Monthly Archives: July 2024
لکڑی کا کیڑا پوری کرسی کھا جاتا ہے اور کرسی کا کیڑا پورا ملک کھا جاتا ہے! اور وزارت خارجہ کے افسران سالانہ ایک ھزار ارب روپے کھا جاتے ہیں
*پنجاب میں تعلیم سے زیادہ بجٹ دودھ پلانے کے لئے رکھ دیا گیا ہے ۔۔**پنجاب میں 27 ارب روپے کا دودھ سکول کے بچوں کو پلایا جائے گا اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈیری کا کاروبار کون کر رہا ہے اس ملک میں۔ زراءع کے مطابق اس وقت پنجاب کی سب سے بڑی ڈیری سکھیکی منڈی میں ہے جس میں محترمہ مریم صفدر اعوان اور میاں محمد منشاء 50/50 کے پارٹنر ہیں۔ لو جی ایک نیا انداز ملکی خزانہ لوٹنے کا متعارف کروا دیا گیا ہے ۔
پاکستان کے خلاف بھارتی ایما پر کاکڑ جلیل عباس جیلانی موجودہ سیکرٹری خارجہ سحرش اور سفیر مسعود اور منیر اکرم نے کانگریس کے 8 ماہ قبل لکھے گئے خط کا جواب نہیں دیا۔ پاکستان کے خلاف قرارداد منظور ھونے کی خوشی میں سفیر پاکستان مسعود خان کا مجرا لاکھوں ڈالر اڑا دئیے گئے لاءیو ویڈیو ببادبان یو ٹیوب پر
امریکی کانگرس میں پاکستان کے خلاف قراداد اکثریت سے منظور ہونے پر پی ٹی آئی کے سفیر پاکستان سردار مصعود کا سفارت خانے میں چشن اور دوسری طرف پاکستان اسمبلی میں کوئنڑ قراداد پیش ہونے پر پی ٹی آئی کا احتجاج اور ڈانس ۔ رنگیلا سفیر سفارت خانے میں اسی سالہ بوڑھی عورتوں سے رقص کروتا رہا اور غیر ملکیوں کے سامنے قوالوں پر ڈالروں کی بارش کروائی گئی ۔
وہ کونسا ریٹائرڈ فوجی افیسر ھے جو ڈی ایچ اے میں کام کرتا ھے اور ای ایس پی ار کا جعلی افیسر بن کر ھای کورٹ لیول کے جج کو ٹیلی فون کرتا ھے جج نے جنرل ھیڈ کواٹر میں شکایت کر دی تفصیلات بادبان نیوز پر
25 کروڑ کی آبادی میں ایک بھی امبانی نہیں لیکن پوری دنیا میں سب سے زیادہ حافظ بھی یہیں اور حاجی بھی یہیں۔ دولت مندوں اور بزنس مینوں کے اربوں کھربوں باہر۔ فیملیاں بھی باہر ، لیکن سیاست پاکستان میں ، بزنس اور نوکریاں پاکستان میں ۔ زندگی اور عیاشیاں دوسرے ممالک میں جنازے اور قبریں پاکستان میں بس۔
لا پتہ افراد کیسیز انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد خفیہ اداروں کی تفصیلات طلب
، لاپتہ افراد کے کیسز میں وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دیں جس کے بعد وزارت دفاع ، وزارت داخلہ ، چیف کمشنر اسلام آباد ، آئی جی اسلام آباد اور دیگر اہلکاروں پر عائد جرمانے بحال ، ان کے خلاف محکمانہ کارروائیوں کی ہدایات بھی بحال ۔۔۔ اس وقت کے چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے 2018 اور جسٹس محسن اختر کیانی نے 2020 میں لاپتہ افراد کے کیسز میں بڑے جرمانے اور محکمانہ کاروائیوں کی ہدایت کی تھیبڑی خبر ، لاپتہ افراد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم ، 2016 سے اسلام آباد سے لاپتہ ساجد محمود کی اہلیہ کی درخواست پر جسٹس اطہر من اللہ کا 2018 کا فیصلہ اسلام آباد کے دو رکنی خصوصی بنچ نے برقرار رکھا ہے ، 2018 کے اس وقت کے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیر الحسن شاہ ، چیف کمشنر اسلام آباد ذوالفقار حیدر ، آئی جی اسلام آباد خالد خان خٹک اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد مشتاق احمد کو ذاتی طور پر ایک ایک لاکھ روپے کیا جرمانہ اور ایس ایچ او پولیس قیصر نیاز کو کیا گیا تین لاکھ روپے کا جرمانہ بھی بحال ہو گیا ، درخواست گزار مائرہ ساجد کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کیس کی پیروی کی
پنجاب محتسب کے بارہ کنسلٹنٹس اور ایڈوائزرز کے لئے اسی لاکھ کے لئے آئی فون ۱۵ اور سامانگ ایس ۲۲ خریدے گئے ہیں۔ سابق چیف سیکرٹری اعظم سلیمان کی سربراہی میں یہ سب 22گریڈ کے ریٹائرڈ بیوروکریٹس اس صوبے کی خدمت میں مگن ہیں۔ جو جتنا لوٹ سکتا ہے وہ لوٹ رہا ہے۔پانچ ساڑھے چار لاکھ والے فون اور سات چھے لاکھ والے فون۔ پنجاب حکومت میں تقسیم۔ اور عوام بھوک سے مررہے ہے۔ تُف ان خبیثوں پر
پنجاب محتسب کے بارہ کنسلٹنٹس اور ایڈوائزرز کے لئے اسی لاکھ کے لئے آئی فون ۱۵ اور سامانگ ایس ۲۲ خریدے گئے ہیں۔ سابق چیف سیکرٹری اعظم سلیمان کی سربراہی میں یہ سب 22گریڈ کے ریٹائرڈ بیوروکریٹس اس صوبے کی خدمت میں مگن ہیں۔ جو جتنا لوٹ سکتا ہے وہ لوٹ رہا ہے۔پانچ ساڑھے چار لاکھ والے فون اور سات چھے لاکھ والے فون۔ پنجاب حکومت میں تقسیم۔ اور عوام بھوک سے مررہے ہے۔ تُف ان خبیثوں پر۔????️????️????️????️
پاکستان نے سعودی عرب سے لے کر دوبئ چین اور سری لنکا کو بچانے کے لیے مفت خدمات دی اور یہ ممالک اب پاکستان سے کاروبار کر رھے ھے مفت خدمات کا یھی انجام سب کچھ جانتے کے لئے بادبان کا تازہ شمارہ اپنے ھاکر سے 10 جولائی کو طلب کرے خبروں کے لئے بادبان نیوز تبصروں کے بادبان ٹی وی بادبان یو ٹیوب بادبان ٹوئٹر بادبان آپ ڈیٹ فیس بک اور روزانہ روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل اسلام آباد کراچی اپنے ھاکر سے طلب کرے ان لائن پوسٹ انٹرنیشنل بادبان میگزین
30 جون کے بعد پاکستان میں انسانی گردے سستے دال سے سونے تک سب کچھ مھنگا۔ مھنگای مھنگای ھاے مھنگای اور کرپٹ مافیا 40 خودکشیاں
دالوں کی قیمتوں میں 60 روپے تک اضافہ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بجٹ کے بعد عوام پر مہنگائی کے پے درپے بم گرانے کا سلسلہ شروع، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا، دالیں بھی عوام کی دسترس سے باہر ہو گئیں ۔ نئے مالی کے آغاز پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے باعث دالوں کی قیمتوں میں 60 روپے تک اضافہ کر دیا گیا۔یوں گوشت سبزی کے بعد عوام کے لئے دال کھانا بھی مشکل ہوگیا۔ ملک کے سب سے بڑے ہول سیل جوڑیا بازار میں دالوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ چنے کی دال کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 69 روپے کا بڑا اضافہ ہوا جس کے بعد دال چنا درجہ اول 231 روپے سے بڑھ کر 295 روپے پر جا پہنچی جبکہ دال چنا درجہ دوئم216 روپے سے بڑھ کر 285روپے ہوگئی۔ہول سیل گروسرز ایسویسی ایشن عبدالروف ابراہیم کے مطابق دال مونگ درجہ اول کی قیمت 60 روپے کلو اضافہ سے 330 روپے ،دال مونگ درجہ دوئم ،260 روپے سے بڑھ کر 300 روپے ہوگئی۔دال ماش 10 روپے ،کابلی چنا 60 روپے اورکالا چنا38 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا۔دال ماش فی کلو 520،کابلی چنا 362 جبکہ کالا چنا 255 روپے کلو ہوگیا۔بیسن کی قیمت 30 روپے اضافے کے بعد 280 روپے فی کلو ہو گئی ۔واضح رہے کہ نئے مالی سال کا آغاز ہوتے ہی وفاقی بجٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی مہنگائی کے آفٹر شاکس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نئے مالی سال کے آغاز پر حکومت نے بیشتر اشیاء پر 18 فیصد جی ایس ٹی اور ڈھائی فیصد ریٹیلر ٹیکس نافذ کر دیا۔ جی ایس ٹی کا اطلاق ہونے کے بعد ٹیٹرا پیک، خشک دودھ،بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ، چاول کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔مارکیٹ رپورٹ کے مطابق مختلف کیٹگریز کے خشک دودھ کی قیمتوں میں 100سے لے کر 300روپے تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ ٹیٹرا پیک دودھ کوارٹر کی قیمت20روپے اضافے سے 95روپے ، ایک لیٹر دودھ 75روپے اضافے سی370روپے جبکہ ڈیڑھ لیٹر ٹیٹراپیک دودھ کی قیمت105روپے اضافے سی525روپے ہو گئی ۔ اسی طرح بیکری مصنوعات بنانے والی کمپنیوں نے بھی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس میں بن 5روپے اضافے سے 50روپے ، شیر مال 5روپے اضافے سی65روپے ،میڈیم ڈبل روٹی 10روپے اضافے سے 150روپے ،فروٹ کیک 10روپے اضافے سی190روپے جبکہ سادہ کیک کی قیمت10روپے اضافے سی175روپے ہو گئی ۔مارکیٹ میں چاول کی قیمت میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے اور 25 کلو بیگ کی قیمت800روپے اضافے سی5900روپے تک پہنچ گئی ۔ دوسری جانب فنانس بل 2024 کے تحت سیکٹروں درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ٹیکسوں کا اطلاق ہو گیا ہے جس کے مطابق درآمدی اشیاء پر 5 فیصد سے لے کر 55 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چینی مینوفیکچرر کیلئے سپلائی پر 15 روپے فکسڈ ڈیوٹی اور سگریٹس میں استعمال ہونے والے فلٹر پر 44 ہزار روپے فی کلو ، نیکوٹین پاؤچز پر 1200 روپے فی کلو اور موبل آئل پر بھی 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔فائلرز کیلئے تاخیر سے ریٹرن فائل کرنے پر بھی اضافی ٹیکس عائد کردیا گیا ہے، 5 کروڑ مالیت رکھنے والا فائلرز تاخیر سے ریٹرن فائل کرے گا تو 6 فیصد اور 10 کروڑ تک مالیت رکھنے والے پر 7 فیصد جب کہ 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت والے فائلرز کیلئے تاخیر سے ریٹرن فائل کرنے پر 8 فیصد اضافی ٹیکس لگے گا۔ادھر زندہ فِش کی درآمد پر 10 فیصد، فریز فِش پر 35 فیصد، درآمدی دودھ اور کریم پر 25 فیصد، دہی، مکھن، نٹس پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی جب کہ درآمدی قدرتی شہد پر 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی۔درآمدی کھجوروں، انجیر، انناس، امرود اور آم پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 25 فیصد عائد، درآمدی چیری پر 35 فیصد، سیب اور لیچی پر 45 فیصد، مکئی پر 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔درآمدی پرفیوم، میک اپ کا سامان، اسکن کیئر آئٹم، بالوں کیلئے مختلف آئٹمز پر 55 فیصد، شیونگ کریم اور مختلف صابن پر بھی 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی۔درآمدی اوور کوٹ، ٹوپی، جیکٹس، ٹراؤزرز اور شارٹس، اسکرٹس، ٹراؤزر، ٹریک سوٹ، رومال، شال، مفلرز، ویلز، ٹائی اور کمبلز پر بھی 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔کمرشل پراپرٹی، اوپن پلاٹ یا رہائش کیلئے پلاٹ کی خریداری پر فائلرز کیلئے ایکسائز 3 فیصد،کمرشل پراپرٹی، اوپن پلاٹ یا رہائش کیلئے پلاٹ کی خریداری پر لیٹ فائلرز کیلئے ایکسائز 5 فیصد اور کمرشل پراپرٹی، اوپن پلاٹ یا رہائش کیلئے پلاٹ کی خریداری پر نان فائلرز کیلئے ایکسائز 7 فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔









