے رپورٹ طلب کر لیوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ نائن بچت بازار میں آگ لگنے سے 700 دکانیں جل گئیں۔اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق آگ نے برتنوں والے سیکشن کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔کافی جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا، 31 فائر بریگیڈز نے آگ بجھانے میں حصہ لیا۔آگ بجھانے میں پاکستان نیوی، ایئر فورس اور راولپنڈی انتظامیہ سے بھی معاونت لی گئی۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔انہوں نے چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد سے اس حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔اتوار بازار میں آگ لگنے کے واقعے پر اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا بیان سامنے آ یا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی اور سینئر کمانڈ واقعے کی جگہ موجود ہے۔اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق اتوار بازار کے پورے علاقے کو پولیس تعینات کر کے کارڈن آف کر دیا ہے، آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔سلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں پیش رفت ہوئی ہے۔عدالتِ عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔الیکشن کمیشن نے عدالت کو 29 ستمبر کو اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔دورانِ سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کے لیے الیکشن ایکٹ میں ترمیم بھی ضروری ہے، مخصوص نشستوں سے متعلق معاملات بھی کلیئر نہیں ہیں۔الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دہائی کرائی کہ اس حوالے سے اگلے 2 ہفتوں میں 2 نوٹیفکیشنز جاری کر دیے جائیں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ مزید سماعت چھٹیوں کے بعد ہو گی، کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو سی ایم دائر کر دی جائے۔

کسی اخبار اور ٹی وی کے اشعار بند نھی، وزیر اطلاعات۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

—سینیٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات ۔۔۔اجلاسکسی بھی چینل کے اشتہارات بند نہیں کئے گئے، غیر ملکی فلموں سے مقامی فلم انڈسٹری متاثر نہیں ہونی چاہئے، ”ایکس“ پر پابندی نگران دور میں عائد ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اجلاس میں گفتگواسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی چینل کے اشتہارات بند نہیں کئے گئے، غیر ملکی فلموں سے مقامی فلم انڈسٹری متاثر نہیں ہونی چاہئے، ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے معاملہ پر مشاورت جاری ہے، سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر پابندی نگران دور میں عائد ہوئی، ہم نے صحافیوں کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم بحال کی۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس میں سینیٹر سید علی ظفر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سینیٹر خالدہ عطیب اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کے ناموں کی نیشنل پالیسی بورڈ میں بطور ممبران منظوری دی گئی جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات اور اس کے ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار، ذمہ داریوں سے متعلقہ امور اور فائر وال کے حوالے سے متعلقہ امور پر بریفنگ حاصل کی گئی۔ اجلاس کے آغاز میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سینیٹر سید علی ظفر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا چیئرمین بننے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری روایات کے امین ہیں، وزارت اطلاعات قائمہ کمیٹی کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، ہم کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے قائدین نے ہمیں سکھایا ہے کہ سیاسی مخالف زخمی ہو تو اس کے گھر جا کر اس کی تیمار داری کی جائے، سیاسی مخالف کی خاطر اپنی الیکشن مہم کو معطل تک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت سیاسی دشمنی نہیں ہوتی، سیاسی مخالفین سے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے بات چیت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے اندر ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہونے کو فروغ ملنا چاہئے، ماضی میں ہم اس پر عمل پیرا ہوئے۔ ہمارے قائد نواز شریف نے ہمیشہ پارلیمان کی بالادستی کو ترجیح دی، ان کے دور حکومت میں خارجہ پالیسی کے اہم اور سنجیدہ معاملات پر پہلی مرتبہ ایوان میں ووٹنگ سے فیصلہ ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے 2017 میں اطلاعات تک رسائی کے قانون کا سہرا بھی تمام پارلیمنٹیرین کو جاتا ہے، یہ اقدام اس وقت کی حکومت نے نواز شریف صاحب کی قیادت میں اٹھایا تھا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم نے ماضی سے سیکھا ہے، یہ وقت کا دھارا ہے کہ کل ہم اپوزیشن بینچوں پر تھے اور آج حکومت میں ہیں، کل کون اقتدار میں ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا، ہم اپنے عمل سے پہچانے جائیں گے اور تاریخ بھی ہمیں اسی پیرائے میں جانچے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مفادات کے لئے اقدامات سے متعلق آپ ہمیں اپنے آپ سے ہمیشہ ایک قدم آگے پائیں گے۔ میڈیا ورکرز اور صحافیوں کے واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے نیوز انڈسٹری کے 1.6 ارب روپے کے واجبات ادا کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں نیوز پرنٹ پر کوئی ٹیکس نہیں لگنے دیا، وزارت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ رپورٹرز اور عملے کو تنخواہوں میں اضافہ دیا جائے، ان تمام اقدامات کے فوائد میڈیا ہائوسز اور اخبارات کے ملازمین کو ملنے چاہئیں اور ان کے واجبات ادا ہونے چاہئیں۔ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا استحصال نہیں ہونا چاہئے۔ اس موقع پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صحافی تنظیموں کے نمائندوں کو بلاکر پوچھا جائے کہ یہ فوائد ورکرز کو مل رہے ہیں یا نہیں جس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے تحریری پریس ریلیز میں اس کو انشور کیا ہے، ہمارے پاس آئی ٹی این ای کا فورم موجود ہے، اس فورم پر جو بھی جاتا ہے اس کی بات سنی جاتی ہے، اس فورم کے ذریعے متاثرہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز میں واجبات کے متعدد چیک تقسیم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملات آئی ٹی این ای کے فورم پر جانے کی بجائے میڈیا ہائوسز کو اپنے طور پر طے کرنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت کسی بھی پرائیویٹ ٹی وی چینل کے اشتہارات بند نہیں کئے گئے، سب کو ان کی رینکنگ کے مطابق اشتہارات مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دوہزار اخبارات ہیں، ان دو ہزار میں سے دو سو اخبارات اے پی این ایس کے رکن ہیں، ڈمی اخبارات کے حوالے سے اے پی این ایس کو کہا ہے بیٹھ کر لائحہ عمل بنائے۔ قائمہ کمیٹی نے ان اخبارات کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کر لیں۔ سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ اے بی سی کے نظام میں شفافیت لانی چاہئے اور اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت پاکستان کا اپنا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہونا چاہئے جس کے لئے پاک چائنہ فرینڈشپ سنٹر میں کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سنٹر فار ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے نام سے ادارہ بنا رہے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے عوام کے لئے انٹرٹینمنٹ ضروریات کو پورا کرنے اور فلموں پر پابندی سے متعلق استفسار کیا جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں بھی اپنے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں فلموں کو جانچنے کا معیار انتہائی سخت ہے، ملک میں انٹرٹینمنٹ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اس مقصد کے لئے فلم انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فلموں سے ہماری مقامی فلم انڈسٹری متاثر نہیں ہونی چاہئے، اس میں توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں فلم فنانس فنڈ قائم کیا گیا تھا، ہم نے پاکستان کے ممتاز فلم سازوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے آئیڈیاز لے کر آئیں، جہاں نیوز، سپورٹس پر فوکس کیا جا رہا ہے وہاں فلم سازی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم انڈسٹری کے فروغ کے لئے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔ چیئرمین کمیٹی نے صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس کے لئے بجٹ سے متعلق استفسار کیا جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ صحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس سکیم پچھلے دور حکومت میں شروع ہوئی تھی، ہم نے اس اسکیم کو بحال کیا ہے، اسلام آباد کے صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس ہم مکمل طور پر کور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس سکیم کے پہلے مرحلے میں پانچ ہزار صحافی و میڈیا ورکرز مستفید ہوں گے، مجموعی طور پر ملک بھر کے 30 ہزار صحافی و میڈیا ورکرز اس سکیم سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تقریباً ایک ہزار ہسپتالوں میں میڈیا ورکرز کو معیاری علاج کی سہولیات میسر ہوں گی۔ قائمہ کمیٹی نے تحریری طور پر تمام تفصیلات طلب کر لیں۔ ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ڈیجیٹل ڈومین کے اندر ہونے والے جرائم کا تدارک ضروری ہے، اس وقت ڈیپ فیک ویڈیو جیسے معاملات سے نمٹنے کے لئے کوئی میکنزم موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کی تجویز آئی تھی، کابینہ میں جب یہ معاملہ آیا تو وزیراعظم کا خیال تھا اس پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی جائے، اس کمیٹی کا مینڈیٹ ہے کہ وہ تمام صحافتی تنظیموں، پارلیمنٹیرینز، سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں قائم ہے جس میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت وہ خود بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے وسیع بنیادوں پر مشاورت جاری ہے۔ چیئرمین کمیٹی بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر پابندی کے حوالے سے استفسار پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ”ایکس“ پر پابندی نگران دور میں عائد ہوئی تھی کیونکہ اس پلیٹ فارم پر ”کمپلائنس“ کے ایشوز تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فیس بک، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ، لنکڈن سمیت تمام پلیٹ فارمز فعال ہیں، ٹک ٹاک پر کوئی پابندی نہیں، ہر طرح کا کانٹینٹ وہاں پوسٹ ہوتا ہے، عام آدمی اسے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکس پر پابندی نگران دور میں لگی، اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ نے اس حوالے سے اپنا جواب داخل کیا ہے، یہ معاملہ عدالت میں ہے، عدالت ہی اس پر مناسب فیصلہ کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ پاکستان کے آئین کے تحت تمام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے، آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، وزارت کے ساتھ مل کر ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا جس کے تحت عوام کو نہ صرف حقائق پر مبنی معلومات کی رسائی میسر ہو بلکہ ان اداروں سے متعلقہ لوگوں کے مسائل احسن طریقے سے حل ہوں۔ قائمہ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کو متوازن کرنا ہوگا، سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلائی جاتی ہیں، دوسروں کی عزت کی دھجیاں نہیں اڑانی چاہیئں، لوگوں کو چاہئے کہ آزادی اظہار رائے کو ذمہ داری سے استعمال کریں۔ رکن کمیٹی جام محمد نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا خیال رکھا جائے، ہمیں جعلی اور من گھڑت خبروں کے تدارک کے لئے حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے ہم سب ایک معاشرے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنا کردار مزید موثر بنانا ہوگا اور اس فورم کو ملک و قوم کے مفاد میں استعمال کرنا ہوگا۔ رکن کمیٹی سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ سوشل میڈیا پر صرف جھوٹ ہی نہیں بولاجاتا جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ ہماری اسلامی اور معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ارشد شریف کیس کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کینیا نے رپورٹ جاری کر دی ہے، قائمہ کمیٹی اس معاملے کو بھی دیکھے گی، اس کیس کی موجودہ صورتحال بارے آگاہ کیا جائے جس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ متعلقہ وزارت کو یہ معاملہ ریفر کر کے کمیٹی کو بریف کرایا جائے گا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے قائمہ کمیٹی کو وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کے فرائض، ذمہ داریوں اور امور کار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس حوالے سے وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ قومی معاملات پر پالیسی بنانا وزارت اطلاعات و نشریات کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے معاملات بھی ڈیل کئے جاتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا انڈسٹری کی ترقی کے لئے سہولیات کی فراہمی، حکومتی اشتہارات، نیوز پیپر کی آڈٹ سرکولیشن، ڈیجیٹل میڈیا پر حکومتی معاملات کی پروجیکشن اور پروموشن سمیت بیرونی پبلسٹی، براڈ کاسٹنگ وغیرہ کو ڈیل کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی انتظامی، انٹرنل، ایکسٹرنل ونگ، سینٹر آف ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے ساتھ ڈیجیٹل میڈیا ونگ بھی ہے۔ وزارت اطلاعات کے ماتحت اداروں میں پی آئی ڈی، پیمرا، اے ڈی سی اور سینٹرل بورڈ آف فلمز سینسر شامل ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ انفارمیشن سروس اکیڈمی، پیمرا،آئی ٹی این ای، پی سی پی، پی آئی سی، این ٹی پی، پی ٹی وی سی، پی بی سی، اے پی پی سی اور ایس آر بی سی جیسے ادارے بھی وزارت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ ایکسٹرنل پبلسٹی کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کوبتایا کہ ایکسٹرنل پبلسٹی کے لئے 21 ممالک میں 23 پوسٹیں ہیں۔ ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ وہاں کے کلچر، ثقافت اور روایات کو دیکھتا ہے اور پاکستان کے باہر پاکستان کی پبلسٹی کرتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید علی ظفر نے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی گزشتہ دوسال کی کارکردگی اور طریقہ کار کے متعلقہ رپورٹ طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ٹی وی ایک قومی اثاثہ ہے اس کی بہتری اور بحالی کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی سپورٹس پر کرکٹ کے رائٹس حاصل نہیں کئے گئے تھے اس دفعہ آئی سی سی سے رائٹس بھی لئے ہیں جس سے ادارے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کی طرف جا کر اس ادارے کے لئے بہتری لائی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی اس ادارے کی بہتری کے لئے سفارشات فراہم کرے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی ایک اہم ادارہ ہے اس کی بہتری کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر عبدالشکور نے کہا کہ ہمیں اپنے مذہبی اور معاشرتی روایات کے اندر رہ کر پروگرام دکھانے چاہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پیمرا ترمیمی بل کے تحت کچھ رول بنانے تھے، پیمرا حکام قائمہ کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کریں جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ رول بنا کر وزارت قانون کو بھیج دیئے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک قانون بنایا گیا تھا اس کی موجودہ صورتحال بارے آئندہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تفصیلی آگاہ کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صحافیوں کے تحفظ کا قانونی مسودہ وزارت انسانی حقوق کو دیا گیا تھا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فائر وال کے حوالے سے متعلقہ امور کے حوالے سے وزارت اطلاعات ونشریات نے کہا کہ یہ معاملہ ان سے متعلق نہیں ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سرمد علی، عرفان الحق صدیقی، محمد طلال بدر، پرویز رشید، جام محمد اورعبدالشکور خان کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، سیکرٹری وزارت اطلاعات، چیئرمین پیمرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

سناالہ مستی خیل چئیرمین مقرر ڈاکٹر عافیہ صدیقی واپس اے گی اسحاق ڈار۔۔6ٹریلین ڈالر کے ذخائر پاکستان میں۔ماں دھرتی پر قربان ھونے والوں کا سلسلہ جاری کیٹں سمیت 4 شھید۔قومی اسمبلی کا ھنگامہ خیز اجلاس 3 بڑے بلوں کی منظوری۔صدر زرداری نے جیو کے مالک کی قیمت بیان کیونکہ اسکی قیمت بہت بڑی ہے۔۔پاکستان تاریخ ک بد ترین دور میں 4 لاکھ افراد بیرون ملک منتقل ۔۔تفصیلات کے لیے کلک کریں بادبان ٹی وی پر اور بادبان نیوز کو فالو کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو تین ماہ کے لیے رعایت دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ 200 یونٹ والے صارفین کو اگلے 3 ماہ کے لیے رعایت دے رہے ہیں

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو تین ماہ کے لیے رعایت دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ 200 یونٹ والے صارفین کو اگلے 3 ماہ کے لیے رعایت دے رہے ہیں۔میرے اعلان سے 94 فیصد صارفین مستفید ہوں گے، جن چیلنجز کا ہمیں سامنا ہے وہ ہم مل کر حل کر لیں گے،اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے شکریہ کہ حالیہ بجٹ پاس کرنے میں آپ نے دل جمعی کے ساتھ حصہ لیا، بجٹ کو ہم نے بڑی محنت سے منظور کروایا، اگر ہم نے ریاست کو نہ بچایا ہوتا تو پھر کہاں کا بجٹ اور کہاں کی سیاست ، اللہ کا شکر ہے کہ وہ زمانہ گزر گیا اور پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا۔انہوں نے بتایا کہ ہم سے پچھلے دور میں سیاست کو چمکانے کے لیے بڑے بول بولے گئے، دعوے کیے گئے، کہا گیا کہ 90 دن میں کرپشن کو ختم کردیا جائے گا، کرپشن ختم نہیں ہوئی مگر اتنے بڑے اسکینڈل آئے جو کہ سب کے سامنے ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ چینی اور گندم کو پہلے ایکسپورٹ کیا گیا اور پھر امپورٹ کیا گیا اور دوستوں کی جیبیں بھری گئیں، پھر کہا گیا کہ پاکستان کا 300 ارب ڈالر لوٹا ہوا واپس لائیں گے مگر اس کا ایک ڈھیلا تک واپس نہیں آیا تاہم این سی اے کی مہربانی سے 190 ملین پاونڈ بھجوائے گئے تاکہ یہ رقم قوم کے خزانے میں جمع ہو مگر کس طرح پیرا پھیری سے اس پیسے پر بھی پاتھ صاف کیے گئے، یہ ہے وہ ریکارڈ اس زمانے کا اور اس حکومت کا۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کی قیادت میں ہم نے جو عوامی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہے اس میں کہیں بھی غلط بیانی سے کام نہیں لیا، ہم نے دانستہ طور پر عوام سے کوئی جھوٹ نہیں بولا، یہ 76 سالہ نتیجے میں آج قوم جہاں کھڑی ہے اور جن چیلنجز کا ہمیں سامنا ہے وہ ہم مل کر حل کر لیں گے، اس حوالے سے باتیں کی گئیں کہ شہباز شریف نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنا رہے ہیں تو اس میں کوئی بات راز کی نہیں ہے، ہم آئی ایم ایف کے ساتھ 3 سالہ پروگرام کرنے جارہے ہیں، اس زمانے میں ان کے بانی نے کہا تھا کہ مر جاوں گا مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا اور اسی میں کئی ماہ لگادیے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وقت نکلنے کے بعد وہ آئی ایم ایف کے پاس گئے اور ان سے مہنگا قرضہ لیا اور پھر اس پروگرام کو سیاست کی نذرکردیا کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان پر تھیں اور عدم اعتماد کے خدشے کے باعث یکا یک تیل کی قیمتیں کم کر کے انہوں نے قومی خزانے کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے ہمیشہ دل کی گہرائیوں سے قومی کی خدمت کی، ہم اسی وژن پر عمل پیرا ہیں، مشکلات بے پناہ ہیں، کل کوئٹہ میں ہم نے صوبائی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا، بلوچستان میں 28 ہزار کے قریب جو لیگل کنکشنز ہیں ہمارے ہاریوں کے اس کے اوپر بجلی وہ استعمال کر رہے تھے مگر بل نہیں دیتے تھے اور تقریبا 80 ارب روپے سالانہ وفاق کو اس مد میں نقصان ہوتا تھااور یہ خسارہ اٹھایا جاتا تھا اور اوسط ایک اندازے کے مطابق پچھلے 8،10 سالوں میں 500 ارب روپے خزانے کے پانی میں بہہ گئے، یہی پیسہ اگر عوام کی خدمت میں لگا ہوتا تو خوشحالی اور بہتری کا نیا دور،کل ہم نے اس باب کو ختم کیا اور کل ہم نے 28 ہزار ٹیوب ویل کاٹنے اور ان کو شمسی توانائی سے چلانے کا فیصلہ کیا، اس پر 55 ارب روپے خرچ ہوں گے جس میں 70 فیصد وفاق اور 30 فیصد بلوچستان کی حکومت برداشت کرے گی۔شہباز شریف کے مطابق اس کے نتیجے میں جو سالانہ خسارہ ہوتا تھا وہ ختم ہوجائے گا ہمیشہ کے لیے اور سستی بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہوگی اور کسان کی لاگت میں بے پناہ کمی آئے گی، یہی ماڈل ہم باقی صوبوں میں بھی لاگو کریں گے، پاکستان میں 10 لاکھ ٹیوب ویل تیل سے چلتے ہیں اس تیل کی قیمت ساڑھے تین ارب ڈالر ہے، یہ ہمارے خزانے میں بہت بڑا بوجھ ہے تو اس کو میں نے اور کابینہ نے مل کے فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے تیل پر چلنے والے ٹیوب ویلز کے لیے ماڈل بنانا ہے، ہم جلد سے جلد ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر لے کر آئیں گے، آج سولر انرجی دنیا بھر میں کم ترین قیمت پر مہیا ہے، اس سے فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں ٹیکس لگے ہیں اور اشرافیہ اور امرا پر نئے شعبوں میں ٹیکس پہلی دفعہ لگا ہے، جیسا کہ زمین کے جو کاروبار کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ سرمایہ کاری سالا سال رہتی ہے اور زمین کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور فائدہ ہوتا رہتا ہے بیٹھے بیٹھے، تو ہم نے اس پر بھی ٹیکس لگایا ہے جس کے نتیجے میں 100 ارب روپے آمدن کی توقع ہے مگر اسی حوالے سے جو سیلری کلاس ہے اس پر بھی ٹیکس لگا جس پر انہوں نے جائز طور پر احتجاج کیا کہ کیا بس ہم ہی لوگ رہ گئے ہیں ٹیکس دینے کے لیے؟ تو ہم نے پہلی دفعہ رئیل اسٹیٹ بزنس پر ٹیکس لگایا اور اگلے سال ہم اس پر اور کام کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ غریب لوگ جو 100 یا 200 یونٹس بجلی استعمال کرتے ہیں ان کو ہم پروٹیکٹڈ سیگمنٹس کہتے ہیں ان کے بھی نرخ بڑھے تو ملک بھر میں احتجاج ہوا اور ان کا یقینا یہ غصہ جائز ہے مگر ہم نے اپنے شراکت دار ہیں اس پروگرام میں اس کے لیے پہلے ہم نے معاش کو استحکام دلانا ہے تو ہم نے شراکت دار کے ساتھ کچھ چیزیں طے کی تھیں چنانچہ ہم ان کروڑوں صارفین جن کی تعداد ڈھائی کروڑ ہیں تو گھریلو 94 فیصد صارفین اس سے فیض یاب ہون گے جو آج میں اعلان کرنے والا ہوں۔شہباز شریف نے بتایا کہ بات صاف کرنی چاہیے، ہم قوم سے غلط بات نہیں کرتے، یہ جو گھریلو صارفین ہیں ان میں 200 یونٹس تک ہم ان کو رعایت دے رہے ہیں 3 ماہ کے لیے جولائی اگست ستمبر، اکتوبر میں موسم بہتر ہوتا ہے تو بجلی کا استعمال کم ہوجاتا ہے اور اس 3 ماہ میں جو عام صارف ہے اس کے اوپر 50 ارب روپے کی رقم خرچ ہوگی اور اس میں کے الیکٹرک بھی شامل ہے، تو یہ ہم نے 50 ارب روپے اپنے ڈیولپمنٹ فنڈ سے نکالا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عام آدمی کا بھی خیال رکھا اور آئی ایم ایف کو بھی آن بورڈ رکھا اور ان کو بتایا کہ ہم یہ کرنے جارہے ہیں، آج ہم نے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں اور 94 فیصد گھریلو صارفین کو 4 روپے سے 7 روپے فی یونٹ کا فائدہ ہوگا، اس کے بعد موسم بدلے گا، اور گرمی کا زور ٹوٹے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ریلیف کے لیے ضروری ہے کہ کرپشن کو ختم کیا جائے، کراچی میں کسی نے بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر امپورٹ ڈیوٹی پر 1200 ارب روہے کی چوری ہورہی ہے، یہ اس سے ہٹ کر ہے جو 2700 ارب کے کلیمز کب سے ٹربیونلز میں پڑے ہوئے،وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام ملک کی ضرورت ہے، وقت آگیا ہے کہ اشرافیہ ملک کیلئے قربانی دیں، ہم ڈاون سائزنگ اور سرکاری اخراجات میں کمی لائیں گے، کمی لانے کے ان اقدامات کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔کشکول توڑنا ہے تو ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی۔

کوئٹہ ۔سریاب روڈ کا شمار کوئٹہ شہر میں داخل ھونے والے گیٹ وے میں ہوتا ہے مگر افسوس کہ 9 دنوں سے یہی سریاب روڈ برما ھوٹل کے مقام پر بند ھے مگر افسوس کہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی 9 دن گزرنے کے باوجود یہ مصروف ترین شاہراہ ٹریفک کے لیئے بند ھے

کوئٹہ ۔سریاب روڈ کا شمار کوئٹہ شہر میں داخل ھونے والے گیٹ وے میں ہوتا ہے مگر افسوس کہ 9 دنوں سے یہی سریاب روڈ برما ھوٹل کے مقام پر بند ھے مگر افسوس کہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی 9 دن گزرنے کے باوجود یہ مصروف ترین شاہراہ ٹریفک کے لیئے بند ھے جس کی وجہ سے کوئٹہ سمیت سریاب اور باہر سے آنے والے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ھے مین روڈ بند ھونے کی وجہ سے ٹریفک برما ھوٹل کی آس پاس کی گلیوں میں داخل ھوجاتی ھے گلیاں تنگ ھونے کی وجہ سے سارا دن ان گلیوں میں ٹریفک پھنسی رہتی ھے اور کئی مقامات پر تو لوگ أپس میں گھتم گھتا بھی ھوتے نظر آتے ہیں اور کئی چھوٹے بڑے حادثات بھی رونما ھوچکے ہیں اہلیان علاقہ کا کہنا تھاکہ ہم لوگ عزاب میں مبتلا ہو چکے ہیں سارا دن ہماری گلیوں میں شورشرابا رہتا ہے اور ہمارے بچے گھروں سے بھی نہی نکل سکتے اس لیئے ہم لوگ حکومت اور انتطامیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ خدارا ہمیں اس عزاب سے نجات دلائی جائے اگر دیکھا جائے تو اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کرنا اور احتجاجی کیمپ قائم کرنا ہر شہری کا حق ہے مگر عام عوام کو مشکلات میں ڈالنا مناسب نہیں ہے حکومت کو چاہئیے کہ احتجاج کرنے والوں سے مزاکرات کیئے جائیں اور ان پردہ دار خواتین کو سنا جائے جوکہ کئی دنوں سے احتجاجی کیمپ میں موجود ہیں اور سریاب روڈ کو عام لوگوں کے لیئے فوری طور پر کھلوایا جائے

قاسم سوری نے الیکشن دھاندلی سے جیتا اور 5 سال تک سپیکر نھی چلے گا۔جسٹس فائز عیسی اور تحریک انصاف کے درمیان فوجییں بارڈر پر

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے دیدہ دلیری سے اسمبلی توڑنے کاحکم دیا،قاسم سوری تومنتخب رکن بھی نہیں تھے، انہوں نے الیکشن چوری کیا۔یہ توانتہائی غیر مناسب بات ہے کہ پانچ سال پورے ہوجائیں توکہہ دیں کہ درخواست غیر مئوثر ہو گئی ہے اورمیں چلا گھر، ہم سبق سکھائیں گے۔کیا ہم انہیں سبق سکھائیں بلکہ ضرور سبق سکھایا جانا چاہیئے ہم وکیل سے معاونت مانگ رہے ہیں۔ اگر آئین کااحترام نہیں کریں گے تواس کے نتائج ہوں گے، یہ مجلس شوریٰ کی کاروائی نہیں تھی بلکہ ذاتی اقدام تھا،ایوان مکمل تھا۔ آئین کاضروراحترام کیا جانا چاہیئے، اس طرح توجس کی حکومت ہو گی وہ عدم اعتما د کی قراردادآنے پر اسمبلی توڑدے گا، پارلیمنٹ کی منشاء کو شکست دینے کے مترادف ہے۔ قاسم سوری زمین کے چہرے سے ہی غائب ہو گئے ہیں، بطور ڈپٹی اسپیکر اسمبلی توڑی، پھر کہتے ہیں رات کوعدالت لگی، اگر آئین خطرے میں ہو گاتوہم رات4بجے بھی عدالت لگائیں گے، ایسے بھاگتے ہیں سامنا کریں، پوراسوشل میڈیا برگیڈہے۔ جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جب کسی اورنے اسمبلی توڑنے سے انکار کیا توقاسم سوری آکر آرڈر پڑھااورچلا گیا۔شاید انہیں پتا چل گیا تھا، غیر قانونی مراعات اور جو تنخواہ ملی تھی وہ واپس لینے کاحکم جاری کردیا جائے۔ جبکہ عدالت نے وفاقی حکومت سے ایف آئی اے کے زریعہ سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے ٹھکانے اوربیرون ملک جانے کے حوالے سے امیگریشن کاریکارڈ طلب کرلیا۔جبکہ بلوچستان حکومت سے کلیکٹر کوئٹہ کے زریعہ قاسم سوری کی جائیداد کی تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میںمس جسٹس مسرت ہلالی،جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 4 رکنی لارجر بنچ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کوڈی سیٹ کرنے کے حوالے سے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پرسماعت کی۔درخواست میں نوابزادہ میر لشکر ی رئیسانی اوردیگر کو فریق بنایا گیاہے۔قاسم سوری کی جانب سے سینئر وکیل نعیم بخاری جبکہ نوابزادہ میر لشکری رئیسانی کی جانب سے محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ بطور کیس پیش ہوئے۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے لیگل کنسلٹنٹ فلک شیر بھی دوران سماعت پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے لاپتہ مئوکل کے بارے میں کچھ معلوم ہوا کہ نہیں۔ اس پر نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ وہ غائب ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ قاسم سوری سوشل میڈیا پر زندہ ہیں۔ اس پر نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ میں سوشل میڈیا نہیں دیکھتا۔ چیف جسٹس کاکہناتھا کہ کیا کریں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کیا قاسم سوری کی طلبی کااشتہار شائع ہوگیا تھا۔ چیف جسٹس کانعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ ابھی ہم بحث نہیں سنیں گے ابھی آرڈر پر عمل ہوجائے۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کہناتھاکہ یہ آپ کے نظام کی کمزوری تھی کہ وہ پوری مدت کام کرکے اورپیسے لے کر چلاگیا۔ اس پر نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ کام کرتا رہا ایسے توپیسے نہیں لیے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اشتہاراُردو اخبار جنگ اورانگریزی اخبار ڈان میں چھپ گیا ہے۔جسٹس عقیل احمد کا نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کے مئوکل لاپتہ ہیں کیا ان کی بازیابی کے لئے کوئی درخواست دائر کی، لاپتہ ہونے کے بارے میں کیامئوقف ہے۔نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ قاسم سوری میرا مئوکل ہے رشتہ دارتونہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا وہ لاپتہ ہے؟نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ یہ کریمینل کیس نہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی کاکہنا تھا شاید انہیں پتا چل گیا تھا، غیر قانونی مراعات اور جو تنخواہ ملی تھی وہ واپس لینے کاحکم جاری کردیا جائے۔نعیم بخاری کاچیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عطاء الحق قاسمی تقرری کیس میں سپریم کورٹ نے ریکوری کاحکم دیا تھا آپ نے اس حکم پر نظرثانی کرلی ہے۔ اس پر چیف جسٹس کاکہناتھا کہ عطاء الحق قاسمی کیس میں دوسروں سے پیسے منگوائے گئے تھے، سپریم کورٹ کی جانب سے غلط کہا گیا کہ بہت زیادہ رقم خرچ ہوئی، ان سے سابقہ ایم ڈی پی ٹی وی ایک لاکھ زیادہ تنخواہ لے رہے تھے، مہنگائی بھی ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس نے نعیم بخاری کوہدایت کی کہ 23جنوری2024کا حکم پڑھ دیں۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ اب دیکھیں ایک عام رکن ہوتا ہے، قاسم سوری نے دیدہ دلیری سے اسمبلی توڑنے کاحکم دیا،قاسم سوری تومنتخب رکن بھی نہیں تھے، انہوں نے الیکشن چوری کیا، یہ کہنا کہ آگے دیکھیں، جوماضی سے سبق نہیں سیکھتے وہ ایسے ہی رہتے ہیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کیا ہم انہیں سبق سکھائیںبلکہ ضرور سبق سکھایا جانا چاہیئے ہم وکیل سے معاونت مانگ رہے ہیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ قاسم سوری زمین کے چہرے سے ہی غائب ہو گئے ہیں، بطور ڈپٹی اسپیکر اسمبلی توڑی، پھر کہتے ہیں رات کوعدالت لگی، اگر آئین خطرے میں ہو گاتوہم رات4بجے بھی عدالت لگائیں گے، ایسے بھاگتے ہیں سامنا کریں، پوراسوشل میڈیا برگیڈہے۔جسٹس مسرت ہلالی کاکہناتھا کہ جب کسی اورنے اسمبلی توڑنے سے انکار کیا توقاسم سوری آکر آرڈر پڑھااورچلا گیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آئین کااحترام نہیں کریں گے تواس کے نتائج ہوں گے، یہ مجلس شوریٰ کی کاروائی نہیں تھی بلکہ ذاتی اقدام تھا،ایوان مکمل تھا۔چیف جسٹس کانعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے دکھائیں کہ قاسم سوری کے پاس اسمبلی توڑنے کااختیار تھا اورجب تحریک عدم اعتماد داخل ہو گئی تھی تووہ اسمبلی توڑسکتے تھے، پہلے آئین دکھائیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ جواب بہت سادہ ہے آئین کاآرٹیکل 95پڑھ لیں،دکھائیں کے ان کے پاس اسمبلی توڑنے کااختیار تھا جب عدم اعتماد کی تحریک داخل ہو گئی تھی، آئین کاضروراحترام کیا جانا چاہیئے، اس طرح توجس کی حکومت ہو گی وہ عدم اعتما د کی قراردادآنے پر اسمبلی توڑدے گا، پارلیمنٹ کی منشاء کو شکست دینے کے مترادف ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قاسم سوری انصاف سے کیوں مفرورہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے کہا انہیں سبق سکھانا چاہیئے وکیل ان کے دفاع میں آگئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہرشہری کے لئے آئین پر چلنالازم ہے، ہم چونکہ آئین کے تحت حلف لیتے ہیں اس لئے ہماری ذمہ داری زیادہ ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ قاسم سوری بری کرنے کی استدعا کریں اور مدعا علیہ معاف کردیں اورکیس واپس لے لیں۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا قاسم سوری لندن میں ہیں۔ اس پر مدعا علیہ کے وکیل کاکہناتھا کہ قاسم سوری لندن میں ہیں اور پریس کانفرنسیں کررہے ہیں۔ نعیم بخاری نے چیف جسٹس کی بطور جج سپریم کورٹ پیدل چل کرسپریم کورٹ آنے کی تعریف کی۔ اس پر جسٹس مسرت ہلالی کاکہناتھا کہ میں بھی دومرتبہ پیدل چل کرپشاورہائی کورٹ گئی تھی۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کاکہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل ایکٹ کے تحت اگر مئوکل سامنے نہیں آتا تووکیل کی کیا ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ کیا کریں؟ اس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ مجھے سن لیں پھر جو فیصلہ کریں۔ اس پر چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ وہ صاحب پہلے آتوجائیں۔ نعیم بخای کاکہناتھا کہ جب پہلی اسمبلی ختم ہو گئی اورنئی اسمبلی آگئی توکیس غیر مئوثر ہو گیا۔ نعیم بخاری کاکہناتھا کہ عمران خان نے 9نشستوں پر اکٹھا الیکشن لڑ ااور 8پر جیتا یہ مقبولیت کی وجہ سے ہوا۔ اس پر چیف جسٹس نے نعیم بخاری کوہدایت کی کہ موجودہ کیس پر رہیںاوراِدھر اُدھر کی باتیں نہ کریں۔ چیف جسٹس کاکہناتھا کہ اگرایک آدمی غائب ہوجاتا ہے توکیا ضروری نہیں کہ ان کی حاضری یقینی بنانے کے لئے حکم جاری کیا جائے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ جنگ اورڈان میں اشتہار چھپا ہے، ہم نے حکم دیا آئیں۔ چیف جسٹس کاکہناتھاکہ وکیل کی ذمہ داری نہیں کہ انہیں پکڑ کرلائے ، یہ توانتہائی غیر مناسب بات ہے کہ پانچ سال پورے ہوجائیں توکہہ دیں کہ درخواست غیر مئوثر ہو گئی ہے اورمیں چلا گھر، ہم سبق سکھائیں گے۔نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ عدالت مجھے کیس چھوڑنے کاحکم دے میں چھوڑ دیتا ہوں۔ اس پر چیف جسٹس کاکہناتھا کہ ہم اتنی خوبصورت شخصیت کوحکم نہیں دے سکتے۔اس پر نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ میں میک اپ کرکے آجاتاہوں۔ اس پر چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ جوآپ کادل کرتا ہے کریں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ نعیم بخاری کی ایک بات اچھی ہے کہ وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں۔ نعیم بخاری کاکہناتھاکہ عوامی مفاد کے سوال کافیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔چیف جسٹس کاکہناتھا کہ اٹارنی جنرل کے آفس سے کوئی ہے، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی بلالیں۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملک جاوید اقبال وینس روسٹرم پر آگئے۔ چیف جسٹس کاایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ کیاآپ کو قاسم سوری کے بارے کچھ پتا ہے کدھر ہے۔چیف جسٹس کاکہناتھا کہ ایف آئی اے کو پتا ہوگا، کلیکٹر کوئٹہ کو نوٹس دے دیتے ہیں ،ان کی پراپرٹی کتنی ہے، ہوسکتا ہے وہ آجائیں۔ اس پر نعیم بخاری کاکہناتھاکہ پراپرٹی کے معاملے پر تومردہ بھی قبر سے نکل کرآجاتا ہے کہ یہ میری جائیداد ہے اس کو نہ چھیڑیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کورٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں، فیس بک پر پیغام دے دیں وہ پڑھ لے گا؟چیف جسٹس کاکہناتھا کہ ہم کوئی حتمی حکم جاری نہیں کریں گے۔اس پر نعیم بخاری کاکہناتھاکہ اس درخواست کوخارج کرکے ازخود نوٹس لیا جائے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ مخالف وکیل کی درخواست کو کیسے اٹینڈ کریں۔ چیف جسٹس کہنا تھا کہ حکم کے باوجود درخواست گزار پیش نہیں ہوئے۔چیف جسٹس نے سماعت کا حکمنامہ لکھواتے ہوئے قراردیا کہ سپریم کورٹ کے گزشتہ سماعت کے حکم کی روشنی میں اُردو اخبار جنگ اور انگریزی اخبار ڈان میں قاسم سوری کی طلبی کے اشتہار چھاپے گئے تاہم قاسم سوری عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ وکیل نعیم بخاری کا بھی اپنے کلائنٹ سے رابطہ نہیں، وفاقی حکومت، بلوچستان حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ بلوچستان حکومت قاسم سوری کی ساری جائیداد کی تفصیل فراہم کرے ، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے بتائے کہ قاسم سوری کیسے بیرون ملک گئے اورہ کہاں موجود ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ رپورٹ آئے گی توکیس سماعت کے لئے مقررہوجائے گا۔

ھم اور مائیں تفصیلات کے لئے بادبان ٹی وی کو کلک کرے

اماں کس کے گھر جائیں گی؟تینوں بیٹوں اور دونوں بیٹیوں کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔اور وہ سب کے سب گزشتہ ایک گھنٹے سے ہسپتال کے برآمدے میں ٹہل ٹہل کر اس سوال کا جواب سوچ رہے تھے.میرا خیال ہےاظفر بھائی سب سے بڑے ہیں ۔ان کا فرض ہے کہ اماں کو اپنےگھر لے جائیں صائمہ نے بڑی دیر کے بعد اٹکتے ہوئے کہااظفر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو مسلسل تسبیح کے دانے رول رہی تھی۔اور اماں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔میں اپنے فرض سے انکار نہیں کرتا لیکن تم سب جانتے ہو حرا ملازمت کرتی ہے اور اماں کیلئے اب فل ٹائم عورت کی ضرورت ہے میرا خیال ہےتم گھر رہتی ہو تم اماں کی دیکھ بھال اچھی طرح کر لو گی۔خرچہ کی فکر نہ کرنا وہ میں دوں گااظفر نے خرچے پر زور دے کر کہا میری تو بڑی خواہش ہے کہ اماں کی خدمت کروں مگر آپ تو جانتے ہیں کہ میرے سسرال والے کس طرح کے ہیںورنہ میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے بھائیوں کو کوئی برا کہے ۔پھر؟ کچھ لمحوں کیلئے پھر سکوت چھاگیا۔میرا خیال ہے ظفر بھائی کے پاس اماں زیادہ آرام سے رہ سکتی ہیں سائرہ نے ہکلاتے ہوئے کہا اوربھائی کی طرف دیکھا۔میرا بھی یہ ہی خیال ہے اظفر نے فوراََ چھوٹی بہن کی تائید کیظفر اور اسکی بیوی نے آنکھوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہااصل میں اماں کا کبھی بھی ہمارے گھر دل نہیں لگا وہ تو ہمارے گھر دو دن سے زیادہ رہتی ہی نہیں ۔بیماری میں تو انسان تنہائی سے گھبراتا ہے ۔شاہانہ نے شوہر کے کچھ کہنے سے قبل ہی صفائی پیش کر دیپھر اب کیا ہوگا؟میری تو مجبوری ہے میری آمدنی بھی کم ہے پھر میرے گھر میں تو بالکل جگہ نہیں اظہر نے کہا۔پھراماں کس کے گھر جائیں گی ؟سب مجبور تھے اور سوچوں میں غرق تھے۔آپ سب وارڈ نمبر 2 کی مریضہ کے رشتہ دار ہیں ؟ان سب نے گھبرا کر سر اٹھایاجی جیآپ کو وارڈ میں ڈاکٹر بلا رہے ہیں.خدا خیر کرےوہ سب تیزی سے وارڈ میں داخل ہوئےآئی ایم سوری شی از expiredڈاکٹر نے اظفر کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ سب کے چہروں پر ظاہری غم کے ساتھ ہی ایک کمینی سی مسرت کا عکس بھی تھا۔اور یہی سچائی ہے ہمارے معاشرے کی کہ دس بچوں کو پالنے والے تنہا والدین کو دس بچے تنہا نہیں پال سکتے ہیں ۔اور بہت سی مائیں بڑھاپے میں اپنی زندگی کے آخری لمحات سڑکوں پہ روزی کماتے اور بچوں کا پیٹ پالتے ھوے گزار دیتی ھے خدا ھمے اپنے والدین کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

ایک لڑکی نے اپنے دادا سے پوچھا، “پاپا، آپ مجھے کیا سکھا سکتے ہیں جو میری زندگی میں مفید ہو؟”دادا نے کہا، “ایک سبق سکھاتا ہوں، لیکن پہلے کچھ بڑا کرو جو سب کی توجہ حاصل کرے۔”لڑکی نے پوچھا، “کیا؟”دادا نے کہا، “محلے میں جا کر سب کو بتاؤ کہ میری شتر مرغ نے چھ سنہری انڈے دیے ہیں اور میں کروڑ پتی بننے والی ہوں

ایک لڑکی نے اپنے دادا سے پوچھا، “پاپا، آپ مجھے کیا سکھا سکتے ہیں جو میری زندگی میں مفید ہو؟”دادا نے کہا، “ایک سبق سکھاتا ہوں، لیکن پہلے کچھ بڑا کرو جو سب کی توجہ حاصل کرے۔”لڑکی نے پوچھا، “کیا؟”دادا نے کہا، “محلے میں جا کر سب کو بتاؤ کہ میری شتر مرغ نے چھ سنہری انڈے دیے ہیں اور میں کروڑ پتی بننے والی ہوں۔”لڑکی نے ایسا ہی کیا، لیکن کوئی مبارکباد دینے نہ آیا۔اگلی صبح دادا نے کہا، “اب جا کے بتاؤ کہ ایک چور آیا، شتر مرغ کو مار ڈالا اور سنہری انڈے چرا لیئے۔”لڑکی نے ایسا کیا اور فوراً بہت سے لوگ ان کے گھر آ گئے۔لڑکی نے پوچھا، “پاپا، کل کوئی نہیں آیا، آج اتنے لوگ کیوں آئے؟”دادا نے مسکرا کر کہا، “جب لوگ اچھی خبر سنتے ہیں، تو خاموش رہتے ہیں۔ لیکن بری خبر سنتے ہی فوراً آتے ہیں۔ لوگ تمہاری کامیابی سے زیادہ تمہاری ناکامی دیکھنا چاہتے ہیں۔””یاد رکھو، دوسروں کی رائے کی فکر نہ کرو۔ اپنے خوابوں کے پیچھے چلو اور کامیابی حاصل کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سات دنوں میں ریل کو سات حادثات پیش آئے ہیں مین سٹریم میڈیا پر کوئی خبر نہیں سات دنوں میں مھنگای 33 فیصد بڑھی سول بیورو کریٹ 6 سال کی چھٹی پر جانے لگے 4 لاکھ پاکستان کا مستقبل ملک چھوڑ گئے اصل حقیقت جسکی وجہ سے 24 کروڑ عوام سوشل میڈیا کو فالو کر رھے مزید تفصیلات بادبان نیوز پر