تازہ تر ین

ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے، انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا چئیرمین اور بلاول بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکامشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے

ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے، انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا چئیرمین اور بلاول بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکامشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے، حب شریفین میں اتنے مست تھے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی بازاری جملے کسنے سے نہ جھجھکتےانکی وفات پر چند تعزیتی پیغام آئے اور وہ ہمیشہ کےلئے یادوں سے فراموش کردیئے گئے۔عرفان صدیقی کاتب شریفین رہے، نواز شریف نے اپنے کل سیاسی کریئر میں جتنے بھی جملے ادا کئے ان میں سے 60 فیصد عرفان کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے، وہ بے دام غلام تھے جو آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگے رہے یہاں تک کے وفات ہوگئی مگر پارلمان کا سیشن اہم تھا، انکو بیمار ہی بتایا جاتا رہاناں تو نواز شریف نا ہی شہباز شریف نے ان کے جنازے میں شرکت کی حتی کہ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی شامل نہ ہوا ان تین تصویروں میں ایک پیغام مشترک ہےآپ تب تک اہم ہیں جب تک ضرورت ہیں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved