تازہ تر ین

ایف بی آر ان ایکشن تہذیب بیکری سیل۔۔راولپنڈی میں قتل پٹھانوں نےلڑکے کو موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گھسیٹ کر قتل کردیا۔۔۔۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کا دشمن کو اشعار کی زبان میں دو ٹوک موقف۔۔افغانستان کسی پراکسی کا حصہ نہ بنے بھارت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ھے۔مئی 2025 کی لڑائی کے بعد انڈیا نے امریکی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی تھی: فیلڈ مارشل عاصم منیر۔ے پاکستان ناقابل تسخیر ھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دبنگ قوم سے خطاب۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی دارالحکومت کے تجارتی مرکز بلیو ایریا میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کی معروف تہذیب بیکری کو مبینہ طور پر سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی اور غیر دستاویزی لین دین کے خلاف جاری ملک گیر کریک ڈاؤن کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق، ایف بی آر حکام نے بیکری کے آؤٹ لیٹ کا معائنہ کیا جہاں غیر تصدیق شدہ رسیدیں اور ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم میں خامیاں پائی گئیں۔ اس چھاپہ مار کارروائی کا بنیادی مقصد کھانے پینے کے شعبے میں مالی شفافیت کو یقینی بنانا اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مستحکم کرنا ہے۔اسلام آباد کے بڑے تجارتی مراکز میں اس حالیہ سختی نے کاروباری حلقوں اور شہریوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ضابطہ جاتی اقدامات میں مزید تیزی لا رہی ہے تاکہ معاشی نظام میں بہتری لائی جا سکے۔

سوشل میڈیا اور خفیہ ایجنسیاں ۔ اظہر سید سوشل میڈیا نے سارے پرانے نظریئے تبدیل کر دئے ہیں ۔خفیہ ایجنسیوں کو اب اپنے جاسوس دشمن ملک بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی ۔ضرورت مند کو ڈھونڈنا بھی مشکل نہیں رہا ۔ٹک ٹاک،ٹویٹر،فیس بک ،لنکڈن کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ضرورت مند تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ضرورت مند کو پیسے بھیجنے کے ایک ہزار طریقے ہیں۔وہ اپنے فون سے کسی بھی پل، عمارت،حساس تنصیبات کی تصویر کھینچ کر چند لمحوں میں پیسے بھیجنے والے کو بھیج سکتا ہے ۔ضرورت مند کو کہیں بھی کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ٹارگٹ کلر بنائے جا سکتے ہیں ۔حساس معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔بھارتی اگر مقامی لوگوں کو استعمال کر کے سابق مجاہدین کو مروا سکتے ہیں یہی کام پاکستانی بھی زیادہ بہتر طریقے سے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔اسرائیلیوں نے ایرانی اور افغان مہاجرین کو استعمال کیا ایرانی کے فوجی اور سیاسی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ۔سائنسدان گھروں ،دفتروں اور سڑکوں پر قتل کروا دئے ۔روحانی قائد کو قتل ہی نہیں کروایا اسی لمحے مردہ جسم کی تصویر بھی حاصل کر لی ۔ضرورت مندوں ،کم نسلوں کو پیسوں کا لالچ دے کر ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کروایا جا سکتا ہے ۔پراپیگنڈہ والے وی لاگ کرو ،سائبر سیلوں میں بیٹھے زمہ دار گھنٹوں یہ وی لاگ دیکھیں گے ۔ڈالر بنتے جائیں گے ۔گھٹیا یو ٹیوبر کو اسی طریقے سے سلیبرٹی بنا کر سماجی ڈھانچہ کی دیواریں توڑی جا سکتی ہیں ۔کمزور کی جا سکتی ہیں ۔سوشل میڈیا کے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ سے کسی زناکار کو مسیحا اور لیڈر بنایا جا سکتا ہے ۔عوام میں تقسیم پیدا کی جا سکتی ہے ۔

قومی اور لسانی نفرتوں کی آگ بھڑکائی جا سکتی ہے ۔فرقہ ورانہ نفرت پھیلائی جا سکتی ہے ۔ہر شخص کے ہاتھ میں فون ہے ۔اس فون کے زریعے ہر شخص کو کوئی مخصوص سوچ مسلسل دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا زہن تبدیل کر لے ۔بہت جلد روایتی ہتھیاروں کی جگہ چھوٹے چھوٹے ہتھیار جنگوں کے روایتی تصورات بھی پاش پاش کر دیں گے ۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پر آسکتا نہیں۔

راولپنڈی کے علاقے چکری روڈ، پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا سانحہ ہے۔سترہ سالہ سید زین شاہ ایک معصوم، محنتی اور بااخلاق نوجوان تھا جس کا تعلق ایک شریف سادات گھرانے سے تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر ملازمت کرکے اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بنا ہوا تھا۔ جس علاقے میں زین پیدا ہوا اور اس نے سترہ سال گزارے، وہاں کا کوئی ایک فرد بھی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ وہ جھگڑالو، بدتمیز یا شرپسند تھا۔

یہاں تک کہ اس کے والد نے بھی کبھی کسی کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کی۔اطلاعات کے مطابق محض 1300 روپے کے معمولی لین دین کے تنازعے کے بعد سراج محسود نامی شخص اپنے بھائیوں، متعدد افراد اور خواتین کے ہمراہ زین شاہ کے گھر پر حملہ آور ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق پہلے تلخ کلامی ہوئی اور بعد میں معاملہ ختم کر دیا گیا، مگر اس کے باوجود دوبارہ “گلہ” کرنے کے نام پر زین کے گھر جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق وہاں پہنچتے ہی دوبارہ جھگڑا شروع کیا گیا، جس دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا۔اس کے بعد مشتعل افراد نے زین شاہ کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ زین شاہ کو زبردستی گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا۔ ذرائع اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق زین شاہ پر کئی گھنٹوں تک انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے جسم پر بدترین تشدد کے نشانات سامنے آئے۔ گلے اور بازوؤں پر بلیڈ کے زخم، ٹوٹی ہوئی انگلیاں، جسم کو جلانے کے نشانات، رسیوں سے باندھ کر گھسیٹنے جیسے دل دہلا دینے والے شواہد اس ظلم کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے گھر کے باہر پھینک دیا گیا۔اگر کسی قسم کا تنازع یا جرم موجود بھی تھا تو اس کا فیصلہ صرف اور صرف قانون کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر جتھوں کی صورت میں حملہ کرے، اغواء، تشدد اور قتل جیسے غیر انسانی اقدامات کرے۔

ایسے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض عناصر اس واقعے کو لسانیت اور قومیت کا رنگ دے کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجابی اور پٹھان کے نام پر نفرت پھیلانا، جرگوں اور احتجاج کے ذریعے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جرم کا تعلق صرف مجرم سے ہوتا ہے، کسی قوم، زبان یا قبیلے سے نہیں۔اگر کسی کے اہلِ خانہ زیرِ حراست ہیں تو اس کا قانونی راستہ موجود ہے، مگر اصل ترجیح قاتلوں کو گرفتار کرکے قانون کے سامنے پیش کرنا ہونی چاہیے۔ اگر کوئی منشیات فروش، سمگلر، چور، ڈاکو یا دہشت گرد قانون کی گرفت میں آتا ہے تو اسے لسانی یا قبائلی رنگ دینا ریاستی اداروں اور قانون کی عملداری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

ہمیں اپنے اداروں، پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اس دلخراش واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے تمام ملوث عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اگر ایسے سفاک عناصر کے خلاف بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں مزید معصوم جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ہم حکومتِ پنجاب، حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سید زین شاہ کے اہلِ خانہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور اس انسانیت سوز واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ

دھمیال کے واقعے میں تین ظلم ہوئے،پہلا ظلم پنجابی نوجوان کی جانب سے محسود جوان کا قتل، یہ ظلم عملا اس وقت ختم ہوگیا جب مقتولین کے ورثاء نے جوابا اسے قتل کردیا،دوسرا ظلم، اس پنجابی کی لاش کو موٹر سائیکل سے باندھ کر گھسیٹا جانا،تیسرا ظلم محسود نوجوان کی لاش اسے ورثاء کے حوالے نہ کرنا، اور اسکے ان عزیزوں کی خواتین کو گرفتار کرنا جنہوں نے پنجابی جوان کو قتل کیا اور اسکی لاش کی بیحرمتی کی،تیسرے ظلم کے خلاف محسود قبیلے نے دیگر پختونوں اور غیر قانونی افغانیوں کو اکٹھا کرکے آج جرگہ کیا ہے، اور اس جرگے کیں 400 کلومیٹر دور سے بھی شرکاء شریک ہوئے ہیں، بلکہ شاید ان علاقوں سے منتخب ایک دو ایم این اے، اور ایم پی ایز بھی اور انکے اعلامیے میں بھی جرم نمبر 2 کا کوئی ذکر نہیں ہے کے کیسے انکی قوم کے افراد نے ایک شخص کو قانون سے بالاتر ہوکر قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو سڑکوں پر گھسیٹا یہ عمل قانونی، اخلاقی، شرعی تینوں اطوار سے بدترین ظلم تھا، اور ہم جرگے کے ارکان پاکستانی ریاست یا پولیس کی بھرپور مدد کریں گے اس ظلم کو انجام دینے والے لوگوں کو پکڑنے میں، ہم خود بھی انکو پناہ نہیں دیں گے، اور اگر وہ آبائی علاقوں میں کا چھپے پیں تو وہاں سے انکو خود پکڑ کر لاکر پولیس کے حوالے کریں گے، خیر وہ ایسا کہتے بھی کیوں کے انکا جرگہ انکی قوم کے لیے تھا ہمارے لیے نہیں،جبکہ ہم پورے پنجاب کے پنجابی بالخصوص راولپنڈی کے مقامی حضرات اور ان میں بھی بالخصوص دھمیال وغیرہ کے مقامی راجے، مقامی سیاستدان، ایم این اے، ایم پی ایز اس قدر بغیرت واقعہ ہوئے ہیں،کے کوئی ایک احتجاج نہیں ہوا،کوئی ایک پریس کانفرنس نہیں ہوئی،کوئی ایک منتخب نمائندہ نہیں بڑھا یہ کہنے کو،کے یہ ہمارا علاقہ ہے،

یہ ہمارا کھلا دل تھا کے ہم نے اپنے پاکستانی مسلمان بھائیوں کو جو اپنے علاقے میں موجود سورش و بدامنی کی وجہ سے روزگار اور اپنی مائوں بہنوں کی عزت کی رکھوالی کے لیے پنجاب آئے، انہیں کھلے دل سے ویلکم کیا، انہیں کام کاروبار کی مکمل آزادی دی، انکی رسم و رواج کی عزت کی،اسکے باوجود انہوں نے جو ایک مقامی ہمارے ہم زبان بھائی کو قانون سے بالاتر ہوکر پہلے قتل کیا، پھر اسکی لاش کی بیحرمتی کی اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا، اور پولیس سے مطالبہ کیا جائے کے جو جو فرد ان قاتلوں کے پیچھے کھڑا ہے ان سب کے خلاف بھی کاروائی کی جائے، اور یقینی بنایا جائے کے ان قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق فی الفور پھانسی کی سزا دی جائے …!!خیر کوئی شک نہیں، پنجابی اس معاملے میں ہیں ہی بغیرت…!!اور کوئی مسئلہ نہیں انتظار کریں، کے کب راولپنڈی میں بھی محسود قبیلے کے آبائی علاقے کی طرح حالات ہوجائیں گے،کے مخالف قبیلے/گائوں کا جانور ہمارے کھیت میں کیوں چرنے آیا، اس بات پر لڑائی شروع ہوگی اور پورا قبیلہ ہزاروں افراد پر مشتمل لشکر بنا کر راکٹ لانچرز جیسے ہتھیار لیکر دقسرے قبیلے/گائوں پر حملہ

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved