All posts by admin

میرے والد سے رشوت مانگی میں اپنا ملک چھوڑ ایا میں آج جو ھو ترقی پذیر ممالک کا ٹیلنٹ نا انصافی کرپشن کی وجہ سے ملک چھوڑٹا ھے وہ کون تفصیلات بادبان نیوز پر

“جس ملک نے مجھے عزت نہ دی اس ملک کو کوئی اختیار نہیں کہ اب جب میں دنیا کا مہنگا ترین کھلاڑی بن چکا ہوں مجھے اپنا کہے۔کیلین ایمبابےافریقی ملک کیمرون نژاد فرانسیسی اور فٹ بال کے کھلاڑی کیلین ایمبابے کا کہنا تھا کہ میرے والد نے کیمرون کی فٹ بال ٹیم سے کانٹکٹ کیا تھا کہ وہ میرے بیٹے کو چانس دیں لیکن ان نے بھاری رشوت مانگی اور پھر ان نے فرانس سے رابطہ کیا اور مجھے فرانس میں موقع ملا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں فرانس کی وجہ سے ہوں۔ترقی پذیر ملکوں سے ٹیلنٹ باہر چلا جاتا ہے جس یر کافی بحث ہوتی ہے، لیکن ٹیلنٹ جاۓ گا وہاں پر ہی جہاں اس کی پذیرائی ہو گی۔ میرے خیال میں یہ لوگ درست کرتے ہیں جو وقت سے نکل جاتے ہیں ????

بلے کا نشان چھین کر تحریک انصاف کو خودکشی پر مجبور کیا گیا ریمارکس۔ عمران خان کو مشکلات کا سامنا یا ایک بار پھر ھای کورت اسلام آباد سے ریلیف۔ پشاور : گرینڈ قبائلی جرگہ۔ ولڈکپ سیمی فائنل میں برطانوی ٹیم کو شکست۔ ساوتھ افریقہ اور بھارتی ٹیم امنے سامنے ھو نگی۔ بھارت کے باولنگ لائن نے تباہی مچا دی سب کچھ تباہ وبرباد۔ قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل مکمل بڑی اور چھوٹی کمیٹیوں پر پیپلز پارٹی کا قبضہ۔ اس وقت حقیقی معنوں میں آپریشن ردالغربت , رد الرشوت , رد الچوری , ردالسفارش , ردالعیاشی اور رد الحرامخوری کی ضرورت ہے… تفصیلات بادبان نیوز پر

بلے کا نشان چھین کر تحریک انصاف کو خودکشی پر مجبور کیا گیا ، ریمارکس۔ تحریک انصاف نے دوسری جماعت میں جا کر خودکشی کی،چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست سماعت میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا مگر سپریم کورٹ نے ایسانہیں کہاکہ تحریک انصاف کوانتخابات سےباہرکردیں اور نا ہی سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہرکرنا مقصد تھا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت وکیل الیکشن کمیشن سکندر بشیر نے کہا کہ حامد رضا نےکاغذات نامزدگی میں کہا ہے کہ میرا تعلق سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف سے ہے مگر دستاویزات میں کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں، تحریک انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیںسکندربشیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حامدرضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیاگیا اور انہوں نے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والے دستاویزات میں حامد رضا نے نہیں لکھا میں بطورآزادامیدوار انتخابات میں اترنا چاہ رہا ہوں۔وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ایسا کیسے ہوسکتا کہ حامدرضا خود کو آزادامیدوار نہ کہیں، حامدرضا نے منسلک ہونے کا سرٹیفکیٹ تحریک انصاف کا دیا ہے مگر حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں، حامد رضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدر آمد کیا۔ جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کا کہ کیا کاغذات نامزدگی واپس لینےکے بعد کوئی امیدوار کہہ سکتاہے فلاں پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی کا ٹکٹ لیناچاہتاہوں؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسران کے پاس کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک پارٹی سرٹیفکیٹ ہوتاہے؟ ہمارے سامنے کاغذات نامزدگی کا کیس ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شخص اگر شادی کرنا چاہے لیکن لڑکی کی بھی رضامندی ضروری ہے نا، جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی پارٹی سے منسلک ہونےکا سرٹیفکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفکیٹ پی ٹی آئی نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیاکہتا ہے؟ اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوارکی ڈیکلریشن اورپارٹی کےساتھ وابستگی ظاہر ہوناضروری ہے، اگر ڈیکلریشن اور سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزاد امیدوار ہوتا ہے اور یہی آر اوزکے لیے سب سےآسان راستہ تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوارکی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں، کیا آپ کسی کو انتخابات سے باہرکرسکتےہیں؟ سرٹیفکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کررہا ہے، جس پارٹی کا سرٹیفکیٹ لایا جارہا ہے اسی پارٹی کے امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جارہا؟جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ کیا ایساہوا کہ امیدوارکہے میں ایک پارٹی کاہوں، سرٹیفکیٹ بھی دےلیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزاد امیدوار ظاہر کردیا ہو؟ اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔ جسٹس عائشہ ملک نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا آپ نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خودکو وہ سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائےگا انہوں نے کیا کیا ؟ آزاد امیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایاتھا۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں بلکہ تحریک انصاف کی بات ہورہی ہے جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کوکہا آپ کو نشان نہیں ملےگا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا مگر سپریم کورٹ نے ایسانہیں کہاکہ تحریک انصاف کوانتخابات سےباہرکردیں اور نا ہی سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہرکرنا مقصد ہرگز نہیں تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یا تو بلے کا نشان کسی اور کو دے دیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے محفوظ رکھاہوا ہے، آزاد امیدوار کو بھی بلے کا نشان مل سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے تشریح کوئی غلط کرے تو ہمارے پاس علاج نہیں، ایک امیدوار کو تحریک انصاف کا امیدوار کیوں نہیں سمجھتے؟ بات سمجھ نہیں آرہی۔ جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا کسی نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنا نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگران حکومت اتنی ہی آزاد ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صدرعارف علوی پی ٹی آئی کے ہوکرکیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ نے بڑی آسانی سےکہہ دیا نشان نہیں ملا تو آزاد امیدوار ڈیکلیئرکردیں، اتنابڑا فیصلہ کیسےکرلیا؟ کیا الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر بات کی یاریٹرننگ افسران کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہےکہ امیدوارکو آزاد ڈیکلیئرکردیں؟کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کسی کو آزاد امیدوار قرار دے سکتا ہے ؟ اس پر جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ امیدوارتو کہہ رہا ہے میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزادامیدوار ہیں، امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزادامیدوار ہوں، امیدوارتوکہہ رہاہے سیاسی جماعت سے منسلک ہوں۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کیا ایسا مانا جائے کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کیاگیا، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی؟ بینچ تو کہہ رہاہے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ چھوڑ دیں 80 سے زائد امیدواروں کو، 6 امیدواروں نے سرٹیفکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا، 6 کو بھی الیکشن کمیشن نے آزادامیدوار قرار دےدیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی۔

عمر ایوب نے سیکرٹری جنرل سے استعفی دے دیا. 150 میڈیا ھاوسز کے 500 نمائیدے ایران کے الیکشن کی رپورٹنگ کرینگے۔ 150 میڈیا ھاوسز کے 500 نمائیدے ایران کے الیکشن کی رپورٹنگ کرینگے۔ افغانستان کو عبرت ناک شکست ساوتھ افریقہ فائنل میں۔ادویات پر ٹیکس نافذ ای ایم ایف کامیاب۔ ھیڈ کوچ برھم غصہ پیچ پر۔ چور مچاے شور وھاب کا لیگل نوٹس۔ھم غلام نھی پاکستان اسحاق ڈار۔ عدالت ان ایکشن عدت کیس اپیل مسترد۔ سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کی سماعت میں الیکشن کمیشن سے ججز کے سوالات کی بوچھاڑ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے ایک اور بری خبر آ گئی، یکم جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 7 سے 8 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے

مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے ایک اور بری خبر آ گئی، یکم جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 7 سے 8 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے . ذرائع کے مطابق ملک میں مجوزہ بجٹ کے زیراثربھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے. گزشتہ 15 دنوں کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بال ترتیب 4.4 اور 5.5 ڈالر فی بیرل بڑھی ہیں، حتمی حساب و کتاب اور موجودہ ٹیکس ریٹس کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمت 7 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 8.5 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی سمری حکومت کو بھیجے گی، قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ وزیراعظم وزارت خزانہ کی مشاورت سے کریں گے، حکومت ریونیو ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قابل طلباء کو حکومت کی طرف سے لیپ ٹاپس فراہم کئے جائیں گے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ینگ پارلیمنٹیرینز کے وفد کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ وفد میں اراکین قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور، بیرسٹر عقیل ملک، بیرسٹر دانیال چوہدری ، احمد عتیق انور، نوشین افتخار، رانا ارادت شریف خان، محمد عثمان اویسی ،عمار احمد خان لغاری ، ڈاکٹر شائستہ خان، زینب بلوچ ، سعد وسیم ،شاہد عثمان شامل تھے۔ ملاقات میں متعلقہ حلقوں کے امور اور ملک کی مجموعی و سیاسی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عوام کی خدمت کا موقع فراہم کیا ہے، امید ہے آپ ملک کی ترقی و خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے دن رات کام کریں گے۔ ہم نے نئے مالی سال کے بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابل طلباء کو حکومت کی طرف سے لیپ ٹاپس فراہم کئے جائیں گے ۔ بجٹ میں آئی ٹی کے شعبے کے فروغ کے لئے تقریباً 100 ارب کے فنڈز رکھے گئے ہیں جو کہ تاریخی قدم ہے۔ اسکلز ڈیویلپمنٹ اور کھیلوں کے شعبے کے لئے بھی تاریخی فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت نوجوانوں کو روزگار کے بھرپور مواقع فراہم کرنے اور ان کی اسکلز ڈویلپمنٹ کے لئے بہت سے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں میں اصلاحات اور ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی ترجیحات ہیں جن سے ملکی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے گے۔ پاکستان فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

آپریشن عزم استحکام شروع وفاقی کابینہ کی منظوری، تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی کابینہ نے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی۔کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ کوئی نیا منظم، مسلح آپریشن نہیں ہوگا۔ پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا، آپریشن عزم استحکام سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، نقل مکانی کی ضرورت والا آپریشن غلط فہمی ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔ افغانستان سے تیزی کیساتھ پاکستان میں دہشت گردی داخل ہوئی تو متعدد آپریشنز کرنا پڑے۔ان میں اپریشن راہ نجات، راہ حق،اپریشن ضرب عضب، اپریشن رد الفساد شامل تھے۔ان میں سب سے بڑا اور موثر ضرب عضب آپریشن تھا۔2014 میں یہ آپریشن شروع کیا گیا اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد 2016 میں اس کی تکمیل ہو گئی۔اس وقت حالات یہ تھے کہ تحریک طالبان ٹی ٹی پی پاکستان کے ہر ادارے اورہر شعبے میں سرایت کر چکی تھی۔قبائلی علاقوں میں اس کا مکمل کنٹرول تھا اور اس نے اپنی نظامِ شریعت کا نفاذ کیا ہوا تھا۔قبائلی علاقے نو گو ایریاز بن چکے تھے۔حکومتی رٹ زیرو تھی۔دہشت گردوں نے اپنے اسلحہ کے کارخانے قائم کر رکھے تھے۔تربیتی کیمپ بھی بنائے ہوئے تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر ملک میں دہشت گردی کے حملے معمول بن چکے تھے۔ پاکستان کا کوئی شہر دہشت گردی سے محفوظ نہیں تھا۔بسوں ٹرینوں ہوٹلوں گھروں پر خودکش حملے کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔جی ایچ کیو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر، کامرہ ایئر بیس ،پشاور سرگودھا سمگلی کوئٹہ ایئر بیسز کے ساتھ مہران نیول ایئر بیس پر بھی حملے کیے گئے۔ اورین طیارے تباہ کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ کراچی ایئرپورٹ پر خونریزی کی گئی۔سیکیورٹی اہلکاروں کے بے رحمی سے سر کاٹ کر سفاکیت اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلے گئے۔ حکومت نے اس سب کے باوجود طالبان کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی مگر ان کی غیر سنجیدگی کے باعث مذاکرات کا آپشن مسترد کر کے آپریشن ضرب عضب لانچ کیا گیا۔یہ ایک مشکل فیصلہ تھا جو بہرحال کرنا پڑا۔طالبان کا معاشرے میں ایک خوف تھا لیکن جب آپریشن کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تو قوم کی طرف سے خوف کے بت توڑ دیے گئے۔حکومت نے ساری پارٹیوں کو آن بورڈ کیا تھا۔آپریشن میں قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے۔ اسلحہ ساز فیکٹریوں اور تربیت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ان علاقوں سے طالبان کا قبضہ ختم کر دیا گیا۔اکثر طالبان نے راہ فرار اختیار کی اور افغانستان چلے گئے جبکہ کچھ پاکستان کے علاقوں میں جہاں سینگ سمایا،چھپ گئے۔ ان کی طرف سے موقع بہ موقع دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہتی تھیں۔مگر ان میں پہلے جیسی شدت تھی اور نہ ہی تسلسل تھا۔ آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کی کمر ضرور ٹوٹ گئی مگر لاکھوں بے گھر ہونے والے لوگ آج بھی پہلے کی طرح آباد نہیں ہو سکے،انفراسٹرکچر کی بحالی بھی نہ ہوئی۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے باعث پاکستان بدترین دہشت گردی کا نشانہ بن گیا جس میں پاکستان کو ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکہ نے اگر اس نقصان کی تلافی اور ادائیگی کی ہوتی تو انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بے گھر ہونے والوں کی بحالی آسانی سے ہو جاتی۔2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی۔اس کے بعد مفرور طالبان کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی۔ ان کی طرف سے پاکستان میں حالات خراب کیے جانے لگے۔ افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے بعد طالبان اقتدار میں آئے تو امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے مگر وہاں ڈویلپمنٹ کے لیے بھارت کو لا بٹھایا گیا لہٰذا افغانستان کی سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی۔ ادھر ایران کو بھی بھارت پاکستان کے خلاف استعمال کرتا چلا آرہا تھا۔ اب ایران کی طرف سے چاہ بہار بندرگاہ کا کنٹرول 10 سال کے لیے بھارت کے حوالے کیا گیا ہے۔جس سے پاکستان میں دہشت گردی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردی میں ملوث ہیں۔مذہبی شدت پسند بھی خونریزی سے گریز نہیں کر رہے۔ ان کا سب کا پشت پناہ بھارت ہے جو پاکستان میں مداخلت کے لیے ایران اور افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قائم کیے گئے سلیپنگ سیل بھی بروئے کار لاتا ہے۔ آج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے اتحاد کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے حکومت آپریشن عزم استحکام لانچ کرنا چاہتی ہے۔ آج حالات 2014 ء کی طرح مخدوش نہیں ہیں کہ ضرب عضب کی طرز پر آپریشن کیا جائے۔اس کی وضاحت حکومت کی طرف سے کی جا چکی ہے۔وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس کے دوران اس پر بات کی ہے وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کی نوعیت آپریشن ضرب عضب یا رد الفساد جیسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ ضرب عضب سے مقامی باشندوں کو نقل مکانی کی صورت میں بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی تھی جس کے ایک بار پھر وہ متحمل نہیں ہو سکتے تاہم عزم استحکام آپریشن وقت کی ضرورت ہے اس پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے ورنہ دہشت گرد پھر کچھ علاقوں پر مسلط ہو سکتے ہیں۔کچھ پارٹیاں تحریک انصاف سمیت اس آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں۔حکومت ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے۔امید کی جانی چاہیے کہ یہ پارٹیاں پیپلز پارٹی کی طرح تحفظات کے باوجودِ آپریشن کی حمایت کریں گی۔اپریشن میں صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کیا جائے تو متعلقہ علاقوں کے شہریوں کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو گی۔ صدر زرداری کے اس مشورے کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ ہتھیار ڈالنے والے بلوچ قوم پرستوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جائے۔ ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لئے دہشت گردی کا مکمل تدارک بہرحال ہماری ضرورت ہے۔

آپریشن عزم استحکام شروع وفاقی کابینہ کی منظوری۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی کابینہ نے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی۔کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ کوئی نیا منظم، مسلح آپریشن نہیں ہوگا۔ پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا، آپریشن عزم استحکام سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، نقل مکانی کی ضرورت والا آپریشن غلط فہمی ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔ افغانستان سے تیزی کیساتھ پاکستان میں دہشت گردی داخل ہوئی تو متعدد آپریشنز کرنا پڑے۔ان میں اپریشن راہ نجات، راہ حق،اپریشن ضرب عضب، اپریشن رد الفساد شامل تھے۔ان میں سب سے بڑا اور موثر ضرب عضب آپریشن تھا۔2014 میں یہ آپریشن شروع کیا گیا اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد 2016 میں اس کی تکمیل ہو گئی۔اس وقت حالات یہ تھے کہ تحریک طالبان ٹی ٹی پی پاکستان کے ہر ادارے اورہر شعبے میں سرایت کر چکی تھی۔قبائلی علاقوں میں اس کا مکمل کنٹرول تھا اور اس نے اپنی نظامِ شریعت کا نفاذ کیا ہوا تھا۔قبائلی علاقے نو گو ایریاز بن چکے تھے۔حکومتی رٹ زیرو تھی۔دہشت گردوں نے اپنے اسلحہ کے کارخانے قائم کر رکھے تھے۔تربیتی کیمپ بھی بنائے ہوئے تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر ملک میں دہشت گردی کے حملے معمول بن چکے تھے۔ پاکستان کا کوئی شہر دہشت گردی سے محفوظ نہیں تھا۔بسوں ٹرینوں ہوٹلوں گھروں پر خودکش حملے کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔جی ایچ کیو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر، کامرہ ایئر بیس ،پشاور سرگودھا سمگلی کوئٹہ ایئر بیسز کے ساتھ مہران نیول ایئر بیس پر بھی حملے کیے گئے۔ اورین طیارے تباہ کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ کراچی ایئرپورٹ پر خونریزی کی گئی۔سیکیورٹی اہلکاروں کے بے رحمی سے سر کاٹ کر سفاکیت اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلے گئے۔ حکومت نے اس سب کے باوجود طالبان کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی مگر ان کی غیر سنجیدگی کے باعث مذاکرات کا آپشن مسترد کر کے آپریشن ضرب عضب لانچ کیا گیا۔یہ ایک مشکل فیصلہ تھا جو بہرحال کرنا پڑا۔طالبان کا معاشرے میں ایک خوف تھا لیکن جب آپریشن کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تو قوم کی طرف سے خوف کے بت توڑ دیے گئے۔حکومت نے ساری پارٹیوں کو آن بورڈ کیا تھا۔آپریشن میں قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے۔ اسلحہ ساز فیکٹریوں اور تربیت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ان علاقوں سے طالبان کا قبضہ ختم کر دیا گیا۔اکثر طالبان نے راہ فرار اختیار کی اور افغانستان چلے گئے جبکہ کچھ پاکستان کے علاقوں میں جہاں سینگ سمایا،چھپ گئے۔ ان کی طرف سے موقع بہ موقع دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہتی تھیں۔مگر ان میں پہلے جیسی شدت تھی اور نہ ہی تسلسل تھا۔ آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کی کمر ضرور ٹوٹ گئی مگر لاکھوں بے گھر ہونے والے لوگ آج بھی پہلے کی طرح آباد نہیں ہو سکے،انفراسٹرکچر کی بحالی بھی نہ ہوئی۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے باعث پاکستان بدترین دہشت گردی کا نشانہ بن گیا جس میں پاکستان کو ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکہ نے اگر اس نقصان کی تلافی اور ادائیگی کی ہوتی تو انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بے گھر ہونے والوں کی بحالی آسانی سے ہو جاتی۔2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی۔اس کے بعد مفرور طالبان کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی۔ ان کی طرف سے پاکستان میں حالات خراب کیے جانے لگے۔ افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے بعد طالبان اقتدار میں آئے تو امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے مگر وہاں ڈویلپمنٹ کے لیے بھارت کو لا بٹھایا گیا لہٰذا افغانستان کی سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی۔ ادھر ایران کو بھی بھارت پاکستان کے خلاف استعمال کرتا چلا آرہا تھا۔ اب ایران کی طرف سے چاہ بہار بندرگاہ کا کنٹرول 10 سال کے لیے بھارت کے حوالے کیا گیا ہے۔جس سے پاکستان میں دہشت گردی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردی میں ملوث ہیں۔مذہبی شدت پسند بھی خونریزی سے گریز نہیں کر رہے۔ ان کا سب کا پشت پناہ بھارت ہے جو پاکستان میں مداخلت کے لیے ایران اور افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قائم کیے گئے سلیپنگ سیل بھی بروئے کار لاتا ہے۔ آج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے اتحاد کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے حکومت آپریشن عزم استحکام لانچ کرنا چاہتی ہے۔ آج حالات 2014 ء کی طرح مخدوش نہیں ہیں کہ ضرب عضب کی طرز پر آپریشن کیا جائے۔اس کی وضاحت حکومت کی طرف سے کی جا چکی ہے۔وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس کے دوران اس پر بات کی ہے وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کی نوعیت آپریشن ضرب عضب یا رد الفساد جیسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ ضرب عضب سے مقامی باشندوں کو نقل مکانی کی صورت میں بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی تھی جس کے ایک بار پھر وہ متحمل نہیں ہو سکتے تاہم عزم استحکام آپریشن وقت کی ضرورت ہے اس پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے ورنہ دہشت گرد پھر کچھ علاقوں پر مسلط ہو سکتے ہیں۔کچھ پارٹیاں تحریک انصاف سمیت اس آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں۔حکومت ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے۔امید کی جانی چاہیے کہ یہ پارٹیاں پیپلز پارٹی کی طرح تحفظات کے باوجودِ آپریشن کی حمایت کریں گی۔اپریشن میں صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کیا جائے تو متعلقہ علاقوں کے شہریوں کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو گی۔ صدر زرداری کے اس مشورے کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ ہتھیار ڈالنے والے بلوچ قوم پرستوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جائے۔ ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لئے دہشت گردی کا مکمل تدارک بہرحال ہماری ضرورت ہے۔

150 میڈیا ھاوسز کے 500 نمائیدے ایران کے الیکشن کی رپورٹنگ کرینگے رپورٹ سہیل رانا۔ تہران، ایران

ایران میں آج صبح آٹھ بجے انتخابی مہم کا وقت اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ مقررہ وقت تک صدارتی امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی۔ ٹی وی پر مناظروں کے علاوہ انہوں نے عوام کو اپنے اپنے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا اور عوامی جلسوں سے بھی خطاب کیا۔ کل جمعے کے دن صبح آٹھ بجے ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوجائے گا جو دس گھنٹے تک جاری رہے گا البتہ وزیر داخلہ کی صوابدید کے مطابق اس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔ووٹنگ کے حوالے سے لوگوں میں بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

ایران کی وزارت اسلامی ثقافت و ہدایت کے غیر ملکی ابلاغیاتی اداروں سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ دنیا کے 150 میڈیا ہاؤسز کے 500 سے زائد رپورٹراٹھائیس جون کے صدارتی الیکشن کی کوریج کے لئے ایران پہنچ رہے ہیں۔ارنا نے ایران کی اسلامی ثقافت و ہدایت کی وزارت کے شعبہ رابطہ عامہ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ علی رضا شیروی نے بتایا ہے کہ دنیا کے 31 ملکوں کے 150 میڈیا ہاؤسز کے 500 سے زائد نمائندے ایران کے چودھویں صدارتی الیکشن کی رپورٹنگ کریں گے۔وزارت اسلامی ثقافت و ہدایت کے بیرونی ابلاغیاتی اداروں کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل نے مزید بتایا ہے کہ بہت سے ملکوں نے صدارتی الیکشن کی کوریج کے لئے اپنے رپورٹروں کے لئے درخواستیں بھیجی ہیں اور اب تک آسٹریا، اسپین، آسٹریلیا، امریکا، برطانیہ، اٹلی، آذربائیجان، جرمنی، بحرین، پاکستان، ترکیہ، الجزائر، چین، ڈینمارک، روس، زمبابوے، جاپان، شام، سویڈن، عراق، عمان، فرانس، فلسطین، کرغیزستان، قطر، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، کولمبیا، کویت لبنان اور یمن کے رپورٹروں کی آمد یقینی ہوچکی ہے۔یاد رہے کہ ایران کے چودھویں صدارتی الیکشن میں جمعہ اٹھائیس جون کو پولنگ ہوگی۔