تازہ تر ین

‏پاکستان کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی جرات، قوم کی عسکری تاریخ کا روشن باب بن چکی ہے!! پاکستان فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف ایئر وائس مارشل طارق غازی نے جمعرات کو کہا ہے کہ مئی میں انڈیا سے ہونے والی جنگ آخری نہیں تھی اور وہ ’مستقبل کی جنگوں‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔پاک فضائیہ ھر طرح کی جنگ کے لیے تیار ہیں دنیا سن لے ڈپٹی ائیر چیف طارق غازی۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا دورۂ پاکستان، ون ڈے سیریز کیلئے 23 مئی کو اسلام آباد پہنچے گی۔۔۔عباس عراقچی کا دورہ روس، جنگ کا رُخ تبدیلپیوٹن کا پیغام، امریکہ میں۔۔ مڈل ایسٹ: متحدہ عرب امارات نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔۔ تھران کا میزائل سسٹم فعال ، تھران کے میزائل ۔۔سھیل ظفر چٹھہ کا پھلے پٹواری پٹواری پر ھاتھ۔۔ائئنی عدالت کا بڑا فیصلہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے ایک فوجی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی حملے کے بعد ایران کی فوج نے “دشمن یونٹس” پر میزائل داغے۔ فوجی عہدیدار کے مطابق ان “دشمن یونٹس” کو نقصان پہنچا اور وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

بھارت بنے گا پاکستان ۔ اظہر سید پاکستان تو بدل گیا ہے لیکن بھارتی پاکستان کے راستے پر چل نکلے ہیں ۔بنگال اور کیرالہ کے صوبائی اسمبلی کے نتایج اس بات کی واضح دلیل ہیں جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ کے جس مکروہ نظام سے ایک زناکار پلے بوائے کو پاکستان میں مسیحا بنایا گیا

اسی جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ پر مشتمل مسلمان دشمنی کے پراپیگنڈہ سے بی جے پی بنگال میں کامیاب ہو گئی ہے ۔کیرالہ میں پانچ دہائیوں سے کامیاب ہونے والی کیمونسٹ پارٹی شکست کھا گئی ہے ۔بھارت جتنا بڑا ملک ہے ۔جتنی متنوع ابادی بھارت کی ہے صرف سیکولرازم ہی اس کی بقا کی ضمانت بن سکتا ہے ۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سیکولرازم کی بجائے ہندوازم کی بھینٹ چڑھ گئی ہے اور اس کی کوکھ سے صرف انتشار پیدا ہو گا اور بس ۔پاکستان میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مالکان نے کھل کر مذہب کا استعمال کیا ۔ریاست پر گرفت قائم رکھنے کیلئے عدلیہ اور میڈیا میں دلالی کی صنعت کو فروغ دیا ۔ نچلے طبقہ کے کم نسل لوگوں کو اعلی عہدے اور اختیارات دے کر اپنی منشا کے نتایج حاصل کئے

۔اس پالیسی کی انتہا مرشد کی صورت میں سامنے آئی تو مالکوں کو ہوش آیا ادارے تباہ ہو جائیں ،عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہو جائے، ملک ٹوٹ جاتے ہیں ۔پاکستان نے زناکار مرشد کے تجربہ کے بعد واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے ۔اس کے نتایج بھی سامنے آنے لگے ہیں لیکن بھارتی پاکستان کے راستے پر چل نکلے ہیں

۔ملا ملٹری اتحاد جو کبھی پاکستان کے انتشار کا باعث بنا تھا بالکل وہی اتحاد بھارتی فوج اور انتہا پسند ہندوؤں کی جماعت میں نظر آرہا ہے ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سب سے بڑی سیکولر فوج کا سربراہ حلف سنبھالنے کے بعد مندر میں اظہار تشکر کیلئے جاتا ہے ،اس سے پہلے بھارتی فوج کے کسی سربراہ نے فوج کا سیکولر تشخص مجروح نہیں ہونے دیا تھا ۔ففتھ جنریشن وار کا جو چن جنرل باجوہ نے چڑھایا تھا وہی چن اب بھارتی ہندوانہ جمہوریت چڑھا رہی ہے ۔اپریشن سیندور میں جس طرح جھوٹ کا طومار باندھا گیا جنرل باجوہ کے حواری پیچھے رہ گئے ہیں ۔بھارتی عدلیہ بھی انتہا پسند ہندوؤں کی عدلیہ بنتی جا رہی ہے اور اسکی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب بی جے پی کے ایجنڈے پر چلنے والے چیف جسٹس کو ریٹارمنٹ کے بعد بھارتی راجیہ سبھا کی

ممبر شپ کا تحفہ دیا گیا۔بھارت میں مسلمان ایک بہت بڑی حقیقت ہیں ۔انکے خلاف پراپیگنڈہ کی بنیاد پر الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے میں پاکستان کے حوالہ سے شر نہیں خیر ہی خیر ہے ۔بھارتی معاشرہ انتشار کا شکار ہو گا ۔ممتا بنیر جی پندرہ سال بعد ہاری ہیں ۔بے جی پی نے بنگال کا مورچہ مسلمان نفرت کی بنیاد پر جیتا ہے ۔کیرالہ میں بھلے بی جے پی کامیاب نہیں ہوئی لیکن وہاں کیمونسٹ پارٹی کے خلاف کئے گئے مسلسل پراپیگنڈہ نے اسے شکست سے دو چار کر دیا ۔دنیا جس تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہی ہے بھارتی معاشرہ میں انتشار پاکستان کے حوالہ سے خوش کن ہے ۔

قانونی پیچیدگی کی ڈرامے بازیاں آج سوشل میڈیا پہ پبلک نیوز چینل کی ایک ویڈیو دیکھی ۔ جس میں ایک پولیس آفیسر شاید ایس ایس پی ٹریفک ، محکمہ ایسائیز پنجاب کے آفیسر اور مذکورہ چینل کےنمائیندے ایک گاڑی کو روکتے ہیں ۔ اور ان سے گاڑی کے نمبر کے بارے می ںسوال کیاجاتا ہے ۔ گاڑی میں موجود شخص نےبتایا کہ میری وائف گاڑی میں علیل ہیں جن کو ایمرجنسی میں فلاں ہسپتال لے کر جا رہا ہوں ۔ اور یہ گاڑی کراچی سے رجسٹرڈ ہے ۔ پولیس آفیسر نے کہا چونکہ خاتون کی علالت کامعاملہ ہے اس لیۓ آپ کو جانے کی اجازت ہے ۔ ورنہ قانونی طور پر آپ پاکستان میں ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں بغیر اجازت کے داخل ہوئے ہیں تو آپ کے خلاف قانونی کاروائی بنتی ہے ۔ خیر آپ جلدی ہسپتال جائیں ۔ مذکوہ شخص کےجانے کے بعد صحافی نے پوچھا کہ جناب اب آپ ہمارے ناظریں کو اس قانون کے بارے میں بتائیں۔ جس پر پولیس آفیسر صاحب نے فرمایا ۔ چونکہ صوبہ سندھ کی گاڑی کراچی سے رجسٹرڈ ہے ۔ اور اس گاڑی نے ٹیکس اس صوبے کی حکومت کو دیا ہے ۔ تو اس گاڑی کو پنجاب کے روڈ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

۔ اگر ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں گاڑی جائے گی تو وہ ایکسائیز ڈیپارٹمنٹ سے ایک لیٹر لے گی ۔ اور فیس ادا کرنے کے بعد روڈ پہ آسکتی ہے ۔ جس کا مطلب مجھے یہ سمجھ آیا کہ کراچی سے پنجاب کے کسی چھوٹے شہر تلہ گنگ یا حضرو جانے والا فرد پہلے لاہور ، راولپنڈی یا کسی بڑے شہر میں جا کر محکمہ ایسائیز کا دفتر تلاش کرے۔ اور دفتری اوقات کے بعد پہنچنے پر کسی ہوٹل میں پانچ افراد کی رہائش ، دو وقت کے کھانے پینے کا بندوبست کرے

۔ اگلے دن دفتر کھلنے ، صاحب بہادر کی آمد کا انتظار کرے، اور پھرلیٹرجاری ہونے اور اس کے پراسس کا انتظارکرے پھر گاؤں جاکر اپنی والدہ سے ملاقات کرے اور پھر لاہور آ کر بتائے کہ سر اب میں واپس جا رہا ہوں ۔ مجھے کراچی جانے کا اجازت نامہ دے دیں ۔ اب محترم ایس ایس پی ٹریفک صاحب کے دوسرے نقطہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ محترم نے فرمایا کہ چونکہ کراچی یا کسی اورشہر سے آنے والی گاڑی ٹیکس تو اپنے شہر کو دیتی ہے اور روڈ پنجاب کے خراب کرتی ہے ۔ اس لئے روڈ ٹیس ادا کرنے کا اجازت نامہ ضروری ہے ۔۔ جناب ادب سے گزارش ہے کہ پنجاب میں داخل ہونے سے قبل گاڑی چھتیس ٹول پلازہ سے ہزاروں روپے کا ٹول ادا کرتی پنجاب میں داخل ہوتی ہے ۔ جہاں سرکار نے ہر چالیس پچاس کلومیٹر پر ٹول پلازہ بنا رکھاہے ۔ اگر وہ ٹول ٹیکس روڈ پہ چلنے کا نہیں ہے تو وہ پیسے کس مد میں لئے جاتے ہیں ؟ صحافی صاحب بھی ماشاء اللہ بڑے صحافی تھے ۔ او بھئی پوچھو ایس ایس پی صاحب سے سر جی ہر ٹول پلازہ پہ کس مرض کی دوا کے پیسے لئے جاتے ہیں ؟ چلیں مان لیا یہ قانون لاگو ہے اور کسی وجہ سے درست بھی ہے ۔ تو کیا کراچی سے چلنے والی آٹھ دس ہزار بسیں اور پچاس ہزار ٹرک کراچی پورٹ سے روزانہ کی بنیاد پر تین صوبوں کو جاتے ہیں وہ روزانہ یا ماہانہ محکمہ ایسائیز سے اجازت نامہ لیتے ہیں؟؟؟ ۔ یا یہ قانون کار والوں کے لئے ہے ۔؟ خیر مجھے اس قانونی شک کا بالکل اندازہ نہیں ۔ اگر کسی دوست کو معلوم ہو تو راہنمائی فرمائیں ۔ ہم تو سنتے تھے یورپ کے ایک ویزہ پہ آپ اپنی گاڑی پہ ہر ملک کا روڈ خراب کر سکتے ہیں ۔۔۔ شاہدداؤد ملک

‏ڈی جی اینٹی کر۔پشن سہیل ظفر چٹھہ کا تازہ ترین کھڑاک ۔۔۔‏ ایک طاقتور پٹواری پر ہاتھ ڈال دیا ۔۔۔۔ ‏اس پٹواری کے کالے کرتوت آپ کو حیران کر دیں گے ۔۔ راولپنڈی کے معروف صحافی راجہ لیاقت کی ایک رپورٹ کے مطابق مری کے ممتاز پٹواری کا شمار مری اور راولپنڈی کی معروف بااثر شخصیات میں ہوتا ہے ، ممتاز پٹواری کھلا کھاتا ہے اور کھلا لگاتا ہے ۔‏ اندازہ کریں کہ ایک پٹواری جسکی زیادہ سے زیادہ تنخواہ 1 لاکھ روپے ہو سکتی ہے وہ کروڑوں کی گاڑی میں سفر کرتا ہے ۔ اسکے 15 ذاتی ملازم ہیں ۔ مری روڈ پر ایک عالیشان دفتر میں بیٹھتا ہے اور اس جس پلازے میں اسکا دفتر ہے وہاں اسکی بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے ہر شخص کی جان جاتی ہے ۔ ‏ممتاز پٹواری نے مری میں زمینوں کے انتقالات میں کئی ہیر پھیر کیے ، اسکے خلاف متعدد پرچے درج ہوئے جو اس نے اپنا اثر اور بابا قائداعظم استعمال کرکے خارج کروا دیے ۔۔۔۔کئی کمزور لوگوں کی اراضیاں اور قیمتی زمینیں اس نے اپنے قلم کی جنبش سے بااثر اور مالدار لوگوں کے نام کردیں جنہوں نے اسے مال کھلایا ۔ ‏اس پٹواری کے ڈسے کئی لوگ گھروں سے بے گھر ہو گئے اور عدالتوں کچہریوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں

۔۔۔۔ اپنے مری روڈ والے دفتر کے قریب اس نے ایک غریب دکاندار کو چند روز قبل مارا پیٹا جو کہ پلازے کی سیڑھیوں کے نیچے دکان لگاتا تھا ۔ بے غیرتی کی اس سے بڑی انتہا اور کیا ہو سکتی ہے ۔۔‏اگرچہ مذکورہ پٹواری اس وقت ضمانت قبل از وقت گرفتاری پر ہے ۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب ممتاز پٹواری کا معاملہ سہیل ظرف چٹھہ کے پاس ہے اور پٹواری انکے راڈار پر آگیا ہے ، ‏جہلم کے ایک آفیسر نے بے دھڑک ہو کر اور بغیر پریشر قبول کیے ممتاز پٹواری کے خلاف انکوائری مکمل کر لی ہے ۔ 11 مئی کو ممتاز پٹواری کی اینٹی کر۔پشن ہیڈ کے سامنے پیشی ہے۔‏ دیکھنا یہ ہے کہ غنڈہ بدمعاش، بدعنوان، بااثر کر۔پٹ اور مالدار پٹواری قانون کے شکنجے میں آتا ہے یا ماضی کی طرح بچ نکلتا ہے ۔۔۔ ‏لیکن اگر سہیل ظفر چٹھہ کی طرف دیکھا جائے تو ممتاز پٹواری کا ٹھکانہ اب جیل ہی نظر آرہا ہے ۔۔۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved