بجلی کا بل اور فی یونٹ 100 روپے کا ھو گیا ریاست کے اندر ریاست۔رل تے گئے ا پر چس بڑی ای جے سو گنڈے اور سو چھتر۔۔”سب ٹھیک ہے، سب آپکے سامنے ہے۔۔۔””پاکستان یہاں سے اب اونچی اڑان کی طرف جائے گا۔۔۔۔”فیلڈ مارشل عاصم منیر۔۔عمران خان کی ضمانت رھای جلد وزیر اعلی کے پی۔ائین اور قانون میں رھتے ھوے اجتھجاج نھی وفاقی حکومت بناے گئے۔۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کے حوالگی کے کاغذات برطانوی ہائی کمشنز کو دے دیے۔۔این ایف سی ایوارڈ مامعلات طے وزیر اعلی کے پی توجہ کا مرکز۔عمران خان سزا یافتہ قیدی ھے حکومت پاکستان۔آج کےبعد عمران خان کی ملاقاتیں مکمل بند ہیں۔۔ ہدایات دے دی گئی ہیں۔۔ جو جیل کے باہر آئے گا سختی سے کاروائی ہو گئی ۔۔آئندہ سےعظمی خان کی ملاقاتیں بھی نہیں ہونگی۔۔ حکومت نے عمران خان کی ملاقاتیں بند کرنے کا اعلان کر دیا۔۔عمران خان کی تمام ملاقاتیں بند۔۔مودی روسی صدر کے نوکر کے روپ میں۔افغان ملھڑے اور پاکستان۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

صدارتی استثنیٰ ایک تلخ ریاستی شکست!ستائیسویں ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے فوجی کمانڈ اسٹرکچر بدلا گیا ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو بطور چیف آف ڈیفنس فورسز وسیع اختیارات دیے گئے ہیں اور پانچ ستارہ عہدوں کو تاحیات رینک، مراعات اور فوجداری استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اسی ترمیم کے پیکج میں آرٹیکل 248 میں تبدیلی کے ذریعے صدرِ پاکستان کو بھی تاحیات فوجداری استثنیٰ دیا گیا ہے، البتہ شرط یہ رکھی گئی کہ اگر کوئی سابق صدر بعد میں کوئی اور سرکاری عہدہ سنبھالے تو اس مدت کے دوران اس پر استثنیٰ لاگو نہیں ہو گا۔ یاد رہے کہ پاکستانی آئین کے تحت پہلے بھی صدرِ پاکستان اور گورنر کو عہدہ سنبھالنے کے دوران فوجداری کارروائی سے استثنیٰ حاصل تھا۔

اس ترمیم کے بعد استثنیٰ کے سلسلے میں بھی حَسبِ سابِق اس وقت فوجی قیادت سے زیادہ ہدف تنقید کا نشانہ آصف علی زرداری ہیں۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ مفتی تقی عثمانی جیسے مذہبی علما بھی سویلین صدر کو “گناہگار” قرار دے رہے ہیں لیکن فوجی قیادت کے استثنیٰ پر مکمل خاموش ہیں۔ یہ دوہرا معیار ہے۔ انصاف کا نام لے کر بھی اگر ترازو ایسے ٹیڑھا رکھا جائے تو پھر تنقید کی کیا اوقات رہ جاتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ خود آصف علی زرداری کو اصولی طور پر یہ استثنیٰ لینا ہی نہیں چاہیے تھا، لیکن جب پورا کھیل ہی اس قبضہ گیر کے ہاتھ میں ہو جو اپنے آپ کو سقراطِ دوراں اور نجات دہندہ سمجھتا ہو، اور جسے خاندان شریفیہ اور عمران نیازی دونوں نے اپنی اپنی باری پر سہولت کاری سے مضبوط کیا ہو، تو پھر سارا اخلاقی وعظ صرف زرداری کے دروازے پر جا کر کیوں رکتا ہے؟ جب فوجی قیادت (فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ) کو آئینی طور پر تاحیات استثنیٰ اور مراعات دی جا رہی ہوں تو وفاق کی علامت اور افواج کے سویلین سپریم کمانڈر یعنی صدر پاکستان کو استثنیٰ دینا اصولی طور پر سویلین سپریمیسی کے حق میں استدلال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے یہ مضبوط دلیل بنتی ہے کہ اگر کسی کو استثنیٰ ملنا ہی ہے تو کم از کم فیڈریشن کے منتخب سویلین سربراہ کو اس کا حق فوجی آفیسرز سے کم نہیں ہونا چاہیے۔

پانامہ پیپرز، پیراڈائز پیپرز، پنڈورا پیپرز اور سوئس لیکس جیسے بڑے بین الاقوامی مالیاتی اسکینڈلز میں خاندان شریفیہ اور خاندان نیازیہ کے نام تو بارہا آئے، لیکن بھٹو خاندان اور آصف علی زرداری کا نام ان بڑی عالمی لیکس میں سے کسی ایک میں بھی شامل نہیں رہا۔ لیکن پاکستان میں پچھلی چار دہائیوں میں آصف علی زرداری کے خلاف درجنوں جھوٹے مقدمات بنائے گئے، وہ عمر قید سے زیادہ عرصہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں بے گناہ پابند سلاسل رہے اور ہر دورِ حکومت نے ان کے خلاف نئے ریفرنسز اور کیسز کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یہ تمام کے تمام مقدمات جھوٹے ثابت ہوئے، سب مقدمات بنانے والوں نے تسلیم کیا کہ یہ مقدمات جھوٹے تھے، ان سب نے آصف علی زرداری سے بارہا معافیاں بھی مانگیں، مگر آصف علی زرداری کے خلاف اجتماعی بیانیہ تبدیل نہ ہوا۔ ایک شخص ہے، جس نے جھوٹا مقدمہ بنانے پر آصف علی زرداری سے معافی نہیں مانگی، وہ ہے عمران نیازی، جس نے میڈیا میں چالیس ارب روپے کی منی لانڈرگ کا پروپیگنڈہ کر کے آصف علی زرداری کو گرفتار کیا، چھ ماہ تک اپنی ایک پیج کی سلیکشنی حکومت کا پورا زور لگا کر آصف علی زرداری کو یہ نوٹس بھیجا کہ فلاں کے اکاؤنٹ سے فلاں کے اکاؤنٹ میں، فلاں کے اکاؤنٹ سے فلاں کے اکاؤنٹ میں اور فلاں کے اکاؤنٹ سے فلاں کے اکاؤنٹ میں جو ڈیڑھ کروڑ روپے ٹرانسفر ہوئے ہیں وہ آصف علی زرداری کے ہیں۔ یہ وہ اکاؤنٹس تھے، جن سے آصف علی زرداری کا اکاؤنٹ کھولنے سے لے کر رقم کی وصولی تک رتی برابر تعلق نہ تھا۔ اپنی ہر بات پر انتہائی ڈھٹائی سے یوٹرن لینے والا عمران نیازی جو اپنے مطلب کے لیے ہر گدھے کو جھٹ سے باپ بنا لینے پر ایمان رکھنے والا، وقت پڑنے پر آصف علی زرداری سے معافی کیوں نہ مانگے گا؟برین واشنڈ دولے شاہی چوہوں کے علاوہ ہر باشعور شخص اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے

کہ میڈیا، اسٹیبلشمنٹ اور اس کے جموروں نے مخصوص بیانیہ کے تحت زرداری کو “علامتی کرپٹ ولن” کے طور پر پیش کیا، جبکہ عالمی سطح پر بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں مختلف نام نمایاں ہوئے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ “پارلیمنٹ نے صدر کو استثنیٰ دے کر ظلم کیا”، وہ یہ بتائیں کہ جب طاقت کے اصل مرکز نے فیصلہ کر لیا ہو کہ انھیں اپنے لیے تاحیات قانونی زرہ بکتر چاہیے تو کیا سینیٹ اور قومی اسمبلی کی بساط پر بیٹھے سیاسی مہرے اسے روک سکتے تھے؟ اگر آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ استثنیٰ نہ بھی دیتی تو فوجی قیادت کا استثنیٰ رک سکتا تھا؟حقیقت یہ ہے کہ یہ استثنیٰ زرداری کے لیے کوئی انعام نہیں بلکہ یہ ایک تلخ ریاستی شکست ہے ، جس نے اسے دہائیوں تک “ویلن” بنا کر مارا اور آخر میں خود اس کے کندھے پر بیٹھ کر اپنی کمزوری چھپانے لگی۔آصف علی زرداری نے آئین و قانون کو لتاڑتے ہوئے کبھی خاندان شریفیہ کی طرح مقدمات ختم کروائے اور نہ ہی عمران نیازی کی طرح آئینی اداروں پر حملے کرنے کے بعد اشتہاری ہونے کے باوجود ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر سپریم کورٹ میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی کاروائی دیکھنے کو انجوائے کیا۔آصف علی زرداری کے پاس بدلے کی سیاست کے بے شمار مواقع تھے لیکن انہوں نے شخصی انتقام کے بجائے نظامی اصلاحات کو ترجیح دی۔ اٹھارویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خودمختاری، بلوچستان پیکیج اور خیبرپختونخوا سمیت محروم خطوں کے لیے مالی و انتظامی بااختیاری جیسے اقدامات نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو نیا رخ دیا اور مرکز سے اختیارات نیچے منتقل کیے۔ اسی دور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے بڑے سماجی تحفظاتی اقدامات، زرعی و برآمدی پالیسی میں بہتری، سی پیک ایسا عظیم پروجیکٹ اور پسماندہ طبقات کے لیے سبسڈی پر مبنی ماڈل نے ثابت کیا کہ ان کی ترجیحات میں محض اقتدار کا دوام نہیں بلکہ معاشی شمولیت بھی شامل تھی، اور بعد کی حکومتوں نے بھی ان پروگراموں چلانے پر مجبور ہوئیں اور انھیں جاری رکھ کر اس کارکردگی کا غیر شعوری اعتراف کیا۔ایک طرح سے دیکھا جائے تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے نام پر مخصوص تحریک، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو استثنیٰ ہونے کے باوجود بارہا جھوٹے ثابت ہونے والے سوئس کیسز کے سلسلے میں سوئس عدالت میں بے عزت کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں انصاف کی مسند پر بیٹھے بے ضمیر ججوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی غیر آئینی رخصتگی، آئی ایس آئی کو سویلین کنٹرول میں لینے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور میمو گیٹ میں انتہائی مذموم کردار کرنے والے نواز شریف و عمران نیازی اسٹیبلشمنٹ کی بلیک میلنگ سے اب بچ جائیں گے، جو ہمیشہ آصف علی زرداری کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔سچ یہ ہے کہ سارے مسائل ایک دن میں حل نہیں ہو سکتے۔ ستائیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ناسور کا شافی و کافی علاج ہو چکا ہے۔ اور جس شخص نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اپنے صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر دیئے ہوں، اس کے لیے یہ کون سی بڑی بات ہے کہ کل کو سیاسی توازن بحال ہونے پر فوجی قیادت کے استثنیٰ کے ساتھ اپنا استثنیٰ بھی ختم کر دے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ یہ کام نعرہ بازی اور اینکر پرسنوں کے ڈرائنگ روم سے نہیں بلکہ پارلیمان اور آئین کے فورم سے کرے گا، جیسا اس کا مزاج رہا ہے۔آصف زرداری کا جرم کرپشن نہیں، بلکہ وہ مردِ آہن ہونا ہے جس نے اس ریاست کے جبر کو شکست دی۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی جوانی کے قیمتی ترین سال، جو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنے اور رفیقہ حیات کے ساتھ بتانے کے تھے، وہ کال کوٹھڑیوں کی نذر کر دیئے۔ وہ عمر قید سے زیادہ عرصہ جیل میں رہے، زبان نہیں کھولی، کوئی ڈیل نہیں کی۔ اس کے مقابلے میں وہ ”لاڈلے“ اور ”انقلابی“ دیکھیے جو طیارے میں بیٹھ کر جدہ یا لندن بھاگ جاتے ہیں یا پھر جیل میں چیختے چلاتے ہیں اور فریادیں کرتے ہیں کہ انھیں پھر سے سلیکٹ کر لیا جائے۔اپنے ضمیر کی بدبو چھپا کر آصف علی زرداری کو ولن کہنے والے بھلے جتنے منفی پروپیگنڈہ کے طوفاں برپا کریں لیکن یہ حقیقت کہ آصف علی زرداری پاکستان کے سیاسی ارتقا کے سب سے اہم ترین کردار ہیں۔ جو لوگ آج یہ طعنہ دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے کیوں نہیں لڑتی، وہ خود کیوں میدان میں نہیں آتے؟ یہ تماش بینوں کا ٹولہ چاہتا ہے کہ ”رٹ“ ریاست کی ہو، مگر لاشیں جیالوں کی گریں۔ جو لوگ زرداری کے ”ایوولیوشن“ (ارتقا) کی بجائے ”ریوولیوشن“ (انقلاب) چاہتے ہیں، وہ ذرا ہمت کریں اور اپنے بل بوتے پر باہر

افغان ملڑے ۔ اظہر سید ہمیشہ پاکستان نے مدد کی لیکن یہ احسان فراموش نکلے ۔ائندہ ہفتوں میں افغان ملڑے کی پٹائی ہونے جا رہی ہے لیکن وہ اپنے ہمیشہ کے محسن پاکستان سے بگاڑ بیٹھے ہیں۔اب انکی دلیری کا پول کھل جائے گا اور اس فراڈ کا خاتمہ بھی ہوگا کہ افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے۔تین ہفتے پاکستان نے سرحدیں بند کیں چیں بول گئی ، قحط کی دہائیاں دینے لگے ۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی درخواست پر امدادی سامان لیجانے کی اجازت تو دے دی ہے لیکن یہ صرف ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء تک محدود ہے ۔ٹرانزٹ ٹریڈ کی سونے کی چڑیا آڑ گئی ہے ۔اب تبھی واپس آئے گی جب نئی افغان حکومت بن چکی ہو گی۔سوویت یونین کے حملہ کے بعد پاکستان نے انہیں پناہ اور تحفظ دیا۔امریکہ اور ناٹو حملہ کے بعد پاکستان گڈ بیڈ طالبان کا کھیل کھیل کر ملڑے کو تحفظ دیتا رہا۔اب جب ایک طرف سے تاجکستان ،ایک طرف سے ایران اور ایک طرف سے پاکستان ملڑوں کی ناک بند کرے گا کون انہیں بچائے گا۔اللہ تعالیٰ خود نیچے آکر مدد نہیں کرتا کسی کی ڈیوٹی لگاتا ہے ۔چالیس سال گزر گئے پاکستان ڈیوٹی دیتا رہا ملڑوں کو بچاتا رہا۔انکی حکومت بنوا کر فرمائشیں بھی پوری کیں ۔دہشت گردوں کو پاکستان واپس لانے کی درخواست مانی تاکہ انہیں معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے اور ملڑے سکون سے حکومت کر سکیں۔یہ احسان مند ہونے کی بجائے فراڈ کرنے لگے۔پیسوں کی فرمائش ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔ہاتھ کیا روکا پاکستان کو ہی نشانہ پر رکھ لیا۔بلوچ عسکریت پسندوں اور خارجیوں کے زریعے بلیک میل کرنے لگے “پیسے دو”بھارتیوں سے پینگیں بڑھانےلگے۔اپنی حماقتوں سے دنیا بھر میں افغانوں کی زندگیاں جہنم بنا دیں۔ایرانی بھی مار مار کر نکال رہے ہیں اور پاکستانی بھی۔وسط ایشیا کی ریاستوں نے بھی سرحد پار کرنے پر گولیاں مارنی شروع کر دی ہیں اور امریکی بھی نکالنے کیلئے کریک ڈاؤن شروع کر چکے ہیں۔خواتین کی تعلیم پر پابندی لگا دی۔امریکی چالیس ملین ڈالر ہر ہفتے دیتے تھے وہ بھی پچھلے ہفتے سے بند کر دئے ہیں ۔چینیوں سے بھتہ مانگنے لگے تو انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔ٹرانزٹ ٹریڈ سے ڈالر بناتے تھے پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ ہی بند کر دی ہے ۔ملک میں روزگار ہے نہ پیسے۔کارخانے ہیں نہ تجارت ۔بھوک غربت اور افلاس ہے اوپر سے چالیس لاکھ پاکستان اور ایران نے بھیج دئے ہیں۔کوئی افغانی اس جہنم میں جانے کو تیار نہیں لیکن ملڑے کی حماقتوں سے دنیا کے تمام ممالک افغانوں کو اس جہنم میں واپس بھیج رہے ہیں۔افغان عوام کو ان وحشی درندوں سے نجات دلانے کا نیک فریضہ اب خطہ کے ممالک ہی مشترکہ طور پر سر انجام دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور ملڑوں کو اب تحفظ دینے والا کوئی ملک موجود نہیں۔

*خوشامد کی انتہا، روسی صدر کی آمد سے قبل ہی بھارت میں پیوٹن کی پوجا شروع*روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 2 روزہ سرکاری دورے کے لیے بھارت پہنچ رہے ہیں اور اس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ تاہم بھارت سے دلچسپ ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں جن پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔اتر پردیش میں وارانسی سے غیر معمولی مناظر نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی ہے جہاں مقامی لوگوں نے روسی صدر کے استقبال کے لیے آرتی کی اور ایک ویلکم مارچ بھی نکالا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ صارفین کی جانب سے ان ویڈیوز پر سوال اٹھایا گیا کہ یہ سب کیوں کیا جا رہا ہے اور کئی صارفین اس کا مذاق بھی اڑاتے نظر آئے۔

