
صدارتی استثنیٰ ایک تلخ ریاستی شکست!ستائیسویں ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے فوجی کمانڈ اسٹرکچر بدلا گیا ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو بطور چیف آف ڈیفنس فورسز وسیع اختیارات دیے گئے ہیں اور پانچ ستارہ عہدوں کو تاحیات رینک، مراعات اور فوجداری استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اسی ترمیم کے پیکج میں آرٹیکل 248 میں تبدیلی کے ذریعے صدرِ پاکستان کو بھی تاحیات فوجداری استثنیٰ دیا گیا ہے، البتہ شرط یہ رکھی گئی کہ اگر کوئی سابق صدر بعد میں کوئی اور سرکاری عہدہ سنبھالے تو اس مدت کے دوران اس پر استثنیٰ لاگو نہیں ہو گا۔ یاد رہے کہ پاکستانی آئین کے تحت پہلے بھی صدرِ پاکستان اور گورنر کو عہدہ سنبھالنے کے دوران فوجداری کارروائی سے استثنیٰ حاصل تھا۔

اس ترمیم کے بعد استثنیٰ کے سلسلے میں بھی حَسبِ سابِق اس وقت فوجی قیادت سے زیادہ ہدف تنقید کا نشانہ آصف علی زرداری ہیں۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ مفتی تقی عثمانی جیسے مذہبی علما بھی سویلین صدر کو “گناہگار” قرار دے رہے ہیں لیکن فوجی قیادت کے استثنیٰ پر مکمل خاموش ہیں۔ یہ دوہرا معیار ہے۔ انصاف کا نام لے کر بھی اگر ترازو ایسے ٹیڑھا رکھا جائے تو پھر تنقید کی کیا اوقات رہ جاتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ خود آصف علی زرداری کو اصولی طور پر یہ استثنیٰ لینا ہی نہیں چاہیے تھا، لیکن جب پورا کھیل ہی اس قبضہ گیر کے ہاتھ میں ہو جو اپنے آپ کو سقراطِ دوراں اور نجات دہندہ سمجھتا ہو، اور جسے خاندان شریفیہ اور عمران نیازی دونوں نے اپنی اپنی باری پر سہولت کاری سے مضبوط کیا ہو، تو پھر سارا اخلاقی وعظ صرف زرداری کے دروازے پر جا کر کیوں رکتا ہے؟ جب فوجی قیادت (فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ) کو آئینی طور پر تاحیات استثنیٰ اور مراعات دی جا رہی ہوں تو وفاق کی علامت اور افواج کے سویلین سپریم کمانڈر یعنی صدر پاکستان کو استثنیٰ دینا اصولی طور پر سویلین سپریمیسی کے حق میں استدلال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے یہ مضبوط دلیل بنتی ہے کہ اگر کسی کو استثنیٰ ملنا ہی ہے تو کم از کم فیڈریشن کے منتخب سویلین سربراہ کو اس کا حق فوجی آفیسرز سے کم نہیں ہونا چاہیے۔

پانامہ پیپرز، پیراڈائز پیپرز، پنڈورا پیپرز اور سوئس لیکس جیسے بڑے بین الاقوامی مالیاتی اسکینڈلز میں خاندان شریفیہ اور خاندان نیازیہ کے نام تو بارہا آئے، لیکن بھٹو خاندان اور آصف علی زرداری کا نام ان بڑی عالمی لیکس میں سے کسی ایک میں بھی شامل نہیں رہا۔ لیکن پاکستان میں پچھلی چار دہائیوں میں آصف علی زرداری کے خلاف درجنوں جھوٹے مقدمات بنائے گئے، وہ عمر قید سے زیادہ عرصہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں بے گناہ پابند سلاسل رہے اور ہر دورِ حکومت نے ان کے خلاف نئے ریفرنسز اور کیسز کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یہ تمام کے تمام مقدمات جھوٹے ثابت ہوئے، سب مقدمات بنانے والوں نے تسلیم کیا کہ یہ مقدمات جھوٹے تھے، ان سب نے آصف علی زرداری سے بارہا معافیاں بھی مانگیں، مگر آصف علی زرداری کے خلاف اجتماعی بیانیہ تبدیل نہ ہوا۔ ایک شخص ہے، جس نے جھوٹا مقدمہ بنانے پر آصف علی زرداری سے معافی نہیں مانگی، وہ ہے عمران نیازی، جس نے میڈیا میں چالیس ارب روپے کی منی لانڈرگ کا پروپیگنڈہ کر کے آصف علی زرداری کو گرفتار کیا، چھ ماہ تک اپنی ایک پیج کی سلیکشنی حکومت کا پورا زور لگا کر آصف علی زرداری کو یہ نوٹس بھیجا کہ فلاں کے اکاؤنٹ سے فلاں کے اکاؤنٹ میں، فلاں کے اکاؤنٹ سے فلاں کے اکاؤنٹ میں اور فلاں کے اکاؤنٹ سے فلاں کے اکاؤنٹ میں جو ڈیڑھ کروڑ روپے ٹرانسفر ہوئے ہیں وہ آصف علی زرداری کے ہیں۔ یہ وہ اکاؤنٹس تھے، جن سے آصف علی زرداری کا اکاؤنٹ کھولنے سے لے کر رقم کی وصولی تک رتی برابر تعلق نہ تھا۔ اپنی ہر بات پر انتہائی ڈھٹائی سے یوٹرن لینے والا عمران نیازی جو اپنے مطلب کے لیے ہر گدھے کو جھٹ سے باپ بنا لینے پر ایمان رکھنے والا، وقت پڑنے پر آصف علی زرداری سے معافی کیوں نہ مانگے گا؟برین واشنڈ دولے شاہی چوہوں کے علاوہ ہر باشعور شخص اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے

کہ میڈیا، اسٹیبلشمنٹ اور اس کے جموروں نے مخصوص بیانیہ کے تحت زرداری کو “علامتی کرپٹ ولن” کے طور پر پیش کیا، جبکہ عالمی سطح پر بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں مختلف نام نمایاں ہوئے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ “پارلیمنٹ نے صدر کو استثنیٰ دے کر ظلم کیا”، وہ یہ بتائیں کہ جب طاقت کے اصل مرکز نے فیصلہ کر لیا ہو کہ انھیں اپنے لیے تاحیات قانونی زرہ بکتر چاہیے تو کیا سینیٹ اور قومی اسمبلی کی بساط پر بیٹھے سیاسی مہرے اسے روک سکتے تھے؟ اگر آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ استثنیٰ نہ بھی دیتی تو فوجی قیادت کا استثنیٰ رک سکتا تھا؟حقیقت یہ ہے کہ یہ استثنیٰ زرداری کے لیے کوئی انعام نہیں بلکہ یہ ایک تلخ ریاستی شکست ہے ، جس نے اسے دہائیوں تک “ویلن” بنا کر مارا اور آخر میں خود اس کے کندھے پر بیٹھ کر اپنی کمزوری چھپانے لگی۔آصف علی زرداری نے آئین و قانون کو لتاڑتے ہوئے کبھی خاندان شریفیہ کی طرح مقدمات ختم کروائے اور نہ ہی عمران نیازی کی طرح آئینی اداروں پر حملے کرنے کے بعد اشتہاری ہونے کے باوجود ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر سپریم کورٹ میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی کاروائی دیکھنے کو انجوائے کیا۔آصف علی زرداری کے پاس بدلے کی سیاست کے بے شمار مواقع تھے لیکن انہوں نے شخصی انتقام کے بجائے نظامی اصلاحات کو ترجیح دی۔ اٹھارویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خودمختاری، بلوچستان پیکیج اور خیبرپختونخوا سمیت محروم خطوں کے لیے مالی و انتظامی بااختیاری جیسے اقدامات نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو نیا رخ دیا اور مرکز سے اختیارات نیچے منتقل کیے۔ اسی دور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے بڑے سماجی تحفظاتی اقدامات، زرعی و برآمدی پالیسی میں بہتری، سی پیک ایسا عظیم پروجیکٹ اور پسماندہ طبقات کے لیے سبسڈی پر مبنی ماڈل نے ثابت کیا کہ ان کی ترجیحات میں محض اقتدار کا دوام نہیں بلکہ معاشی شمولیت بھی شامل تھی، اور بعد کی حکومتوں نے بھی ان پروگراموں چلانے پر مجبور ہوئیں اور انھیں جاری رکھ کر اس کارکردگی کا غیر شعوری اعتراف کیا۔ایک طرح سے دیکھا جائے تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے نام پر مخصوص تحریک، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو استثنیٰ ہونے کے باوجود بارہا جھوٹے ثابت ہونے والے سوئس کیسز کے سلسلے میں سوئس عدالت میں بے عزت کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں انصاف کی مسند پر بیٹھے بے ضمیر ججوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی غیر آئینی رخصتگی، آئی ایس آئی کو سویلین کنٹرول میں لینے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور میمو گیٹ میں انتہائی مذموم کردار کرنے والے نواز شریف و عمران نیازی اسٹیبلشمنٹ کی بلیک میلنگ سے اب بچ جائیں گے، جو ہمیشہ آصف علی زرداری کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔سچ یہ ہے کہ سارے مسائل ایک دن میں حل نہیں ہو سکتے۔ ستائیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ناسور کا شافی و کافی علاج ہو چکا ہے۔ اور جس شخص نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اپنے صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر دیئے ہوں، اس کے لیے یہ کون سی بڑی بات ہے کہ کل کو سیاسی توازن بحال ہونے پر فوجی قیادت کے استثنیٰ کے ساتھ اپنا استثنیٰ بھی ختم کر دے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ یہ کام نعرہ بازی اور اینکر پرسنوں کے ڈرائنگ روم سے نہیں بلکہ پارلیمان اور آئین کے فورم سے کرے گا، جیسا اس کا مزاج رہا ہے۔آصف زرداری کا جرم کرپشن نہیں، بلکہ وہ مردِ آہن ہونا ہے جس نے اس ریاست کے جبر کو شکست دی۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی جوانی کے قیمتی ترین سال، جو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنے اور رفیقہ حیات کے ساتھ بتانے کے تھے، وہ کال کوٹھڑیوں کی نذر کر دیئے۔ وہ عمر قید سے زیادہ عرصہ جیل میں رہے، زبان نہیں کھولی، کوئی ڈیل نہیں کی۔ اس کے مقابلے میں وہ ”لاڈلے“ اور ”انقلابی“ دیکھیے جو طیارے میں بیٹھ کر جدہ یا لندن بھاگ جاتے ہیں یا پھر جیل میں چیختے چلاتے ہیں اور فریادیں کرتے ہیں کہ انھیں پھر سے سلیکٹ کر لیا جائے۔اپنے ضمیر کی بدبو چھپا کر آصف علی زرداری کو ولن کہنے والے بھلے جتنے منفی پروپیگنڈہ کے طوفاں برپا کریں لیکن یہ حقیقت کہ آصف علی زرداری پاکستان کے سیاسی ارتقا کے سب سے اہم ترین کردار ہیں۔ جو لوگ آج یہ طعنہ دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے کیوں نہیں لڑتی، وہ خود کیوں میدان میں نہیں آتے؟ یہ تماش بینوں کا ٹولہ چاہتا ہے کہ ”رٹ“ ریاست کی ہو، مگر لاشیں جیالوں کی گریں۔ جو لوگ زرداری کے ”ایوولیوشن“ (ارتقا) کی بجائے ”ریوولیوشن“ (انقلاب) چاہتے ہیں، وہ ذرا ہمت کریں اور اپنے بل بوتے پر باہر

