افغانستان : بے روزگاری سے تنگ نوجوان افغانستان ایران بارڈر پر بارڈر کراسنگ کے لئے انتظار میں بیٹھے ہیں، ان نوجوانوں میں پاکستان کے مختلف شہروں سے بھی نوجوان سرحد پار کرکے افغانستان ایران سے ترکی جانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ افغانستان میں اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری تاریخ کی سب سے بلند سطحوں کو چھو رہی ہے
اسلام آباد:پاکستان بھر کے چیمبر آف سمال ٹریڈرز نے ٹرانسپورٹرز کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازع آرڈیننس فوری طور پر واپس لیا جائے۔ نمائندگان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث ملک بھر میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور کاروباری طبقے کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔چیمبر آف سمال ٹریڈرز نے کہا کہ ٹرانسپورٹ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور جب تک یہ نظام بحال نہیں ہوتا، مارکیٹیں، صنعتیں اور سپلائی لائنیں چل نہیں
وزیراعظم کی ترکمانستان کے صدر سے ملاقات*وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی اشک آباد میں ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف سے دوطرفہ ملاقات ہوئی. ملاقات کے دوران، وزیراعظم نے ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی 30 ویں سالگرہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے 2025 کو امن اور اعتماد کا بین الاقوامی سال قرار دینے پر ترکمان صدر کو مبارکباد دی۔پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات بالخصوص تجارتی اور اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا.وزیر اعظم نے اس رواں برس کے آغاذ پر ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستانی شہریوں کو ایران سے بحفاظت نکالنے کے لیے فراہم کی جانے والے تعاون پر ترکمان قیادت اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے ترکمانستان کے ساتھ زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے روابط بڑھانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا اور کہا کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کا جغرافیہ مثالی ہے جسے ترکمانستان جنوبی ایشیاء اور اس سے باہر اپنی رسائی کو بڑھانے کے لیے استعمال بروئے کار لاسکتا ہے. ترکمانستان کی جانب سے پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی پر ترکمان صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ترکمانستان کے عوام کے قومی رہنما، عزت مآب گربنگولی بردی محمدوف کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا. وزیرِ اعظم ترکمانستان کی عوام کے قومی رہنما اور صدر سردار بردی محمدوف کو آئندہ برس پاکستان کے سرکاری دورے کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا.ترکمانستان کے صدر نے وزیر اعظم کے دورے اور امن و اعتماد کے بین الاقوامی فورم میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور یقین کہا کہ ترکمانستان پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔وزیر اعظم اشک آباد میں 12 دسمبر 2025 تک امن اور اعتماد کے عالمی سال (2025)، غیر جانبداری کے بین الاقوامی دن اور ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر منائے جانے والے بین الاقوامی فورم میں شرکت کے لیے ترکمانستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں. وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ اور کابینہ کے دیگر ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی ملاقات میں شریک تھے.
