*پی اے ایف پریس ریلیز*پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک فضائی استقبال08 دسمبر 2025: پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر کے چھ طیاروں پر مشتمل دستے نے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے پر روایتی فضائی مشایعت فراہم کی جو کہ دونوں ممالک کے درمیان شاندار مہمان نوازی اور برادرانہ تعلقات کی علامت ہے. فارمیشن لیڈر نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط اور باہمی احترام کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک خیرمقدم کیا، جس سے پاک فضائیہ کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے
۔یہ فضائی اسکارٹ نہ صرف خیرسگالی کے جذبات کا اظہار تھا بلکہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر بھی ہے۔جے ایف-17 تھنڈر پاک فضائیہ کی جدید صلاحیتوں کا عکاس، 4.5 جنریشن کا ہمہ جہت اور انتہائی موثر لڑاکا طیارہ ہے۔ معزز مہمانانِ گرامی کو ایسی فضائی مشایعت فراہم کرنا پاک فضائیہ کی دیرینہ روایت ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاک فضائیہ کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ *ترجمان پاک فضائیہ*
”ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن”664,131 گاڑیوں کے چالان 27685 ایف آئی آرز1123.88 ملین روپے کے جرمانےقانون کی خلاف ورزی پر 142306 گاڑیاں ضبط
*پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک فضائی استقبال08 دسمبر 2025: پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر کے چھ طیاروں پر مشتمل دستے نے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے پر روایتی فضائی مشایعت فراہم کی جو کہ دونوں ممالک کے درمیان شاندار مہمان نوازی اور برادرانہ تعلقات کی علامت ہے. فارمیشن لیڈر نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط اور باہمی احترام کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک خیرمقدم کیا، جس سے پاک فضائیہ کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔یہ فضائی اسکارٹ نہ صرف خیرسگالی کے جذبات کا اظہار تھا بلکہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر بھی ہے۔جے ایف-17 تھنڈر پاک فضائیہ کی جدید صلاحیتوں کا عکاس، 4.5 جنریشن کا ہمہ جہت اور انتہائی موثر لڑاکا طیارہ ہے۔ معزز مہمانانِ گرامی کو ایسی فضائی مشایعت فراہم کرنا پاک فضائیہ کی دیرینہ روایت ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاک فضائیہ کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ *ترجمان پاک فضائیہ*
* *چیف آف دی آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب*نئے قائم ہونے والے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں بنیادی تبدیلی تاریخی ہے ، *فیلڈ مارشل*بڑھتے اور بدلتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ہم ملٹی ڈومین آپریشنز کو تینوں افواج کے متحد نظام کے تحت مزید بہتر کریں، *فیلڈ مارشل* ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اس تبدیلی کی جانب ایک ضروری قدم ہے، *فیلڈ مارشل*ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کیلئے اپنی انفرادیت برقرار رکھے گی، ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر سروسز کے آپریشن کو مربوط اور ہم آہنگ کرے گا، *فیلڈ مارشل*بالا کمانڈ کی یکجہتی کے ساتھ ساتھ تینوں افواج اپنی اندرونی خود مختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی ، *فیلڈ مارشل*بھارت کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ رہے ، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور شدید ہوگا، *فیلڈ مارشل*طالبان رجیم کو واضح پیغام دیا گیا ہے
کہ ان کے پاس فتنہ آل خوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ، *فیلڈ مارشل*میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم کسی کو بھی پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت پر آنچ اور ہمارے عزم کو آزمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، *فیلڈ مارشل*تمام یہ جان لیں کہ پاکستان کا تصور ناقابل تسخیر ہے اور اس کی حفاظت ایمان سے سرشار جانبازوں اور متحد قوم کے پختہ عزم نے کر رکھی ہے ، *فیلڈ مارشل**پاکستان ہمیشہ زندہ باد*
8 دسمبر، 2025وزیر اعظم نے مسز ثریا انور کی SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کے لئے 50 سالہ خدمات کو سراہا۔وزیراعظم نے SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کی سبکدوش ہونے والی صدر مسز ثریا انور کو یتیم اور کمزور بچوں کے لیے پانچ دہائیوں تک رضاکارانہ خدمات انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انکی سربراہی میں ایس او ایس 65 پراجیکٹس کر چکی ہے، 2600 بچوں کی دیکھ بھال، 12,500 طلباء کو تعلیم پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور ہر سال 1,200 نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مسز ثریا انور کے دیئے ہوئے اعتماد کی بنیاد پر 25,000 عطیہ دہندگان کی حمایت کو بطور ثبوت اجاگر کیا۔وزیراعظم کا پیغام جناب شاہد حامد نے سالانہ جنرل باڈی اجلاس میں پڑھ کر سنایا اور تمام شرکاء کی جانب سے زبردست تالیوں سے اس کو سراہا گیا.حکومت نے ایس او ایس چلڈرن ویلجز پاکستان کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسز ثریا انور آنے والے سالوں میں اس تنظیم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔سابق گورنر پنجاب جناب شاہد حامد کو SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
پیچھے بیٹھیں ۔ اظہر سیدڈی جی آئی ایس پی آر غصہ دکھانے کی بجائے جیل میں نٹ بولٹ ٹائٹ کرتے بہتر تھا ،بھلے نام کی سہی ۔۔۔ ہے تو منتخب جمہوری حکومت اور فوج حکومت کا ایک ادارہ ۔نوسر باز بھلے فوجی قیادت کے خلاف دشنام کرتا ہے ہے تو سیاسی جماعت کا سربراہ اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتا ہے۔جس غصے کا اظہار فوج کے ترجمان نے کیا وہ وزیر داخلہ یا وزیر دفاع کے زریعے ہوتا بہتر تھا ۔ریاست کے پاس نٹ بولٹ ٹائٹ کرنے کیلئے پیچ کس سمیت تمام درکار آلات موجود ہیں ۔بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دسترس میں نہیں ملک کے اندر والے تو موجود ہیں ۔جو سیاستدان جھوٹا بیانیہ پھیلاتے ہیں گھڑے کی ان مچھلیوں کو تو پکڑا جا سکتا ہے ۔پکڑیں ،مصالحہ لگائیں ،بھونیں اور کھائیں ۔نوسر باز کی سیاست فوج مخالف بیانیہ پر قائم ہے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔وہ پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتا
۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش بھی ٹھکرا چکا ہے ۔اس سے نپٹنے کیلئے سیاسی طریقے موجود ہیں۔جس شدت کی پریس کانفرنس تھی اس سے بہتر خیبرپختونخوا میں گورنر راج تھا ۔شائد گورنر راج سے کم ردعمل ہوتا اور بوجھ فوج کی بجائے حکومت اٹھاتی۔فوج جنرل عاصم منیر کی نہیں پاکستان کی ہے ۔جو بھی چیف ہو فوج ہمیشہ پاکستان کی ہی رہے گی ۔اس فوج نے پہلے ہی چار براہ راست فوجی حکومتوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے ۔بھٹو اور بینظیر کے بعد عمران کا بوجھ بھی فوج پر آ گیا مستقبل میں زیادہ نقصان ہو گا۔خاموش رہیں ۔جو کچھ بھی کرنا کرانا ہے چاچو پر بوجھ ڈالیں ۔سیاستدان میسنے بن کر سابقہ اثاثے اور فوج کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لا چکے ہیں۔سیاستدانوں نے سیاست کی ہے اسی لئے وہ سیاستدان ہیں ۔پیچھے ہٹ جائیں ۔زمہ داری زرداری اور نواز شریف پر ڈال دیں ۔جمہوریت ہے نہ مستقبل قریب میں آنے کا امکان ہے ۔ڈنڈا چلائیں لیکن پیچھے بیٹھ کر ۔ پردے کی آڑ میں دل کھول کر پٹائی کریں ۔ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔
پیچھے بیٹھیں ۔ اظہر سیدڈی جی آئی ایس پی آر غصہ دکھانے کی بجائے جیل میں نٹ بولٹ ٹائٹ کرتے بہتر تھا ،بھلے نام کی سہی ۔۔۔ ہے تو منتخب جمہوری حکومت اور فوج حکومت کا ایک ادارہ ۔نوسر باز بھلے فوجی قیادت کے خلاف دشنام کرتا ہے ہے تو سیاسی جماعت کا سربراہ اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتا ہے۔جس غصے کا اظہار فوج کے ترجمان نے کیا وہ وزیر داخلہ یا وزیر دفاع کے زریعے ہوتا بہتر تھا ۔ریاست کے پاس نٹ بولٹ ٹائٹ کرنے کیلئے پیچ کس سمیت تمام درکار آلات موجود ہیں ۔بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دسترس میں نہیں ملک کے اندر والے تو موجود ہیں ۔جو سیاستدان جھوٹا بیانیہ پھیلاتے ہیں گھڑے کی ان مچھلیوں کو تو پکڑا جا سکتا ہے ۔پکڑیں ،مصالحہ لگائیں ،بھونیں اور کھائیں ۔نوسر باز کی سیاست فوج مخالف بیانیہ پر قائم ہے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔وہ پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش بھی ٹھکرا چکا ہے
۔اس سے نپٹنے کیلئے سیاسی طریقے موجود ہیں۔جس شدت کی پریس کانفرنس تھی اس سے بہتر خیبرپختونخوا میں گورنر راج تھا ۔شائد گورنر راج سے کم ردعمل ہوتا اور بوجھ فوج کی بجائے حکومت اٹھاتی۔فوج جنرل عاصم منیر کی نہیں پاکستان کی ہے ۔جو بھی چیف ہو فوج ہمیشہ پاکستان کی ہی رہے گی ۔اس فوج نے پہلے ہی چار براہ راست فوجی حکومتوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے ۔بھٹو اور بینظیر کے بعد عمران کا بوجھ بھی فوج پر آ گیا مستقبل میں زیادہ نقصان ہو گا۔خاموش رہیں ۔جو کچھ بھی کرنا کرانا ہے چاچو پر بوجھ ڈالیں ۔سیاستدان میسنے بن کر سابقہ اثاثے اور فوج کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لا چکے ہیں۔سیاستدانوں نے سیاست کی ہے اسی لئے وہ سیاستدان ہیں ۔پیچھے ہٹ جائیں ۔زمہ داری زرداری اور نواز شریف پر ڈال دیں ۔جمہوریت ہے نہ مستقبل قریب میں آنے کا امکان ہے ۔ڈنڈا چلائیں لیکن پیچھے بیٹھ کر ۔ پردے کی آڑ میں دل کھول کر پٹائی کریں ۔ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔
*انسپیکٹر جنرل پولیس پنجاب عثمان انور کا بیان*سکول کے بچوں کی زندگیوں کی حفاظت پر کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے بغیر ڈرائیونگ لائیسنس ڈرائیونگ موت اور حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہے لائیسنس کے بغیر ڈرائیونگ ‘لائیسنس ٹو کل’ ہے جو دنیا میں کوئی ملک کسی کو نہیں دیتا ہڑتال کا مطلب ہے کہ سکول وینز الٹتی رہیں اور معصوم بچے مرتے رہیں اور کوئی نہ پوچھے، یہ رویہ کوئی مہذب ملک برداشت نہیں کرسکتا والدین کا مطالبہ رہا ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جائے، اسی عوامی اور جانی اہمیت کے مسئلے پر ایک اچھے قدم کی حمایت ہونی چاہیے عوام کے جان ومال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے، یہ فرض کسی دباؤ کے بغیر ادا کرتے رہیں گےمہلت دے رہے ہیں، گاڑی بند رکھیں گے تو ہم سڑک پر گاڑی بھی نہیں آنے دیں گے اور ضبط کر لیں گے۔ ذمہ داری کا احساس کریں، یہ لوگوں اور بچوں کی جانوں کا معاملہ ہے قانون پر عمل درامد کے سوا کوئی چوائس نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
*انسپیکٹر جنرل پولیس پنجاب عثمان انور کا بیان*سکول کے بچوں کی زندگیوں کی حفاظت پر کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے بغیر ڈرائیونگ لائیسنس ڈرائیونگ موت اور حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہے لائیسنس کے بغیر ڈرائیونگ ‘لائیسنس ٹو کل’ ہے جو دنیا میں کوئی ملک کسی کو نہیں دیتا ہڑتال کا مطلب ہے کہ سکول وینز الٹتی رہیں اور معصوم بچے مرتے رہیں اور کوئی نہ پوچھے، یہ رویہ کوئی مہذب ملک برداشت نہیں کرسکتا والدین کا مطالبہ رہا ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جائے،
اسی عوامی اور جانی اہمیت کے مسئلے پر ایک اچھے قدم کی حمایت ہونی چاہیے عوام کے جان ومال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے، یہ فرض کسی دباؤ کے بغیر ادا کرتے رہیں گےمہلت دے رہے ہیں، گاڑی بند رکھیں گے تو ہم سڑک پر گاڑی بھی نہیں آنے دیں گے اور ضبط کر لیں گے۔ ذمہ داری کا احساس کریں، یہ لوگوں اور بچوں کی جانوں کا معاملہ ہے قانون پر عمل درامد کے سوا کوئی چوائس نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہمشیرہ مریم ریاض وٹو کا کہنا ہےکہ ایک ماہ گزر چکا ہے کسی کو بھی بشریٰ بی بی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مریم ریاض وٹو کا کہنا تھا کہ ہم خاندان والے ان کے لیے بے حد پریشان ہیں۔ مریم ریاض وٹو نے الزام لگایا کہ اس سے پہلے جب اسی طرح بشریٰ بی بی سے ملنے سے روکا گیا تھا تو ایک بار انہیں زہر دیا گیا تھا اور دوسری بار جب وہ شدید بیمار تھیں اور انہیں طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئی تھیں تاکہ ان کے دانت اور کان کے انفیکشن کا علاج نہ کرکے انہیں تکلیف دی جائے۔آخر میں مریم ریاض وٹو نے اپنی بہن بشریٰ بی بی کے لیے آسانی کی دعا بھی کی۔
ایک مولوی صاحب خوف خدا پہ تقریر فرما رہے تھے۔ خوف خدا پر لمبی تقریر سننے کے بعد مجمع میں سے کسی سامع نے سوال پوچھا:مولانا صاحب جانوروں میں سب سے کم چربی کون سے جانور کی ہے؟.مولوی صاحب دم بخود رہ گئے۔ جواب ان کے پاس تھا نہیں۔ تو تکا لگا کر کسی جانور کا نام لیا جو کہ غلط تھا۔اس پر سامع سے مولانا صاحب نے پوچھا کہ چلو تم ہی بتاؤ اگر تمہارے پاس اس کے بارے میں علم ہے تو؟.اس شخص نے کہا کہ جانوروں میں سب سے کم چربی ہرن میں پائی جاتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسے ہر وقت چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کا خوف رہتا ہے۔ حتیٰ کہ جب وہ پانی پیتا ہے تو کئی مرتبہ ارد گرد نظر دوڑاتا ہے، کہ کہیں کسی کا شکار نہ بن جاؤں۔ اک خوف کی وجہ سے اس میں چربی نہیں بن پاتی۔ اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو آپ نے خوف خدا پر تو بڑی زبردست تقریر کی۔ لیکن آپ کی گردن چربی کی وجہ سے مڑتی نہیں ہے۔مجھے آپ کی سنائی ہوئی اس تقریر سے اتفاق نہیں ہے۔
فوج کے ترجمان کو پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہئے تھی اگر عمران خان کا بیانیہ ریاست مخالف ہے تو ریاست کے وزرا کو چاہئے تھا کہ اسکا مقابلہ کریں اور اسکے خلاف پریس کانفرنس کریں۔۔ اگر عمران خان صاحب کو کوئی مینٹل ایشو ہے تو اس کا اتنا ایشو بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ انکے کیسز نہیں لگائے جا رہے انکی ضمانت کے کیسز تک نہیں فکس کیے جا رہے ۔ انکی ملاقاتیں بند ہیں انکی بیوی کو جیل میں رکھا ہوا ہے تو انکو کیسی زبان استعمال کرنی چاہئے؟؟ انکو کونسے الفاظ استعمال کرنے
کارگل اور ڈھاکہ ۔اظہر سیدہم فوج کی جمہوریت میں مداخلت کے سب سے بڑے ناقد ہیں ۔جنہوں نے عوام کیلئے جموریت لانا تھی وہ نوسر باز کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ بن کر جمہوریت لانے کا سنہری موقع کھو چکے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں ساحل پر پہنچ کر ڈوب گئے ہیں۔جب زمہ دار ہی جان بوجھ کر ڈوب گئے تو جمہوریت اور عوام گئے تیل لینے ،اب فوج کی مکمل اور بھر پور حمائت ہی حب الوطنی ہے کہ دنیا بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے ۔ دنیا کے فیصلے جمہوریت کے ہاتھوں سے نکل کر جنرلوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں اور یہ امریکی سربراہی میں جمہوریت کا چہرے بنے مغربی ممالک میں ہو رہا ہے ۔پاکستان میں جمہوریت یا نوسر باز کی محبت میں جب فوج پر تنقید ہوتی ہے ڈھاکہ فال اور کارگل کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔ڈھاکہ اور کارگل میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نقد جانیں وارنے والے اس دھرتی کے بیٹے تھے جو پختون،پنجابی،بلوچ ،کشمیری اور سندھی تھے ۔یہ ہمارے بھائی اور بیٹے تھے ۔جب ہم شکست کا طعنہ دیتے ہیں خود کا تعارف ملک دشمن اور غلیظ شہری کے طور پر کراتے ہیں اور اپنے ہی ملک کی فوجی جوانوں کی توہین کرتے ہیں ۔مشرقی پاکستان میں پوری بنگالی قوم مخالف ہو چکی تھی ۔فوج کی بنگال رجمنٹ باغی ہو چکی تھی ۔نیوی اور ائر فورس میں بنگالی افسران اور جوان بے پناہ نقصان پہنچا رہے تھے ۔مشرقی پاکستان میں چالیس ہزار جوان افسران تھے جبکہ مخالف ابادی دس کروڑ سے زیادہ تھی۔مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود فوجی آپریشن کے زریعے مشرقی پاکستان میں بغاوت ختم کر دی گئی تھی
۔پورے مشرقی پاکستان میں سناٹا چھا گیا تھا۔بھارتی حملہ نہ کرتے مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔چالیس ہزار فوج ،مخالف مقامی ابادی اور دشمن کا پوری طاقت سے حملہ ۔۔۔ دنیا کی کوئی فوج یہاں مقابلہ نہیں کر سکتی تھی ۔اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کمانڈر جان بچانے کی بجائے شہادت کا فیصلہ کرتے سب شہید ہو جاتے ہتھیار نہ ڈالتے ۔اس بات پر بحث ممکن نہیں کہ لڑائی کیوں نہیں جیتی ۔یہ لڑائی جیتنا ممکن ہی نہیں تھا ۔دوسرا طعنہ کارگل کا ہے ۔طعنہ جنرل مشرف اور اس کے ساتھی جنرلوں کو دیا جا جاسکتا ہے جنہوں نے کارگل کا فیصلہ کیا ۔جوانوں اور افسروں کو طعنہ دینا غلاظت ہے اور کچھ نہیں۔جوان اور افسران نے اپنی جانیں بہادرانہ قربان کیں ۔ناکامی غلط فیصلوں کی تھی لڑنے والے جوانوں اور افسروں کی نہیں ۔یہ لڑائی بھی یکطرفہ تھی ۔ریاستی پالیسی یہ تھی مجاہدین نے قبضہ کیا ہے ۔چونکہ ریاستی پالیسی ہی غلط تھی اس لئے ناکامی ہونا ہی تھی ۔مجاہدین تھے اس لئے انہیں لڑاکا جیٹ طیاروں یا دور مار توپوں یا ہیلی کاپٹر کی مدد بھی حاصل نہیں تھی ۔مجاہدین تھے اس لئے صرف مارٹرگنوں،ہینڈ گرینڈ اور مشین گنوں سے بھارتی لڑاکا طیاروں دو مار بوفرز توپوں کا مقابلہ کر رہے تھے ۔ناکام تو ہونا ہی تھا ۔بھارتی پہلے جیٹ طیاروں اور بوفرز توپوں سے پہاڑی مورچے تباہ کرتے پھر بچ جانے والے پاکستانی فوجیوں پر حملہ کر کے بتدریج مورچوں پر قابض ہوتے جاتے ۔یہ لڑائی نہیں تھی بلکہ غلیل اور توپ کا مقابلہ تھا ۔برابر کی لڑائی 1965 اور حالیہ آپریشن سیندور میں ہوئی تھی جس میں بھارتیوں کا جو حال ہوا پوری دنیا اسکی گواہ ہے ۔کارگل اور مشرقی پاکستان میں ہاتھ پاؤں باندھ کر فوج کو میدان میں پھینکا گیا تھا۔ناکامی جنرلوں کی ناقص حکمت عملی کی تھی فوجی جوانوں اور افسروں کی نہیں ۔
*اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا پارلیمنٹ لاجز کا دورہ؛ طویل عرصہ سے التواء کے شکار 104 اضافی فیملی سوٹس کے منصوبے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ*اسلام آباد: 5 دسمبر 2025ءاسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے آج پارلیمنٹ لاجز کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے کئی برسوں سے تعطل کا شکار 104 اضافی فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز کے تعمیراتی منصوبے کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو منصوبے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی
۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ2011 میں شروع ہوا تھا اور 2013 میں مکمل ہونا تھا، تاہم سی ڈی اے اور کنٹریکٹر کی غفلت اور نااہلی کے باعث اس میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے طویل عرصہ سے رکے ہوئے اس منصوبے کی بحالی میں خصوصی دلچسپی لی اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے اس کی فوری تکمیل کے لیے فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی۔ بعد ازاں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر وزارتِ خزانہ نے مطلوبہ فنڈز جاری کیے، جس کے بعد برسوں سے رکا ہوا تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہوا۔دورے کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے سی ڈی اے حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو نظر ثانی شدہ شیڈول کے مطابق مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار کے اعلیٰ ترین تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر کے باعث اراکین پارلیمنٹ کو رہائش کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دیرینہ منصوبے کے نظر ثانی شیڈول کے مطابق بروقت تکمیل میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سی ڈی اے حکام نے اسپیکر قومی اسمبلی کو یقین دلایا کہ اضافی فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز کے تعمیراتی منصوبے کو نظر ثانی شدہ شیڈول کے مطابق جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔اسپیکر کی خصوصی نگرانی، مسلسل فالو اَپ اور براہِ راست دلچسپی کے باعث ایک دہائی سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء یہ منصوبہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
*🛑 05 دسمبر 2025 | بروز جمعہ | اہم خبروں کی جھلکیاں |*🚨(1) پاکستان سے بڑھ کرکچھ نہیں، ایک شخص کی خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں وہ کہتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر🚨(2) ڈی جی آئی ایس پی آر کی عمران خان کے بیٹوں کو فوج میں بھرتی ہوکر خوارج سے لڑنے کی دعوت🚨(3) فوج کے بارے میں کسی کی تعمیری رائے یا آبزرویشن ہو سکتی ہے، فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری🚨(4) ایک شخص قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا وہ سمجھتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر🚨(5) تم کیا سمجھتے ہو خود کو؟ کون ہو جو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہو، اُس شخص کا باپ بھی فوج و عوام میں دراڑ نہیں ڈال سکتا🚨(6) ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کو ذہنی مریض قرار دے دیا🚨(7) ہمیں کلیئر ہے کہ اس کی سیاست یا اسکی ذات ریاست سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی ، یہ ایک ذہنی مریض ہے، یہ ایک ٹیرر کرائم نیکسس ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر🚨(8) ذہنی مریض کی سیاست ختم، اس کا بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا: ترجمان پاک فوج🚨(9) جیل میں بیٹھا ذہنی مریض اور اس کے حواری صبح ہوتے ہی فوج کیخلاف شروع ہو جاتے ہیں، ترجمان پاک فوج🚨(10) پاک فوج کی قیادت پر مزید حملے برداشت نہیں کریں گے، سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن پر جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سیلاب تھا، کیا یہ آزادی اظہار رائے ہے؟ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس🚨(11) فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی اور ائیر چیف مارشل کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن جاری🚨(12) وزیر اعظم کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات ہونے پر مبارکباد🚨(13) ریاست نے جواب دے دیا، اب کوئی بھی چیز انچ برابر بھی برداشت نہیں کی جائے گی: فیصل واوڈا🚨(14) پی ٹی آئی جن سے بات کرنے کو تیار ہے وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے: رانا ثنااللہ🚨(15) سیالکوٹ کو شکست دیکر کراچی بلیوز نے 10ویں بار قائد اعظم ٹرافی کا ٹائٹل جیت لیا🚨(16) نیوزی لینڈ: چوری کی نیت سے نگلا گیا سونے کا انڈا ملزم سے برآمد کرلیا گیا🚨(17) آئی سی سی نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر فخر زمان پر جرمانہ عائد کر دیا🚨(18) کے پی حکومت کا نگران دور میں پی ٹی آئی والوں پربنے مقدمات واپس لینےکا فیصلہ🚨(19) کراچی میں بھتہ خوری کے کیسز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں: آئی جی سندھ کا دعویٰ🚨(20) کراچی میں لوڈشیڈنگ پر سینیٹ میں کے الیکٹرک پر کڑی تنقید🚨(21) فراڈ کیس: اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر کی ضمانت منظور🚨(22) سندھ ہائیکورٹ کا عمران خان کے کیسز کو عدالتی نظیر کے طور پر لینے سے انکار🚨(23) سندھ کی تقسیم کی باتیں ایم کیو ایم خود کو زندہ رکھنے کیلئے کر رہی ہے: ناصر حسین شاہ🚨(24) افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی روک تھام کی پختہ یقین دہانی تک سرحد بند رہیگی: پاکستان کا دو ٹوک مؤقف🚨(25) الیکشن کمیشن کی اراکین پارلیمنٹ کو مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت🚨(26) معین خان کے انتقال کی جعلی خبر، ایم کیو ایم رہنما نے اسمبلی میں مغفرت کی دعا کی درخواست کر ڈالی🚨
(27) کراچی: منگھوپیر میں ایک اور بچی کھلے مین ہول میں گر گئی، شہری نے بچی کو بروقت نکال کر بچالیا🚨(28) عمران خان سے اُن کی بہنوں کی ملاقات پر سیاست نہ کی جائے، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر🚨(29) ہماری معلومات کے مطابق فیض حمید سے متعلق فیصلہ اسی دسمبر میں آجائےگا، رانا ثنااللہ🚨(30) آڈیو لیک کیس: علی امین کے وارنٹ جاری، گرفتار کرنے کا حکم🚨(31) وزیراعلیٰ کے پی سہیل خان آفریدی کا 7 دسمبر کو پشاور جلسہ کرنے کا اعلان🚨(32) حکومت کا غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے اے آئی بیسڈ ایپ لانے کا فیصلہ🚨(33) حالات ٹھیک نہیں، معیشت بیٹھ گئی ہے، سیاسی بحران ختم کیے بغیر حالات بہتر نہیں ہوں گے: اسد عمر🚨(34) پنجاب حکومت نے ائیر کوالٹی بہتر بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات مزید سخت کردیے🚨(35) پی ٹی آئی رہنما شہزاد اکبر اشتہاری قرار، گرفتار کرنے کا حکم🚨(36) وزیرِاعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ، سیلاب متاثرین کیلئے ہرممکن مدد کی پیشکش🚨(37) اڈیالہ جیل کی سکیورٹی مزید سخت، نواحی علاقہ بھی ریڈزون قرار🚨(38) بھارتی ایئرلائن انڈیگو کی 500 سے زائد فلائٹس منسوخ🚨(39) بھارت کی 500 سے زائد پروازیں متاثر؛ طیاروں کی قطاریں لگ گئیں؛ ہزاروں مسافر رُل گئے🚨(40) پاکستان نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کیخلاف دن منانے کی قرارداد پیش کی تھی جو او آئی سی نے منظور کرلی🚨(41) فرانس میں ہر تیسرا مسلمان تعصب اور امتیازی سلوک کا شکار ہے، تازہ رپورٹ میں انکشاف🚨(42) سندھ کو جی ایس ٹی کی ذمہ داری دیں تو ہدف سے زیادہ ٹیکس جمع کرسکتے ہیں، بلاول بھٹو کی پیشکش🚨(43) پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات، دفتر خارجہ کا لاعلمی کا اظہار🚨(44) پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد غیر ملکی جیلوں میں قید ہونے کا انکشاف🚨(45) غیر قانونی افغان مہاجرین کا دباؤ خیبر پختونخوا میں معیشت کو متاثر کرنے لگا🚨(46) ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے یکجہتی کیلئے اسلام آباد بار نے کل ہڑتال کا اعلان کردیا🚨(47) کروڑوں روپے کی عدم ادائیگی، روس نے پاکستان پوسٹ کی خدمات پر پابندی عائد کر دی🚨(48) ملک میں کاروں کی درآمدات میں 30.78 فیصد اضافہ🚨(49) لڑکی کے بال کاٹنے کا معاملہ، ملزمان کے جسمانی ریمانڈ و ڈسچارج کرنے کی درخواستیں مسترد🚨(50) گوجر خان، شادی کی تقریب میں فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق🚨(51) پاکستان دنیا کیلئے کرپٹو ریگولیشن کا مؤثر ماڈل بن سکتا ہے: بلال بن ثاقب🚨(52) یوکرین کے علاقے دونباس پر قبضہ ضرور کریں گے، روسی صدر کی دھمکی🚨(53) امریکا کی سفری پابندی 19 سے بڑھا کر 30 سے زائد ملکوں پر لگانے کی تیاری🚨(54) کراچی سے اوکاڑہ پہنچنے والی خاتون کو بس ڈرائیور نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا🚨(55) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کا ریکارڈ طلب کر لیا🚨(56) 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کیخلاف درخواست ناقابلِ سماعت قرار🚨(57) خیبرپختونخوا حکومت کا 9 مئی کے مزید 57 مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ🚨(58) بلوچستان: کالعدم تنظیموں کے 300 دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطے کا فیصلہ🚨(59) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا🚨(60) پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سپر مون کا نظارہ🚨(61) پنجاب میں ٹریفک قوانین پر سختی سے ہیلمٹ فروشوں کی چاندی ہوگئی🚨(62) چند ہفتے قبل تک 500 سے 700 روپے میں ملنے والا ہیلمٹ 2 ہزار سے ہوتا ہوا 4 ہزار 500 تک پہنچ گیا🚨(63) ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی ریکارڈ ، ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ جاری🚨(64) ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار روپے بڑھ کر 4 لاکھ 44 ہزار 462 روپے ہے🚨(65) میٹا نے فیس بک اور انسٹا گرام کیلئے مشترکہ سپورٹ ہب متعارف
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینینٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مسلح افواج پاکستان کی محافظ ہیں وردی ہمارا فخر اورپرائیڈ ہے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز جنگی معاملات سے آگاہی فراہم کرے گا ہم پاکستان کی سالمیت کیلئے اپنی جانیں دیتے ہیں اور جانیں لیتے ہیں پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے اصل بیانیہ ذہنی مریض دیتا ہے یہ غدار شیخ مجیب الرحمٰن سے بھی متاثر ہے اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والا دوسروں کو غدار کہتا پھررہا ہے ایک شخص کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں اس شخص کی سیاست ختم ہو چکی اس منفی بیانئے کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے انڈین اور افغانستان سے سوشل میڈیا اکائونٹس اس کے بیانئے کو بڑھاوا دیتے ہیں انڈین میڈیا پھر ان ٹویٹس اور بیانئے کو چلاتا ہے مسلح افواج عوام اور ہندوتوا سوچ کے درمیان ڈھال ہیں انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس شخص کی سیاست ختم ہو چکی ہے یہ کونسی سیاست ہے یہ کہاں کی آزادی رائے ہے ہم بار بار کہہ رہےہیں ہمیں اپنی سیاست سےدور رکھو اس شخص سے جب کوئی ملے تو یہ ریاست پاکستان اور فوج کے خلاف بیانیہ دیتا ہے یہ شخص آئین و قانون اور رولز کو بالائے طاق رکھ کر بیانیہ دیتا ہے چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر پروپیگنڈہ کیا گیا جس پر جھوٹ کا سیلاب تھا اس شخص سے جو ملاقات کرے تو یہ ریاست اور فوج مخالف بیانیہ دیتا ہے یہ سمجھتا ہے جو پاک فوج سے تعلق رکھے وہ غدار ہے تم ہو کون ؟ جو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہو تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو؟ ،9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملے کرنے والے بھی یہی لوگ تھے شہداء کی یادگاروں کی بیحرمتی کرنے والے بھی یہی لوگ تھے پاک فضائیہ کے دشمن سے جیتے ہوئے اثاثوں کو انہی شرپسندوں نے آگ لگائی تھی ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اب سیاست ختم ہو چکی اب اس کا بیانیہ پاکستان کیلئے خطرہ ہے یہ کونسا آئین اور قانون ہے جس کے ساتھ اس سے ملتے ہیں یہ سمجھتا ہے جو یہ کہہ رہا ہے وہ ٹھیک ہے تم ایک وقت میں کسی کو بیوقوف بنا سکتے ہو لیکن ہمیشہ سب کو بیوقوف نہیں بناسکتے یہ سمجھتا ہے وہ حکومت میں نہیں تو آمریت ہے آپ کی سیاست اور شعبدہ بازی کا وقت ختم ہو چکا ہے تمہارے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے اس پر بات کیوں نہیں کرتے پاکستان کے اتنے ایشوز ہیں ان پر بات کیوں نہیں کرتے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم آپ کو اجازت نہیں دیں گے کہ پاکستان کی افواج اور عوام کے درمیان دراڑڈالیں آپ کو اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کو افواج کے خلاف بھڑکائیں فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی آپ کو ہم اجازت نہیں دیں گے تم ہو کون ، کس کی زبان بول رہے ہو تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ذہنی مریض کی منطق کے مطابق جب بھارت نے حملہ کیا یہ ہوتا تو کشکول لے کر چل پڑتا کہ آئو بات کرتے ہیں یہ تو کہتا تھا کہ خارجیوں کا پشاور میں دفتر کھول دیں لوگوں کو ابھارتا ہے کہ ہنگامے کرو اس بات کا بخار تو ان کو پہلے تھا لوگوں کو آپریشن کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے اکساتا ہے ہمیں کلیئر ہے کہ اس کی سیاست یا ذات ریاست سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ذہنی مریض ہے یہ ٹیررکرائم نیکسس منشّیات ، بغیر کسٹم پیڈ کاروں ، اغواء برائے تاوان اور بے تحاشہ چیزوں میں ملوث ہے انہوں نے کہا کہ ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے فوج اپنی ریاست کیلئے جان دیتی ہے اور جان لیتی ہے تم نے اپنے بچے باہر رکھے ہوئے ہیں انہیں لائو اور خوارج کے سامنے کھڑا کرو پاک فوج کے افسران کا تعلق کسی ایلیٹ طبقے سے نہیں خود فیلڈ مارشل ایک سکول ٹیچر کے بیٹے ہیں ہم عوام میں سے آئے ہیں کوئی لوڈر گاڑی چلانے والے کا ، کوئی دکاندار کا ، کوئی کلرک کا کوئی کسی غریب آدمی کا بیٹا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارے افسر اور جوان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہورہے ہیں تم فوج پر تنقید کرتے ہو ذرا دہشتگردوں کے آگے تو آئو اپنے بیٹوں کو تم نے باہر رکھا ہوا ہے ذرا کھڑا کرو انہیں خوارج کے آگے بھیجو اپنی اولاد کو فوج میں لائو پاک فوج کا جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں جاتا ہے خوارج کے سامنے کون کھڑا ہوتا ہے ؟ کون اپنی جانیں دیتا ہے ؟ ہم نے اپنی جانیں دینی بھی ہوتی ہیں اور جانیں لینی بھی ہوتی ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہوں نے عوام کو بتایا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے گا کیا کرگیا؟ یہ بھی بتایا تھا کہ فوج لڑ نہیں سکتی 6 اور7 مئی کو جب بھارت نے ہماری مساجد اور مدارس پر حملہ کیا فوج لڑی یا نہیں اور لڑکر دکھایا پوری دنیا میں اس کی آواز دنیا میں گئی یا نہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گورنر راج کا فیصلہ حکومت کرے گی فوج کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں دہشتگردی ایک دن میں ختم نہیں ہوتی اس کیلئے سیاسی جذبہ درکار ہے نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات جو سب جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ ہے اس پر عملدرآمد ضروری ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کیلئے قربانیاں دیتے ہیں یہ ایف سی پر حملے کراتے ہیں نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر عملدرآمد کس نے کرانا ہے میں کے پی کے پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے قربانیاں دی ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسلح افواج کی قیادت کو نشانہ بنانے والے قوم کے خیر خواہ نہیں جھوٹا پروپیگینڈا پھیلاتے ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر ہر دس منٹ بعد وی لاگ ہورہے تھے یہ شخص صرف پاک فوج کے خلاف بیانیہ بناتا ہے فوج کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے پروپیگینڈا سیل کسی کا بھی نوٹیفکیشن بنالیتا ہے بھارتی اینکرز شعبدہ بازوں کے بیانئے کو ہوا دیتے ہیں اس جماعت کے پیروکار بھارتی میڈیا کو مسلسل منفی مواد فراہم کرتے ہیں خوارجیوں سے بات کرنے کیلئے یہ بیانیہ بنا رہے ہیں آئین میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے لیکن قومی سلامتی پر آئین اظہار رائے کی اجازت نہیں دیتا پاک فوج کے خلاف کسی بیانئے کی اجازت نہیں دیں گے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک شخص نے پاکستان کی ترسیلات زر بند کرنے کا کہا عوام کو بجلی کے بل جمع نہ کرانے کی ترغیب دی لیکن ہم نے اپنے سے آٹھ گنا بڑی فوج کے سامنے کھڑے ہو کر دکھایا کوئی چاہتا ہے کہ فوج دہشتگردوں کے سامنے قوم کی ڈھال نہ بنے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ لوگ بیانئے کو پوری طرح پھیلاتے ہیں افغانستان اور بھارت کا سوشل میڈیا ان کے بیانئے کو بڑھاوا دیتا ہے سوشل میڈیا پر مسلح افواج کی ہرزہ سرائی کی جاتی ہے بھارت اور افغانستان میں موجود ٹرولنگ اکائونٹس لمحوں میں بیانیہ وائرل کرتے ہیں بھارتی میڈیا مخصوص ٹولے کا سب سے بڑا سہولت کار ہے بھارتی میڈیا پر نورین نیازی ملک اور قوم کے خلاف انٹرویو دیتی ہیں سہیل آفریدی کی پریس کانفرنس بھی انڈین میڈیا پر دکھائی جاتی ہے بھارتی میڈیا مسلح افواج کے خلاف پی ٹی آئی کی زبان بنا ہوا ہے یہ افواج پاکستان کے خلاف بیانئے پر بہت زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں خوارجین کا سہولت کار افغان میڈیا بھی ان کے بیانئے پر ٹرولنگ کر رہا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس ذہنی مریض نے دو دن پہلے ٹویٹ کیا اس ذہنی مریض کے ٹویٹ کو افغان اور بھارتی میڈیا نے منٹوں میں وائرل کیا یہ ذہنی مریض پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے ان کی پارٹی سے پوچھیں تو کہتے ہیں ہمیں نہیں پتہ عمران خان کے ٹویٹ کہاں سے ہوتے ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ذہنی مریض کہتا ہے کہ فوج کی اس قیادت کو ٹارگٹ کریں جس نے معرکہ حق میں پاکستان کو فتح دلائی اصل بیانیہ یہی ذہنی مریض دیتا ہے اور یہ صرف پاک فوج کے خلاف بیانیہ بناتا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ماضی میں کسی سیاست دان نے ایسا کام نہیں کیا ان کی سیاست صرف پاک فوج کے گرد گھومتی ہے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے اب وقت ہے کہ ہمیں بتانا پڑے گا کہ یہ بیانیہ کون چلا رہا ہے
چمن : وایش کے پاک-افغان سرحد کے دو مقامات پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں: 🔶پہلا واقعہ بادینی سرحد پر پیش آیا، جہاں فائرنگ رک گئی ہے لیکن جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ دوسرے واقعے میں، فرینڈشپ گیٹ سرحدی کراسنگ پر جو بلوچستان کو قندھار سے ملاتی ہے، دونوں جانب بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں….!!!!مقامی حکام اور ذرائع کے مطابق قریبی علاقوں کی آبادی نے نقل مکانی شروع کر دی ہے….!!!!
ایک مولوی صاحب خوف خدا پہ تقریر فرما رہے تھے۔ خوف خدا پر لمبی تقریر سننے کے بعد مجمع میں سے کسی سامع نے سوال پوچھا:مولانا صاحب جانوروں میں سب سے کم چربی کون سے جانور کی ہے؟.مولوی صاحب دم بخود رہ گئے۔ جواب ان کے پاس تھا نہیں۔ تو تکا لگا کر کسی جانور کا نام لیا جو کہ غلط تھا۔اس پر سامع سے مولانا صاحب نے پوچھا کہ چلو تم ہی بتاؤ اگر تمہارے پاس اس کے بارے میں علم ہے تو؟.اس شخص نے کہا کہ جانوروں میں سب سے کم چربی ہرن میں پائی جاتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسے ہر وقت چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کا خوف رہتا ہے۔ حتیٰ کہ جب وہ پانی پیتا ہے تو کئی مرتبہ ارد گرد نظر دوڑاتا ہے، کہ کہیں کسی کا شکار نہ بن جاؤں۔ اک خوف کی وجہ سے اس میں چربی نہیں بن پاتی۔ اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو آپ نے خوف خدا پر تو بڑی زبردست تقریر کی۔ لیکن آپ کی گردن چربی کی وجہ سے مڑتی نہیں ہے۔مجھے آپ کی سنائی ہوئی اس تقریر سے اتفاق نہیں ہے۔
آج کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور یحییٰ خان کی آخری پریس کانفرنس میں کوئی فرق نہیں تھا۔ جو نفرت کے بیج آپ نے تب بوئے تھے، آج بھی آپ اور آپ کا ادارہ وہیں کھڑے ہیں۔حمودالرحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں! اُس میں انہی armed forces کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ استثنیٰ لینے کے وقت ہی سمجھ گیا تھا کہ آپ کا چیف اور ادارہ کس قدر ڈر چکا ہے، مگر اس قدر ڈرا ہوا ہوگا — اس کا اندازہ نہیں تھا۔ میں نے کئی سال پہلے لکھا تھا کہ فوج کے DNA میں یہ بات شامل ہے کہ جو ان کی جانب سے کیے گئے مظالم پر بولے، اسے غدار قرار دیتے ہیں، اور اس کا علاج صرف گولی سمجھتے ہیں۔ جبکہ سیاست دان ہمیشہ بات چیت کو ترجیح دیتا ہے، یہ ملک بھی اسی بات چیت کے عمل سے وجود میں آیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری صاحب، اب قوم آپ کی گولی سے نہیں ڈرتی۔ ایسے حکمران ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم پر مسلط ہیں۔ قوم سے بھی درخواست ہے کہ توبہ و استغفار کی تسبیح پڑھے، جاوید ہاشمی