، ,*_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات ہونے پر مبارکباد_*وزیراعظم کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی عصری اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے ؛ ملک کا دفاع مزید بہتر ہو گا : وزیراعظم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہماری بہادر افواج نے دشمن کو عبرتناک شکست دی : وزیراعظم فیلڈ مارشل کی قیادت میں معرکہء حق میں شاندار کامیابی سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن ہوا اور پاکستان کو عزت ملی: وزیراعظم *وزیراعظم کی چیف آف ایئر اسٹاف ظہیر احمد بابر سدھو کو بھی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار*ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستان فضائیہ نے معرکہء حق میں شاندار پیشہ ورانہ کا صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے جنگی ہوائی جہاز تباہ کئے اور دشمن پر اپنی دھاک بٹھائی : وزیراعظم پاکستان کے دفاع، ترقی و خوشحالی کے لئے ملک کے تمام ادارے مل کر کام کریں گے : وزیراعظم ملک کے دفاع کو مل کر ناقابل تسخیر بنائیں گے. وزیر اعظم __

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ میگا کرپشن کیس میں سزایافتہ قیدی ہیں، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی کی خاتون رہنما نے انڈین میڈیا اور افغان میڈیا پر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرے میں ہے، وزیر اطلاعاتبانی پی ٹی آئی کو جیل میں اضافی سہولیات دستیاب ہیں، وزیر اطلاعاتملکی تاریخ میں کسی قیدی کو بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات میسر نہیں، وزیر اطلاعاتکسی قیدی کو قید میں بائیسکل نہیں ملی، وزیر اطلاعاتانہوں نے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا کہ میں اے سی اتروائوں گا، وزیر اطلاعاتپاکستان کو بدنام کرنے کے لئے انٹرنیشںل میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں، وزیر اطلاعاتبانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہائوس لاہور کے باہر موجود تھیں، ان کی موجودگی وہاں ثابت ہے، وزیر اطلاعاترولز میں کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں ہے، وزیر اطلاعاترپورٹ ہوا ہے کہ سیاسی گفتگو ہوئی ہے، عظمیٰ خان کی ملاقات بند ہے، وزیر اطلاعاترولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات پر پابندی عائد ہے، وزیر اطلاعاتجیل کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا، وزیر اطلاعاتاندر سے پیغام آتا ہے کہ فوج اور فوج کے سربراہ کے خلاف ٹویٹ کرو، وزیر اطلاعاتیہ مایوسی کا شکار ہیں، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی دور میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گرفتار کیا گیا، وزیر اطلاعات

ڈنڈے کی کرامت سے لاہور میں نہ کوئی موٹر سائیکل سوار بنا ہیلمٹ کے نظر آ رہا ہے۔ نہ کوئی رانگ وے آتا نظر آ رہا ہے اور نہ کوئی زگ زیگ ہوتا تیز رفتاری سے گزرتا نظر آ رہا ہے۔ ساری قوم جاپانی بن گئی ہے۔ آفس جاتے اور آتے لاہور کی سڑکوں پر اشاروں پر رُکے باترتیب ہیلمٹ بردار موٹر سائیکل سواروں کو دیکھ کر بہت الگ سی فیلنگ آتی ہے۔ یوں جیسے یہ سب نارمل نہ ہو اور کہیں کوئی شدید گڑبڑ ہو۔ دراصل ایسے روح پرور مناظر اس دھرتی پر آنکھ نے پہلے دیکھے نہیں ہیں اس لیے جذب کرنے میں کچھ دن لگیں گے۔، خیر، حفظ ما تقدم کے طور پر میں نے بھی گاڑی میں پسنجر سیٹ پر ہیلمٹ رکھ دیا ہے۔ یوں بھی بالخصوص ہر شادی شدہ مرد کے پاس گھر میں بھی ہیلمٹ ہونا ضروری ہے۔ اس کے بیشمار فائدے ہیں ۔اور ہیلمٹ تو اندرون لاہور کی گلیوں میں چلتے ہوئے پہننا اشد ضروری ہو جاتا ہے۔اندرون لاہور کی تنگ و تاریک گلیوں میں بلند و بالا حویلیاں اور قدیم مکانات ہیں جن کے چوباروں پر ہی رونق لگی رہتی ہے اور وہیں سے معاملات زندگی چلتے ہیں۔

ان مکانوں سے سیڑھیاں اُتر کر گلی میں شاید کوئی مجبوری کے تحت آتا ہو وگرنہ اوپر سے ہی رسی سے بندھی ٹوکری آتی ہے اور نیچے سے سبزی، دودھ، پھل، وغیرہ اوپر کی جانب ٹرانسپورٹ ہو جاتے ہیں۔ ایک بار پولیو مہم کے سلسلے میں اندرون لاہور گھومتے ایک چھت سے بچے کا استعمال شدہ اور رول شدہ پیمپر راکٹ کی مافق آیا اور میری کنپٹی کو چھوتے زمین دوز ہو کر بکھر گیا۔ مولا کا بہت شکر کہ میرے اوپر نہیں بکھر گیا۔ نہیں نہیں المیہ یہ بھی نہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ چھت سے پیمپر لانچ کرنے والی پیمپر لانچر بیبی نے تورنت کہا “ وے پائی توں ویخ کے نئیں ٹُردا ؟”۔میں نے کہا محترمہ میں ان گلیوں میں اجنبی ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہاں اوپر دیکھ کر چلنا ہوتا ہے۔بیبی بھی پکی لاہورن تھی۔ بولی “چل پائی بوہتی ٹیں ٹیں نہ کر۔” 🥹اس دن کے بعد سے جب جانا ہو میں اپنی سیکیورٹی ٹائٹ کر لیتا ہوں۔ ایک بار تھانہ اکبری منڈی کے پاس اہلکاروں کی کمی تھی۔ مجھے پولیو مہم پر آفیشل وزٹ کے سلسلے میں anti riot force کا ایک اہلکار برائے پروٹوکول دے دیا جو یو این فیلڈ افسران کا پروٹوکول ہوتا ہے۔ اس چچا نے ہاتھ میں لاٹھی اور لوہے کی گرل تھام رکھی تھی۔ سر پر ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔ وہ ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ گپ شپ شروع ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ اپنا ہیلمٹ مجھے دے دو۔ آپ آگے آگے جنگلہ اُٹھا کر قدم بہ قدم اوپر کی جانب دیکھتے ہوئے چلو بس۔ جب بھی حملہ ہونا ہے اوپر سے ہی ہونا ہے۔ پھر اسے یہ واقعہ سنایا۔ وہ سن کر ہنسا اور اس نے سچ میں اپنا ہیلمٹ مجھے دے دیا۔تو میں کہہ رہا تھا ڈنڈے کی کرامت سے روح پرور مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان کو دیکھ کر ایک شعر یاد آ جاتا ہےچار کتاباں عرشوں لتھیاں تے پنجواں لتھا ڈنڈاچاراں کتاباں کجھ نا کیتا ، سب کجھ کردا ڈنڈا

بادبان ٹی وی روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل کی تمام خبریں سچ سید عاصم منیر آرمی چیف کے ساتھ ڈیفنس جنرل برقرار افواج پاکستان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں

.وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظوری کے بعد ایوان صدر بھجوا دیفیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے۔

یہ تعیناتی پانچ سال کے لیے ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گےوزیراعظم شہباز شریف نے چیف آف ایئر سٹاف، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں بھی دو سال کی توسیع کی منظوری دے دی۔اس توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت ملازمت کے مارچ 2026 میں مکمل ہونے پر ہو گا۔

‏واہ میرایا مولا!!!سسٹم کے منہ پر چپیڑ ایک طرف دنیا کی مشہور اور باصلاحیت ڈاکٹر ثانیہ نشتر ، جسے پاکستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا تھا اور دوسری جانب ریاست پاکستان کے ڈاکو مصطفی کمال کو وزیر صحت نامزد کر کے جینیوا بھیجا گیا ہے۔جینیوا میں اب اسی پاکستانی ڈاکٹر ثانیہ مرزا سے پاکستان کے لیے امداد مانگی تفصیلات کے مطابق

ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے 48 گھنٹے۔ھوای اڈوں کی مانٹئیرنگ جاری کچھ نیا نہیں بھت کچھ تبدیل۔اسلام آباد روالپندی کی سڑکوں پر ٹریفک اور چوراہوں پر کچھ نہیں سب کچھ تبدیل۔اسلام آباد روالپندی کے 3 تھانوں میں خصوصی انتظامات مکمل۔اسلام آباد ریڈ زون سیل اضافی سیکورٹی طلب۔موجودہ حالات غیر معمولی ھے کے پی 40 سے حالت جنگ میں۔سیاسی مداخلت نھی ھو گی بیورو کریسی عوام کو ریلیف فراہم کرے وزیر ۔اھم ترین خاندان کے لئے مشکلات 100 سے بیورو کریٹ شکنجے میں۔50 ھزار ارب روپے کی کرپشن 700 اکاونٹس فریز کرنے کا فیصلہ۔سب کچھ تبدیل 21 صحافیوں سمیت بڑے مگر مچھوں اور بڑی تعداد میں اشرافیہ وزراء بھی شکنجے مے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا پولیس فورس اور سول افسران کے مشترکہ دربار سے خطابموجودہ حالات غیر معمولی ہیں۔ خیبر پختونخوا چار دہائیوں سے دہشت گردی کی زد میں ہے، مگر اس کے باوجود صوبے کی بہادر پولیس نے کم وسائل کے باوجود 21 سال تک دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف پولیس کی بے مثال قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔پولیس جوان جس حوصلے اور جوانمردی سے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔ اللہ کی رضا اور عوام کے مفاد کے لیے لڑیں گے تو جیت ہمیشہ ہماری ہوگی۔ کسی بھی قیمت پر خیبر پختونخوا میں امن بحال کریں گے۔ بند کمروں کے فیصلے اب مزید قبول نہیں ہوں گے۔

عوام کے لیے اوپن ڈور پالیسی اپنائی گئی ہے اور اب ہر سرکاری افسر کی کارکردگی پرفارمنس انڈیکیٹرز سے ناپی جائے گی۔ فیصلہ سازی صرف اور صرف عوامی مفاد میں ہوگی۔پولیس فورس کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ اور اینٹی ڈرون سسٹم فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی ہنگامی بنیادوں پر دی جا رہی ہے۔ وسائل کی کمی کو سیکیورٹی کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ شہید سول سرونٹس کے اہل خانہ کے لیے خصوصی پالیسی تشکیل دی جائے گی تاکہ ریاست ان کی مکمل دیکھ بھال کر سکے۔

افسران کے معاملات میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی، مگر ہر افسر سے نتائج ضرور لیے جائیں گے۔ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے اور اس سلسلے میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ انصاف دینے کے ذمہ دار ہیں وہ اپنا کام صحیح طرح نہیں کر رہے، جس سے حالات خراب ہوتے ہیں۔ ہم عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو ریلیف دیں گے۔ فیصلہ سازی ہمیشہ عوام کے لیے ہوگی۔ ایمان، حوصلے اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کو شکست

😭 آج ایک باپ… چند روپے کے چالان کی مار سے ڈھیر ہو گیا…آج دل ٹوٹ گیا…سچ کہوں تو انسانیت شرما گئی…اور میں سوچتی رہ گئی کہ غریب کی زندگی اتنی سستی کیوں ہے؟ایک دیہاڑی دار رکشہ والا…وہ جس کا پسینہ بھی قرض ہوتا ہے،جس کی روٹی بھی دعا سے پکتی ہے،جس کی مزدوری بھی نصیب سے ملتی ہے…آج اسے وارڈن نے 2000 روپے کا چالان کیا۔2000 روپے…ہمارے لیے شاید کچھ نہیں۔لیکن اس کے لیے؟اس کے لیے یہ پورے دن کی امید تھی…پورے گھر کی شام تھی…پورے بچوں کی خوشیاں تھیں۔چالان سنتے ہی اس نے ایک لمبی سانس لی…دھیرے سے رکشے پر بیٹھا…اور اگلے ہی لمحے ہارٹ اٹیک سے گر پڑا۔لوگ بھاگے… رکشہ ایک طرف کیا…سامان اتارا…اور وہاں سے ایک چھوٹا سا شاپر ملا۔بس…

وہ شاپر کھلتے ہی سب کی آنکھیں بھر آئیں۔میں لکھ رہی ہوں اور ہاتھ کانپ رہے ہیں۔💔 شاپر میں کیا تھا؟آدھا کلو آٹاپاؤ چاولتھوڑا سا گھیچٹکی بھر چینیتین آلودو پیازنمکچائے کی پتیدو پیناڈولایک شیمپو ساشےصابن کی ٹکیاپانچ روپے کی نسواربچوں کے لیے ایک رنگین سی سیٹیایک پلاسٹک کی ننھی کاراور… چھوٹی سرخ چوڑیاںجی ہاں… سرخ چوڑیاں۔وہ جو اس نے اپنی دو ماہ کی بیٹی کے لیے لی تھیں۔وہ بیٹی جو رنگ سرخ دیکھ کر ہنس پڑتی تھی۔کچھ دیر پہلے وہ ہارٹ اٹیک سے پہلے مسکرا کر کہہ رہا تھا:“کار میرے تین سال کے بیٹے کی ہے…اور چوڑیاں میری بیٹی کی…

یہ دیکھ کر خوش ہوتی ہے…”😭ہائے اللہ…ایک باپ اپنی آخری سانس تک بچوں کا سوچتا ہے۔اور یہی وہ آخری سوچ تھی…جس کے ساتھ وہ دنیا چھوڑ گیا۔—😢 یہ ایک رکشہ والے کی نہیں… سب کی کہانی ہےوہ کرائے پر بائیک چلانے والا جو روز 500 مالک کو دیتا ہے…پھر پیٹرول ڈالتا ہے…اور رات کو ہاتھ میں صرف یہی شاپر لیے گھر جاتا ہے۔وہ چنگ چی والا جو 30 روپے فی سواری میں سارا دن دھواں اور گالیاں کھا کر گزار دیتا ہے…آخر میں اسی شاپر میں گھر کی امید بھر کر لاتا ہے۔وہ پھٹہ رکشہ والا جو پہلے مالک کو روز کرایہ دیتا ہے…پھر سارا دن محنت کرتا ہے…اور آخر میں اللہ کا دیا چند سو روپے جیب میں ڈال کربچوں کے لیے ایک چھوٹی چیز ضرور لے جاتا ہے…کہ گھر میں خوشی کی آواز آجائے۔—😭 اصل درد یہ ہے…چالان صرف کاغذ نہیں تھا…وہ چالان اس کے گھر کی روٹی تھا۔اس کے بچوں کی خوشی تھا۔اس کی بیٹی کی سرخ چوڑیاں تھیں۔اس کے بیٹے کی وہ پانچ روپے والی کار تھی۔اور ہاں…وہ چالان ہی اس کی جان لے گیا۔—🙏 خدا کے لیے… تھوڑا رحم، تھوڑی انسانیت…کبھی رک کر سوچیں…غریب کے شاپر میں صرف سودا نہیں ہوتا…اس میں اس کی پوری دنیا ہوتی ہے۔اللہ ان محنت کشوں پر آسانی کرے…اور ہمیں بھی انسان بنا دے۔

سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کَیس لاہور نے ۳ دسمبر ۲۰۲۵ کو “جنگی محاذ سے پرے: عسکری سفارت کاری بطور تزویراتی محرک” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ ایک آزاد تحقیقی ادارے کے طور پر کَیس لاہور باقاعدگی سے علمی و پالیسی سطح کی سرگرمیوں کا اہتمام کرتا ہے جہاں محققین اور ماہرین سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور پالیسی سے متعلق اہم موضوعات پر مکالمہ کرتے ہیں۔ اس تقریب میں بھی ماہرین، محققین اور دانش وروں نے شرکت کی۔ افتتاحی خطاب ایئر مارشل عرفان احمد ریٹائرڈ ڈائریکٹر کَیس لاہور نے پیش کیا۔سابق سیکرٹری خارجہ سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ خارجہ پالیسی قومی اہداف کا تعین کرتی ہے جبکہ سفارت کاری بالخصوص عسکری سفارت کاری ان اہداف کے حصول کا ایک بنیادی ذریعہ ہے جو مکالمے، مشترکہ مشقوں اور تربیتی تعاون سے آگے بڑھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عسکری سفارت کاری پاکستان کے لئے مواقع میں وسعت پیدا کرتی ہے، اس کی روک تھام کی صلاحیت کو مضبوط کرتی ہے اور اثر و رسوخ میں اضافہ کرتی ہے لیکن اسے ہمیشہ دیگر سفارتی ذرائع کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اور مناسب مواقع پر استعمال کرنا چاہئے۔ڈی جی پبلک ریلیشنز اینڈ کارپیوریٹ پلاننگ ڈویژن نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (نیسٹیپ)، ایئر وائس مارشل ڈاکٹر لیاقت اللہ اقبال نے کہا کہ نیسٹیپ دراصل موجودہ ایئر چیف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا وژن ہے جس کا مقصد پاکستان کا خود مختار ایرو اسپیس اور ٹیکنالوجی ایکو سسٹم قائم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک فضائیہ کے اندر تیز رفتار جدیدیت، مقامی تیاری اور نوجوانوں کی جدت انگیزی نہ صرف آپریشنل تیاری کو بڑھا رہی ہیں بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی تکنیکی شراکت داریوں میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق انہی ترقیاتی اقدامات کی بدولت مئی ۲۰۲۵ کی جنگ میں پاکستان ایئر فورس نے بھارت کو فیصلہ کن شکست دی۔وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی ایئر مارشل عبدالمعید خان (ریٹائرڈ )نے کہا کہ پی اے ایف کی بین الاقوامی مشقیں، تربیتی تبادلے اور بیرونی تعیناتیاں اسے پیشہ ورانہ مہارت اور عملی لچک کے حوالے سے منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۱ کے بعد موجودہ ایئر چیف کی جرات مندانہ اور تخلیقی قیادت میں ایئر فورس نے روایتی فائٹر سینٹرک تصور سے آگے بڑھ کر ایک ہمہ جہتی طاقت کی صورت اختیار کی ہے جو سائبر، اسپیس، الیکٹرانک وارفیئر اور ڈرونز کے نظاموں پر مشتمل ہے۔

اسے مقامی تیاری، جدید ڈھانچے اور تیز رفتار صنعتی معاونت نے مزید مضبوط کیا ہے جس سے پی اے ایف کی اہمیت جدید تیز رفتار جنگی ماحول میں واضح طور پر ابھری ہے۔اختتامی خطاب میں صدر کَیس لاہور ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے کہا کہ معرکۂ حق پاکستان کی عسکری سفارت کاری کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا جس نے پاکستان ایئر فورس کے نظم و ضبط اور ہمہ جہتی برتری کو نمایاں کیا اور ملک کے تزویراتی اثر و رسوخ کو نئی جہت دی۔ انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی دوراندیش قیادت کو سراہا جس نے پی اے ایف کی تکنیکی برتری، دفاعی شراکت داریوں اور عالمی سفارتی رسائی کو مضبوط کیا۔ ان کے مطابق یہ کامیابیاں پاکستان کی بطور ابھرتی ہوئی مڈل پاور حیثیت کو مزید مستحکم کرتی ہیں اور عسکری صلاحیت کو جدید سفارت کاری کا مؤثر ذریعہ ثابت کرتی ہیں

۔سیمینار ایک مؤثر سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس میں نیسٹیپ کے بڑھتے ہوئے کردار، پاکستان بھارت ادارہ جاتی فرق، پی اے ایف کی ڈومین سینٹرک تبدیلی، نوجوانوں کی ایرو اسپیس میں شمولیت، مئی ۲۰۲۵ کی جنگ کے بعد وسعت پاتی سفارتی رسائی اور ڈرون وارفیئر کے ارتقا میں پاکستان کی پوزیشن جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ شرکاء نے کَیس لاہور کی علمی اور فکر انگیز کاوشوں کو بھرپور سراہا۔

رزق کب اور کہاں سے آئے، کوئی نہیں جانتا۔ اہم بات یہ ہے کہ مصیبتوں کو خود پر غالب نہ آنے دیں۔ مایوس نہ ہوں—آپ کا موقع کبھی نہ کبھی ضرور آئے گا تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

ایک تصویر پورے جرمنی میں تیزی سے پھیل گئی۔ مشہور جرمن میگزین ”ڈیر شپِگل“ نے اس تصویر کی تحقیق کی اور تصویر میں موجود بھارتی نوجوان کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ تلاش بالآخر میونخ میں جا کر ختم ہوئی، جہاں پتہ چلا کہ وہ نوجوان غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے۔صحافی نے اس سے پوچھا:“کیا آپ جانتے تھے کہ آپ کے پاس بیٹھی سنہری بالوں والی لڑکی ‘میسی ولیمز’ تھی—جو مشہور سیریز Game of Thrones کی ہیروئن ہے؟ دنیا بھر میں اس کے لاکھوں مداح ہیں جو صرف اس کے ساتھ ایک سیلفی لینے کے خواب دیکھتے ہیں، مگر آپ نے ذرا سا بھی ردِّعمل ظاہر نہیں کیا۔ کیوں؟”نوجوان نے سکون سے جواب دیا:“جب آپ کے پاس رہائشی اجازت نامہ نہ ہو، جیب میں ایک یورو بھی نہ ہو، اور آپ روزانہ ٹرین میں ‘غیر قانونی’ طور پر سفر کریں، تو آپ کو اس بات کی پروا نہیں رہتی کہ آپ کے ساتھ کون بیٹھا ہے۔”اس کی سچائی اور حالت سے متاثر ہو کر میگزین نے اسے ایک ڈاکیے کی نوکری دے دی، جس کی ماہانہ تنخواہ 800 یورو تھی۔ اس ملازمت کے معاہدے کی وجہ سے اسے فوراً باقاعدہ رہائشی اجازت نامہ بھی مل گیا—بغیر کسی مشکل کے۔یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ رزق کب اور کہاں سے آئے، کوئی نہیں جانتا۔ اہم بات یہ ہے کہ مصیبتوں کو خود پر غالب نہ آنے دیں۔ مایوس نہ ہوں—آپ کا موقع کبھی نہ کبھی ضرور آئے گا

اسٹیبلشمنٹ میں اکھاڑ بچھاڑ گریڈ 21 اور 20 گریڈ کے تمام سئینر جائیٹ اور جائیٹ سیکرٹری تبدیل فارغ۔۔قومی اسمبلی مچھلی منڈی بن گیا۔۔وزیر قانون کی غلطی۔۔اقلیتوں کا بل پاس پیپلزپارٹی بری طرح ایکسپوز سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ان ایکشن۔۔غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے برقرار۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏1952ء رات کے وقت 12 بجے لاھور سے ملتان جانے والی بس دیپالپور چوک اوکاڑہ پر رکی اور ایک بارعب چہرہ , اور خوبصورت شخصیت کا مالک نوجوان اترا، اسے سول ریسٹ ہاؤس جانا تھا اس نے آس پاس دیکھا تو کوئی سواری نظر نہ آئی مگر ایک تانگہ جو کہ چلنے کو تیار تھا نوجوان نے اسے آواز دے کر کہا کہ اسے بھی سول ریسٹ ھاؤس تک لیتے جائیں مگر کوچوان نے صاف انکار کر دیا، نوجوان نے التجائیہ الفاظ میں کوچوان سے کہا تو اس نے سخت لہجے میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آگے پھاٹک پر ایک سنتری کھڑا ھے وہ مجھے نہیں بخشے گا، لہذا میں چار سواریوں سے زیادہ نہیں بٹھا سکتا، تانگے میں بیٹھی سواریوں نے جب نوجوان کو بے بس دیکھا تو کوچوان سے کہا کہ ہم سب مل کر اس نوجوان کی سفارش کریں گے لہذا اسے بھی ساتھ بٹھا لیں, کوچوان نے نہ چاہتے ھوۓ بھی نوجوان کو سوار کر لیا، جب پھاٹک آیا تو پولیس والے نے سیٹی بجا کر تانگہ روک لیا اور کوچوان پر برس پڑا کہ اس نے 4 سے زیادہ سواریوں کو تانگے میں کیوں بٹھایا ؟ کوچوان نے 5 ویں سواری کی مجبوری بیان کی مگر پولیس والےکا لہجہ تلخ سے تلخ ھوتا گیا۔ نوجوان نے 5 روپے کا نوٹ کوچوان کو دیا کہ سنتری کو دے کر جان چھڑاؤ ۔ مگر جب سنتری نے 5 روپے دیکھے تو وہ اور بھی زیادہ غصے میں آ گیا

، اس نے کوچوان سے کہا کہ تم نے مجھے رشوت کی پیش کش کی ھے جو کہ ایک جرم ھے لہذا اب تمہارا لازمی چالان ھو گا، سنتری نے کہا کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو پاکستان ہی کیوں بنایا ؟ یہ کہہ کر اس نے کوچوان کا چالان کر دیا , تانگہ چلا گیا ۔ سول ریسٹ ھاؤس کے قریب نوجوان اترا تو اس نے کوچوان سے کہا کہ یہ میرا کارڈ رکھ لو اور کل نو بجے ادھر آجانا میں تمہارا جرمانہ خود ادا کروں گا ۔ اگلی صبح 9 بجے کوچوان سول ریسٹ ھاؤس پہنچا تو پولیس کے جوانوں نے اگے بڑھ کر کوچوان کو خوش آمدید کہا اور پوچھا کہ گورنر صاحب سے ملنے آۓ ھو؟ کوچوان کی جانے بلا کہ گورنر کیا ھوتا ھے ۔

پولیس کے جوان کوچوان کو دفتر کے اندر لے گئے ۔ رات والے نوجوان نے کوچوان سے اٹھ مصافحہ کیا اور بیٹھنے کو کہا پھر اپنے پاس بیٹھے ڈی سی او کو رات والا واقعہ سنایا ، نوجوان نے رات والے سنتری کو فورا طلب کیا اور ڈی سی او کو حکم دیا کہ اس ایماندار پولیس والے جوان کو فورا ترقی دے کر تھانہ صدر گوگیرہ کا ایس ایچ او تعینات کرو ۔ اور کوچوان کا جرمانہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا ۔اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنے والا وہ نوجوان سردار عبدالرب نشتر گورنر پنجاب تھے، جنہوں نے پاکستان کے لیے بے شمار خدمات سر انجام دیں، وہ جناح کے دست راست اور ایمانداری کی اعلی مثال سمجھے جاتے تھے۔اور ثانیہ نشتر انہی کی پوتی ہے جسکو عمران خان نے احساس پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چئر پرسن لگایاتھا۔

حب: مکران کوسٹل ہائی وے پر مسافر کوچ میں آگ لگ گئی ، ٹریفک معطلحب مکران کوسٹل ہائی وے کنڈملیر کے قریب دلتوس کے مقام پر ایک مسافر بردار کوچ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔گاڑی میں آگ لگنے کے باعث مکران کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی، جس کی وجہ سے چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ مکران کوسٹل ہائی وے کنڈ ملیر کے قریب دلتوس کے مقام پر مسافر بردار کوچ میں اچانک شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی اور چند ہی لمحوں میں آگ نے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی میونسپل کمیٹی اوتھل کی فائر بریگیڈ گاڑیاں آگ بجھانے کے لیے جائے وقوعہ پر روانہ ہو گئیں۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور مسافروں کو بحفاظت کوچ سے نکال لیا گیا۔مزید برآں، مکران کوسٹل ہائی وے پر دلتوس کے مقام پر مسافر کوچ میں آگ لگنے کے سبب چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور کئی گھنٹے تک ٹریفک معطل رہی، جس کی وجہ سے مسافر گاڑیوں میں محصور رہے اور انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور: باغبانپورہ میں ادھار نہ دینے پر گاہک نے دکاندار کو قتل کر دیالاہور کے علاقے باغبانپورہ میں ادھار نہ دینے کے معاملے پر ایک گاہک نے دکاندار کی جان لے لی۔ پولیس کے مطابق، گاہک نے دکاندار سے ادھار مانگا، لیکن دکاندار کے انکار پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔جھگڑے کے دوران، ملزم گاہک نے ایک ڈنڈا دکاندار کے سر پر مار دیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ دکاندار کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا۔ پولیس نے مقتول کے اہل خانہ کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔

حب: مکران کوسٹل ہائی وے پر مسافر کوچ میں آگ لگ گئی ، ٹریفک معطلحب مکران کوسٹل ہائی وے کنڈملیر کے قریب دلتوس کے مقام پر ایک مسافر بردار کوچ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔گاڑی میں آگ لگنے کے باعث مکران کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی، جس کی وجہ سے چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ مکران کوسٹل ہائی وے کنڈ ملیر کے قریب دلتوس کے مقام پر مسافر بردار کوچ میں اچانک شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی اور چند ہی لمحوں میں آگ نے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی میونسپل کمیٹی اوتھل کی فائر بریگیڈ گاڑیاں آگ بجھانے کے لیے جائے وقوعہ پر روانہ ہو گئیں۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور مسافروں کو بحفاظت کوچ سے نکال لیا گیا۔مزید برآں، مکران کوسٹل ہائی وے پر دلتوس کے مقام پر مسافر کوچ میں آگ لگنے کے سبب چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور کئی گھنٹے تک ٹریفک معطل رہی، جس کی وجہ سے مسافر گاڑیوں میں محصور رہے اور انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

گیس لیکج دھماکہ: 3 افراد جھلس گئے ، ہسپتال منتقلکوئٹہ شہر میں مسلسل دوسرے روز گیس لیکج کے باعث دھماکوں کے واقعات پیش آئے، جن میں 3 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔پہلا واقعہ نواں کلی کے علاقے عبدالخالق روڈ پر پیش آیا جہاں ایک گھر میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں گھر میں آگ لگ گئی۔ واقعے میں ایک شخص جھلس کر زخمی ہوا۔دوسرا واقعہ عالمو پولیس کالونی میں پیش آیا جہاں گیس لیکج کے باعث دھماکہ ہوا۔ اس واقعے میں جھلسنے والے 2 افراد باپ اور بیٹا ہیں۔تمام زخمیوں کو برن یونٹ منتقل کر دیا گیا ہے، اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

این ایچ اے کے بحران: ڈیپیوٹیشن اسکینڈلز، کروڑوں کی رشوت، اور قومی شاہراہوں کا زوال رانا تصدق حسیناسلام آباد – نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)، جسے پارلیمنٹ نے پاکستان کی ہائی ویز، موٹر ویز اور CPEC روٹس کے آپریشن، انتظام اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی ہے، افسوسناک حد تک انتشار کا شکار ہے۔عبدال علیم خان کے وزیر مواصلات اور علی شیر محسود کے افسرِ کارِ سیکرٹری مواصلات مقرر ہونے کے بعد ملک کی شاہراہیں بربادی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں، اور کبھی صاف و شفاف ہائی ویز اب خطرناک اور ناقابل استعمال ہو گئی ہیں۔شہری سوال کر رہے ہیں کہ آیا نیشنل ہائی وے فنڈز ذاتی مفادات یا سیاسی ترجیحی افسران کے نجی کاروباروں میں منتقل کیے جا رہے ہیں؟ اور آخر کار، عوام کس پر اعتماد کریں؟ڈیپیوٹیشن اور میرٹ کا بحراناین ایچ اے کے اندر انتظامی نظام کو غیر قانونی ڈیپیوٹیشن کے ذریعے منہدم کیا گیا ہے۔FBR/IRS کے افسران اور غیر فنی صوبائی ملازمین اہم انجینئرنگ اور انتظامی عہدوں پر تعینات ہیں، جبکہ سینئر این ایچ اے انجینئرز جو دہائیوں سے تجربہ رکھتے ہیں نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔کپٹن (ریٹائرڈ) اسد اللہ خان (PAS-21) کو CEO مقرر کرنا، جو شاہریار سلطان کی جگہ لے رہے ہیں، NHA ایکٹ 2024 کے روح کے منافی ہے۔BPS-18 کے PAAS اکاؤنٹنٹس کو غیر قانونی طور پر BPS-20 فنی عہدوں پر تعینات کیا گیا، جس سے سروس رولز، مورال اور تکنیکی قیادت کو شدید نقصان پہنچا۔کروڑوں کی رشوت اور بدعنوانیادارے کے انہدام میں مزید اضافہ، سابق ممبر ایڈمنسٹریشن اور جائنٹ سیکرٹری کمیونیکیشنز، عمر سعید چوہدری پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے فیصلوں (BPS-17 سے BPS-19) میں اپنی پسندیدہ افسران کو فائدہ پہنچانے کے لیے 15 کروڑ روپے سے زائد نقد رقم اور دیگر مراعات حاصل کیں۔میرٹ کو کچل دیا گیا، سینئرٹی لسٹیں منظم کی گئیں، اور مستحق افسران کو پروموشن سے محروم رکھا گیا، جبکہ پسندیدہ افسران ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔کپٹن (ریٹائرڈ) اسد اللہ خان اور عمران خان کا میانوالی اسکینڈلکپٹن (ریٹائرڈ) اسد اللہ خان کے سابقہ عہدے بھی تنازعات سے بھرے ہوئے تھے۔ان کی نگرانی میں، ڈپارٹمنٹ آف کمیونیکیشنز اینڈ ورکس میانوالی کے دوران عمران خان کے دورِ وزیراعظم اور پنجاب کمیونیکیشنز کے وزیر کے تحت کروڑوں روپے کے کرپشن اسکینڈلز سامنے آئے۔پنجاب وزیر سردار محمد آصف نقی نے میانوالی ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پیکج کی تحقیقات کا باقاعدہ مطالبہ کیا اور کپٹن اسد اللہ خان سمیت دیگر کے خلاف فوجداری مقدمات کی سفارش کی۔تحقیقات میں 250 ملین سے 3.75 ارب روپے کے کرپشن معاملات سامنے آئے، جبکہ جنوبی پنجاب کے 4 ملین روپے کے منصوبوں میں بدانتظامی واضح ہوئی۔حیران کن بات یہ ہے کہ یہی افسر اب پاکستان کے تمام ہائی وے نیٹ ورک کا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے، جسے عوامی فنڈز اور انفراسٹرکچر تک بلا روک رسائی حاصل ہے، جبکہ قوم نگرانی کے لیے بے بس ہے۔قومی شاہراہوں کی نظراندازی اور عوامی خطرہغیر قانونی ڈیپیوٹیشن، کروڑوں کی رشوت، سیاسی ترجیح، اور مکمل لاپرواہی کے مجموعی اثرات نے پاکستان کے ہائی وے سسٹم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔وہ سڑکیں جو کبھی تجارت، سفر اور علاقائی رابطے کے لیے سہولت فراہم کرتی تھیں، اب خطرناک، خراب اور ناقابل اعتماد ہو گئی ہیں۔عوام کے لیے سوال یہ ہے کہ آخر کس پر اعتماد کریں، جو ان کی شاہراہیں، فنڈز اور سلامتی محفوظ رکھ سکے؟ واضح ہے کہ سیاسی تقرریاں اور پسندیدہ بیوروکریٹس بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔فوری احتساب کا مطالبہاسٹیبلشمنٹ ڈویژن، NAB، FIA، انٹیلی جنس ایجنسیاں، اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے مطالبہ ہے کہ:تمام غیر مجاز ڈیپیوٹیشن اور غیر قانونی تعیناتیوں کی تحقیقات کریں،مقررہ مدت سے زیادہ رہنے والوں کو واپس بھیجیں،رشوت اور ترجیح دینے والے افسران کے خلاف کارروائی کریں،این ایچ اے میں میرٹ، تکنیکی صلاحیت اور آپریشنل سالمیت بحال کریں،قومی شاہراہوں، موٹر ویز اور CPEC کورڈورز کی NHA ایکٹ 2024 کے مطابق مناسب دیکھ بھال یقینی بنائیں۔فیصلہ کن مداخلت کے بغیر، پاکستان کے روڈ انفراسٹرکچر اور عوام کا اعتماد مزید زوال پذیر ہوگا، اور دہائیوں کی قومی سرمایہ کاری اور شہریوں کی سلامتی خطرے میں رہے گی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بڑا دھماکہ: تمام جوائنٹ سیکرٹری فارغ، سیکرٹری نبیل احمد اعوان نے مکمل کنٹرول سنبھال کر پورا ڈھانچہ بدل ڈالارانا تصدق حسیناسلام آباد — وفاقی حکومت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں اب تک کی سب سے سخت اور وسیع اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے تمام کلیدی جوائنٹ سیکرٹریوں کو تبدیل کر دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری بیرسٹر نبیل احمد اوان نے وزیر اعظم کی منظوری سے ڈویژن کا پورا پاور اسٹرکچر ازسرنو ترتیب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ تیز رفتار تبدیلیاں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے قریبی اور قابلِ اعتماد افسران کے ذریعے ایک نئی انتظامی کمانڈ اینڈ کنٹرول لائن تشکیل دے دی ہے، جبکہ پرانے تمام بااثر افسران کو عملاً سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشنز کے مطابق:سیدہ شفق ہاشمی، PAS گریڈ 19، کو جوائنٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تعینات کر دیا گیا ہے، جنہیں سینیٹ سیکرٹریٹ سے خصوصی طور پر لایا گیا۔نائیلہ باقر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے ہٹا کر ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن بھیج دیا گیا ہے- مبصرین اسے ’’اسٹرکچرل کلین اپ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔مجید علی پہنوار، جو غربت میں کمی ڈویژن میں جوائنٹ سیکرٹری تھے، کو جوائنٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن لگا دیا گیا۔عامر حسین غازی، جو غربت میں کمی ڈویژن میں ڈپٹی سیکرٹری تھے، کو سیکشن 10 کے تحت براہِ راست جوائنٹ سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے، جس سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی مضبوط گرفت کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ڈپٹی سیکرٹری سطح پر، پیر علی لاکھو (گریڈ 18، سندھ حکومت) کو ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن لگا دیا گیا ہے۔اسی طرح شیرین حنا اصغر، وزارتِ داخلہ سے، سیکشن 10 کے تحت ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مقرر ہو گئی ہیں۔اسی سلسلے میں، راجہ رشید علی، جو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں جوائنٹ سیکرٹری تھے، کو تبدیل کر کے جوائنٹ سیکرٹری غربت میں کمی و سماجی بہبود ڈویژن تعینات کر دیا گیا ہے۔بیوروکریسی کے اندر اس اکھاڑ پچھاڑ کو سیکرٹری نبیل احمد اعوان کی جانب سے اختیارات کے مکمل نفاذ اور ڈویژن کی طاقت کا مرکز اپنے ہاتھ میں لینے کی ایک بڑی اور فیصلہ کن کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلیاں مستقبل کی ترقیاں، تبادلے، اور کیڈر پالیسیاں بھی متاثر کریں گی، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اب ایک نئی طاقتور کمانڈ لائن کے تحت چلنے جا رہا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی اسمبلی اجلاس میں رکن قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان کی تقریر پر ردِعمل،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ تمام اراکینِ پارلیمنٹ بخوبی جانتے ہیں کہ میرے دروازے اراکین کے لیے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔ میں جتنی کوشش کرتا ہوں، وہ سب کے سامنے ہے، کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔اسپیکر نے کہا کہ وزیرِ اعظم، وزیرِ قانون اور میں متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ معاملات مذاکرات سے ہی حل ہوں گے، محاذ آرائی سے نہیں۔ اسپیکر نے کہا کہ آپ مجھ سے پیار اور احترام سے بات کریں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں اپنی آئینی و پارلیمانی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں۔اسپیکر نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم عوام کو پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے لیے لے کر آئیں گے، تو وہ کر کے دیکھ لے، اس لب و لہجے کو میں کسی صورت قبول نہیں کروں گا۔ اسپیکر نے کہا کہ پارلیمان عوام کا گھر ہے اور اس کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ میں نے اس روز آپ کے قائد کو مذاکرات کی پیشکش کی، مگر انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور افغانستان سے بات کریں، آپ سے بات نہیں کرنی۔ اس کے باوجود میں نے آپ کو مائیک دیا، آپ نے خود کہا کہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے آپ کو اپنے چیمبر مدعو کیا، کیا میرا کردار منفی تھا میں نے تو حکومت کو بھی آپ کے سامنے بٹھایا تاکہ بات چیت کا تسلسل قائم رہے۔اسپیکر نے کہا کہ پارلیمنٹ سیاسی مکالمے کا گھر ہے جہاں ہر اختلاف قانون و آئین کی حد میں رہتے ہوئے حل ہوتا

عمران خان نے شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا۔۔سب کچھ طے وزیر اعظم کی رخصتی نیا وزیر اعظم کونسا نواز لیگ میں فارورڈ بلاک کی گونج۔۔سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت 72 گھنٹے اھم۔وزیر اعظم کی تبدیلی کا فیصلہ ھو چکا نیا وزیر اعظم کونسا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان ائیر فورس اکیڈمی اصغر خان، رسالپور میں 151ویں جی ڈی (پی)، 97ویں انجینیئرنگ، 108ویں ایئر ڈیفنس، 10ویں نیول (الفا)، 28ویں اے اینڈ ایس ڈی، 11ویں لاگ، 134ویں کامبیٹ سپورٹ اور 98ویں ای سی (آر ایس اے ایف) کورسز کی گریجویشن تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھوتھے

پاکستان ائیر فورس اکیڈمی اصغر خان، رسالپور میں 151ویں جی ڈی (پی)، 97ویں انجینیئرنگ، 108ویں ایئر ڈیفنس، 10ویں نیول (الفا)، 28ویں اے اینڈ ایس ڈی، 11ویں لاگ، 134ویں کامبیٹ سپورٹ اور 98ویں ای سی (آر ایس اے ایف) کورسز کی گریجویشن تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھوتھے ۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا استقبال ایئر وائس مارشل شہریار خان، ایئر آفیسر کمانڈنگ پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان نے کیا۔ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے گریجویٹ ہونے والے کیڈٹس اور ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد دی اور اکیڈمی کے بلند معیار کو سراہا۔ اُنہوں نے امتیازی کیڈٹس اور اعزاز ی شمشیر حاصل کرنے والوں کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور رائل سعودی ایئر فورس کے کیڈٹس کو کورس کی کامیاب تکمیل پر خصوصی مبارکباد پیش کی۔

ائیر چیف نے سعودی کیڈٹس کی شمولیت کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اور دیرینہ تعلقات کا مظہر قرار دیا۔ائیر چیف نے اپنے خطاب میں نوجوان افسران کو اپنے کامیاب ماضی کے وقار کو برقرار رکھنے اور پاکستان کی فضاؤں کا دفاع جرات اور پیشہ ورانہ مہارت سے کرنے کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے پاک فضائیہ کی تربیتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح مستقبل کی ٹیکنالوجیز، لیڈرشپ ڈیولپمنٹ، کردار سازی، ذہنی و جسمانی مضبوطی اور فکری ترقی کو تربیت کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے تاکہ جدید جنگی دشواریوں سے مؤثر طور پر نمٹا جاسکے۔

حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے ائیر چیف نے کہا کہ مئی کے تنازعے کے دوران پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی۔ اُنہوں نے قوم کے اتحاد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ سربراہ پاک فضائیہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کلیدی قائدانہ کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا، جن کے فیصلہ کن عزم نے قوم کے متحد دفاعی ردِعمل کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ائیر چیف نے کہا کہ پاک فضائیہ نے خلائی، سائبر، الیکٹرانک وارفیئر، یو اے ویز، لانگ رینج ویکٹرز اور لوئٹرنگ اسلحے کے مؤثر استعمال سے بے مثال فضائی برتری حاصل کی۔ رافیل، ایس یو-30 ایم کے آئی، میراج-2000، مگ-29 اور دشمن کے جدید ڈرون سسٹمز اور طیاروں کو طویل بی وی آر بمقابلہ بی وی آر فضائی لڑائی میں ناکارہ بنایا گیا، جو جدید تاریخ کی سب سے اہم فضائی جھڑپوں میں سے ایک تھی۔پاکستان ائیر فورس کی شاندار روایات کا اعادہ کرتے ہوئے ایئر چیف نے کہا کہ پی اے ایف اپنی صلاحیتوں میں بے مثال اور قومی وقار کی علامت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک فضائیہ کی جدید صلاحیتیں اور آپریشنل تیاری پاکستان کے دفاع کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی ممالک سے دفاعی تعاون کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔ ائیر چیف نے یقین دلایا کہ پاک فضائیہ ملک کی فضائی سرحدوں کی حفاظت ہمیشہ محتاط، پُرعزم اور غیر متزلزل جذبے کے ساتھ جاری رکھے گی۔ سربراہ پاک فضائیہ نے نیشنل ایروسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ دنیا کے ممتاز ایروسپیس، سائبر اور آئی ٹی اداروں کی صف میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ، جو جدید ترین ڈیزائن، تحقیق اور اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں جدت کے ذریعے پاکستان کے قومی منظرنامے کو تبدیل کرے گا۔آخر میں ائیر چیف نے کہا کہ پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت اس کی آپریشنل کامیابیاں ہیں، نہ کہ بیانیے یا پروپیگنڈا۔ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ امن اور دوستی کا خواہاں ہے، مگر قومی خودمختاری کو چیلنج کرنے والی ہر کوشش کا جواب پہلے سے زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔اس موقع پر مجموعی طور پر 136 ایوی ایشن کیڈٹس، 10 جینٹل مین کیڈٹس اور 20 آر ایس اے ایف کیڈٹس نے گریجویشن مکمل کی۔ ائیر چیف نے امتیازی کیڈٹس میں ٹرافیاں اور اعزازی شمشیر تقسیم کی۔ جنرل سروس ٹریننگ میں مجموعی بہترین کارکردگی کی ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ ونگ انڈر آفیسر محمد علی عارف نے حاصل کی۔ چیف آف دی ایئر اسٹاف بیسٹ پائلٹ ٹرافی بہترین فلائنگ پرایوی ایشن کیڈٹ ونگ انڈر آفیسر محمد ارحم اللہ کو دی گئی۔ چیف آف ایئر اسٹاف ٹرافی برائے بہترین کارکردگی (انجینیئرنگ) جینٹل مین کیڈٹ علی احمد مصطفیٰ نے حاصل کی۔

ایئر ڈیفنس کورس میں بہترین کارکردگی کی ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ مرتضیٰ علی کو ملی۔ ایڈمن اینڈ اسپیشل ڈیوٹیز کورس میں مجموعی بہترین کارکردگی کی ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ یحییٰ نیئر نے جیتی۔ لاجسٹکس کورس میں مجموعی بہترین کارکردگی کی ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ حنین سرور نے حاصل کی۔ کامبیٹ سپورٹ کورس میں مجموعی بہترین کارکردگی کی ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ طلحہ اسحاق نے حاصل کی۔ کالج آف ایروناٹیکل انجینیئرنگ میں مجموعی بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر ایوی ایشن کیڈٹ ونگ انڈر آفیسر محمد علی عارف کو دی گئی۔

کالج آف فلائنگ ٹریننگ میں مجموعی بہترین کارکردگی کی اعزازی شمشیر ایوی ایشن کیڈٹ اکیڈمی انڈر آفیسر محمد سعد شہزاد نے حاصل کی۔ الائیڈ کورس میں مجموعی بہترین کارکردگی کی ٹرافی رائل سعودی ایئر فورس کے کیڈٹ محمد خالد جلفان کو دی گئی۔تقریب کا اختتام ، ایف-16، جے ایف-17 اور جے-10 سی طیاروں کے شاندار فارمیشن فلائی پاسٹ سے ہوا، جس نے مہارت اور آپریشنل قابلیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

گریجویشن پریڈ میں سینئر عسکری و سول شخصیات اور کیڈٹس کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔*ترجمان پاک فضائیہ*

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج اسلام آباد میں سیکورٹی ھای الرٹ۔۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 4 اھم ترین بلز کو منظور کیا جائے گا۔نواز شریف سے جاتی امرا میں اہم مشاورت کریں گے، شہباز شریف اج لاہور سے اسلام آباد جائیں گے۔اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی اھم ترین ملاقات۔۔روالپندی اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ حالات کشیدہ صورتحال نازک۔۔سعودی عرب میں افغان پاکستان مذاکرات شروع رزلٹ صفر۔گورنر راج کی افواہیں پھیلانے والے وزراء کے خلاف قانون حرکت۔۔3 ھزار کرپٹ بیورو کریٹ کے خلاف کارروائی شروع۔*رانا سکندر حیات خان (وزیر تعلیم پنجاب) کی خصوصی ہدایت پہ سکول اور کالج جانے والے طلباء پہ FIR درج نہیں ہوگی، آئی جی ٹریفک پولیس۔ افغان حملوں میں اب تک 5 چینی شہری ہمارے ملک میں مارے جاچکے ہیں تاجکستان حکومت۔۔رضیہ بٹ گرفتار نامعلوم جگہ پر منتقل۔۔مین ھول میں گر کر ھلاک ھونے والوں کی تعداد 24۔وزیر اعلی مریم نواز کا 2 دسمبر کا دورہ فیصل آباد منسوخ ، صوبائی وزیر بلال یسن cm کی جگہ پر واسا پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔اھم ترین ملاقاتیں تخت یا تختہ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایک سال میں زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں 3.47 کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ -ایک سال میں زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر میں 3 ارب 47 کروڑ 65 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ہوگیا، اگلےہفتے آئی ایم ایف فنڈز کی منظوری سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھنے کا امکان ہے۔اسٹیٹ بینک کے دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر ایک سال میں 2 ارب 52 کروڑ 28 لاکھ ڈالرز بڑھ گئے ہیں،

اسی مدت میں کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 95 کروڑ 37 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔دستاویز کے مطابق زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 19 ارب 60 کروڑ 50لاکھ ڈالرز ہوچکے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر14 ارب56 کروڑ7 لاکھ ڈالرزپر پہنچ گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس5 ارب 4 کروڑ 43 لاکھ ڈالرز کے ذخائر ہیں۔دستاویز کے مطابق ایک سال قبل زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 16 ارب 12 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز تھے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 12 ارب 3 کروڑ 79 لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس4 ارب 9 کروڑ 6لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے۔دستاویز کے مطابق پاکستان کے لیےآئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈکا اجلاس8 دسمبرکو شیڈول ہے جس میں پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز جاری کرنے کاجائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے اور دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج یا جلسے جلوس کی اجازت نہیں۔ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کے انعقاد پرقانون فی الفورحرکت میں آئے گا۔اُدھر ڈپٹی کمشنر پنڈی حسن وقارچیمہ نے ضلع راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کردی۔ ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ یکم سے 3 دسمبرتک ہوگا اورراولپنڈی میں ہرقسم کے اجتماع،ریلی،جلسے جلوس پرپابندی عائد رہے گی۔

*سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات ایک بار پھر شروع ہوگئے*ذرائع کے مطابق افغان حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سعودی عرب کی دعوت پر نئے مذاکراتی مرحلے کے لیے سعودی عرب پہنچ چکا ہے۔ذرائع کے مطابق وفد میں طالبان کے سینئر رکن انس حقانی، نائب وزیر داخلہ مولوی رحمت اللہ نجیب، اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی شامل ہیں۔دریں اثنا ایک پاکستانی وفد بھی سعودی عرب میں موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاض کی ثالثی میں کابل اور اسلام آباد کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

*24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں 63 ہزار 970 چالان ہوئے*خیال رہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سرگودھا سمیت پنجاب بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔ترجمان ٹریفک پولیس پنجاب کے مطابق 24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں 63 ہزار 970 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے چالان ہوئے اور 8 کروڑ 42 لاکھ 90 ہزار 950 روپےکے جرمانےکیےگئے۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق 23904 گاڑیاں پنجاب کے مختلف تھانوں میں بندکی گئیں، ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر ایک دن میں 28 ہزار چالان ہوئے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 4312 افرادکے خلاف مقدمات درج ہوئے

رضیہ بٹ بھی گرفتار : لاہور میں من شیات فروشوں کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ۔۔۔ طویل عرصے سے نوجوان نسل کی رگوں کو ز۔ہر سے بھرنے والی خاتون من شیات فروش رضیہ بٹ کو گرفتار کر لیا گیا ۔ رضیہ بٹ مکروہ دھندے سے مال کما کر ایک مالدار عورت بن چکی تھی ، اسکی سپلائی پورے لاہور میں تھی، اسکے استعمال میں 6 لگژری گاڑیاں تھیں ، اینٹی نارکاٹکس اور سی سی ڈی نے مشترکہ کارروائی میں ملزمہ کو گرفتار کیا اور متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔۔۔

کراچی میں رواں سال مین ہول اور نالوں میں گرکر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔ ایدھی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مین ہول میں گر کر جان سے جانے والوں میں 3 سال کے بچوں سے لے کر 48 سال تک کے افراد شامل ہیں، حادثات سب سے زیادہ گاڈن میں پیش آئے جہاں 3 افراد مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئے۔

*کراچی میں دودھ کے تمام نمونے مضر صحت اور انسانوں کیلیے ناقابل استعمال پائے گئے : سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع*سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں کراچی میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت کے حکم پر ممبر انسپکشن ٹیم نے دودھ کے نمونوں کی کوالٹی کے متعلق رپورٹ پیش کردی ۔لیبارٹری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دودھ کے تمام نمونے غیر معیاری اور صحت کے لیے مضر تھے اور کوئی بھی نمونہ انسانی استعمال کے قابل نہیں پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، شہر کے مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے درجنوں نمونے پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی لیبارٹری کو ارسال کیے گئے تھے۔ عدالت میں کمشنر کراچی کی جانب سے دودھ کی قیمتوں کا نیا نوٹیفکیشن بھی پیش کیا گیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مہران نے عدالت کو بتایا کہ اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس کے بعد 27 نومبر کو یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیری فارمز 200روپے، ہولسیلرز 208 روپے اور ریٹیلرز 220روپے فی لٹر دودھ فروخت کرینگے۔