کابل پر کنٹرول کے صرف تین دن بعد طالبان کے دوحہ میں پولیٹیکل آفس کے ذمہ دار “سہیل شاہین” نے اسرائیل کے سرکاری ٹی وی چینل “KAN” کو انٹرویو دیا تھا، جس میں اُس نے کہا تھا کہ طالبان کے اسرائیل سے تعلقات ناممکنات میں سے نہیں ہیں۔ بعد میں جب ہر طرف سے لعن طعن شروع ہوئی تو کہا کہ مجھے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ “KAN” اسرائیلی چینل ہے۔ (حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی، طالبان کا کا دوحہ آفس مکمل سکروٹنی کے بعد ہی کسی صحافی کو انٹرویو دیتا تھا) طالبان حکومت کے آنے کے بعد 13 جنوری 2022 کو پہلی بار اسرائیل نے افیشلی افغان مہاجرین کے لیے کئی لاکھ ڈالر کی امداد مہیا کی تھی۔ الجزیرہ سے انٹرویو میں طالبان پولیٹکل آفس کے ترجمان “نعیم وردک” سے پوچھا گیا کہ کیا اپ اسرائیل کے ساتھ بھی مسئلے حل کرنے کے لیے پیش رفت کریں گے؟تو اُس کا جواب میں کہنا تھا کہ “ہمارا اسرائیل کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟” مجھے اسی بات کیوں پوچھتے ہو جس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ (اُس نے اسرائیل کو ناجائز ریاست نہیں کہا، نہ ہی یہ کہا کہ فلسطین پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل کے حوالے سے کوئی پیش رفت ناممکن ہے، جو اکثر مسلمان ممالک کا آفیشل موقف ہے)دوسری طرف یہی طالبان ہیں جو ہندوتوا مودی حکومت سے قریبی یارانہ رکھتے ہیں۔ حلانکہ یہ موجودہ حکومت برصغیر (پوتر بھارت ماتا) کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کرنے کا اعلانیہ منصوبہ رکھتی ہے۔ دہلی میں ملاں متقی نے کشمیر پر بھارت کے قبضے کو جائز قرار دیا۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہمارے “جہادی دوستوں” کو اس سب میں کوئی قباحت دیکھائی نہیں دیتی ہے۔
🚨 ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر دفتر خارجہ کا سخت اقدام، ڈیمارش جاری کردیا• ایک آزاد، خودمختار ، اور قانون پر عملدرآمد کرنے والی Hard State کیا ہوتی ہے، پاکستان نے واضح کر دیا• سخت اور واشگاف الفاظ میں ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندونی معاملات میں مداخلت پر وزارت خارجہ نے سخت ترین الفاظ میں ڈیمارش جاری کر دیا 11 دسمبر 2025 کو ناروے کے سفیر کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایمان مزاری کیس کی سماعت میں شرکت نہ صرف سفارتی حد سے تجاوز تھا بلکہ پاکستان کے اندرونی عدالتی معاملات میں براہِ راست مداخلت بھی تھی۔
***چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قومی علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب*ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ دفاعی معائدہ تاریخی ہے ، فیلڈ مارشلاللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا، فیلڈ مارشل
جس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا تو انتشار اور فساد الارض نے وہاں جگہ لی، فیلڈ مارشلعزت اور طاقت تقسیم سے نہیں ، محنت اور علم سے حاصل ہوتی ہے، فیلڈ مارشلدہشتگردی پاکستان کا نہیں ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کے نہیں للکار کر مارتے ہیں، فیلڈ مارشلاسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا، فیلڈ مارشلمعرکہ حق میں اللّٰہ کی نصرت سے کامیابی ملی، فیلڈ مارشلعلماء قوم کو متحد رکھیں اور قوم کی نظر میں وسعت پیدا کریں ، فیلڈ مارشل*پاکستان ہمیشہ زندہ باد*
**چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قومی علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب*ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ دفاعی معائدہ تاریخی ہے ، فیلڈ مارشل اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا، فیلڈ مارشلجس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا تو انتشار اور فساد الارض نے وہاں جگہ لی، فیلڈ مارشلعزت اور طاقت تقسیم سے نہیں ، محنت اور علم سے حاصل ہوتی ہے، فیلڈ مارشل دہشتگردی پاکستان کا نہیں ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کے نہیں للکار کر مارتے ہیں، فیلڈ مارشلاسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا، فیلڈ مارشلمعرکہ حق میں اللّٰہ کی نصرت سے کامیابی ملی، فیلڈ مارشلعلماء قوم کو متحد رکھیں اور قوم کی نظر میں وسعت پیدا کریں ، فیلڈ مارشل*پاکستان ہمیشہ زندہ باد*
لکھنؤ کے ایک نواب صاحب کو کسی نے گدھا کہہ دیا۔۔!! نواب کو ناگوار گزرا اور کیس کر دیا۔۔۔!جج نے گدھا کہنے والے سے پوچھا تو اس نے اعتراف کرتے ہوئے اپنی غلطی مان لی۔۔ اور معافی مانگ لی۔۔جج نے نواب سے کہا نواب صاحب اب تو یہ معافی مانگ رہا ہے آپ کیا کہنا ہے۔۔اس پر نواب صاحب معافی کے لیے تیار ہو گئے۔۔ لیکن ایک شرط رکھی کہ اب کسی بھی نواب کو وہ گدھا نہیں بولے گا۔۔!!جج نے مجرم کو بری کردیا۔۔۔۔!!جانے سے پہلے اس آدمی نے جج سے پوچھا:۔۔ یور آنر، میں نواب صاحب کو تو قطعی گدھا نہیں بولوں گا لیکن ایک بات بتایۓ کہ گدھے کو تو میں نواب صاحب بول سکتا ہوں کہ نہیں؟ جج نے کہا گدھے کو آپ کچھ بھی بولیے، کورٹ کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔۔۔۔!!! وہ آدمی نواب سے بولا۔۔ اچھا “نواب صاحب” مَیں چلتا ہوں
نسیم کے سپر آور نے بابر اعظم کی لاج رکھ دی .رات کو نسیم شاہ نے آئی ایل ٹی ٹونٹی میں سپر آور میں جب 14 رنز کا دفاع کیا تو انٹرویو میں پاکستانی اینکر اعجاز احمد گوندل نے نسیم سے پوچھا مبارک ہو آپ نے کامیاب سپر آور کیا ایک بار بابر نے پوڈکاسٹ میں بھی کہا تھا کے اگر مجھے کسی بالر سے سپر آور کرانا پڑے تو میں نسیم شاہ پر اعتماد کروں گا اور آج آپ نے بابر اعظم کو درست ثابت کردیا اور سیم کرن کو بھی جس کے جواب میں نسیم شاہ نے کہا جی بالکل کپتان کو میرے پر یقین تھا اور میں بھی پر اعتماد تھا اس لیے کامیابی ملی .اگر بابر کو واقعی نسیم پر اتنا اعتماد تھا تو 2024 ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں امریکہ کیخلاف سپر آور نسیم کے بجائے عامر کو کیوں دیا
این ایچ اے بحران میں: پارلیمنٹ، سینیٹ اور پاکستان کی عسکری قیادت سے مطالبہ—قومی شاہراہ اتھارٹی کو بیوروکریٹک قبضے سے نجات دلائی جائے رانا تصدق حسیناسلام آباد — پاکستان کی اسٹریٹیجک ریڑھ کی ہڈی—قومی شاہراہیں، موٹرویز، ایکسپریس ویز، اور سی پیک کی شہ رگ—آج بدترین ادارہ جاتی بحران کا شکار ہے۔حیران کن انکشافات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) میں سنگین بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن و وزارت مواصلات کی بیوروکریٹک گرفت کے ذریعے منظم انداز میں پیدا کی گئی ہے۔اگرچہ NHA کو ترمیم شدہ این ایچ اے ایکٹ 2024 کے تحت ایک مکمل خودمختار اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز (SOE) بنا دیا گیا ہے، لیکن دونوں وزارتیں پارلیمنٹ، قانون اور عدالتی فیصلوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے من مانا کنٹرول جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ صورتحال پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ)، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور بالخصوص فلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی فوری اور براہِ راست توجہ کی متقاضی ہے، کیونکہ NHA قومی لاجسٹکس، دفاعی نقل و حرکت، معاشی رابطہ کاری اور سی پیک سیکیورٹی کا بنیادی ادارہ ہے۔عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزیعدالتیں بارہا غیرقانونی ڈیپوٹیشنز اور وزارتوں کی مداخلت کے خلاف واضح احکامات دے چکی ہیں:سپریم کورٹ کے فیصلے (02.05.2012، 09.04.2013، 10.04.2013، 13.04.2013) — کرمنل اوریجنل پٹیشن نمبر 89/2011 (2013 SCMR 1752) — تمام غیرقانونی ڈیپوٹیشن افسران کی فوری واپسی اور میرٹ کی بالادستی کے پابند کرتے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے W.P. 2200/2025 میں حکم دیا گیا کہ سات دن کے اندر NHA کے سینئر ترین BS-20 افسر کو تعینات کیا جائے اور ڈیپوٹیشن افسران—including IRS افسر posted as Member Finance—کو واپس بھیجا جائے۔لیکن وزارت مواصلات اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ان احکامات پر عملدرآمد سے انکاری ہیں، اور یوں غیرقانونی تعیناتیوں اور ناجائز اختیارات کا سلسلہ جاری ہے۔NHA کی خودمختاری پر قانونی حملہنیا NHA ایکٹ 2024 واضح طور پر اختیارات NHA بورڈ اور CEO کو دیتا ہے، مگر بیوروکریٹک عمل دخل بدستور جاری ہے:NHEB اور NHC کے دائرہ کار میں براہ راست مداخلتCEO اور ممبر ایڈمن کی تعیناتیوں میں غیرقانونی اثر و رسوخNHA کے ملازمین، گاڑیوں اور وسائل کا وزارت کے کاموں میں استعمالNHA کو ایک ماتحت دفتر کی طرح چلانے کی کوشش، جبکہ قانون اسے ایک خودمختار SOE بناتا ہےیہ پارلیمنٹ کی حاکمیت سے براہِ راست انحراف ہے۔نمایاں بدعنوانیاں اور بدانتظامی1. جعلی سینئیرٹی لسٹ کی تشکیلرشوت، اقربا پروری اور سیاسی دباؤ کے تحت جونیئر افسران کو سینیئرز پر فوقیت دی گئی۔“اسپیشل سروسز کیڈر”
کے نام پر جعلی ترقیوں کا سلسلہ جاری ہے۔زاہرشاہ، عمر سعید چوہدری اور ایڈمن پرسنل سیکشن کے افسران کے خلاف باضابطہ انکوائری کی ضرورت ہے۔2. مدت سے زیادہ قیام کرنے والے ڈیپوٹیشن افسرانFBR/IRS، صوبائی محکموں، لیکوئیڈیشن اداروں اور PAAS افسران نے ESTA Code کی مدت سے کئی سال زائد NHA میں گزار دیے۔3. غیرقانونی پوسٹنگز اور باہمی مفاداتی تعیناتیاںڈیپوٹیشن افسران ایک دوسرے کو غیرقانونی توسیعات دیتے اور مفادات کا تبادلہ کرتے پائے گئے ہیں۔4. ٹیکنیکل پوسٹوں کا غلط استعمالایک BPS-18 اکاؤنٹنٹ، جو 9 سال سے زیادہ غیرقانونی ڈیپوٹیشن پر رہا، اسے GM (PPP) جیسے BPS-20 انجینئرنگ عہدے پر تعینات کردیا گیا، جس سے ادارے کی تکنیکی صلاحیت متاثر ہوئی۔5. مستقل ملازمین کی ترقیوں کی راہ میں رکاوٹاہم پوسٹس پر ڈیپوٹیشن افسران کے قبضے نے NHA کے اپنے افسران کی ترقی روک دی ہے۔6. وزارت مواصلات کے کاموں میں NHA وسائل کا غلط استعمالشواہد موجود ہیں کہ وزارت مواصلات، NHA کو اپنے ذیلی دفتر کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔7. نیشنل ہائی وے کونسل (NHC) میں غیرقانونی نمائندگیSOE Act 2024 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے NHC میں غیرقانونی نامزدگیاں کی گئیں، جن کی مکمل آڈٹ کی ضرورت ہے۔قانونی خلاف ورزیاںآئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی کھلی خلاف ورزیSOE گورننس رولز کو وزارتوں نے نظرانداز کیامیرٹ، شفافیت اور قانونی تقاضوں کی مکمل پامالیقومی اداروں کے لیے لمحۂ فکریہNHA کا بحران صرف ایک محکمے کا مسئلہ نہیں — یہ پاکستان کے دفاع، معیشت، سی پیک، اور بین الصوبائی رابطوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔لہٰذا اب یہ معاملہ ریاست کے اعلیٰ ترین فورمز کے سامنے جانا لازم ہے:پارلیمنٹ اور مجلسِ شوریٰچیئرمین سینیٹاسپیکر قومی اسمبلیفلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس اسٹافریاست کو فوری، ہمہ گیر اور فیصلہ کن مداخلت کرنی ہوگی تاکہ:NHA ایکٹ 2024 پر مکمل عملدرآمد ہوعدالتی فیصلے فوراً نافذ کیے جائیںتمام غیرقانونی ڈیپوٹیشنز ختم ہوںسینئیرٹی لسٹ اور NHC/NHEB نمائندگی کی مکمل آڈٹ ہوNHA کی ادارہ جاتی خودمختاری بحال ہواگر اب بھی اقدام نہ اٹھایا گیا تو NHA کی گرتی ہوئی گورننس سی پیک، دفاعی نقل و حرکت، صوبائی رابطوں، اور پاکستان کے معاشی مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے گی۔
قوم یرغمال: سیاسی سرپرستی کے سامنے قانون بے بس—ایف بی آر افسران بنیادی ذمہ داریوں سے فرار کے مرتکبرانا تصدق حسیناسلام آباد — جب بھی آئی ایم ایف پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے، تو اس کی اصل اور بنیادی ذمہ داری فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، ان لینڈ ریونیو سروس (IRS) اور پاکستان کسٹمز کے ہر افسر پر عائد ہوتی ہے۔لیکن حیران کن طور پر، اپنے آئینی مینڈیٹ، سرکاری پالیسیوں، قواعد و ضوابط اور اعلیٰ عدلیہ کے واضح فیصلوں کے برخلاف یہی افسران درجنوں وفاقی وزارتوں، خود مختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں میں ایسی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جن کا ٹیکس وصولی، انفورسمنٹ یا کسٹمز ریگولیشن سے کوئی تعلق ہی نہیں!آخر کتنے ایف بی آر، آئی آر ایس اور کسٹمز کے افسران اس وقت اپنی اصل ڈیوٹی چھوڑ کر بیرونِ تنظیم تعینات ہیں؟یہ افسران قوم کے ٹیکس کے پیسے سے تنخواہیں لے کر ایسے دفاتر میں کیوں بیٹھے ہیں جہاں ان کا کام سرے سے موجود ہی نہیں؟روٹیشن پالیسی پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟اس پورے بحران کا کسی ایک شخص کو بھی ذمہ دار کیوں نہیں ٹھہرایا جا رہا؟کیا بیوروکریٹک اثر و رسوخ، سیاسی وابستگیاں، اور بیچ میٹ / کورس میٹ لابیز قانونِ تحریرہ سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہیں؟یہ کھلی اور دانستہ بے قاعدگی قومی ٹیکس نظام کو مفلوج کر چکی ہے اور ڈیپوٹیشن رولز پر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی سرِعام خلاف ورزی ہے۔یہ صورتحال اب سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، سیکریٹری فنانس، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور تمام وفاقی سیکریٹریوں کے خلاف کھلا اور ناقابلِ تردید کیس ہے-
جنہوں نے اپنی ناک کے نیچے اس نظامی بگاڑ کو پنپنے دیا، بلکہ خاموشی سے اسے تحفظ دیا۔ان کی خاموشی نے چند طاقتور افسران کے ’’اشرافیہ کلب‘‘ کو مضبوط کیا، اور اس کا براہِ راست نقصان قومی خزانے اور عام شہری کو ہوا۔پاکستان کا ریوینیو بحران حادثاتی نہیں- یہ ایک منظم انجینئرنگ ہے۔اور اس انجینئرنگ کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو آج بھی ایسے دفاتر میں بیٹھے ہیں جہاں انہیں ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔
عمران خان سے قبل پاکستان میں کب کب سابق وزرائے اعظم کو ’قومی سلامتی کا خطرہ‘ قرار دیا گیا….. جمعے کے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں سابق وزیرِاعظم اور اس وقت جیل میں قید عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اُنھیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس طرح کا لب ولہجہ کا اختیار کیا، اس سے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔ احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا ’اُس شخص (عمران خان) کا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔‘’اُس شخص کی مایوسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔‘ پاکستانی فوج کے ترجمان یہ تک کہہ گئے کہ ’اس شخص میں کسی ذہنی مریض کی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔‘فوج کے ترجمان کی جانب سے سخت لب و لہجے میں سابق وزیرِ اعظم کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا بظاہر بہت سنگین بھی ہے اور معنی خیز بھی۔ مگر پاکستانی سیاسی نظام اور اُس کی تاریخ میں یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ہم دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ یا ’سکیورٹی رِسک‘ کی اصطلاح کی تاریخ کیا ہے اور کون کون اب تک اس کی زَد میں آ چکے ہیں؟ نیز اس طرح کے ’سیاسی ہتھیار‘ اُس وقت کی سیاست و نظام اور ریاست کے لیے کس حد تک مہلک ثابت ہوئے؟ اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیے جانے والے بعد ازاں ’محب وطن‘ کیسے قرار پائے؟’قیام پاکستان کے بعد قومی سلامتی کا خطرہ وجود میں آ گیا تھا‘ملک کے قیام کے بعد کی پوری دہائی سیاست دانوں اور سول و ملٹری بیوروکریسی کے مابین سیاسی کشمکش میں گزری۔اس کے نتیجے میں آئینی و جمہوری اور سیاسی ادارے پنپ نہ سکے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بار بار وزرائے اعظم تبدیل ہوتے رہے، حکومتیں ٹوٹتی رہیں اور آخرِ کار ایوب خان نے حالات و واقعات کو مخدوش قرار دیتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔وزرائے اعظم کا اختیار کئی معاملات میں محدود ہوتا چلا گیا۔ اُس وقت کے ایک وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی، جو مشرقی و مغربی پاکستان کے مقبول لیڈروں میں سے ایک تھے، کو سول ملٹری بیورو کریسی کی جانب سے وزیرِاعظم ان شرائط پر قبول کیا گیا کہ وہ مغرب نواز خارجہ پالیسی جاری رکھیں گے
اور فوج کے اُمور میں مداخلت نہیں کریں گے۔‘قیوم نظامی اپنی کتاب ’جرنیل اور سیاست دان تاریخ کی عدالت‘ میں لکھتے ہیں کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کو سول ملٹری کے افسروں کے بارے میں خدشات تھے اور انھیں اس کا مشاہدہ اُس وقت ہوا جب ایوب خان کو مہاجرین کی آبادکاری کے سلسلے میں سردار عبدالرب نشتر کی معاونت کی ذمہ داری سونپی گئی۔عبدالرب نشتر نے محمد علی جناح کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایوب خان نے اپنی ڈیوٹی میں پیشہ ورانہ رویہ نہیں اپنایا۔ اس پر بانی پاکستان کے یہ الفاظ تھے ’میں اس آرمی افسر کو جانتا ہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔‘قیوم نظامی اپنی مذکورہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب نے اقتدار پر قبضے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں سیاست دانوں کے بارے میں خاصے سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔اُنھوں نے کہا تھا ’کچھ الفاظ انتشار پھیلانے والوں، سیاسی موقع پرستوں، سمگلروں، چور بازاری کرنے والوں اور دوسرے سماجی موزی کیڑوں، شارک اور جونکوں کے لیے: فوج اور عوام آپ کی شکل سے بیزار ہیں۔ اب یہ آپ کے مفاد میں ہے کہ نئے دَور کا آغاز کریں اور اپنے انداز بدلیں ورنہ انتقام یقینی اور فوری ہوگا۔ٗواضح رہے کہ ایوب خان نے سیاست دانوں کو سیاست سے روکنے کے لیے ’ایبڈو‘ کا قانون بنایا۔ اس قانون کے تحت نامور سیاست دانوں کو سیاست سے حصہ لینے سے نااہل قرار دیا گیا۔ ’ایبڈو‘ کا قانون درحقیقت سیاسی انتقام کے طور پر بنایا گیا تھا، جس کا واضح مقصد سیاست دانوں کو عوام کی نظروں میں کمتر دکھانا تھا۔پہلے مارشل لا کے نفاذ کے بعد یہ عمومی کلچر بن گیا تھا کہ حکومت مخالف کیمپ میں جو سیاست دان ہوتے تھے، انھیں غیر ملکی سازشوں کا حصہ دار قراردیا جاتا تھا۔ایوب خان اور فاطمہ جناح کے مابین جب صدارتی معرکہ ہوا تو فاطمہ جناح کو ’غدار‘ تک کہا گیا۔ اُن کی کردارکشی کی گئی اور ایوب خان اور اُن کے حامیوں کی جانب سے جو پمفلٹس تقسیم کیے جاتے اُن پر فاطمہ جناح پر ملک توڑنے کی سازش کے الزامات تک لگائے جاتے۔حامد خان نے اپنی کتاب ’کانسٹیٹیویشنل اینڈ پولیٹیکل ہسٹری آف پاکستان‘ میں لکھا ’ایوب خان حکومت نے فاطمہ جناح کے خلاف غداری اور ملک دُشمنی کا تاثر بنوایا۔‘ذوالفقار علی بھٹو جنھوں نے آئین پاکستان تشکیل دیا، پھانسی کے پھندے پر چڑھ گئے جبکہ اُن کی بیٹی بینظیر بھٹو پر بھی غداری کے الزامات لگے۔ قیوم نظامی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’انڈیا کے وزیرِ اعظم راجیو گاندھی دسمبر 1988 اور جولائی 1989میں پاکستان آئے تھے۔ راجیو اور بینظیر دونوں نوجوان لیڈر تھے اُن کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ دونوں ماضی کی نفرتوں کو بھلا کر نئے دور کا آغاز کریں گے
۔’پاکستان اور انڈیا کے مابین ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پایا۔ سیاچن گلیشیئر کے بارے میں راجیو نے مثبت ردِعمل کا مظاہرہ کیا۔ خفیہ ایجنسیوں نے دونوں لیڈروں کی ملاقاتوں کو مانیٹر کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قومی سلامتی کے بارے میں بینظیر پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔‘سماجی کارکن اور تاریخ کے اُستاد عمار علی جان کہتے ہیں کہ ’یہ المیہ ہے کہ کبھی سب بنگالیوں کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا، کبھی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھایا گیا، تو کبھی فاطمہ جناح اور بینظیر کو سکیورٹی رسک قرار دیا گیا۔‘نواز شریف اور پھر عمران خانہمیں اکتوبر 2020 میں میاں نوازشریف کی اُس تقریر کو ذہن میں رکھنا ہوگا جو اُنھوں نے اپوزیشن جماعتوں کے پہلے جلسے میں ویڈیو لنک کے ذریعے کی تھی۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ ’ملک کا آئین توڑنے والے محب وطن ہیں اور اس جلسے میں موجود ملک کی سیاسی قیادت غدار ہے۔‘اُنھوں نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ کو نواز شریف کو غدار کہنا ہے، ضرور کہیں۔ مگر نواز شریف عوام کو اُن کے ووٹ کی عزت دلوا کر رہے گا۔‘اکتوبر ہی میں لاہور میں میاں نواز شریف پر غداری اور ریاست کے خلاف اُکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا جس پر اُن کی جماعت کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔اسی طرح مارچ 2021 میں میاں نواز شریف نے لندن سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’پہلے آپ نے کراچی میں ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں مریم رہ رہی تھیں اور اب آپ اُنھیں دھمکی دیتے ہیں۔‘میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ ’اگر مریم کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار عمران خان کے ساتھ ساتھ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض بھِی حمید ہوں گے۔‘واضح رہے کہ یہ وہ موقع تھا جب میاں نواز شریف، اُن کی پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کشیدگی بہت بڑھ چکی تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اب فریقین کے لیے واپسی ممکن نہیں۔مئی 2018 میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جس نے ملک کو ناقابلِ تسخیر بنایا اُس کے بارے میں غداری کی باتیں قابلِ قبول نہیں۔‘شاہد خاقان عباسی کے اس خطاب کا پس منظر یہ تھا کہ میاں نواز شریف نے ایک انگریزی روزنامے کو انٹرویو دیا تھا، جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ’عسکری تنظیمیں فعال ہیں۔ اُنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے۔ کیا ہم اُنھیں اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کا قتل کریں
۔‘خود کو غدار قرار دیے جانے پر نواز شریف نے کہا تھا کہ ’اگر مَیں غدار ہوں تو قومی کمیشن بناؤ۔‘واضح رہے کہ 2013 میں میاں نوازشریف کے حکومت سنبھالنے سے، وزارت عظمیٰ چھن جانے اور بعد ازاں 2018 کے الیکشن تک، اُن کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی عروج پر رہی تھی۔میاں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین محاذ آرائی نوے کی دہائی میں بھی وقفے وقفے سے جاری رہی تھی اور اس کا نقطہ عروج 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا جانا تھا۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں نوازشریف اور ان کے بھائی پر طیارہ اغوا کرنے کی سازش کا کیس بنایا گیا جس طرح میاں نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی رہی اور اُنھیں الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ہی حالات کا سامنا اس وقت عمران خان کو بھی ہے۔جمعے کے دِن ہونے والی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے اس شائبے کو تقویت پہنچی کہ اب سابق وزیرِ اعظم عمران خان، اُن کی پارٹی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مابین کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور یہاں سے واپسی شاید اب ممکن نہیں ہے۔عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کشیدگی کی بنیاد تو 2022 میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے سے تھوڑا قبل پڑ گئی تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ چند ایسے واقعات ہوئے جنھوں نے اِس کی شدت میں اضافہ کیا۔عمران خان کے ایکس ہینڈل سے چار دسمبر کو جاری کیے گئے بیان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے ایک روز بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے جارحانہ پریس کانفرنس کیعمران خان نے اپنی حکومت کے آخری دِنوں میں اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر تنقید شروع کردی تھی۔ میر جعفر اور میر صادق، اسی طرح نیوٹرل جیسے لفظوں اور اُن میں چھپے معنی نے جنم لیا تھا۔جیسے جیسے عمران خان کا یہ احساس کہ عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت ختم ہو سکتی ہے تقویت پکڑتا گیا،
ویسے ویسے وہ جارحانہ ہوتے چلے گئے۔حکومت کے خاتمے کے بعد کشیدگی مزید بڑھتی چلی گئی اور پھر 9 مئی کا لمحہ آن پہنچا۔ یہ وہ موقع تھا جب دوطرفہ کشیدگی کو نیا رُخ ملا۔پھر اگلے ہی سال آٹھ فروری کے انتخابات کے نتائج پر پی ٹی آئی کا عدم اطمیان اور ردِعمل کشیدگی کو مزید بڑھاتا گیا۔ مزید براں 26 نومبر 2024 کے واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔حالیہ دِنوں میں سابق وزیرِ اعظم سے اُن کی بہنوں، بعض پارٹی رہنماؤں اور خیبرپختونخوا کے نئے وزیرِاعلیٰ کی ملاقاتوں میں بندش کی خبریں بھی دوطرفہ کشیدگی کو واضح کرتی دکھائی دیں۔ اس پس منظر میں سابق وزیرِ اعظم کا سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر بیان انتہا ٹھہرا۔حالیہ تاریخ میں آگے پیچھے دو سابق وزرائے اعظم کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اس ضمن میں عمارعلی جان کہتے ہیں ’حب الوطنی، غدار، ملک دُشمنی، کرپشن یہ سب ایسے الفاظ ہیں جو پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔’اس کے سوا ان الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں، ایک ہی فلم ہے جو عوام کو بار بار دکھائی جاتی ہے۔‘’قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا محض بیان بازی تک محدود نہیں ہوتا‘ایک طرف سیاسی رہنما ایک دوسرے پر اسی نوعیت کے الزامات لگاتے رہے ہیں تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی اپنی ناپسندیدہ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں پر الزامات لگاتی رہی ہے۔تاہم جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کسی سیاست دان کو خصوصاً ایسا شخص جو ملک کا وزیرِ اعظم رہا ہو، قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے تو یہ معاملہ سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے نتائج اندرونی سیاست و سماج کو ضرور متاثر کرتے ہیں کہ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی لمبے عرصے پر محیط ہو سکتی ہے۔تاہم یہ کیسی عجیب تاریخ ہے، جن پر غداری، غیر ملکی سازش اور ملک دُشمنی کے الزامات لگائے جاتے رہے بعد ازاں اُن کو ’محب وطن‘ بھی قرار دیا گیا۔ حسین شہید سہروردی، مولانا بھاشانی بھی غدار قرار دیے گئے تھے۔ذوالفقار علی بھٹو پر ملک توڑنے کا الزام لگا تو اُن کی بیٹی کو غلام اسحاق خان کی صدارت کے دوران ’سکیورٹی رسک‘ قرار دیا گیا۔میاں نواز شریف بھی ملک دُشمن قرار پائے اور اب عمران خان سکیورٹی رسک قرار دیے جا چکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ سیاست دان جب ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں تو یہ درحقیقت ایک دوسرے کی سیاست پر تنقید ہوتی ہے، لیکن اسٹیبلشمنٹ جو خود کو غیر سیاسی کہتی ہے اور حالیہ پریس کانفرنسز میں بار بار یہ کہا بھی جاتا رہا ہے کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے تو اُن کی جانب سے سیاست دانوں پر اس طرح کے الزامات کیوں؟عمار علی جان کہتے ہیں
’ہماری ایک بد قسمتی یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ حق دے دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا تعین کریں کہ کون سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور کون نہیں ہے۔’جب ہم ریاست اور حب الوطنی کی بات کرتے ہیں تو کسی ایک ادارے یا محکمے کے پاس حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ یہ فیصلہ کرے۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور اگر عوام کسی کو ووٹ دیتے ہیں، یا سپورٹ کرتے ہیں، یا اُس کے خلاف ہوتے ہیں تویہ عوام کا حق ہے۔‘ان کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تمام سیاست دانوں کو استعمال بھی کیا اور اُنھیں بعد ازاں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بھی قراردیا اور ایسا ہی عمران خان کے حوالے سے ہوا۔’اگر وہ اتنے خطرناک اور برے تھے، تو پھر آپ نے اُن کو سپورٹ کیوں کیا؟ حکومت میں لے کر کیوں آئے تحریر.. ,احمد اعجازبی بی سی.. 7 دسمبر 2025
محسن نقوی نے کہا: پی سی بی نے کشمیر کے مظفرآباد کرکٹ اسٹیڈیم کا انتظام سنبھال لیا ہے۔ اسٹیڈیم خوبصورت مناظر اور صاف ماحول کے ساتھ شاندار کرکٹنگ تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہاں فائیو اسٹار ہوٹل بھی موجود ہے، اور اب پی ایس ایل میچز اور انٹرنیشنل کرکٹ بھی اسی مقام پر منعقد کی جائے گی۔