افغان ملڑے ۔ اظہر سید ہمیشہ پاکستان نے مدد کی لیکن یہ احسان فراموش نکلے ۔ائندہ ہفتوں میں افغان ملڑے کی پٹائی ہونے جا رہی ہے لیکن وہ اپنے ہمیشہ کے محسن پاکستان سے بگاڑ بیٹھے ہیں۔اب انکی دلیری کا پول کھل جائے گا اور اس فراڈ کا خاتمہ بھی ہوگا کہ افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے۔تین ہفتے پاکستان نے سرحدیں بند کیں چیں بول گئی ، قحط کی دہائیاں دینے لگے ۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی درخواست پر امدادی سامان لیجانے کی اجازت تو دے دی ہے لیکن یہ صرف ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء تک محدود ہے ۔ٹرانزٹ ٹریڈ کی سونے کی چڑیا آڑ گئی ہے ۔اب تبھی واپس آئے گی جب نئی افغان حکومت بن چکی ہو گی۔سوویت یونین کے حملہ کے بعد پاکستان نے انہیں پناہ اور تحفظ دیا۔امریکہ اور ناٹو حملہ کے بعد پاکستان گڈ بیڈ طالبان کا کھیل کھیل کر ملڑے کو تحفظ دیتا رہا۔اب جب ایک طرف سے تاجکستان ،ایک طرف سے ایران اور ایک طرف سے پاکستان ملڑوں کی ناک بند کرے گا کون انہیں بچائے گا۔اللہ تعالیٰ خود نیچے آکر مدد نہیں کرتا کسی کی ڈیوٹی لگاتا ہے ۔چالیس سال گزر گئے پاکستان ڈیوٹی دیتا رہا ملڑوں کو بچاتا رہا۔انکی حکومت بنوا کر فرمائشیں بھی پوری کیں ۔دہشت گردوں کو پاکستان واپس لانے کی درخواست مانی تاکہ انہیں معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے اور ملڑے سکون سے حکومت کر سکیں۔یہ احسان مند ہونے کی بجائے فراڈ کرنے لگے۔پیسوں کی فرمائش ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔ہاتھ کیا روکا پاکستان کو ہی نشانہ پر رکھ لیا۔بلوچ عسکریت پسندوں اور خارجیوں کے زریعے بلیک میل کرنے لگے “پیسے دو”بھارتیوں سے پینگیں بڑھانےلگے۔اپنی حماقتوں سے دنیا بھر میں افغانوں کی زندگیاں جہنم بنا دیں۔ایرانی بھی مار مار کر نکال رہے ہیں اور پاکستانی بھی۔وسط ایشیا کی ریاستوں نے بھی سرحد پار کرنے پر گولیاں مارنی شروع کر دی ہیں اور امریکی بھی نکالنے کیلئے کریک ڈاؤن شروع کر چکے ہیں۔خواتین کی تعلیم پر پابندی لگا دی۔امریکی چالیس ملین ڈالر ہر ہفتے دیتے تھے وہ بھی پچھلے ہفتے سے بند کر دئے ہیں ۔چینیوں سے بھتہ مانگنے لگے تو انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔ٹرانزٹ ٹریڈ سے ڈالر بناتے تھے پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ ہی بند کر دی ہے ۔ملک میں روزگار ہے نہ پیسے۔کارخانے ہیں نہ تجارت ۔بھوک غربت اور افلاس ہے اوپر سے چالیس لاکھ پاکستان اور ایران نے بھیج دئے ہیں۔کوئی افغانی اس جہنم میں جانے کو تیار نہیں لیکن ملڑے کی حماقتوں سے دنیا کے تمام ممالک افغانوں کو اس جہنم میں واپس بھیج رہے ہیں۔افغان عوام کو ان وحشی درندوں سے نجات دلانے کا نیک فریضہ اب خطہ کے ممالک ہی مشترکہ طور پر سر انجام دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور ملڑوں کو اب تحفظ دینے والا کوئی ملک موجود نہیں۔
*خوشامد کی انتہا، روسی صدر کی آمد سے قبل ہی بھارت میں پیوٹن کی پوجا شروع*روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 2 روزہ سرکاری دورے کے لیے بھارت پہنچ رہے ہیں اور اس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ تاہم بھارت سے دلچسپ ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں جن پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔اتر پردیش میں وارانسی سے غیر معمولی مناظر نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی ہے جہاں مقامی لوگوں نے روسی صدر کے استقبال کے لیے آرتی کی اور ایک ویلکم مارچ بھی نکالا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ صارفین کی جانب سے ان ویڈیوز پر سوال اٹھایا گیا کہ یہ سب کیوں کیا جا رہا ہے اور کئی صارفین اس کا مذاق بھی اڑاتے نظر آئے۔

، ,*_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات ہونے پر مبارکباد_*وزیراعظم کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی عصری اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے ؛ ملک کا دفاع مزید بہتر ہو گا : وزیراعظم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہماری بہادر افواج نے دشمن کو عبرتناک شکست دی : وزیراعظم فیلڈ مارشل کی قیادت میں معرکہء حق میں شاندار کامیابی سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن ہوا اور پاکستان کو عزت ملی: وزیراعظم *وزیراعظم کی چیف آف ایئر اسٹاف ظہیر احمد بابر سدھو کو بھی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار*ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستان فضائیہ نے معرکہء حق میں شاندار پیشہ ورانہ کا صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے جنگی ہوائی جہاز تباہ کئے اور دشمن پر اپنی دھاک بٹھائی : وزیراعظم پاکستان کے دفاع، ترقی و خوشحالی کے لئے ملک کے تمام ادارے مل کر کام کریں گے : وزیراعظم ملک کے دفاع کو مل کر ناقابل تسخیر بنائیں گے. وزیر اعظم __
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ میگا کرپشن کیس میں سزایافتہ قیدی ہیں، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی کی خاتون رہنما نے انڈین میڈیا اور افغان میڈیا پر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرے میں ہے، وزیر اطلاعاتبانی پی ٹی آئی کو جیل میں اضافی سہولیات دستیاب ہیں، وزیر اطلاعاتملکی تاریخ میں کسی قیدی کو بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات میسر نہیں، وزیر اطلاعاتکسی قیدی کو قید میں بائیسکل نہیں ملی، وزیر اطلاعاتانہوں نے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا کہ میں اے سی اتروائوں گا، وزیر اطلاعاتپاکستان کو بدنام کرنے کے لئے انٹرنیشںل میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں، وزیر اطلاعاتبانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہائوس لاہور کے باہر موجود تھیں، ان کی موجودگی وہاں ثابت ہے، وزیر اطلاعاترولز میں کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں ہے، وزیر اطلاعاترپورٹ ہوا ہے کہ سیاسی گفتگو ہوئی ہے، عظمیٰ خان کی ملاقات بند ہے، وزیر اطلاعاترولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات پر پابندی عائد ہے، وزیر اطلاعاتجیل کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا، وزیر اطلاعاتاندر سے پیغام آتا ہے کہ فوج اور فوج کے سربراہ کے خلاف ٹویٹ کرو، وزیر اطلاعاتیہ مایوسی کا شکار ہیں، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی دور میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گرفتار کیا گیا، وزیر اطلاعات
ڈنڈے کی کرامت سے لاہور میں نہ کوئی موٹر سائیکل سوار بنا ہیلمٹ کے نظر آ رہا ہے۔ نہ کوئی رانگ وے آتا نظر آ رہا ہے اور نہ کوئی زگ زیگ ہوتا تیز رفتاری سے گزرتا نظر آ رہا ہے۔ ساری قوم جاپانی بن گئی ہے۔ آفس جاتے اور آتے لاہور کی سڑکوں پر اشاروں پر رُکے باترتیب ہیلمٹ بردار موٹر سائیکل سواروں کو دیکھ کر بہت الگ سی فیلنگ آتی ہے۔ یوں جیسے یہ سب نارمل نہ ہو اور کہیں کوئی شدید گڑبڑ ہو۔ دراصل ایسے روح پرور مناظر اس دھرتی پر آنکھ نے پہلے دیکھے نہیں ہیں اس لیے جذب کرنے میں کچھ دن لگیں گے۔، خیر، حفظ ما تقدم کے طور پر میں نے بھی گاڑی میں پسنجر سیٹ پر ہیلمٹ رکھ دیا ہے۔ یوں بھی بالخصوص ہر شادی شدہ مرد کے پاس گھر میں بھی ہیلمٹ ہونا ضروری ہے۔ اس کے بیشمار فائدے ہیں ۔اور ہیلمٹ تو اندرون لاہور کی گلیوں میں چلتے ہوئے پہننا اشد ضروری ہو جاتا ہے۔اندرون لاہور کی تنگ و تاریک گلیوں میں بلند و بالا حویلیاں اور قدیم مکانات ہیں جن کے چوباروں پر ہی رونق لگی رہتی ہے اور وہیں سے معاملات زندگی چلتے ہیں۔

ان مکانوں سے سیڑھیاں اُتر کر گلی میں شاید کوئی مجبوری کے تحت آتا ہو وگرنہ اوپر سے ہی رسی سے بندھی ٹوکری آتی ہے اور نیچے سے سبزی، دودھ، پھل، وغیرہ اوپر کی جانب ٹرانسپورٹ ہو جاتے ہیں۔ ایک بار پولیو مہم کے سلسلے میں اندرون لاہور گھومتے ایک چھت سے بچے کا استعمال شدہ اور رول شدہ پیمپر راکٹ کی مافق آیا اور میری کنپٹی کو چھوتے زمین دوز ہو کر بکھر گیا۔ مولا کا بہت شکر کہ میرے اوپر نہیں بکھر گیا۔ نہیں نہیں المیہ یہ بھی نہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ چھت سے پیمپر لانچ کرنے والی پیمپر لانچر بیبی نے تورنت کہا “ وے پائی توں ویخ کے نئیں ٹُردا ؟”۔میں نے کہا محترمہ میں ان گلیوں میں اجنبی ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہاں اوپر دیکھ کر چلنا ہوتا ہے۔بیبی بھی پکی لاہورن تھی۔ بولی “چل پائی بوہتی ٹیں ٹیں نہ کر۔” 🥹اس دن کے بعد سے جب جانا ہو میں اپنی سیکیورٹی ٹائٹ کر لیتا ہوں۔ ایک بار تھانہ اکبری منڈی کے پاس اہلکاروں کی کمی تھی۔ مجھے پولیو مہم پر آفیشل وزٹ کے سلسلے میں anti riot force کا ایک اہلکار برائے پروٹوکول دے دیا جو یو این فیلڈ افسران کا پروٹوکول ہوتا ہے۔ اس چچا نے ہاتھ میں لاٹھی اور لوہے کی گرل تھام رکھی تھی۔ سر پر ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔ وہ ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ گپ شپ شروع ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ اپنا ہیلمٹ مجھے دے دو۔ آپ آگے آگے جنگلہ اُٹھا کر قدم بہ قدم اوپر کی جانب دیکھتے ہوئے چلو بس۔ جب بھی حملہ ہونا ہے اوپر سے ہی ہونا ہے۔ پھر اسے یہ واقعہ سنایا۔ وہ سن کر ہنسا اور اس نے سچ میں اپنا ہیلمٹ مجھے دے دیا۔تو میں کہہ رہا تھا ڈنڈے کی کرامت سے روح پرور مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان کو دیکھ کر ایک شعر یاد آ جاتا ہےچار کتاباں عرشوں لتھیاں تے پنجواں لتھا ڈنڈاچاراں کتاباں کجھ نا کیتا ، سب کجھ کردا ڈنڈا












































