
آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول موجود ہے، پاسداران انقلاب ایراندشمن کو “موت کے بھنور” میں پھنسا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاسداران انقلاب ایرانآبنائے ہرمز میں کسی بھی حملے یا اشتعال انگیزی کی صورت میں فوری اور سخت ردعمل دیا جائے گا، پاسداران انقلاب ایران

*ٹرمپ سے کہہ دو ۔۔۔ ہم جنگ بندی کی کوئی جلدی نہیں…ہم لمبی جنگ کیلئے بھی تیار ہے۔ایرانی وفد**ہم اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹایا گئے… ایرانی وفد**ٹرمپ نے واضع احکامات دئیے تھے کہ ایرانیوں سے ملنے اور مزاکرات کی فوٹو اتارانے۔ ورنہ ساری زندگی ہماری بدنامی ہوگئی۔زرائع**ایرانی اسپیکر نے کہاں کہ لمبی جنگ کا سارا نقصان امریکہ کو ہے ، ہمیں نہیں،**امریکہ ایران سے آبنائے ہرمز حصہ مانگ رہا ہے، مگر ایسا مکمن نہیں۔ایرانی وفد**کیا امریکہ پانامہ کے سمندر سے وصول کرنےوالے ڈالروں سے ایران کو حصہ دے گا،ایرانی وفد**آبنائے ہرمز سے امریکہ کا کوئی لین دنیے نہیں ۔۔ اسکا ٹیکس ہم ہی وصول کرینگے، ایرانی وفد**ہمیں ایٹمی ہتھیاروں سے روکنے پر زور دے رہے ہے مگر اسرائیل کو کیوں نہیں روکا جائے رہا، اس نے 90 ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہے اسکو کون روکے گا۔ایرانی وفد*

مذاکرات کیوں ناکام ہوئے ۔اظہر سیدایران امریکہ جنگ بندی مذاکرات بظاہر کامیاب نہیں ہو سکے لیکن دوبارہ بات چیت ہو گی اور مذاکرات کامیاب ہونگے کہ امریکہ کے پاس دوسری کوئی آپشن موجود نہیں ۔ایٹمی حملہ یا زمینی افواج بھیجنا کامیابی نہیں تیسری عالمی جنگ کا باقائدہ آغاز ہو گا جو کسی کیلئے قابل قبول نہیں

۔امریکی نائب صدر کے پاس صرف ایک مینڈیٹ تھا وہ ایران کے ساتھ سابقہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدہ سے مزید آگے تھا جو صرف اور صرف بدنیتی کہلائے گا اور کچھ نہیں ۔امریکی وفد اگر صدر اوباما کے 2015 کے معاہدہ تک محدود رہتا صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو موجودہ ایڈونچر کا جواب دینا پڑتا ۔صدر اوباما کے دور میں ہوئے معاہدہ کے مطابق ایران کی تینوں نیوکلیر تنصیبات مسلسل نگرانی میں تھیں اور ایران کا ایٹمی ہتھیار تیار کرنا ممکن ہی نہیں تھا کہ یورنیم کا ذخیرہ تین سو کلو گرام تک محدود تھا اور افزودگی کی حد 3.37 تک محدود تھی

۔ایران نے معاہدے کے تحت اپنے ہزاروں سینٹری فیوجز ختم کر دئے تھے ۔فروا یورنیم افزودگی تنصیبات کو ریسرچ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔صدر ٹرمپ نے اسرائیلی لابی کی ایما پر اس معاہدہ کا ناکافی قرار دے کر ناٹو ممالک کی مخالفت کے باوجود معاہدہ یکطرفہ ختم کر دیا تھا ۔نائب صدر اگر سابقہ معاہدے کا اعادہ کرتے صدر ٹرمپ کی سیاسی موت ہوتی ۔سابقہ معاہدہ میں مزید اضافہ ایران کیلئے اس لئے قابل قبول نہیں تھا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کا ہدف سابقہ معاہدے کے تحت بھی ممکن تھا کہ اس معاہدہ میں ناٹو ممالک کے ماہرین اور مشاورت شامل تھی ۔بات چیت کا موجودہ دور صرف ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیلی لابی کی وجہ سے ناکام ہوا ہے ۔بات چیت ہو گی اور معاہدہ بھی ہو گا کہ دوسری آپشن صرف اور صرف تباہی بربادی ہے ۔

*امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی فوری سمندری ناکہ بندی کا اعلان*جو کوئی بھی سمندر میں ایران کو غیرقانونی ٹیکس دے گا، اسے سمندروں میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپامریکا آبنائے ہرمز میں ایران کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کرنا شروع کرے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپجو بھی ایرانی یا پُرامن جہازوں پر فائر کرے گا، اسے تباہ کردیا جائے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

واپڈا: “بجلی تو آنی جانی ہے، بل تو آنی ہی آنی ہے!” 💡امریکہ اور ایران کے مذاکرات تو ہو گئے، اب میری واپڈا کے “سپر پاور” حکمرانوں سے گزارش ہے کہ ذرا جنیوا نہ سہی، کسی گرڈ اسٹیشن کے باہر ہی عوام سے مذاکرات کر لیں! 🤝🔌 شاید لوڈ شیڈنگ کا کوئی ایسا حل نکل آئے جو ہمیں “پتھر کے دور” سے واپس لے آئے۔ 🙏🕯️سچ تو یہ ہے کہ واپڈا والوں کا اپنا ہی ایک “رومانوی” مزاج ہے:: ہم پنکھے کے نیچے بیٹھ کر ان کے آنے کی “دعا” کرتے ہیں اور وہ بٹن گرا کر ہماری “دعا” قبول کرتے ہیں! 🤲⚡💨مذاکرات کا ایجنڈا کچھ یوں ہونا چاہیے:بجلی کا آنا: ایک معجزہ، جس پر بحث کی ضرورت ہے۔ ✨😲بجلی کا جانا: ایک قومی فریضہ، جو واپڈا بڑی ایمانداری سے نبھاتا ہے! 🫡📉میٹر کی رفتار: جس کی سپیڈ دیکھ کر لگتا ہے کہ میٹر بجلی نہیں، “راکٹ” پی رہا ہے! 🚀💸چنیوٹ کی پہچان: اب ہماری پہچان فرنیچر نہیں بلکہ “اندھیرا” بنتی جا رہی ہے۔ 🌚🪑واپڈا والے بھی بڑے کمال کے لوگ ہیں؛ پوری دنیا میں سورج روشنی دیتا ہے، یہاں واپڈا والے سورج ڈھلتے ہی “اندھیرے کا تحفہ”

بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان سے مذاکرات کا مطلب ہے کہ وہ آپ کو قائل کر لیں گے کہ “اندھیرے میں آنکھیں زیادہ تیز ہوتی ہیں!” 🤡🔦🔌 بلکہ ہو سکے تو ہمارے ضلع چنیوٹ کے منتخب نمائندوں کو بھی اس میز پر بٹھائیں، اگر وہ ووٹ مانگنے کے بعد کہیں “دستیاب” ہوں تو! 🕵️♂️ پچھلے الیکشن میں تو وہ ایسے بجلی بنے پھرتے تھے کہ لگتا تھا اب چنیوٹ میں چاند بھی واپڈا کی مرضی سے چڑھے گا! 🌕🕯️سچ تو یہ ہے کہ چنیوٹ کے عوام اب اتنے صبر والے ہو گئے ہیں کہ اگر بجلی آ جائے تو حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ “لگتا ہے کسی کا فون چارج کرنے کے لیے غلطی سے بٹن دب گیا ہے!” 🔋😲

پاکستانی ائرفورس نے ایرانی وفد کے لیئے صرف ائر شیلڈ فراہم نہیں کی بلکہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ائر کوریڈور فراہم کیا جس میں اواکس، ائر ری فیولنگ ، C 130ایف 16 تھنڈر جے 17 طیارے شامل تھے پاکستان فورسز زندہ باد پاکستان پائندہ باد










