تازہ تر ین

ارکان پارلیمنٹ پریشان حکومتی وزراء پر انجانے کا خوف چھمگوئیاں اپوزیشن کے ارکان خوش۔ عید قربان سے پھلے قربانی سیٹی بج گئی۔قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس پارلیمنٹرین حواس باختہ جمھوریت کی سانسیں اکھڑنے لگی۔۔11 سے 18 مئی تک انٹرنیٹ کی رفتار پر مرگی کے دورے حکومت سھولت کار۔۔وزیر اعطم اور صدر کون فیصلہ ھو گیا۔۔۔پٹواریوں نے مطالبات پورے نہ ہونے پر قلم چھوڑ ہرتال کا اعلان کردیا۔۔میرا کتا ٹومی تمھارا کتا کتا پاکستانی تاریخ کی گھٹیا حکومت۔۔ پاکستان تاریخ میں صدر کی موجودگی میں صدارتی ھاوس سے پاکستانی پرچم اتار دئیے گئے۔۔ایک طرف زرداری کی استعفے کی بازگشت اور دوسری طرف صدر مملکت کی موجودگی میں پرچم اتارنا سازش نھی تو کیا ھے۔۔وزیر اعطم سپیکر وزیر داخلہ کی صدارتی ھاوس امد رپورٹ سھیل رانا۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

Jehangir Karamat پاکستان آرمی کے ایک ریٹائرڈ چار ستارہ جنرل، سفارت کار اور عسکری دانشور ہیں جنہوں نے فوجی، تعلیمی اور سفارتی شعبوں میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ پاکستان آرمی کے سربراہ (Chief of Army Staff) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی دونوں عہدوں پر فائز رہے۔ ان کا دورِ خدمت پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے ایک اہم مرحلے سے متعلق ہے، جب ملک میں سول و عسکری تعلقات، جوہری پالیسی اور خطے کی سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی۔ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرJehangir Karamat 20 فروری 1941ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک فوجی خاندان سے تھا۔ ان کے والد بھی برطانوی ہندوستانی فوج اور بعد ازاں پاکستان آرمی سے وابستہ رہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مختلف فوجی اور تعلیمی اداروں میں ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی۔فوجی کیریئر کا آغازوہ 1961ء میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کر کے Frontier Force Regiment میں شامل ہوئے۔ ابتدائی دور میں انہوں نے مختلف کمانڈ اور اسٹاف ذمہ داریاں انجام دیں۔انہوں نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کے زمانے میں بھی فوجی خدمات انجام دیں، اگرچہ ان جنگوں میں ان کے کردار کی تفصیلات محدود عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

عسکری تعلیم اور اسٹاف ذمہ داریاں جہانگیر کرامت نے پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک عسکری اداروں سے بھی تربیت حاصل کی۔ وہ National Defence University اور دیگر عسکری تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے۔انہوں نے مختلف ادوار میں:بریگیڈ کمانڈڈویژن کمانڈکور ہیڈکوارٹر اسٹافجنرل ہیڈکوارٹر (GHQ) میں اہم عہدےتدریسی اور پالیسی نوعیت کی ذمہ داریاںسرانجام دیں۔وہ نیشنل ڈیفنس کالج (بعد ازاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی) میں بطور استاد اور بعد میں پالیسی امور سے متعلق عہدوں پر بھی کام کرتے رہے۔ ان کی دلچسپی عسکری حکمتِ عملی، قومی سلامتی اور سول-ملٹری تعلقات کے موضوعات میں سمجھی جاتی تھی۔چیف آف آرمی اسٹاف1996ء میں Farooq Leghari نے انہیں پاکستان آرمی کا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا۔ انہوں نے Abdul Waheed Kakar کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا۔بطور آرمی چیف ان کا دور کئی اہم قومی اور علاقائی واقعات سے وابستہ رہا:افغانستان میں طالبان کے عروج کا زمانہبھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقاتپاکستان کے جوہری پروگرام کے گرد بڑھتا عالمی دباؤاندرونی سیاسی عدم استحکامسول حکومت اور فوج کے تعلقات میں تناؤچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی1997ء میں وہ Joint Chiefs of Staff Committee کے چیئرمین بھی بنے۔ اس طرح وہ بیک وقت پاکستان کے دو اہم ترین عسکری عہدوں پر فائز رہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطے اور مشترکہ عسکری پالیسی سے متعلق ہوتا ہے، اگرچہ عملی طاقت روایتی طور پر آرمی چیف کے پاس زیادہ سمجھی جاتی رہی ہے۔سول حکومت سے اختلافات اور استعفیٰ1998ء میں ان کا نام خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوا

جب ان کے بعض عوامی بیانات اور پالیسی خیالات کو سول حکومت نے حساس تصور کیا۔ایک لیکچر کے دوران انہوں نے قومی سلامتی کے ڈھانچے اور ادارہ جاتی مشاورت کے حوالے سے گفتگو کی، جسے اُس وقت کی حکومت نے سیاسی مداخلت سے تعبیر کیا۔اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم Nawaz Sharif تھے۔ حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کے بعد جہانگیر کرامت نے اکتوبر 1998ء میں استعفیٰ دے دیا۔یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا کیونکہ ایک حاضر سروس آرمی چیف نے دباؤ کے ماحول میں عہدہ چھوڑا۔ان کے بعد Pervez Musharraf پاکستان آرمی کے سربراہ مقرر ہوئے۔بعد از ریٹائرمنٹ کردارریٹائرمنٹ کے بعد جہانگیر کرامت نے سفارتی اور فکری میدان میں سرگرمیاں جاری رکھیں۔انہیں United States میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے 2004ء سے 2006ء تک خدمات انجام دیں۔ یہ دور 9/11 کے بعد پاکستان-امریکہ تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے مختلف تعلیمی، پالیسی اور تھنک ٹینک فورمز پر بھی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور سول-ملٹری تعلقات پر اظہارِ خیال کیا۔عسکری اور سیاسی تناظر میں اہمیتجہانگیر کرامت کا دور پاکستان کی تاریخ میں اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ:یہ ایٹمی دھماکوں سے قبل اور بعد کے حساس دور سے جڑا تھا۔سول اور عسکری قیادت کے تعلقات میں تناؤ نمایاں تھا۔

ان کے استعفے نے بعد کی سیاسی و عسکری تبدیلیوں کے لیے ایک نئی صورتحال پیدا کی۔ان کے بعد آنے والے دور میں پاکستان میں فوجی مداخلت اور اقتدار کی سیاست نے نیا رخ اختیار کیا۔نتیجہJehangir Karamat کی زندگی پاکستان کے عسکری اداروں، ریاستی پالیسی سازی، سفارت کاری اور سول-ملٹری تعلقات کے کئی اہم مراحل سے وابستہ رہی۔ انہوں نے فوجی کمان، تدریسی خدمات، دفاعی پالیسی اور سفارت کاری میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں، اور ان کا نام خاص طور پر 1998ء کے سیاسی و عسکری تناظر میں پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔

پٹرول کتنا مہنگا ہے اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عقل کتنی سستی ہے۔چاہے کچھ بھی ہو جائے ٹائیگر قیدی نمبر 804 کے نعرے لگاتا رہے گا اور نونی آپ کو اورنج لائن، میٹرو بس، ترقیاتی پراجیکٹس اور سڑکوں کی تصویریں دکھاتا رہے گا۔ دراصل اس ملک میں عاقل پیدا نہیں ہوتے بلکہ عقیدت مند پیدا ہوتے ہیں۔سنہ 2022 کے عدم اعتماد سے پہلے پٹرول 150 روپے لیٹر تھا تو نونیوں کو لگتا تھا قیامت آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی دردناک ٹویٹس کی جاتی تھیں جیسے ابھی ابھی کسی نے غریب کے چولہے سے آخری روٹی اٹھا لی ہو۔ مگر آج وہی پٹرول 414 ہو گیا ہے اور نونی ایسے دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسے سب نارمل ہے۔جو صاحب پہلے مہنگائی پر روز ماتم کیا کرتے تھے آج وہی مہنگائی کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ یعنی جو کل مہنگائی کا مریض تھا آج وہی ڈاکٹر بن کر نسخے لکھ رہا ہے۔تبدیلی والوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے ہوئے مگر جب بے روزگاری بڑھنے لگی تو بے روزگاری کا سروے ہی بند کر دیا گیا۔ گویا مسئلہ حل کرنے کا بہترین طریقہ یہ نکلا کہ آئینہ ہی توڑ دو تاکہ چہرہ صاف نظر نہ آئے۔مہنگائی بڑھی تو علاج معاشی پالیسی نہیں بلکہ جذباتی تقریریں تھیں۔ کبھی سازش، کبھی بارودی سرنگیں، کبھی عالمی حالات۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے عوام کو سمجھایا کہ مسئلہ مہنگائی نہیں آپ کے ذرائع آمدن ہیں وہ بڑھا لیں۔

دونوں سیاسی دھڑوں نے اپنے اپنے حامیوں کو اس حد تک تقسیم کر دیا ہے کہ اب ان کے لیے سچ اور جھوٹ کا معیار بھی پارٹی وابستگی سے طے ہوتا ہے۔ اگر مہنگائی ان کے مخالف کے دور میں ہو تو قیامت ہے اور اگر اپنے دور میں ہو تو مجبوری۔ آج کی حکومت سے پہلے حکومت میں مہنگائی آج کے دور سے کم تھی۔ خان صاحب سے پہلے دور میں ان سے کم۔ نواز شریف صاحب کے دور سے قبل اور کم اور مشرف کا دور مہنگائی کے لحاظ سے کافی بہتر معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پیچھے چلتے جائیں آخر کار آپ ڈیڑھ روپے فی لیٹر پٹرول تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن ہر دور میں مہنگائی کا شور کم و بیش یکساں ہی رہا۔ حکومت مخالف سراپا احتجاج ہی رہے اور ہر دور میں ایک عوامی گروہ اپنی حکومت کا دفاع ہی کرتا رہا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں سیاستدانوں سے زیادہ وفادار ان کے اندھے حمایتی ہیں۔

لیڈر کچھ بھی کر لے دلیل ہمیشہ تیار ہوتی ہے۔نعرے تیار ، ہیش ٹیگز تیار، سب تیار ہوتا ہے۔ماضی اچھا اور حال قیامت لگتا ہے۔ مہنگائی ہر حکومت میں بڑھتی ہے مگر دفاع کرنے والے بدل جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ عوام ہیں۔ جب تک عوام پارٹیوں کے بجائے اپنے مفاد کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے تب تک پٹرول بھی مہنگا ہوتا رہے گا اور عقل بھی سستی ہی رہے گی۔تاحال تو یہی ضابطہ حیات ہے “ میرا کتا ٹومی، تیرا کتا کتا۔”

ایک قوم جو اپنے مستقبل کا تعین کرنے والے سوالات سے اب بھی گریزاں ہےرانا تصدق حسیناسلام آباد: کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے نہیں۔یہ دہائیوں تک زندہ رہتے ہیں، مختلف صورتوں میں ابھرتے ہیں، ہر بحران کے ساتھ مزید واضح اور ہر گزرتے سال کے ساتھ زیادہ ناگزیر ہوتے جاتے ہیں۔پاکستان آج بھی ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام ہی مسئلہ نہیں بلکہ وہ بنیادی سوالات بھی ہیں جو برسوں سے موجود ہیں مگر جن کے جوابات آج تک اخلاص، وضاحت اور عملی اقدامات کے ساتھ نہیں دیے گئے۔پاکستان کی سفارتی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو ان کے ایک قریبی ہم منصب وین جیا باؤ نے ایک ایسا سوال کیا جو رسمی سفارت کاری سے کہیں آگے تھا۔کیا پاکستان اپنی آئینی ذمہ داریاں خصوصاً دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کے عوام کے لیے مؤثر طریقے سے پوری کر رہا ہے؟کیا تعلیم، صحت، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ واقعی عام شہری تک پہنچ رہا ہے؟ملک کا کتنا حصہ عملاً ریاست کی عملی رسائی سے باہر ہے؟اور تیزی سے بڑھتی آبادی میں کتنے شہری خود کو واقعی نظامِ حکومت میں نمائندہ، محفوظ اور شریک محسوس کرتے ہیں؟چینی نقطۂ نظر ایک ایسے اصول کی عکاسی کرتا تھا جس نے ان کی قومی ترقی کی بنیاد رکھی۔ایک ریاست صرف اداروں سے نہیں بنتی بلکہ اجتماعی ذمہ داری سے تشکیل پاتی ہے، جہاں ریاست خدمات فراہم کرتی ہے اور شہری اس میں حصہ ڈالتا ہے۔ان کی ترقی اتفاقی نہیں تھی بلکہ منظم، مربوط اور شمولیتی تھی۔تاہم اس سوال کا کوئی بامعنی جواب کبھی سامنے نہ آ سکا۔ایک اور اہم لمحہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت کے عروج میں سامنے آیا۔مرکزی اختیار کے اس دور میں جب اقتدار پر سوال اٹھانا ایک جرات مندانہ عمل تھا، جامعہ بنوریہ کراچی کے ایک طالب علم نے براہِ راست اس وقت کے حکمران کے سامنے تاریخ سے جڑے ہوئے، گہرے اور بنیادی سوالات اٹھائے۔یہ سوالات نظریاتی نہیں تھے۔یہ عملی زمینی حقائق تھے گورننس کی ناکامی، انصاف میں عدم مساوات، احتساب کی کمی، اور آئینی وعدوں اور عملی نفاذ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج۔سال گزر گئے۔یہ سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔اور آج پاکستان ان سوالات کے جواب نہ دینے کے نتائج بھگت رہا ہے۔معاشی صورتحال مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔مہنگائی قوتِ خرید کو مسلسل کم کر رہی ہے، تنخواہ دار طبقہ اپنی عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے میں دشواری کا شکار ہے، توانائی کے اخراجات غیر مستحکم ہیں اور قومی قرضے ملکی فیصلوں کو محدود کر رہے ہیں۔ادارے اسٹریٹجک کے بجائے ردعمل دینے والے نظر آتے ہیں اور عوامی اعتماد کمزور ہوا ہے۔تاہم گورننس کے مسائل سے آگے ایک گہرا مسئلہ موجود ہےایک اجتماعی ذہنیت جو وقت کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری سے بے اعتنائی کو معمول بنا چکی ہے۔تاریخی مثالیں اس کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔1970 کی دہائی میں اسلام آباد کے لال کوارٹرز کے رہائشی مفت گیس کی وجہ سے چولہے مسلسل جلتے رہنے دیتے تھے۔رحیم یار خان کی اینگرو کالونی میں، جہاں بجلی مفت تھی، گھروں میں غیر موجودگی کے باوجود دنوں تک آلات چلتے رہتے تھے۔یہ ضرورت نہیں بلکہ رویہ تھا۔اس کے برعکس عالمی مثالیں ایک مختلف شہری شعور کو ظاہر کرتی ہیں۔جرمنی میں کھانے کے ضیاع کو سماجی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔چین میں معمولی سی احتیاط بھی، جیسے غیر ضروری طور پر زیادہ پکے پھل نہ لینا، قومی ذمہ داری اور معاشی شعور کی علامت ہے۔یہ مثالیں ایک بنیادی حقیقت واضح کرتی ہیں۔قومیں وسائل کی فراوانی سے نہیں بلکہ ذمہ داری سے پہچانی جاتی ہیں۔یہ حقیقت ایران کے تناظر میں مزید واضح ہو جاتی ہے۔طویل عرصے کی پابندیوں، بیرونی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے باوجود ایران نے بنیادی خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔تعلیمی ادارے کھلے رہتے ہیں،

سرکاری دفاتر کام کرتے ہیں اور روزمرہ نظام اچانک تعطل کا شکار نہیں ہوتا۔حکومتی سطح پر عوامی نقل و حرکت اور معمولات میں بلاوجہ رکاوٹیں معمول نہیں بنائی جاتیں۔پاکستان میں تاہم تاثر مختلف ہوتا جا رہا ہے۔بڑھتی ہوئی رائے یہ ہے کہ حکمرانی عوامی حقیقت سے کٹ چکی ہے۔فیصلے شمولیت کے بجائے مسلط کیے جاتے ہیں۔استحقاق بڑھ رہا ہے جبکہ احتساب کمزور ہو رہا ہے۔اور عوامی مشکلات کا ذکر تو ہوتا ہے مگر ان کا حل نظر نہیں آتا۔یہ تاثر چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، خطرناک ضرور ہے کیونکہ حکمرانی کا انحصار صرف اختیار پر نہیں بلکہ اعتماد اور جواز پر بھی ہوتا ہے۔اور آج یہ اعتماد دباؤ میں ہے۔عام شہری بڑھتی ہوئی مہنگائی، محدود ریلیف اور سکڑتی ہوئی معاشی گنجائش کا سامنا کر رہا ہے۔روزمرہ زندگی میں خلل بڑھ رہا ہے جبکہ عدم مساوات واضح ہو رہی ہے۔ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ اب نظریاتی نہیں بلکہ عملی ہو چکا ہے۔اور اس کے نیچے ایک بڑھتی ہوئی اجتماعی بے چینی موجود ہے۔پاکستان کا مسئلہ صرف معاشی یا انتظامی نہیں رہا۔یہ ایک نظامی اور گہرا ساختی مسئلہ ہے۔یہ ایک ایسا چکر ہے جہاں سوالات اٹھتے ہیں مگر جواب نہیں ملتے، وعدے کیے جاتے ہیں مگر پورے نہیں ہوتے، وسائل مختص ہوتے ہیں مگر محفوظ نہیں رہتے، اور اختیار استعمال ہوتا ہے مگر مسلسل احتساب کے بغیر۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک قوم امکانات اور جمود کے درمیان معلق ہو کر رہ گئی ہے۔تاہم یہی لمحہ ایک انتخاب بھی فراہم کرتا ہے۔ایسا انتخاب جو مشکل سچائیوں کا سامنا کرے نہ کہ ان سے فرار اختیار کرے۔ایسا انتخاب جو وقتی سہولت کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو ترجیح دے۔ایسا انتخاب جو شفافیت، انصاف اور عملی اصلاحات کے ذریعے اعتماد کی بحالی کرے۔اور ایسا انتخاب جس میں شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو بھی شامل کریں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved