Monthly Archives: July 2024
اس وقت راولپنڈی، اسلام آباد 26 نمبر چونگی اور اسلام آباد شہر میں بیک وقت 3دھرنے جاری ہیں۔ یہ مناظر اس وقت لیاقت باغ مری روڈ راولپنڈی کے مناظر ہیں۔ کراچی کے محمد حسین محنتی بھی شریک
جماعت اسلامی لوگوں کو نکالنے میں کامیاب۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کارکنان کو جہاں رکاوٹ ملے وہیں دھرنا دے دیں، ہم ایک دھرنے کو کئی دھرنوں میں تبدیل کریں گے۔ایک ویڈیو بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے تمام کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے لیے پورے ملک سے قافلے روانہ ہو چکے ہیں، تمام فسطائیت کے بعد بھی کارکنان کو کہتا ہوں کہ مینیج کریں اور دھرنے میں پہنچیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور پر امن رہنا چاہتے ہیں، اس کی ذمہ داری حکومت پر آتی ہے کے وہ کیسے امن قائم رکھتے ہیں؟ تمام نمائندگان کو کہتا ہوں جہاں رکاوٹ ملے وہیں دھرنا دے دیں، ہم ایک دھرنے کو کئی دھرنوں میں تبدیل کریں گے۔امیر جماعت اسلامی کے مطابق کارکنان کو کہتا ہوں رکاوٹ کے آگے دھرنا دے کر قیادت کی کال کا انتظار کریں، ہم بتائیں گے کہ عوام کی طاقت کو کنٹینر لگا کر نہیں روکا جا سکتا، ہمیں بجلی کے بل کم چاہئیں اور آئی پی پیز سے چھٹکارا چاہیے۔دوسری جانب لاہور میں پولیس نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے لیے 60 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔ پولیس ذرائع کے مطابق رات گئے مارے جانے والے چھاپوں میں 110 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی سے ہے۔
اسلام آباد روالپندی سیل جگہ جگہ دھرنے جڑواں شہروں کی عوام رل گئی اسلام آباد سیل داخلی خارجی راستے بند تفصیلات بادبان ٹی وی پر
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ عوام کے حقوق کی جنگ ہے، ہم ان کیلئے دھرنا دینے آئے ہیں، حکومت سے بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ عوام کو ریلیف دیں۔اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ احتجاج ہمارا حق ہے، گرفتار کارکن رہا کیے جائیں، آئی پی پیز کو مسلط کر رکھا ہے، اربوں روپے کھائے جا رہے ہیں، دھرنے کا ابھی آغاز ہوا ہے انشا اللّٰہ ہم یہی رہیں گے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک طرف آئی پی پیز ہم پر مسلط کرتے ہیں اوپر سے گرفتاریاں بھی کرتے ہو، یہ دھرنے کا اختتام یا ٹھہراؤ نہیں بلکہ ابتداء ہے، ہم مختلف جگہوں پر بیٹھیں گے، پورے پاکستان میں دھرنے دیں گے، ہمارا اگلا پڑاؤ مری روڈ ہے، اگلا لائحہ عمل وہاں بتاؤں گا۔یاد رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر دھرنے دینے کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی نے جڑواں شہروں کے 4 مقامات پر دھرنا دے دیا۔مہنگی بجلی اور ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی نے مری روڈ راولپنڈی، زیرو پوائنٹ اسلام آباد، چونگی نمبر 26، جبکہ راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر دھرنا دیا ہے۔
نیوٹیک اور دی نور پروجیکٹ، لاہور نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سیکٹر میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔لاہور، پاکستان – 22 جولائی، 2024 – نیوٹیک (نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی) اور دی نور پروجیکٹ، لاہور نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں



نیوٹیک اور دی نور پروجیکٹ، لاہور نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سیکٹر میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔لاہور، پاکستان – 22 جولائی، 2024 – نیوٹیک (نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی) اور دی نور پروجیکٹ، لاہور نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ایم او یو پر دستخط لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں کیے گئے، جہاں دی نور پروجیکٹ کے سی ای او کرنل مصدق (ر) نے نیوٹیک کے پرو ریکٹر میجر جنرل خالد جاوید (ر)کا استقبال کیا۔تقریب کے دوران، پرو ریکٹر نیوٹیک میجر جنرل خالد جاوید (ر) نے خاص طور پر معاشرے کے کم مراعات یافتہ طبقے کی بہتری کے لیے دی نور پروجیکٹ کے کام کو سراہانیوٹیک کے پرو ریکٹر میجر جنرل نے کہا، “ہم خطے میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن سسٹم کو بڑھانے کے لیے دی نور پروجیکٹ کے ساتھ شراکت کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔” “یہ تعاون ہمیں اپنی مہارت اور وسائل سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا تاکہ پسماندہ افراد کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکیں اور کمیونٹی کی پائیدار ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔”نور پراجیکٹ کے سی ای او، کرنل مصدق (ر) نے شراکت داری کے لیے اپنے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “یہ ایم او یو نیوٹیک اور دی نور پروجیکٹ کے درمیان ایک نتیجہ خیز تعاون کا آغاز ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اپنی کوششوں کو یکجا کرکے، ہم ایک اہم کام کر سکتے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد تعاون کے مختلف شعبوں کو تلاش کرنا بشمول مشترکہ تحقیق اور ترقی، فیکلٹی اور طلباء کے تبادلے کے پروگرام، اور صنعت سے متعلقہ نصاب اور تربیتی پروگراموں کی ترقی ہے۔
تحریک انصاف کا بھوک ھڑتال دھرنا شو ناکام۔40 ھزار افراد کے استعفے اور پاکستان۔ کھربوں روپے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کپیسٹی پے منٹ۔ قومی ائیر لائن کی نجکاری ستمبر میں لاکھانی گروپ خریدے گا۔ 80 فیصد وفاقی کابینہ کے وزراء کے خلاف گھیرا تنگ الٹی گنتی شروع۔3اداروں کے 70 افراد کی ٹیم تشکیل دے دی گئی سعودی عرب طرز کی ریکوری ریکارڈ قبضہ مین۔ 70 ھزار ارب روپے کی کرپشن کا روپیہ 12 روز مے 800 افراد سے ریکور کیا جائے گا۔بادبان ٹی وی رپورٹ کے مطابق گریڈ 7 سے 22 گریڈ کے ملازمین شکنجے میں بادبان نیوز کے مطابق۔کرنل رانا حسن کا ایک اور کارنامہ۔۔تمام خبروں کی تفصیلات بادبان نیوز پر فالو روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل اسلام آباد کراچی بادبان ٹوئٹر بادبان فیس بک بادبان یو ٹیوب چینل
اربوں روپے کی کرپشن۔ توھین عدالت کا خوف چیف الیکشن کمشنر بھی عمران خان کو پیارے۔شاہ محمود قریشی کو 12 مقدمات سے بری کر دیا گیا۔۔9 میئ کے مقدمات۔عمران خان کو 12 مقدمات میں بڑا ریلیف۔جسمانی ریمانڈ کالعدم۔پاکستان میں انٹرنیٹ سلو کر دیا گیا ہے۔تفصیلات بادبان نیوز پر
پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کا 9مئی کے 12مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنادیا، فیصلے میں عدالت کی جانب سے عمران خان کا 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دیا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، آج کی سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے استفسار کیا کہ ’درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟‘، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ ’بانی پی ٹی آئی 3 مقدمات میں نامزد ملزم ہیں، کیسز کی 2 کیٹگری ہیں، ایک جس میں نامزد ہیں دوسری جس میں ضمنی کے ذریعے نامزد کیا گیا‘۔دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عمران خان پر درج مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، جس کے ساتھ مقدمات میں ہونے والی پیشرفت رپورٹ بھی جمع کروائی گئی، جسٹس انوارا الحق پنوں نے ریمارکس دیئے کہ ’جب درخواست گزار کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائے گا تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی، قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟‘۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب میں مؤقف اپنایا کہ ’ملزم تب عبوری ضمانت پر تھے، گرفتار نہیں کر سکتے تھے‘، جسٹس انوارالحق پنوں نے پوچھا کہ ’آپ نے اس سے پہلے تفتیش کرنے کی کوشش کی؟‘، پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ’میں آپ کو ریکارڈ سے بتا سکتا ہوں، عمران خان نے ہمیں لکھ کہ دیا ہے کہ وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوں گے، ہمارے پاس پیمرا کی رپورٹس ہیں لیکن درخواست گزار تفتیش جوائن نہیں کر رہے‘۔اس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیئے کہ ’یہ بھی دیکھنا ہوگا اتنے دن کے ریمانڈ کی ضرورت بھی تھی کہ نہیں، اگر درخواست گزار کوئی ٹیسٹ نہیں کراتا تو اس کے نتائج وہ خود بھگتے گا‘، پراسکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ’عمران خان نے ہمیں لکھ کر دیا ہے کہ وہ اپنے وکیل کی موجودگی میں پولیس کو بیان دیں گے، انہیں پولیس پر اعتماد نہیں ہے‘، جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا کہ ’پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے؟ 15 یا 20 منٹ کے لیے آپ نے کچھ ٹیسٹ کرنے ہیں اس کے لیے جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیئے؟ درخواست گزار کی گرفتاری کی ٹائمنگ بھی اہم ہے‘۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ’عمران خان نے خود کہا انہیں جان کا خطرہ ہے وہ عدالتوں میں پیش نہیں ہو سکتے، درخواست گزار ضمانت پر تھا اس لیے پہلے گرفتاری نہیں ڈالی گئی، جیسے ہی انسداد دہشتگردی عدالت سے ضمانتیں خارج ہوئیں ہم نے گرفتار کر لیا، پیمرا کی رپورٹس موجود ہیں ہم نے تفتیش کرنی ہے‘۔ عدالت نے پوچھا کہ ’پیمرا کی رپورٹس کیا ہے؟ اگر پیمرا لڑکی کو لڑکا کہہ دے تو اسے مانا تو نہیں جا سکتا، اگر ایک سیاسی بندہ تقریر کرتا ہے تو دیکھنا ہے اس کی ذہنیت مجرمانہ ہے یا نہیں؟ آپ یہ بتائیں جو درخواست گزار نے ٹویٹ کیا اس میں جرم کیا ہے؟ اور کس سیکشن کے تحت کارروائی ہو گی؟‘، اس پر پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے عمران خان کے سوشل میڈیا اکاونٹس کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کر دیں اور قائد پی ٹی آئی کی ٹویئٹس بھی پڑھ کر سنائیں۔اس پر جسٹس انوار الحق پنوں نے قرار دیا کہ ’جو آپ نے ٹوئٹ پڑھا ہے اس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججز کو مل رہی ہیں‘، پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی طرف سے بیانیہ بنایا گیا، آرمی چیف کے خلاف بیانیہ بنایا گیا نو مئی کے لیے پورا بیانیہ تیار کیا گیا‘، جس پر جسٹس انوارالحق پنوں نے استفسار کیا کہ ’آپ یہ بتائیں کیا ووٹ کو عزت دو بیانیہ نہیں ہے؟، اس لیے بیانیے کو چھوڑیں جرم ثابت کریں‘۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ’اگر درخواست گزار نے احتجاج کی کال دی تو یہ جرم کیسے بنے گا؟ جس جس جگہ پر حملہ ہوا کیا کبھی یہ کہا گیا کہ ان جگہوں پر حملہ کردو؟ کیا عمران خان نے اس احتجاج کو لیڈ کیا؟ اگر حملوں کو لیڈ کرتا تو پھر ضرور یہ جرم ہوتا، درخواست گزار کے خلاف کیا مواد ہے؟ پراسیکیوٹر جنرل خود پڑھیں گے ہم نہیں پڑھیں گے، یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو دیکھنا چاہیئے تھا کہ ریمانڈ بنتا بھی ہے کہ نہیں، جسمانی ریمانڈ کے لیے ضروری ہے وہ احاطہ جج کے کنٹرول میں ہو، اگر ویڈیو لنک پر حاضری ہوتی ہے اور ویڈیو کے لنک کے پیچھے کوئی اور کھڑا ہو تو کیا یہ محفوظ ماحول ہوگا؟ یہ بھی چھوڑیں وہ جہاں ملزم ہے وہ تو پورا احاطہ کسی اور کے کنٹرول میں ہے‘
سھیل آفتاب کو حکومت پاکستان نے گریڈ 19 میں ترقی دے دی ڈاکٹر سھیل آفتاب انفارمیشن گروپ کے 35 ویں کامن کے آفیسر ھے ڈائریکٹر اڈٹ ڈائریکٹر وزارت اطلاعات اور موجودہ ڈائریکٹر جنرل این ایچ اے اپنے فرائض انجام دے رہے بادبان ٹی وی رپورٹ
وزیر اعطم شھباز شریف کے چند روز پھلے کئے گئے احکامات کو وزارت خارجہ کے سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن سلیم نے ھوا میں اڑا دیا مڈل ایسٹ ڈیسک نے ھزاروں ارب روپے نقصان کا نقصان پہنچایا 2 عرب ممالک نے وزیر اعظم سے میٹیگ میں شکایت کی جس پر وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم نے سیکرٹری کی باز پرس کی تفصیلات بادبان نیوز پر

جس پر نائب وزیر اعظم نے سخت ایکشن لیتے ھوے ڈائریکٹر جنرل فوزیہ اور ڈائریکٹر کو معطل کیا اج ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن جنھوں نے Attestation پر کروڑوں روپے کماے ھے انھوں نے وزیر اعظم کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر نئی پوسٹنگ دے دی یاد رھے ایڈیشنل سیکرٹری سلیم نے ساز باز کر کے کینڈا کی پوسٹنگ حاصل کر لی ھے
الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا نے توہین عدالت سے بچتے ہوئے سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن سے چار دن قبل ہی 38 ممبران قومی اسمبلی کو پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار قرار دے دئیے ہیں۔اب باقی 41 ممبران کا فیصلہ بھی 28 جولائی سے قبل کیا جانا ضروری ہے
الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا نے توہین عدالت سے بچتے ہوئے سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن سے چار دن قبل ہی 38 ممبران قومی اسمبلی کو پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار قرار دے دئیے ہیں۔اب باقی 41 ممبران کا فیصلہ بھی 28 جولائی سے قبل کیا جانا ضروری ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ان 41 ممبران قومی اسمبلی کے نوٹیفکیشن بھی آج جاری کر دئیے گئے ہیں یوں قوم اسمبلی میں پی ٹی 83 ممبران اسمبلی کے ساتھ سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی ہے۔امید ہے 3 اگست تک مخصوص نشستوں پر بھی کامیاب پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتی امیدواروں کی کامیابی کے بھی نوٹیفکیشن جاری ہو جائیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں ممبران کی تعداد 117 تکنیو جائے گی کہاں ہیں وہ بڑے بڑے ارسطو جو کہتے تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پہ عمل نہیں ہوگا پہلے بھی تو 90 دنوں میں الیکشن کرانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پہ عمل نہیں ہوا تھا۔امید ہے صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف سید عاصم منیر الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن اور آج لاہور ہائیکورٹ کے عمران خان کے خلاف سیکشن 121 اور انتشاری ٹولہ کے حوالے سے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کی طرف سے دئیے گئے دس روزہ جسمانی ریمانڈ اور ویڈیو لنک پہ حاضری کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کے آرڈر کے بعد ضرور کل بروز جمعہ ۔۔۔۔ جمعہ مبارک کرتے ہوئے 8 فروری کو عوام کی جانب سے پی ٹی آئی کو دئیے گئے مینڈیٹ کو تسلیم کریں گے اور احترام کریں گے۔









