All posts by admin

جعفر ایکسپریس ٹرین سروس مسلسل دوسرے روز بھی معطل۔۔۔فیسکو آئیسکو گیپکو براے فروخت پرائویزیزہشن ان ایکشن۔ ۔۔وزیر اعلی کے پی ان ایکشن حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کا خطرہ۔۔بیجنگ ۔۔۔چین کے وزیرِ خارجہ نے پیوٹن کا استقبال کیا۔۔ آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 8.6 فیصد رہنے کی پیشگوئی۔۔دشمن بھارت کو پھلے بھی شکست دی ائیندہ بھی دینگے فیلڈ مارشل۔۔ھر مھم جوی کا دشمن کو شکست دے کر بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینگے۔اسلام آباد 26 نمبر پر دھرنا جاری عوام انتظامیہ امنے۔۔براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے والے ڈرونز عراق سے آئے تھے: متحدہ عرب امارات۔۔کوئٹہ آپیکس کمیشن کا اجلاس سول فوجی قیادت یک زبان۔امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سب سے بڑی مسجد پر فائرنگ 3 افراد جانبحق ،پولیس۔۔ہزارہ موٹر وے جھاری کس اور برہان سے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔ مسافر جی ٹی یا حطار روڈ استعمال کریں۔۔۔موٹر وے بند مسافر رل گئے۔پاکستان کی ترقی کوپروپیگنڈے، جعلی خبروں، بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی سے نہیں روکاجاسکتا، فیلڈ مارشل۔۔بلوچستان میں سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ۔۔ترکیہ ہنگامہ خیز خطے میں یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے۔ ہمارے مفادات ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے صدر ایردوان کے ساتھ یورپی یونین اور ترکیہ کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان در لیین کا بیان۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*کراچی میں چوری کی بڑی واردات، مسلح ملزمان 3 کروڑ سے زائد مالیت کا سونا، لاکھوں روپے نقدی لوٹ کر فرارکراچی: گلستان جوہر بلاک 17 میں واقعے بسیرا شاپنگ سینٹر کے اندر بڑی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان 4 دکانوں سے 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور لاکھوں نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے.سنار مارکیٹ کے صدرو متاثرہ سنار اعجاز حسین نے واردات کا مقدمہ شارع فیصل تھانے میں نامعلوم مسلح ملزمان کے خلاف درج کرادیا، مقدمے کے متن کے مطابق پیر کی شام ساڑھےسات بجے کے قریب واردات میں ملوث 4 نامعلوم ملزمان نے بیٹے لاریب کی بند دکان کا شیشہ توڑکر اندر داخل ہوئے اور لوٹ مار کی ملزمان دکان سے 2 کروڑ 19 لاکھ روپے کا سونا، 20 لاکھ روپے نقدی لیکر فرار ہوئے.مسلح ملزمان نے دوسری دکان پر موجود ملازم جمیل سے 40 لاکھ روپے کا سونا بھی چھینا, مسلح ملزمان نے تیسری دکان کے مالک شرجیل سے آئی فون اور چوتھی دکان سے اسلحہ کے زور پر 70 لاکھ روپے کا سونا لوٹا۔واردات کے بعد مسلح ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے فائرنگ بھی کی جس سے دکان کا شیشہ ٹوٹ گیا دکان کا شیشہ ٹوٹنے سے ایک ملزم زخمی بھی ہوا۔

قومی مذاکراتی کمیٹی کا وفد ، کيا اس کميٹی کو عمران خان کا اعتماد حاصل ہے ؟؟تحريک انصاف کے سابق رہنماؤں نے ،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، کی قيادت ميں ، کراچی ميں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصيات اور صحافيوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کيا ہے اس وفد ميں تحريک انصاف کے کئی سابق رہنما جن ميں سابق وفاقی وزراء محمد علی درانی، فواد چوہدری، محمود مولوی، سابق سینیٹرز ڈاکٹر وسیم شہزاد اور بیریسٹر سیف شامل تھے۔ تحريک انصاف کی سابقہ قيادت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قومی حکومت اور قومی مذاکراتی کے ذریعے مسائل کے حل کرے ، جس میں انکی خواہش ہے کہ اسٹبلشمنٹ، حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں بالخصوص سابق وزیراعظم عمران خان اور انکے ساتھیوں کی رہائی کے لئے سنجیدگی سے غور کرے ، واضح رہے کہ سابق وزير اعظم عمران خان اور انکی بہن عليمہ خان ان تمام رہنماؤں کو غدار اور مفاد پرست قرار ديتی ہيں، ابھی اس بات کی وضاحت باقی ہے کہ کراچی ميں ملاقاتيں کرنے والے ان سابقين کو کيا عمران خان کا اعتماد بھی حاصل ہے ،

دھرتی کا نایاب تحفہ ۔اظہر سیددنیا کے عظیم ترین انسان مٹی پیدا کرتی ہے ،جہاں غلیظ ترین انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مٹی کا ہی قصور ہے ۔پاکستان کے آئین اور قانون کے محافظوں پر نظر ڈالیں ایک سے بڑھ کر ایک نظر آتا ہے ۔کوئی آئین کی پہلی عصمت دری کو نظریہ ضرورت کا کفن پہنا کر دفناتا ہے ،کوئی منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی سزا سنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ،کوئی غیر آئینی حکمران کو آئین میں ترامیم کا حق دیتا ہے تو کوئی کسی سیاسی پارٹی کی ٹکٹیں فروخت کرتا ہے ۔کوئی سسلین مافیا کا نام لے کر عوام کو کھوتا بناتا ہے تو کوئی مخصوص ججوں کو ساتھ ملا کر کسی مخصوص سیاسی جماعت کی فائدے پہنچاتا ہے ۔اس مٹی نے ان نایاب ہیروں کے ساتھ ایک ایسا سپوت بھی پیدا کیا ہے

جو سب سے بازی لے گیا ۔ایسا انوکھا کبھی پیدا ہوا نہ ہو گا ۔اس جیسا کوئی بھی نہیں ۔لائین میں لگ کر ایک غیر آئینی حکمران کا حلف لیا اور جب یہ غیر آئینی حکمران بوجھ بنا تو اسی کے ساتھیوں کی ایما پر باغی بن گیا ۔ائین اور قانون کا محافظ بن گیا ۔اس جیسا کبھی کوئی ماں پیدا نہیں کر سکتی ۔اس کے پاس روتے پیٹتے عوام انصاف کیلئے پہنچے ،ہماری عمر بھی کی کمائی ایک نوسر باز نے اپنا گھر “کے خواب دکھا کر لوٹ لی ہے ۔اس نے عوام سے لوٹی ہوئی اربوں روپیہ کی دولت دیکھی تو بے

بس عوام کو انصاف دینے کی بجائے ملزم کے بیٹے کو اپنی بیٹی دے دی ۔انصاف کو تیل لینے بھیج دیا ۔لالچی اور حریص ہمیشہ بہترین داؤ لگاتا تھا ۔جب غیر آئینی حکمران آیا بھاگ کر اس کا حلف لے لیا ۔جب غیر آئینی حکمران کے اپنے ساتھی اسے بوجھ سمجھنے لگے بھاگ کر انکی کشتی میں بیٹھ گیا ۔بیٹی کے اچھے رشتہ کے متلاشی کے پاس جب ایڈن گارڈن اسکینڈل کا کیس آیا تو ملزم کے ساتھ آنے والے اس کے غیر شادی شادی بیٹے کو تاڑ لیا ۔ایک وچولے وکیل کو بیچ میں ڈالا اپنی بیٹی ملزم کے بیٹے سے بیاہ دی ۔اصل ملزم مر گیا ۔عوام سے لوٹے اربوں روپیہ کے اثاثے بیٹے کو منتقل ہو گئے ۔ان اثاثوں سے اب بیٹی کی زندگی تو سنور ہی گئی تھی نواسوں کی نسلیں بھی سنور گئیں ۔ گھر بیٹھ کر کھائیں گی ۔دنیا کی اس بساط پر اس جج ایسے خوش قمار کم ہی ہونگے جو چال بھی چلتے ہیں قیامت کی چلتے ہیں

اسلام آباد کے فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک 14 سال کا لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ نام تھا *سلیم*۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش، اور کالے رنگ کی پالش۔ دن بھر وہ لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوتے کے 20 روپے۔ دن میں 15-20 جوتے پالش ہو جاتے تو 300-400 بن جاتے۔ اتنے میں گھر کا چولہا جلتا تھا۔ گھر میں امی اور چھوٹی بہن *ماریہ* تھی۔ ابا ایک حادثے میں چلے گئے تھے،

جب سلیم 10 سال کا تھا۔لوگ آتے، جوتے دیتے، اور کہتے “جلدی کر بچے، وقت نہیں ہے۔” کوئی حال نہ پوچھتا۔ سلیم چپ چاپ کام کرتا رہتا۔ رات کو جب مسجد کے باہر لائٹیں بند ہو جاتیں، تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں کھولتا۔ وہ کتابیں اسے ایک استاد دے گیا تھا، جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد کہتا تھا، “سلیم، ہاتھ داغی ہیں تو کیا ہوا، دماغ صاف رکھو۔”سلیم پڑھتا تھا۔ میٹرک، ایف ایس سی، سب رات کو ہی کیا۔ دن میں جوتے، رات میں فارمولے۔ لوگ ہنستے تھے، “جوتے پالش کرنے والا ڈاکٹر بنے گا؟”

سلیم کچھ نہ کہتا۔ بس ماریہ کی کاپی پر لکھے نام کو دیکھتا رہتا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنائے گا۔18 سال کی عمر میں سلیم نے ایف ایس سی میں 98% لیے۔ اسکالرشپ ملی، NUST اسلام آباد میں داخلہ ہو گیا۔ داخلے کی فیس کے لیے اس نے 2 سال کی کمائی اکٹھی کی تھی — 1 لاکھ 80 ہزار۔ امی روتی رہی، “بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کر، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔” سلیم نے کہا، “امی، اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔”یونیورسٹی میں بھی سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ دن کو لیب میں کام، رات کو پڑھائی، اور ہفتے میں 2 دن پرانے کام والے دوستوں کے ساتھ جا کر انہیں اکاؤنٹنگ سکھاتا۔ گریجویشن کے بعد اس نے ایک چھوٹی سی IT کمپنی شروع کی

— صرف 3 لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کا کمرہ۔ پہلا سال ناکامی کا تھا۔ پیسے ختم، قرض چڑھ گیا۔ لیکن سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ وہی بات یاد تھی جو استاد نے کہی تھی، “سلیم، دھول میں بیٹھ کر بھی اگر خواب دیکھو تو وہ سچ ہوتے ہیں۔”5 سال بعد اس کی کمپنی نے ایک ایپ بنائی جو پاکستان بھر میں چل پڑی۔ آج سلیم کی عمر 29 سال ہے۔ اسلام آباد کے G-6 میں اس کا اپنا دفتر ہے، 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

اور ماریہ؟ وہ اب ڈاکٹر ہے۔ پمز ہسپتال میں۔ آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے باہر سے گزرتا ہے، تو رکتا ہے۔ وہاں اب بھی ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے، ہاتھ میں پالش کا ڈبہ لیے۔ سلیم اتر کر اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے، اور کہتا ہے، “بیٹا، جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری ہے خواب چمکانا۔ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔”لوگ کہتے ہیں سلیم اب بلینئر ہے۔ سلیم کہتا ہے، “نہیں، میں اب بھی وہی لڑکا ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میرے خواب بھی میرے ساتھ بیٹھ کر چمکتے

آپ آج ایرانی ملاوں سے درخواست کرکے دیکھ لیجیے کہ جناب کشمیری مسلمانوں کو مودی سرکار کے حکومتی مظالم اور ریاستی جبر کے خلاف آپکے تعاون کی ضرورت ہے انہیں فوراً سے موت پڑجاے گئ۔لگیں گے ادھر ادھر کی ہانکنے۔ لیکن کشمیری مسلمانوں کے حق میں انڈیا کے خلاف کبھی آپکے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے۔ایران کے ان ملاوں کی عقل کا ذرا اندازہ لگالیں۔ اسرائیل ایران کی جان کے درپے ہے جبکہ مودی اسی اسرائیل کو اپنا باپ کہتا ہے اور یہ ملا اسی مودی کو اب اپنا باپ بنانے پر تلے ہوے ہیں۔حد ہوتی ہے خچرپن کی بھی۔ ہماری حکومت ایران کے ان ملاوں کو امریکی چھترول سے بچانے کیلیے دن رات ایک کیے ہوے ہے۔ اپنی سلامتی تک داو پہ لگاے ہوے ہے جبکہ یہ ملا ہماری ہی نیتوں پر شک کرتے ہیں اور ہمارے ہی وجود کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ہندوستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مفکر کوتلیا چانکیہ کا اپنی کتاب ارتھ شاستر میں فرمانا ہے کہ آپکے دشمن کا دشمن آپکا دوست ہوتا ہے۔

اب اگر انڈیا کے دشمن ہم ہیں اور ایران انڈیا کا دوست ہے تو ہم توایران کے دشمن ہوے نا۔ہماری عوام جن ایرانی ملاوں کے غم میں دن رات گھُلے جا رہی ہے وہی ملا وسطی ایشیائی ریاستوں کے گیٹ وے کی چابیاں اپنی چاہ بہار کی تھالی میں رکھ کر ہمارے ازلی دشمن کو پیش کررہے ہیں۔ہم نے تو بس قسم کھارکھی ہے ہم سدھرنے والے نہیں ہیں۔ ہم نے دراصل ٹھیکہ لے رکھا ہے ہمیشہ سے تاریخ کے الٹے رُخ کھڑے ہونے کا۔ ہم ایران کی محبت میں ہر روز اپنے اتحادی امریکہ کو مار کر سوتے ہیں اور دوبئی جیسے اپنے محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر خوش ہوتے ہیں جبکہ اسی ایران کے ملا ہماری جان کے دشمن انڈیا کو خطہ میں اپنا سب سے بڑا اتحادی قرار دیتے ہیں۔ایرانی ملاوں والی یہ غلطی ہماری پہلی نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک غلطی ہم افغانستان میں بھی دہرا چکے ہیں۔ جن طالبان کو وہاں بٹھا کر ہم امریکی شکست پر بغلیں بجارہے تھے آج وہی طالبان ہمارے وجود کے درپے ہیں۔امریکہ ان ملاوں کا علاج کیے بغیر اس خطہ سے نکل گیا تو یہی ملا آپکے ساتھ وہ کریں گے کہ آپ افغان طالبان کو بھی بھول جائیں گے۔جب انکے میزایلوں اور ڈرونوں کے گولوں کی تپش سعودیہ اور یو اے ای سے ہوتی ہوئی آپ تک پہنچے گی تو تب پتہ لگے گا کہ کس بھاو بکتی ہے۔

ابھی انڈیا نے صرف افغان طالبان کو گود لیا ہے تو آپکے کڑاکے نکل گئے ہیں۔ جب یہی انڈیا ایرانی ملاوں کے منہ میں چوسنی دیگا تو لگ پتہ جایگا۔فاترالعقل دلیل بھی کیسی دیتے ہیں کہ ایران کا حق ہے اپنے مفادات دیکھ کر تعلقات ٹھیک کرنے کا۔تو کیا یہی اصول ہم پر لاگو نہیں ہوتا؟ ایران اپنا مفاد دیکھ کر انڈیا کا جھولی چُک بن سکتا ہے تو اسرائیل نے کونسا ہماری بھینس مار دی ہے جو ہم اس سے بات نہیں کرسکتے؟ایران اور اسرائیل کی یہ کیسی دشمنی ہے کہ دونوں کا مشترکہ دوست انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے؟ کوئی ارسطو دستیاب ہے تو مجھے یہ پہیلی ضرور سمجھا دے۔سہیل بٹ

عید قرباں پہ سنڈے کی قربانی جائز ہے کہ نہیں۔تہران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے ’وقت محدود‘ ہے: صدر ٹرمپ کا ایران پر ایک اور حملے کا منصوبہ۔۔اڈیالہ دھرنا جاری حالات کشیدہ صورتحال نازک۔۔3 بڑے استعفے مانگ لئے گئے۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

حکومت پاکستان نے نجکاری کمیشن کے ذریعے بجلی کی تین بڑی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کی نجکاری کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اظہار دلچسپی (EOIs) کو باضابطہ طور پر مدعو کیا ہے۔ اس نجکاری میں سرمایہ کاروں کے لیے تین تقسیم کار کمپنیوں میں سے ہر ایک میں مینجمنٹ کنٹرول کے ساتھ 51% سے 100% تک شیئر ہولڈنگ حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ اقدام حکومت پاکستان کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد کارکردگی میں بہتری ، خدمات کی فراہمی کو معیاری بنانا، غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور پاکستان کے پاور سیکٹر میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو مشترکہ طور پر پنجاب اور اسلام آباد کے بڑے صنعتی، تجارتی اور شہری مراکز میں 14 ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ نجکاری کا یہ عمل بین الاقوامی طور پر رائج طریقہ کار کے مطابق شفاف مقابلہ کے انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کار انفرادی طور پر یا کنسورشیم کے حصے کے طور پر اہلیت کے معیار کے مطابق شرکت کر سکتے ہیں.اظہار دلچسپی کے نوٹس کے مطابق ہر تقسیم کار کمپنی کے لیے علیحدہ پیشکش جمع کرانی ہو گی. پیشکش جمع کرانے کی آخری تاریخیں ذیل ہیں: فیسکو: 7 جولائی 2026 گیپکو: 6 اگست 2026آئیسکو : 7 ستمبر 2026 سرمایہ کاری کے مواقع، نجکاری کے ڈھانچے اور دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے طریقہ کار کی وضاحت کے لیے نجکاری کمیشن اور مالیاتی مشیر کی جانب سے مشترکہ طور پر سرمایہ کاروں کے لیے ایک آن لائن بریفنگ بھی منعقد کی جائے گی۔ حکومت پاکستان پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کو توانائی کے شعبے کو جدید اور فعال بنانے،

نجی شعبے کی شراکت کی حوصلہ افزائی اور صارفین کی خدمات کے معیار کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھتی ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے مالیاتی استحکام، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور طویل مدتی اقتصادی استحکام میں مثبت کردار ادا ہوگا۔نجکاری کمیشن ڈسکوز کے موجودہ ٹیرف کے ڈھانچے، ملٹی ائیر ٹیرف کے نظام، بزنس ماڈل اور سپلائرز کےموجودہ فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں اور پاور سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے گا

جس سے پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے کاروبار میں نجی شعبے کی تیز رفتار اور زیادہ موثر شرکت میں مدد ملے گی۔ نجکاری کمیشن کا عزم ہے کہ پاکستان پالیسی کے تسلسل، ریگولیٹری شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے پر تعاون ماحول پیدا کرے ۔ نجکاری کے عمل میں شمولیت کے لیے اہلیت کے تقاضوں اور اظہار دلچسپی جمع کرانے سے متعلق تفصیلی معلومات نجکاری کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔

3 زلحج سے 14 زلحج تک بسیں بند ھو جاے گی ھمارے حاجی 30 کلومیٹر دور رھائیشوں میں نمازیں ادا کرینگے۔۔85 فیصد رھائیش نیو منی میں لی جو مزدلفہ کی حدود میں ھے 15 فیصد حجاج اولڈ منی میں ٹھہرے گئے سومرو نے 75 فیصد حجاج راجی کو دے دئیے گزشتہ حج پر 100 فیصد حجاج راجی کو دئیے گئے۔2000 حجاج کرام کے لیے 10 بسیں چلائی گئی جو کہ نا کافی ھے۔۔کھانوں میں فرحان قریشی کو کروڑوں ریال کا فائدہ دیا گیا اور نوید گجر کو جن کی تفصیل۔پاکستانی حجاج رل گئے نہ بسیں عمارتوں کی بلڈنگز میں لیفٹیں بند سومرو نے لوٹ مار کی تمام حدود کراس کر لی۔وزیر مذہبی امور بے بس متی قریش عزیزیہ جرول سے حجاج حرم پھنچےنے کے لیے تر سنے لگے۔پاکستانی حجاج لفٹوں اور بسوں میں پھسے ھوے تفصیلات ۔فرحان قریشی کے کچن کو گزشتہ حج میں سعودی حکومت نے سیل کر دیا تھا۔۔فرحان قریشی کے کچن کو گزشتہ حج میں سعودی حکومت نے سیل کر دیا تھا۔۔200 ارب روپے کی کرپشن۔۔مرزا کو بیڈ رپورٹ پر گلگت بلتستان سے نکالہ گیا وھاں پر ایک ماہ قبل 10 افراد اس کی ناقص کمانڈ کی وجہ سے قتل ھوے اور جس وزارت کو یہ مطوب تھا اسی وزارت میں تعینات کر دیا گیا ۔۔مرزا سیکرٹری جو کلیم اکاونٹس آفیسر کے ذریعے کروڑوں ریال کینڈا منتقل کروانے میں ملوث اور وزارت کا مطلوب ملزم ھے اسکو 29 روز پھلے اسی وزارت کا ایڈیشنل سیکرٹری انچارج لگا دیا گیا جس نے اتے ھی 38 ھزار فی حاجی کی کرپشن کی ایک لاکھ 20 ھزار حجاج کو 38 ھزار سے ضرب دے تو اربوں روپے بنتا ھے تفصیلات کے لیے Baadban YouTube Baadban. Tv

لوکل آبادیوں میں لی گئی رھائیش جھاں پر بسیں پھنچ ھی نھی سکتی دوسری طرف مسجد جن کی طرف بنایا گیا سٹاپ حرم سے 4 کلومیٹر دور 25 کلومیٹر سفر کر کے حاجی جب پھنچتا ھے تو اسکو حرم میں باب عبدالعزیز اور باب فھد گیٹ پر پھنچنے کے لیے 25 منٹ چاھیے

جب کہ دوسرا بس سٹاپ مسکوٹا جس سے 2 منٹ میں حاجی حرم میں پھنچ جاتا ھے

لوکل آبادیوں میں لی گئی رھائیش جھاں پر بسیں پھنچ ھی نھی سکتی دوسری طرف مسجد جن کی طرف بنایا گیا سٹاپ حرم سے 4 کلومیٹر دور 25 کلومیٹر سفر کر کے حاجی جب پھنچتا ھے تو اسکو حرم میں باب عبدالعزیز اور باب فھد گیٹ پر پھنچنے کے لیے 25 منٹ چاھیے جب کہ دوسرا بس سٹاپ مسکوٹا جس سے 2 منٹ میں حاجی حرم میں پھنچ جاتا ھے

کھسروں کی کمائی کھانے والے 8 پولیس اہلکار گرفتار۔۔بھارتی آرمی چیف 10 مئی سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔۔نئے بھآرتی ارمی چیف کے پاگل پن کے دورے۔۔پاکستان میں زندگی سسکیاں لینے لگی عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور۔۔موجودہ رجیم اس نظام کی سب سے زیادہ محافظ ہے۔۔افسوس لاچار حکُومت اور بے بس عوام اللٰہ حفاظت کرے ہم سب کی آمین۔۔جیٹ فیول سستا، ایئرلائنز کے کرایوں میں کمی۔۔ ۔۔کے پی حکومت میں وزراء کا لنڈا بازار۔۔ایران چین سے تعلقات بہتر بنانے گا ایران۔۔عوام کو حلال کرنے والے لغاری کو ھلال آمتیاز۔۔ ۔۔مفت خور حجاج کی فوج سعودی عرب میں تفصیلات بادبان یو ٹیوب پر۔۔دھلی میں گندگی کے ڈھیر۔۔پیپلزپارٹی کے لیے نیک دن | اجتماعی استعفی | امیدواروں کی بیٹھک۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کھسروں کی کمائی کھانے والے پولیس اہلکار اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔۔۔۔ لاہور کے علاقہ کوٹ لکھپت میں پولیس اہلکاروں اور خواجہ سراؤں کے خلاف شہری کو مبینہ طور پر لوٹنے اور مار پیٹ کا نشانہ بنانے کے الزام پر مقدمہ درج ہو گیا ۔ قصور کے رہائشی بلال احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے خواجہ سرا ماہی، خوشی اور کشمالہ نے ٹریپ کر کے ایک کوارٹر میں لے جا کر مارپیٹ کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں واش روم میں بند کر دیا۔ جب متاثرہ شہری کو واش روم سے باہر نکالا گیا تو وہاں چار پولیس اہلکار موجود تھے۔ الزام ہے کہ اہلکاروں نے شہری سے 11 ہزار روپے رشوت لی اور بعد ازاں اسے چھوڑ دیا۔مقدمے میں پولیس اہلکاروں وقاص، سلیمان، عمیر اور عرفان سمیت خواجہ سراؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ترجمان پولیس کے مطابق واقعے کے بعد چاروں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ خواجہ سرا موقع سے فرار ہو گئے۔ اس مقدمہ میں تفتیش اور ضروری کارروائی جاری ہے ۔۔۔۔

ملک میں عام عوام کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں جبکہ آپ اس رجیم کی ترجیہات کا اندازہ اس عورت کے بیان سے لگا سکتے ہیں۔ یہ رجیم عمران خان کے پیچھے ہاتھ دھو کر، عمران خان کی نفرت میں نہیں پڑا۔ طاقت کے کاریڈورز میں جذبات نہیں ہوتے، صرف مفادات اور ان کا ہر قیمت پر تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ عمران خان نے اس رجیم کا ادھار تھوڑی کھا رکھا ہےیہ رجیم عمران خان کا اس لیے بدترین دشمن بن چکا ہے کہ وہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ ان کے مفادات کو سب سے زیادہ خطرہ ہی عمران خان سے ہے۔ ان کی نفرت کی اور کوئی وجہ نہیں ورنہ اس رجیم کو دیگر لیڈران، بشمول تحریک انصاف کی بقیہ فرمانبردار لیڈرشپ، شریفوں، زرداروں، حافظ نعیم الرحمن، مولانا فضل الرحمٰن، ایمل ولی سمیت کسی سے زرہ برابر بھی خطرہ نہیں یہ رجیم اس نظام کا سب سے بڑا محافظ ہے لہذا یہ رجیم جسے خطرہ سمجھے گا، وہی حقیقی لیڈر ہے۔ باقی سب کی سیاست محض بول بچن اور وقت کا ضیاع ہے۔اس گرفتار عورت سے یاد آیا کہ جب یہ کانفیڈنس سے عدالت کی راہداریوں میں گھوم پھر رہی تھی، تو ایک مخصوص لبرل بریگیڈ کو اس پر بہت پیار آرہا تھا۔ آج یہ روتی ہوئی دہائیاں دے رہی اور اپنے ساتھ زبردستی کا شکوہ کررہی ہےدیکھیے گا لبرل بریگیڈ کی وہ نظریاتی فراڈنیں اب کیسا غائب ہوتی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں وزرا مشیران کیلیے 18 نئے عہدے بناۓ گے ہیں یہ 6 نئے وزراء ، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی کل گورنر ہاوس میں حلف اٹھانے کی تقریب ہوئپنجاب سندھ بلوچستان پختونخواہ اور وفاقی اسمبلی میں جتنے تحریک انصاف کے یا اتحادی ایم این ایز ایم پی ایز سب عمران خان کے نام پہ ووٹ لے کہ آۓ ہیںلیکن عمران خان کی رہائ کا کیا لائحہ عمل کیا ہو گا کسی کے پاس نہیں ہے رہائ تو دور کی بات ہے چار مہینوں سے عمران خان کی فیملی سے ملاقات کی بندش ختم نہیں کروا سکے سہیل افریدی کا ازادی کنٹینر بھی کھڑے کھڑے زنگ لگ رہا ہے رمضان بھی گزر گیا سہیل افریدی کی انقلاب کال نہیں آئ اتحادی محمود اچکزئ و ناصر راجہ کو بھی حقیقی آزادی مارچ کی قیادت سونپی گئ لیکن حاصل کچھ نہیںعمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے مخالف ختم کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ اندیشہ یہ ہے کہ میرے اپنے مجھے مائنس کریں گےاور وہ اندیشہ روز بروز درست ثابت ہوتا جا رہا ہے کہ عمران کو اسکے اپنے ہی مائنس کر چکے ہیں نہ چار ماہ سے زائد ملاقاتیں کروا سکے نہ انکھ کے علاج بحال کروا سکے نہ حقیقی آزادی کا لائحہ عمل دے سکے سب اپنے عہدوں کی بندر بانٹ اور عہدوں سے ملنے والی مراعات سمیٹنے میں لگے ہیں

