پاکستان کی اعلی عدالتوں(جو بھی بااختیار ہیں) وہ بجلی کے شعبہ کا ملک گیر آڈٹ کروائیں۔۔اہلیان لاہور،کراچی یا راولپنڈی اسلام آباد سمیت چند بڑے شہروں کے باسی کب تک بجلی کے شعبے کا خسارہ پورا کرتے رہیں گے؟براہ کرم وکلاء دوست اس سلسلہ میں درخواستیں دائر کریں اور پورے ملک میں آڈٹ کے مطالبہ کے ساتھ ججوں، جرنیلوں، بیوروکریسی، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عہدیداروں کو بجلی کی مفت فراہمی،وزیروں، مشیروں کے علاقوں میں کھلے عام چوری،سیاسی جماعتوں کے جلسے، جلوسوں یا سیکورٹی کے نام پر انتظامات کے لیے بجلی کی چوری،سیف سٹی کے لاہور میں کیمرے بغیر کسی میٹر کے بجلی استعمال کررہے ہیں، تھانوں اور ماتحت عدالتوں میں بجلی کی تاریں کھلے عام لگی ہیں یہ سارے “خسارے” عام شہری ادا کرتا ہے۔۔جج صاحبان شدید گرمیوں میں یخ بستہ کورٹ رومز، گھروں میں بیٹھتے ہیں جبکہ ان کے بل ادا کرنے والا عام شہری پنکھا چلانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا معاشی دہشت گردوں نے۔۔خدارا اس معاشی دہشت گردی کے خلاف کم از کم آواز تو بلند کریں،ان کی پالیسیوں اور چور بازاری کی وجہ سے ہماری انڈسٹری بنگلہ دیش، ویتنام اور کئی افریقی ممالک میں منتقل ہوچکی ہے ایک بار معاشی دہشت گردوں کو بھی مردہ باد کہہ دیں اپنے سائے سے ڈرنے والوں سے خوف کیسا؟










