



پنجاب اسمبلی 18 کروڑکی پرتعیش مہنگی گاڑیاں خریدنےکا معاملہ اسمبلی میں زیر بحث رہا۔ اسپیکرپنجاب اسمبلی کی زیرصدارات گیارہ رکنی فنانس کمیٹی نےنئی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دے دی ۔اسپیکر ملک احمد کے لیے 10 کروڑروپےمالیت کی جدید امپورٹڈ لینڈ کروزر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیےسوا 2 کروڑکی برینڈ نیو فارچونررخریدی جائیں گی۔سیکرٹری اسمبلی کے لیے بھی برینڈ نیو فارچونرخریدنےکا فیصلہ کیا گیا ہیں۔ 3 کروڑمالیت کے 2 ویگو ڈالے بھی اسپیکرکی سیکورٹی کےلیے خریدے جائیں گے۔اجلاس میں وزیرخزانہ مجتبی شجاع اورپیپلزپارٹی کےعلی حیدرگیلانی نےاسپیکر کے لیے نئی گاڑیوں کی حمایت کی جبکہ فنانس کمیٹی میں شامل تینوں اپوزیشن ارکان نےمخالفت کی۔رکن فنانس کمیٹی علی امتیاز وڑائچ نےکہا کہ نئی گاڑیوں کی خریداری غیرضروری ہے۔نئی گاڑیوں کی خریداری ان حالات میں عوام کےساتھ مذاق ہے۔اپوزیشن کی نمائندگی مخدوم شہاب الدین ،علی امتیاز وڑایچ اوراحمد مجتبی نےکی۔
امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سینئر رکن بریڈ شرمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم جلد تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کے لیے جائیں گے . کانگرس مین بریڈ شرمن نے” وائس آف امریکہ“ سے انٹرویو میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفیر ونلڈ بلوم جلد تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے جیل میں ملاقات کے لیے جائیں گے یہ اس بات کا اظہار ہو گا کہ امریکہ ایسے فرد کے لیے بھی قانون کی حکمرانی دیکھنا چاہتا ہے جو امریکہ کا حامی نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا اظہار ہو گا کہ امریکہ قانون کی حکمرانی دیکھنا چاہتا ہے اور یہ کہ جیل میں کسی کا ماورائے عدالت قتل پاکستان کی جمہوریت پر ایک حقیقی داغ ہو گا اس سے دنیا کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ ہم ایک ایسے ملک میں بھی جمہوریت چاہتے ہیں جس کے ساتھ بعض اوقات معاملات کرنا مشکل ہوتا ہے. کانگریس مین شرمین نے پاکستان میں انسانی حقوق اور رول آف لا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ پاکستان میں ہندووں اور کرسچئن لڑکیوں کے ساتھ سلوک کو دیکھیں بالخصوص سندھ کے اندر یا آپ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ لوگوں کی گرفتاریوں کو دیکھیں، یا آپ یہ دیکھیں کہ بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کوبغیر انتخابی نشان کے الیکشن میں حصہ لینے پر مجبور کیا گیا ہم وہاں شفافیت دیکھنا چاہیں گے انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھنا چاہیں گے کہ پاکستانی اس پارٹی کو ووٹ دیں جو امریکہ کے ساتھ زیادہ تعاون چاہتی ہے.قبل ازیںامریکہ نے پاکستان میں تحریک انصاف کے راہنماﺅں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ ہم نے تحریک انصاف کے راہنماﺅں کی گرفتاری سے متعلق خبریں دیکھی ہیں جب بھی ہم اپوزیشن راہنماﺅں کو گرفتار ہوتا دیکھتے ہیں تو اس پر ہمیشہ ہمیں تشویش ہوتی ہے. محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ مجھے ذاتی طور پر بھی پریشانی ہوئی جب میں نے ایک ترجمان کو گرفتار ہوتے دیکھا میتھیو ملر نے کہا کہ ہم آئین اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی حمایت کرتے ہیں جس میں قانون کی حکمرانی، انصاف کا بول بالا، انسانی حقوق کا تقدس، جس میں آزادی اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی شامل ہے.میتھیو ملر نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ان اصولوں کے تقدس کو یقینی بنایا جائے اس سے قبل بھی امریکی ترجمان متعدد بار پاکستان تحریک انصاف سے متعلق صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دے چکے ہیں. میتھیو ملر نے اپنی ایک پریس بریفنگ میں تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومت پاکستان کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز قرار دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی جماعت پر پابندی سے متعلق ہم نے حکومت کے بیانات دیکھے ہیں، یہ پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز ہے.خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے دعوﺅں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی قرارداد کو حقائق سے منافی قرار دیا ہے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد، امید ہے امریکی کانگریس باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی.
وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کےلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں۔وزارت قانون و انصاف کی جانب سے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کےلیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا ایس آر او جاری کردیا گیا ہے۔ ایس آر آو کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے مشاورت کے ساتھ خصوصی عدالتیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار نے 6 جون کو وفاقی حکومت سے پیکا ایکٹ کے تحت عدالتوں کے عدم قیام پر جواب مانگا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن اور دیگر کا ٹرائل پیکا ایکٹ کے تحت قائم عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے جج نامزد ہوں گے۔
9مئی کے سانحہ کے بعد المیہ یہ ہوا کہ سابق نگران پنجاب حکومت اور سابق نگران وفاقی حکومت عوام کو جواب دیے بغیر رخصت ہوگئیں‘ آج ملک کی داخلی امنو امان کی ذمہداری پنجاب کے سابق نگران وزیر اعلی کے پاس ہے جنہیں وزارت داخلہ کا قلم دان دیا گیا ہے‘ لیکن اس کے جواب اور شہداء کے پاک خون اور ان کی پاک روحوں کے دفاع کے لیے آئی ایس پی آر کو آگے آنا پڑ رہا ہے جب کہ اصل میں اس کی ذمہداری سول انتظامیہ پر ہے جو شتر مرغ بنی ہوئی ہے اب یہاں سے شتر مرغ کی کہانی شروع ہوتی ہے کہ جب اس سے کہا گیا کہ تم کون ہے اس نے کہا کہ میں شتر ہوں‘ اس سے کہا گیا کہ وزن اٹھایا کرو اس نے جواب دیا کہ کبھی مرغ نے بھی وزن اٹھایا ہے اس جواب پر اسے کہا گیا کہ اچھا مرغ ہو تو انڈا دیا کرو اس نے جواب دیا کہ کبھی شتر نے بھی انڈا دیا ہے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ قانونی نظام 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچائے گا تو فسطائیت مزید بڑھے گی۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 9 مئی کے بعد انتشاری ٹولے نے پروپیگنڈا کیا اور کہا کہ فوج نے روکا کیوں نہیں؟ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اگر کچھ مسلح لوگ ہجوم میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے، امن مارچ ان دہشت گردوں کیخلاف بھی کریں جنہوں نے بنوں اور ڈی آئی خان میں حملے کیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بنوں کے تاجروں نے جو امن مارچ کیا اس میں کچھ لوگوں نے ریاست کے خلاف نعرے لگائے، اس امن مارچ میں کچھ مسلح لوگ بھی شامل تھے، جلوس میں شامل لوگوں نے ایک راشن ڈپو کو بھی لوٹا۔
پاکستان سنگین اندرونی اور بیرونی مشکلات کا شکار ہے۔یہ مشکلات کسی ڈراؤنے خواب کی طرح اس ملک کو گہری کھائی میں دھکیل رہی ہیں۔معاشی اور سیاسی بحران دامن گیر ہیں۔جدھر قدم بڑھائیں کسی دلدل کا سامنا ہے۔اندرونی اور بیرونی طور پر صیہونیت پسندوں کی یلغار اس ملک کی تباہی کے لئے کوشاں ہے۔ایک طرف تحریک انصاف کے قائد عمران خان ایک مربوط عالمی سازش کے تحت اس ملک اور اس کی سلامتی کے اداروں کو دنیا میں دہشتگرد ثابت کرنے کے لئے اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں اور پاکستان دشمن صیہونی فورمز کے ذریعے پاکستان کے خلاف زہریلی مہم چلانے میں مشغول ہیں اور دوسری جانب اسرائیل دوست ممالک دنیا میں پاکستانی مشنز کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔ گزشتہ روز جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پاکستان کے قونصلیٹ پر افغان نوجوانوں کے ایک گروہ نے بلاوجہ حملہ کیا، عمارت میں داخل ہوکر قومی پرچم کی توہین کی اور پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی۔اس بلاجواز مظاہرے کے لئے فرینکفرٹ کی انتظامیہ نے باضابطہ اجازت نامہ جاری کیا۔شاید تحریک انصاف کی جانب سے پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی عالمی مہم کے نتیجے میں پاکستان عالمی سطح پر اپنا مقدمہ پیش کرنے میں ناکام ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کا ہرسیاستدان، ہر ادارہ اور دنیا کا ہر ملک اس کی گرتی ہوئی دیواروں کو دھکا دینے کے لئے اپنا اپنا حصہ’’”پوری ایمانداری‘‘ سے ڈال رہا ہے۔ہر وہ سیاسی پارٹی، ادارہ یا فرد’’محب وطن‘‘ ہے جو اقتدار میں ہے یا طاقتور ہے اور طاقت کا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آئین اختیار ہونے یا نہ ہونے، دونوں صورتوں میں آئین کی تشریح اپنے حق میں کرنے کی کوششوں میں ہے لیکن وہ طبقے جن کے مفادات اس ملک سے وابستہ ہیں یا بالفاظ دیگر جنہیں اس ملک کو چوسنے کے مزید مواقع میسر ہیں، اس کی بوسیدہ دیواروں کو اس وقت تک سہارا دینے پر یقین رکھتے ہیں جب تک ان کے’’زیرتکمیل‘‘ مفادات مکمل نہیں ہو جاتے۔سیاسی پارٹیاں ذاتی مفادات کے لئے آپس میں دست و گریبان ہیں۔وقتی الحاق اور اتحاد کرنے والی پارٹیاں سیاسی اور معاشی مفادات کے لئے وقتاً فوقتاً اپنےاتحادیوں کی پالیسیوں کے خلاف بیان داغ کر اپنی اہمیت منوانے اور وقت آنے پر بلیک میل کرکے مفادات حاصل کرنے کا اشارہ ہوتا ہے۔گزشتہ دنوں پی۔ٹی-آئی کے بڑے خیرخواہ اور ماضی کے بدترین مخالف مولانا فضل الرحمن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی-ٹی-آئی خیبر پختونخواہ اورقومی اسمبلی سمیت مرکز اور تمام صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے پر آمادہ ہے، شاید یہ اشارہ انہوں نے اہم اتحادی ہونے کی حیثیت سے اپنی مستقبل کی حکمت عملی کے طور پر کیا ہو لیکن چیئرمین پی-ٹی-آئی بیرسٹر گوہر خان نے مولانا فضل الرحمٰن کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے انتہائی توہین آمیز انداز میں واضح کیا کہ مولاناسے اسمبلیاں تحلیل کرنے یا استعفوں کے حوالے سے کوئی مشاورت ہوئی اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ ہوا۔بیرسٹر گوہر کی اس حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی-ٹی-آئی کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز کور کمیٹی کے نزدیک مولانا سے اتحاد کی کوئی حیثیت نہیں، بلکہ مولانا کی سیاسی طاقت سے استفادہ کرنا ہے۔دوسری جانب اہم ادارے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور ایک دوسرے کےآئینی اختیارات ماننے کے لئے تیار نہیں، ان کی یہ رسہ کشی خطرناک صورت اختیار کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ علی الاعلان عدلیہ کی جانب سے غیرآئینی اقدام پر عملدرآمد روکنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے جبکہ پی-ٹی-آئی کی قیادت سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بزور بازوعملدرآمد کرانے کی دھمکی دے چکی ہے جو پی-ٹی-آئی کی سیاسی خصلت کی عکاس ہے۔ ایک طرف دہشتگردی کی شدت میں اضافہ اور دوسری طرف پی-ٹی-آئی کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ سمیت عدلیہ کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا اور سنگین ٹرالنگ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔بیک وقت دہشتگردی اور ملک گیر دھرنوں کی تیاریاں دہشتگردوں اور پی-ٹی-آئی کے گٹھ جوڑ کا اعلان ہے۔یہ سب علامات عدلیہ کے اس طبقہ کے لئے قابل توجہ ہے جو عمران خان کو ہر بڑے چھوٹے جرم سے آزاد کرکے اقتدار کی کرسی پر دیکھنا چاہتا ہے تاکہ انہیں اپنا ادھورا مشن مکمل کرنے کا موقع مہیا کیا جاسکے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے ملک میں انتشار پھیلانے اور طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور دوسرا لیکن انتہائی سنگین اور خطرناک 9 مئی آئندہ 60 روز کے دوران ہونے کو ہونے کو ہے جب جلاؤ گھیراؤ اور حملوں کے علاوہ بغاوت اور سول نافرمانی کے ذریعے ملک کی تقسیم کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔لیکن دہشتگردوں اور دہشتگردی کو تحفظ دینے کی پالیسی معنی خیز ہے!