دہلی کے نواح میں آباد رہائشی کالونی میانوالی نگر کے حوالے سے چند دلچسپ حقائق ۔۔۔۔ دہلی شہر کے مغرب میں 75 ایکڑ پر قائم یہ کالونی علاقے کی سب سے بڑی رہائشی کالونی ہے جو 1984 میں قائم کی گئی اور جہاں ضلع میانوالی کے کسی بھی شہر سے تقسیم ہند کے بعد آنیوالوں کو پلاٹ الاٹ کیے گئے ، اطلاعات کے مطابق یہاں 600 سے زائد خاندانوں نے پلاٹ حاصل کیے جو سب کے سب میانوالی کے کسی نہ کسی شہر گاؤں کے رہائشی تھے ۔۔۔ میانوالی نگر میں داخل ہوں تو آج بھی کہیں کوئی ایسی صدا اور لب و لہجہ سننے کو مل جاتا ہے کہ گماں ہوتا ہے میانوالی کے کسی محلے یا بازار میں داخل ہو گئے ہوں ۔۔۔

چار روزہ جنگ کے بعد ======================شاہد اقبال کامران ==================ہمیں چھ مئی سے لے کر دس مئی تک کی چار روزہ جنگ کو “میڈیا وار” کے کذب و افتراء سے ہٹ کر دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یہ میری زندگی کی تیسری بڑی جنگ ہے۔ 65 ء میں میں چار سال کا بچہ تھا کچھ کچھ یاد ہے گھروں کے باہر کھودے گئے ایل شیپ کے مورچے ، رات کو آسمان پر جہازوں کے گزرنے کی آوازیں اور ریڈیو پر مقبول و محبوب جنگی ترانے۔ 71ء میں کچھ بے اثر ( بلکہ مزاحیہ) ترانوں کے علاوہ کوئی اچھی چیز یاد نہیں۔ پر اکیسویں صدی کی یہ جنگ طلسمی آئینے میں براہ راست دیکھی ، سنی اور لڑی ہے۔ چھ مئی سے لے کر گیارہ مئی تک شب و روز اس جنگ کا مشاہدہ کرنے سے اندازہ ہوا کہ جنگ کی دھول میں سب سے پہلے سچائی اور حقیقت مدھم پڑ جاتی ہے۔پر اب زمانہ خبر سے زیادہ نظر کا ہو گیا ہے۔بڑے اور ترقی یافتہ ممالک کے سٹیلائیٹ اسٹیشن دونوں ملکوں کے مابین برپا ہونے والے مبارزے کو براہ راست دیکھ رہے تھے۔اور کس نے کس کے ساتھ کیا کیا ہے ، وہ جاننے والے اچھی طرح سے جان چکے ہیں۔اب وقت ہے کہ ہم اس جنگ کے احوال اور مآل کو اپنے سنجیدہ مطالعے اور تجزیے کا عنوان بنائیں۔اگر ہم نے اس چار روزہ جنگ کا صحیح تجزیہ کر کے اپنی خوبیوں پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کو ٹھیک طریقے سے شمار کر کے انہیں درست نہ کیا تو پھر مستقبل میں نقصان کا اندیشہ ہے۔

اس جنگ کی بنیاد مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے ایک حادثے کو بنایا گیا تھا، جس میں چند نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر چھبیس سیاحوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔یہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی نوعیت کا ایک علحدہ اور حد درجہ افسوسناک حادثہ تھا اور سراسر سیکیورٹی کے ذمہ داروں کی ناکامی اور نااہلی کا ثبوت تھا۔لیکن جس سرعت سے بھارت کے انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلگام حادثے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے کر اس کے خلاف انواع و اقسام کے منفی اقدامات کا اعلان کیا، اس سے اس امر کا سراغ ملتا ہے کہ؛ یہ حملہ خود مودی نے اپنے ایک طے شدہ ایجنڈے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اسے روبہ عمل لانے کے لیے کروایا تھا۔پاکستان نے اس واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اس کی بین الاقوامی سطح پر تحقیق پر زور دیا تھا ۔دنیا بھر کی طرف سے بھارت سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کا ثبوت طلب کیا جاتا رہا۔خود بھارت کے اندر سے بھی ایسی متعدد آوازیں سنائی دیں ،جو پہلگام واقعے کو نریندر مودی کے سر ڈال رہے تھے۔اس واقعے کو بنیاد بنا کر مودی نے جو بالی ووڈ ڈرامہ تشکیل دیا ،اسے ایک پرامن پاکستانی کے طور پر دیکھتے ہوئے میری پختہ رائے یہ تھی کہ؛جنگ بھارت کی ضرورت کی ہے، اس لیے اسے فی الحال نامراد رکھنا ضروری ہے ۔لیکن ایسا نہ ہو سکا۔نریندر مودی اپنے غلط اندازوں کے ڈھیر پر کھڑا ہو کر اپنی ہندو انتہاء پسند سیاست کا دوام تلاش کر رہا تھا، وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس جنگ کا میدان اس کی سیاسی زندگی کے لیے شمشان گھاٹ بن جائے گا ۔ اس حادثے کی بنیاد پر دو ایٹمی ممالک کے مابین چار روز جنگ کے بعد وقتی جنگ بندی جاری ہے ۔لیکن ابھی تک بھارت پہلگام واقعے کا کوئی ایک مجرم بھی گرفتار نہیں کر سکا، کوئی ایک انکوائری ،کوئی ایک ثبوت کوئی ایک ایسی شہادت؛ جو یہ ثابت کر سکے کہ پہلگام واقعے میں خود سیکیورٹی ادارے ہی ملوث نہیں تھے،کچھ بھی پیش نہیں کیا گیا۔ چند دنوں کے اندر اندر بے لگام مودی نے بھارت کو اسرائیل اور پاکستان کو فلسطین ، لبنان ،شام ،یمن وغیرہ کی طرح کا سمجھ کر پاکستان میں مساجد اور سول آبادیوں کو “دہشتگردی کے کیمپ” قرار دیتے ہوئے میزائل حملوں کا نشانہ بنا ڈالا ۔اس حرکت نے فوری طور پر پاکستانیوں کے سامنے یہ جواب طلب سوالات کھڑے کر دیئے کہ؛ آخر کیوں پاکستان میں مساجد اور شہری دونوں محفوظ نہیں ہیں۔ اور یہ کہ 31 شہریوں کو جان سے مار دینا کن عالمی قوانین کے مطابق قابل قبول ہے ؟؟ یہ اس خطے کی تاریخ کا سنگین ترین وقوعہ تھا۔جس میں بھارت نے ایک مفروضہ تشکیل دے کر پاکستان کے وسطی شہروں پر میزائیل حملے کرنے کی جرات کی ،اور بڑے فخر سے اعلان کیا کہ بھارت نے پاکستان میں دہشتگردی کے ٹریننگ کیمپس تباہ کر دیئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی بڑے اہتمام سے یہ بات دھرائی گئی تھی کہ ؛ بھارت نے پاکستان میں کسی ملٹری انسٹالیشن پر حملہ نہیں کیا۔یہ بدترین حملے چھ اور سات مئی کی درمیانی رات کو ہوئے۔یہ حملے بھارتی حدود کے اندر اڑنے والے طیاروں سے اور دیگر میزائل لانچنگ پیڈز سے کئے گئے تھے۔لیکن یہی وہ وقت تھا کہ جب پاکستان نے اپنی فضائی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھارتی فضا میں موجود طیاروں کے سسٹم منجمد کئے، پانچ سے چھ طیارے بھارتی اور مقبوضہ کشمیر کی حدود میں ملبہ بنا کر بکھیر دیئے، بھارت کا کلی انحصار دروغ گو الیکٹرانک میڈیا کی چیختی چنگھاڑتی جھوٹی خبروں پر تھا۔لیکن سٹیلائیٹ کے ذریعے اس فضائی معرکے کا مشاہدہ کرنے والے اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی حیرت کے ساتھ بھارت کے بیش قیمت رافیل طیاروں کا عبرتناک انجام ملاحظہ کر رہے تھے۔بھارتی فضاؤں پر پاکستان کا اس حد تک تصرف تھا کہ رافیل طیاروں کے پائیلٹس کی گفتگو اور چیخ و پکار تک ریکارڈ کی جا رہی تھی۔صبح ہونے تک خطے میں طاقت کا توازن اور دنیا میں دفاعی برتری کا محور تبدیل ہو چکا تھا۔لیکن بات یہاں پر رکی نہیں،ہر چند کہ پاکستان کے ن لیگ سے وابستہ وزیر اعظم اور وفاقی وزراء نے یہ اعلان کر کے معاملے پر مٹی ڈالنے کی حتی الامکان کوشش کی کہ؛” ہم نے دنیا سے کہا ہے کہ اگر وہ کوئی مزید کارروائی نہ کریں تو ہم بھی ذمہ دار ریاست ۔۔۔۔” اور یہ بھی کہ ہم تو بھارت کے پانچ کی بجائے دس پندرہ جہاز بھی گرا سکتے تھے ،لیکن ہم نے احتیاط کی۔امر واقعہ تو یہ ہے کہ بھارت نے محض ایک غیر مصدقہ مفروضے کی بنیاد پر ایک ایٹمی صلاحیت والے ملک کے وسط پر اور آزاد کشمیر میں متعدد میزائل حملے کرنے کی مجرمانہ حرکت کی تھی ، اگرچہ پاکستان نے اپنی فضا میں رہتے ہوئے بھارت کے کچھ طیارے گرانے کا دعوی کیا اور اعلان کیا کہ حساب برابر ہو گیا ہے۔مزید کچھ نہ کریں۔ یہ بالکل غلط پالیسی تھی۔ اس طرح کے تحمل نے بھارت کو ایک نہایت درجہ غلط پیغام دیا اور اس نے یہ سمجھ لیا کہ وہ خطے کا اسرائیل بن چکا ہے اور اس کے ہمسائے میں فلسطین جیسا ملک آباد ہے۔اس نے ایک خطرناک پیش قدمی کی ، اگلے روز بھارت نے پورے پاکستان پر ایک وسیع ڈرون اٹیک لانچ کیا اور کامیابی کے ساتھ تمام حساس مقامات تک رسائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائی سیکیورٹی کا سارا ڈیٹا حاصل کر لیا۔جبکہ پاکستان میں ان ڈرونز کو شکار کر کے خوشی کا اظہار کیا جاتا رہا۔حیرت ہے کہ پاکستان بھارت کے اس دوسرے مجرمانہ تجاوز پر کیوں چپ رہا ؟ڈرون گرانے کو کریڈٹ بنا کر پیش کرنا بھی خود فریبی سے ملتی جلتی نادانی تھی۔بعدازاں انہی ڈرونز سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر اگلے روز انڈیا نے ہماری نہایت درجہ حساس اور ناقابل رسائی ائر بیسز پر میزائل حملے لانچ کر دیئے۔نور خان ائر بیس وفاقی دارالحکومت کا حصہ ہے، اس پر گرنے والے ناہنجار میزائل کی آواز میں نے اپنے بیڈ روم میں سنی، اور پھر چند ہی لمحوں میں ائر بیس سے ملحقہ رہائشی علاقوں کے لوگوں نے اپنی چھتوں پر سے ویڈیوز بنا بنا کر فیس بک پر پوسٹیں لگانی شروع کردیں۔بھارت کے یہ حملہ ایک ناقابل یقین حرکت اور مجرمانہ عمل تھا،یہ ایک ریاست پر تین دنوں میں تیسرا حملہ تھا۔یہ دس مئی کی رات تھی، بالآخر پاکستان کی طرف سے ضبط و تحمل کے بے سود مظاہرے مکمل کرنے کے بعد رات کی سیاہی کو صبح کے نور سے فروزاں کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔آپریشن بنیان المرصوص نے بھارت کے بے بنیاد تکبر اور کاذب غرور کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔اس جوابی حملے کے فوری بعد پاکستان نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس طلب کر لیا تھا کہ؛ جس کی پھر نوبت ہی نہیں آئی۔اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے ایماء پر ایک سوشل میڈیا میسج کے ذریعے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔یہ وہی ڈونلڈ ٹرمپ تھا جس نے دونوں ملکوں کے مابین بڑھتی ہوئی حدت اور کشیدگی سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اعلان کر رکھا تھا ۔ جنگ بند ہوئے چند روز گزر چکے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ہزیمت اور خفت مٹانے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک مضحکہ خیز تقریر بھی کی۔لیکن یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ انتہاء پسندی اور ریاستی دہشت گردی کا یہ سلسلہ رک گیا ہے یا ابھی چلے گا

۔اسرائیل اور امریکہ بھارت کی دفاعی اشک شوئی پر کمر بستہ ہیں۔ ہر روز دفاعی سازو سامان سے بھرے ہوئے امریکی جہاز بھارت میں اتر رہے ہیں۔ٹرمپ کی گفتگو الگ اور عمل الگ ہے ۔اور ہر امریکی حکمران یہی کچھ کرتا ہے۔پاکستان کو اپنا میزائل ڈیفنس سسٹم تیار اور تگڑا کرنا ہو گا ،تاکہ آئیندہ کوئی میزائل اٹیک نور خان ائر بیس تک نہ پہنچ سکے۔ہمیں تدبر سے کام لیتے ہوئے اپنے دفاع کی سنجیدہ تیاری کرنی ہو گی۔جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ بات پاکستان بھر کے پیشہ ور اور مراعات یافتہ محبان امریکہ کو سوچنی اور سمجھنی چاہیئے کہ جنگ کا خطرہ ابھی مدھم نہیں ہوا۔یہ فکر و تدبر اور تیز رفتار تیاری کا وقت ہے۔ میری ایماندارانہ رائے ہے کہ ہمیں ابھی کسی قسم کا جشن منانے کی بجائے اس جنگ کا تجزیہ اور ممکنہ جنگ کی تیاری کرنی چاہیئے۔ ======================

زرداری کے ” ہوائی فائر” کے بعدبابرچودھریسیاست کے میدان میں جب بھی کسی نےگرد اڑانے کی کوشش کی ،زرداری صاحب کوئی ایسا “پتا” پھینکتے ہیں کہ مخالفین کی آنکھیں ہی نہیں، عقلیں بھی کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔دو دن پہلے تک ہواؤں میں یہ سرگوشیاں تھیں کہ ایوانِ صدر کی دیواریں ڈگمگا رہی ہیں اور زرداری صاحب کے لیے “فائلیں” تیار ہو چکی ہیں۔ ٹی وی پر بیٹھے تجزیہ کار اپنی پینسلیں تیز کر کے ان کی رخصتی کی تاریخیں لکھ رہے تھے۔مگر صاحب! یہ وہ کھلاڑی ہے جو شطرنج کی بساط پر تب بولتا ہے جب سامنے والا جیت کا جشن منانے کی تیاری کر رہا ہو۔پیپلزپارٹی کی طرف سےخاموشی رہی پھراچانک ایک خبر گردش کرنے لگی کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطے ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا “ہوائی فائر”تھا جس نے پورے اقتدار کے محل میں ہلچل مچا دی۔ یہ واضح پیغام تھا کہ “بندے دے پتر بنو”جن کے لہجے میں سختی تھی، ان کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور جو رخصتی کی خبریں دے رہے تھے، وہ اب مفاہمت کے فائدے گنوانے لگے۔اس پورے ڈرامے کا ڈراپ سین اس تصویر پر ہوا جس میں قہقہے تھے، چائے کی پیالیاں تھیں اور ایک اطمینان تھا۔ یہ تصویر کسی کیمرہ مین نے نہیں، بلکہ دراصل “سیاسی ضرورت” نے کھینچی تھی۔ تصویر سےپیغام دینے کی کوشش ہےکہ:” کج نی ہویا، کج نی ہویا”سیفیات

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نے قومی اسمبلی میں سندھ بھر میں حیسکو، کے الیکٹرک اور واپڈا کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف آواز بلند کی تو وزیر دفاع نے بحث شروع کر دی۔ جب میر منور علی خان ٹالپر نے واپڈا اور وفاقی پالیسیوں پر دلائل دیے تو خواجہ آصف بدتمیزی پر اتر آئے۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ چھوٹے صوبوں کے لوگ چور ہیں اور بجلی کے بل ادا نہیں کرتے، تو پھر ان کا بوجھ آپ کیوں اٹھا رہے ہیں؟بہت آسان حل ہے، یا تو ان “چوروں” کو خود سے الگ کر دیں یا بجلی کا پورا نظام صوبوں کے حوالے کر کے اپنی جان چھڑا لیں۔ستر سال سے ہمارے وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن چور ہمیشہ چھوٹے صوبوں کو کہا جاتا ہے۔حالانکہ سب سے زیادہ بجلی چوری سینٹرل پنجاب کی بڑی صنعتوں میں ہوتی رہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ قطر سے مہنگے ترین ایل این جی معاہدے بھی آپ کی جماعت نے کیے، جنہوں نے قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔آپ کے ناکام منصوبوں اور کرپشن نے چند لوگوں کو تو مالا مال کیا، مگر آج پوری قوم مہنگی بجلی کی سزا بھگت رہی ہے۔بجلی چوری کی ذمہ داری بھی آخرکار واپڈا اور اس کے اداروں پر عائد ہوتی ہے، عوام پر نہیں۔ستر سال تک چھوٹے صوبوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے وہ اس ملک کے برابر شہری ہی نہ ہوں۔2010 کی اٹھارویں ترمیم نے پہلی بار صوبوں کو ان کے کچھ آئینی حقوق واپس دیے، لیکن تب سے مسلسل اس ترمیم کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔اگر چھوٹے صوبوں کے عوام آپ پر بوجھ ہیں تو پھر جب سندھ اپنی بجلی خود پیدا کر کے اپنی عوام کو دینا چاہتا تھا، تو وفاقی ادارے عدالتوں میں کیوں گئے؟ سندھ سے اس کا حق کیوں چھینا گیا؟اٹھارویں ترمیم کی روح کے مطابق عمل کریں۔واپڈا کا اختیار صوبوں کو منتقل کریں تاکہ ہر صوبہ اپنی بجلی خود بنائے اور خود اپنی عوام کو فراہم کرے۔صرف سینٹرل پنجاب کے لوگ ہی پاکستانی نہیں، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لوگ بھی برابر کے پاکستانی ہیں۔کاپیڈ

الطاف حسن قریشی بھی چلے گئے۔ گزشتہ روز 16 مئی کو انکی رحلت ہوئی اور آج انہیں لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ یوں کہئے الطاف حسن قریشی نہیں ان کے ساتھ ایک عہد چلا گیا ۔وہ ایک جید صحافی اور بہترین شخصیت تھے۔ صحافت کی دنیا میں اب ان ایسی شخصیات خال خال ہیں۔ عزت، شہرت ، وقار سب انہیں حاصل تھا۔ انکی زندگی میں ان سے رابطہ رہا۔ کبھی اسلام آباد تشریف لاتے تو ماہنامہ ہلال کے دفتر بھی آتے۔ دنیا ان ایسی نابغہ روزگار شخصیات سے خالی ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ ان کا اگلا سفر آسان فرمائے۔ آمین۔ (ڈاکٹر یوسف عالمگیرین)

عوام کو حلال کرنے والے کو ھلال آمتیاز بھارت میں 4 سال میں پٹرول 3 روپے اور پاکستان میں 300 روپے مھنگا ھوا بھارت کے پنجاب میں 90 فیصد کسان کو بجلی مفت اور پاکستان میں 4 سالوں میں 19 روپے کا یونٹ 119 روپے۔۔بھارت میں حج 2لاکھ اور پاکستان میں 12 لاکھ۔۔۔کرکٹ کا جنازہ زرا دھوم سے پاکستان میں سب کچھ تباہ وبرباد۔۔وزارت حج حجاج کرام رل گئے کھربوں روپے کی کرپشن وزیر موصوف پھنچ گئے کرپشن 200 ارب سھیل رانا لاءیو میں۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

انڈیا کا اپنے عوام پر انتہائ بڑا ظلم 4 سالوں کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3روپے کا اضافہ کر دیا۔۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چائینہ ناکام۔۔بیجنگ ۔۔۔ ٹرمپ اپنے ساتھ 15 سے 16 ورلڈ کمپنوں کے سی او بھی ساتھ لایا تھا۔ مگر وہ ناکام رہا،امریکی۔۔جام کمال کو اھم عھدے کی پیشکش۔۔امریکہ کا شکست خوردہ صدر۔۔پاکستانی سفیروں کی کہانی بیوروکریٹس کو تمغے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*بیجنگ۔۔۔ امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چائنہ پر کسی بھی معاہدہ پر دسخط نہ ہوسکے،زرائع**بیجنگ ۔۔۔ امریکی صدر کا دورہ چائنہ بے سود رہا،میڈیا**بیجنگ ۔۔۔ ٹرمپ اپنے ساتھ 15 سے 16 ورلڈ کمپنوں کے سی او بھی ساتھ لایا تھا۔ مگر وہ ناکام رہا،امریکی میڈیا**بیجنگ۔۔۔ چائنہ آمد سے قبل کہاں جائے رہا تھا کہ اربوں ڈالر کے معاہدہ ہونگے۔امریکی میڈیا*

🚨پاکستانی کھلاڑیوں کی پوری دنیا میں چرچے🚨 ڈربی شائر فالکنز نے پاکستان کے فاسٹ بولر عاکف جاوید کے متبادل کے طور پر صفیان مقیم کو ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کے لیے اسکواڈ میں شامل کر لیا ہے۔

چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن رٹائرڈ۔۔۔کون بنے گا نیا چیئرمین؟؟جناب محمد وسیم صاحب 4 سال چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن رہنے کے بعد آج باضابطہ طور پر رٹائرڈ ہوجائینگے۔۔۔نئے چیئرمین کے لیے بہت سارے نام زیرگردش ہیں، کچھ تو ممبر بھی ہیں کمیشن کے اور کچھ حال ہی میں گریڈ 21 اور 22 سے رٹائرڈ ہوئے ہیں یا ہونے والے ہیں ہیں۔۔سندھ پبلک سروس کمیشن جہاں ہر ہزاروں اہل امیدوار کئی سالوں سے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنی محنت کا پھل مل جائے تو ساری زندگی سکوں کے ساتھ خود بھی گزاریں اور ان کے اہل خانہ بھی معاشرے میں ایک مقام کے ساتھ رہیں۔۔۔غریب گھرانوں کے وہ بچے جن کا اوپر اللہ کے بعد زمین پر کوئی سہارا نہیں ہوتا ہے وہ اپنے جسم کو ،خواہشوں کو تکلیف سے گزارکر فیڈرل پبلک سروس کمیشن یا سندھ پبلک سروس کمیشن کے۔ امتحانات میں قسمت آزماتے ہیں بہت کا قسمت ساتھ دیتا ہے اور انہیں محنت کا پھل مل جاتا ہے جبکہ جو رہ جاتے ہیں وہ پھر دیگر بہت سارے امتحانات میں شرکت کرکے روزگار حاصل کرلیتے ہیں یا کچھ کاروبار کی طرف توجہ دیگر اپنی زندگی گزارتے ہیں۔۔پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں گذشتہ 20 سالوں سے بہت سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ اہل امیدواران فیل اور نالائق و نااہل پاس ہوگئے۔۔۔اس معاملے میں مزید زیادہ خرابی گذشتہ گذشتہ 15سالوں سے نظر آنے لگی ہے۔۔چیئرمین سمیت ممبران پر بڑے بڑے الزامات لگے ہیں۔۔۔نورمحمد جادمانی کے دور میں تو عدالتوں نے نتائج ہی روک دیے ۔پھر سندھ حکومت نے 22 گریڈ کے رٹائرڈ بیوروکریٹ محمد وسیم کو چیئرمین لگایا۔۔محمد وسیم صاحب بحیثیت ایک انسان ایک اچھی شخصیت کے مالک ہیں اس کے دور میں امیدواروں نے اور ان کے رشتیداروں نے بہت بڑے الزامات لگائے۔۔خیر وہ آج رٹائرڈ ہوجائینگے اب وہ اپنے رب اور ضمیر کے آگے جوابدہ ہیں کہ وہ کتنا بہتر کام کرسکے۔

۔۔ایک معاملہ جو میں اپنے دوستوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ چلو ہم بہت خوش ہوتے ہیں کہ غریبوں کے بچے اس امتحانات کے ذریعے اپنا کیریئر بناتے ہیں اور میرٹ ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ان غریبوں کے بچوں نے امتحانات پاس کرنے کے بعد دیگر غریبوں اور پڑوسیوں کا کتنا خیال رکھا ہے ؟ کتنے فیصد ایسے افسران ہونگے جنہوں نے اپنے ماضی کو بھلایا نہیں ہوگا اور اپنے ظرف اور ضمیر کے مطابق کام کیا ہوگا یا کررہے ہیں؟؟ سندھ میں جو کرپشن اور بربادی ہے جس میں حکمرانوں کو تو سب گالیاں دے رہے ہیں ان کے سہولت کار بن کر کروڑوں اور اربوں روپے کمانے والے ان افسران سے کوئی پوچھتا ہے کہ تم کل کیا تھے آج کہاں پہنچ گئے ؟؟؛ چلو آپ نے ترقی کرلی مختلف وجوہات کی بناء پر اس سے تمہارے محلے،شہر، صوبے اور ملک کو کیا فائدہ ہوا۔۔؟؟ اتنے بڑے بڑے امتحانات پاس کرکے۔ مختلف مشکلاتیں دیکھ کر جب سینیئر حیثیت پر پہنچے تو تم نے حکمران وقت کے کتنے ایسے کام تھے جو غلط تھے تم نے انکار کیا ہو ؟؟ جو غلط کام اپنے وزیروں،مشیروں اور آقاؤں کےے کہنے پر کیے پھر وہ کسی غریب کا کام کرتے وقت کیوں کہتے تھے کہ یہ غلط کام ہے نہیں ہوگا۔۔۔۔؟؟ غریب کو نہ کرنا بہت آسان لیکن حکمرانوں کو نہ کرتےکیوں زبانیں بند رہتی ہیں؟؟!! تم سے پہلے والے بھی فرشتے نہیں تھے ،غلطی یا غلطیاں وہ بھی کرتے تھے، تھوڑا بہت پیسا انہوں نے بھی کمایا لیکن تم نے کسی غریب کی خاطر،کسی مظلوم کی خاطر ، وطن کی خاطر ،اس کے مظلوم عوام کی خاطر کس معاملے پر انکار کیا جو اللہ کے آگے سرخرو ہوکر کہوگے کہ ہاں میں نے انکار بھی کیا تھا؟؟؟!! کوئی دوست مجھے بتاسکتا ہے کہ اس وقت پورے صوبے میں کتنے ڈی سی ،ایس پی،کمشنرز، ڈی آئی جیز، سیکریٹریز دیانتدار ہیں؟؟ ہوسکتا ہے کم دوست جانتے ہونگے۔۔مجھے پتا ہے کہ اس حال میں بھی کافی دیانتدار افسران موجود ہیں لیکن آپ کو اہم پوسٹنگز پر نظر نہیں ائینگے۔

۔۔یہ ایک لمبا چوڑا بحث ہے جو ہمارے باشعور افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلق والے ان افسران سے ضرور پوچھیں کہ تم کل کیا تھے،آج کیا بن گئے ہو؟؟ تمہاری اس پوزیشن کا کتنے افراد اور اس دھرتی کو فائدہ پہنچا ہے۔۔۔؟؟ میں امید کرتا ہوں کہ ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔۔۔سندھ حکومت کو نئے چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کی تلاش ہے ۔۔اس تلاش میں کافی ناموں پر غور ہوا ہے اور کچھ پر نہیں ہوسکا ہے اگر سندھ حکومت اور خاص طور پر پیپلزپارٹی کی قیادت واقعی بھی اس ادارے کی ساکھ کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اس ادارے میں بہت اچھی ساکھ والے بندے کو تعینات کردیں باقی وقت آنے پر سب کا پتا لگ جائے گا کہ کس نے اچھا کام کیا اور کس نے نہیں۔۔!! اس وقت کچھ پولیس افسران کے ناموں پر غور ہو رہا ہے جس میں غلام نبی میمن صاحب، ڈاکٹر امیر شیخ صاحب، اے ڈی خواجہ صاحب جبکہ سولین افسران میں پبلک سروس کمیشن کے ممبران رضوان احمد،صاحب غفران میمن صاحب، سمیت دیگر میں عثمان چاچڑ صاحب سابق چیف سیکریٹری کشمیر، ناہید شاہ درانی صاحبہ سابقہ فیڈرل سیکریٹری اور قائم علی شاہ کی بیٹی ،اقبال درانی صاحب سابق فیڈرل سیکریٹری کے ناموں سمیت کچھ اور نام بھی شامل ہیں۔۔

۔دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری صاحب جو آج کل سندھ حکومت کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ کونسے معتبر نام کو چیئرمین لگوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں پھر انہیں یہ کہتے ہیں کہ صرف 10 سے 15 فیصد سفارش کا ریشو رکھنا جیسے ماضی میں ہوتا رہا ہے باقی تمام کے تمام میرٹ رکھنا پھر دیکھو کہ کتنے حقداروں کو اپنے محنت کا صلہ مل جائے گا۔۔بعد میں ان افسران کے ظرف و ضمیر پر ہوگا کہ کس طرح اپنا حقجو آج کے صاحبان جبہ و دستار طاہر اشرفی مفتی عبدالرحیم اور جنرلوں کے ایک حکم پر پی ڈی ایم بنانے اور چلانے والوں کا کردار سمجھنا چاہیں وہ وطن عزیز کی تاریخ کے اس ورق کو ضرور پڑھیں #خانہ_بدوشجو جماعت اسلامی کو اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا طعنہ دیتے ہیں اور اپنی پارٹی کو جمہوریت کا چیمپئن سمجھتے ہیں وہ بھی یہ تحریر پڑھیں ، امید ہے کہ کافی افاقہ ہو جائے گا : سندھ کےتمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کےساتھ ھو گئے تھے۔جتوئی فیملی ،محمدخان جونیجو فیملی ،ٹھٹھہ کے شیرازی ،خان گڑھ کےمہرنواب شاہ کےسادات ،بھرچونڈی۔۔رانی پور‏ہالا👈کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کے ساتھ تھےسوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنےوالی جماعت اسلامی ،اندرون سندھ کےجی ایم سید_ حیدرآباد کےتالپور برادران ،بدین کے فاضل راہو اور رسول بخش پلیجومس جناح کےحامی تھے ۔تاریخ کا جبر دیکھیں یہی لوگ بعد میں پاکستان کےغدار بھی ٹہراےُ گئے پنجاب کےتمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین سوائےپیر مکھڈ۔

صفی الدینباقی سب ایوب خان کےساتھ ھو گئےتھےسیال شریف کےپیروں نےتو فاطمہ جناح کےخلاف فتوی بھی دیا تھا۔پیر آف دیول نےداتادربار پر مراقبہ کیا اور فرمایا کہ داتا صاحب نےحکم دیا ہےایوب خان کو کامیاب کیاجائے ‏ورنہ خدا پاکستان سےخفا ہوجائے گا۔آلو مہارشریف کےصاحبزادہ فیض الحسن نےعورت کےحاکم ہونے کےخلاف فتوی جاری کیامولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیت علماء پاکستان نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت سےمذاق اورناجائز قرار دیامولانا حامدسعیدکاظمی کےوالد علامہ احمد سعید کاظمی نے ‏ایوب خان کو ملت اسلامیہ کی آبرو قرار دیایہ وہ لوگ تھے جو دین کےخادم ہیںلاھور کےمیاں معراج الدین نےفاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقد کیاجس سےمرکزی خطاب عبدالغفار پاشا اور وزیر بنیادی جمہوریت نےخطاب کیامعراج الدین نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا موصوف موجودہ بیمار‏وزیر صحت یاسمین راشد کےسسر تھے۔گجرانوالہ کےغلام دستگیر نے مس جناح کی تصویریں کتیا کےگلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں جلوس نکالےمیانوالی کی ضلع کونسل نےفاطمہ جناح کےخلاف قرار داد منظور کی۔مولانا غلام غوث ہزاروی سابق ناظم اعلی مجلس احرار اور مرکزی رہنماء جمعیت علمائےاسلام ‏نےکھل کر ایوب خان کی حمایت کا اعلان کیا اور دعا بھی کی۔پیر آف زکوڑی نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو اسلام سےمذاق قرار دیکر عوامی لیگ سے استعفی دیا۔اور ایوب کی حمایت کا اعلان کیادوسری طرف جماعت اسلامیکےامیر مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیاایوب خان میں ‏اسکے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہیں

اورفاطمہ جناح میں اسکے سوا کوئی کمی نہیں کہ وہ عورت ہیں۔بلوچستان میں مری سرداروں اور جعفر جمالی ظفر اللہ جمالی کے والد صاحب کوچھوڑ کرسب فاطمہ جناح کےخلاف تھےقاضی محمد عیسی جسٹس فائز عیسی کےوالد مسلم لیگ کا بڑا نام ‏بھی فاطمہ جناح کےمخالف اور ایوب خان کےحامی تھےانہوں نےکوئٹہ میں ایوب خان کی مہم چلائیحسن محمود نےپنجاب اور سندھ کے۔روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پرراضی کیاپورا مشرقی پاکستان غدار ٹہرا کہ وہ سب مس جناح کےساتھ تھےخطۂ پوٹھوہار کے۔تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے‏برئگیڈئر سلطان والد چودھری نثار، ملک اکرم دادا امین اسلم، ملکان کھنڈا۔کوٹ فتح خان۔پنڈی گھیب۔تلہ گنگ۔ایوب کےساتھ تھے اسکی وجہ یہاں کے سب لوگ فوج سے وابستہ تھے سوائےچودھری امیر۔اور ملک نواب خان کے جن کو الیکشن کےدو دن بعد قتل کردیا گیا۔شیخ مسعود صادق نےایوب خان کی لئےوکلاء‏کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئی لوگوں نےانکی حمایت کی ،پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے

اسکے علاوہ میاں اشرف گلزار بھی فاطمہ جناح کےمخالفین میں شامل تھےصدارتی الیکشن۔1965 کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سے پریشان تھےان میں سرفہرست سید ابوالاعلی مودودی،‏شوکت حیات ،خواجہ صفدر والد خواجہ آصفچودھری احسن والد اعتزازاحسن، خواجہ رفیق والد سعدرفیق، کرنل عابد امام والد عابدہ حسین اور علی احمد تالپور شامل تھے یہ لوگ آخری وقت تک فاطمہ جناح کےساتھ رہےصدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر پاکسان توڑنےکا الزام بھی لگایہ الزام ZA-سلہری نے ‏اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جسمیں مس جناح کی بھارتی سفیر سےملاقات کا حوالہ ديا گیا تھایہ بیان کہ قائداعظم تقسیم کےخلاف تھے یہ وہی تقسیم تھی جسکا پھل کھانےکیلئےآج سب اکٹھےہوئے تھےیہ اخبار ہرجلسےمیں لہرایا گیا ۔ایوب اسکو لہرا لہرا کر مس جناح کوغدار کہتے رہےپاکستان کا مطلب کیا‏لاالہ الااللّہجیسی نظم لکھنے والے اصغرسودائی ایوب خان کے قصیدے اور ترانے لکھتے تھےاوکاڑہ کےایک شاعر ظفراقبال نےچاپلوسی کےریکارڈ توڑ ڈالے

یہ وہی ظفراقبال ہیں جو بعد میں اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے رہے۔سرورانبالوی و دیگر کئی شعراء اسی کام میں مصروف تھےدوسری طرف حبیب جالب، ‏ابراھیم جلیس میاں بشیر فاطمہ جناح کےجلسوں کے شاعر تھے۔ جالب نے ان جلسوں سے اپنے کلام میں شہرت حاصل کیمیانوالی جلسے کے دوران جب گورنر امیرخان کےغنڈوں نےفائرنگ کی توفاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیںاسی حملےکی یادگار*بچوں پہ چلی گولی۔**ماں دیکھ کے یہ بولی* نظم ہےفیض صاحب خاموش حمائتی تھے‏چاغی۔لورالائی،سبی ،ژوب، مالاکنڈ،باجوڑ، دیر،سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی،دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ، سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔سارا اردو اسپیکنگ طبقہ جو جماعت اسلامی کی طاقت تھا فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہاانکو کراچی سے 1046 ایوب خان کو837 ووٹ ملے‏مشرقی پاکستان مس جناح کےساتھ تھافاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے353 اور ایوب خان کو 199ووٹ ملےجسکی سزا اسٹیبلشمنٹ نےیہ دی کہ انہیں دو نمبر شہری اور پاکستان سےالگ ہونےپر مجبور کردیاگیا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب خان اور مس فاطمہ کے ووٹ برابر تھےمس جناح کےایجنٹ ایم حمزہ تھے اور اے-سی جاویدقریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے‏مس جناح کوکم ووٹوں سےشکست اکیلی عورتفوج ،بیوروکریٹ، پیروں، وڈیروں، جاگیر داروں سےمقابلہ کر رہی تھی جہلم سے ایوب کے82 اور مس جناح کے67 ووٹ تھےاس الیکشن میں جہلم کےچودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کے دھمکانےکے بعد پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ جہلم کےنتیجے پر دستخط کیلئے‏مس جناح کےپولنگ ایجنٹ گجرات سے آئےاسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہیاس الیکشن میں مس فاطمہ جناح نہیں ہاری بلکہ جمہوریت ہار گئی_ پاکستان ہار گیا۔۔۔۔جو محبِ وطن اور جان نثار تھے غدّار ٹہرے اور اسمبلیوں اور ایوانوں سے ان کا خاتمہ ہو گیا۔

ابن الوقت اور چاپلوسی کرنے والے معتبر ٹہرے اور آج بھی اسمبلیوں میں انہی ‏کی اولادیں موجود ہیںاس کے بعد پاکستان کی عوام نےکوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا*حوالےکیلئے دیکھئےڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفرمیرا سیاسی سفر۔۔حسن محمودفاطمہ جناح۔۔ابراھیم جلیسمادرملت۔۔ظفرانصاری۔فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔وکیل انجماور کئی پرانی اخبارات👈پڑھیں اور جانیں اپنا ماضی۔۔۔

سپریم کورٹ کے دو سابق ججوں کی معافی تلافی کی درخواست ، غلطیوں کا اعتراف ،ندامت اور شرمندگی کا اظہار ۔ائین میں استعفی کے بعد واپسی کی گنجائش نہیں ہے ۔ کم عمر لڑکی سے شادی کریں ،قومی خزانہ کو مزید کئی سال بیوہ کی پنشن کے زریعےلوٹیں ۔ متعلقہ لوگوں کا مشورہ ۔

کابل: 2 دسمبر 2022 کی شام افـغـانـستـان کے دارالحکومت کابـل میں پاکستانی سفارتخانے پر ہونے والے دہـشـت گـرد حـمـلے کے دوران پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈو سپاہی اسرار محمد نے اپنی جـان خطرے میں ڈال کر پاکستانی ناظم الامور کی جان بچا لی۔ پاکستانی ناظم الامور سفارتخانے کے احاطے میں چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک قریبی بلند عمارت سے دہـشـت گـردوں نے اسنائپر رائفل سے فائرنگ شروع کر دی۔ حـملے کا اصل نشانہ پاکستانی ناظم الامور تھے، تاہم موقع پر موجود ایس ایس جی کمانڈو سپاہی اسرار محمد فوراً ان کی حفاظت کے لیے ڈھال بن گئے۔ دہشـت گـرد وں کی جانب سے 100 سے زائد فائر کیے گئے، لیکن سپاہی اسرار محمد نے غیر معمولی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناظم الامور کو مسلسل اپنی حفاظت میں رکھا اور انہیں دھکیلتے ہوئے محفوظ مقام تک منتقل کیا۔اس دوران سپاہی اسرار محمد کو دو گولیاں لگیں، جن میں ایک سینے جبکہ دوسری گھٹنے پر لگی، مگر شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی پوزیشن نہیں چھوڑی۔ بعد ازاں دیگر سکیورٹی اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لیا گیا۔زخمی سپاہی اسرار محمد کو ابتدائی طبی امداد کے لیے کابل کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا،

جہاں سے بعد ازاں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں سی ایم ایچ پشاور منتقل کر دیا گیا۔سپاہی اسرار محمد کی بے مثال بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھرپور سراہا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی غیر معمولی قربانی اور شجاعت کے اعتراف میں انہیں “ستارۂ بسالت” سے نوازا۔سپاہی اسرار محمد جیسے بہادر جوان ہی پاکستان کا حقیقی فخر ہیں، جو وطن اور قوم کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

امریکہ کا شکست خوردہ صدر اسی منہ کے ساتھ چین جا پہنچا ہے ، جس کے ساتھ اس نے ایک صیہونی انتہا پسند نیتن یاہو کے بہکاوے اور خفیہ ڈراوے میں آ کر ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ منہ اصولی طور پر اب کسی کو بھی دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی منہ کے ساتھ اپنی ایڑی سے لے کر پینٹاگان کی چوٹی تک زور لگا کر ایران پر بلا وجہ شدید ترین ہوائی حملے کئے تھے

۔ ٹرمپ نے اسی منہ کے ساتھ ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کو “رجیم چینج ” نامی مردود جہاں ڈاکٹرائن پر عمل کرتے ہوئے جنگ کے آغاز ہی میں تاک تاک کر ہلاک کر دیا تھا۔اور اب ڈونلڈ ٹرمپ اسی مایوس اور شکست خوردہ منہ کے ساتھ چین کے متحمل مزاج ،سنجیدہ ، کم گو اور زیرک لیڈروں کے سامنے پیش ہو رہا ہے۔میں نہیں جانتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کون سا پرفیوم یا کس عرب شیخ کا عطیہ کردہ عطر استعمال کرتا ہے ۔ہاں یہ اندازہ ضرور ہے کہ،اس کے اپنے لباس سے میراب کے اسکول میں امریکی میزائل حملوں میں جان گنوانے والی ننھی طالبات کے لہو کی مہک ضرور آ رہی ہو گی۔

امریکی صدر کے بعد روسی صدر کا دورہ چین۔۔*پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح 4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ، فتح 4 طویل فاصلے تک اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، آئی ایس پی آر۔۔وفاقی حکومت نے M5 ملتان سکھر موٹروے پر بھونگ انٹر چینج کی تعمیر کے لیے 264 ملین روپے کا فنڈ جاری کردیا۔حکومت کو بجٹ کے بعد بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ۔۔ عرفان رامے کاشف عبداللہ افتخار چیمہ سمیت 19 افسران کو ھلال آمتیاز سے نوازا گیا۔۔ملک کے وسیع تر مفاد کے لئے فیصلہ کرینگے جمھوریت پر حملہ نا قابل قبول۔۔ایک دوسرے کا حریف نھی شراکت دار بننا ہے چینی صدر۔۔۔28 ویں آئینی ترمیم پر بات چیت نہیں ھوی بلاول بھٹو۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*آئی ایس پی آر راولپنڈی، 14 مئی 2026*آج آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی طرف سے مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4، زمین سے لانچ کیے جانے والے کروز میزائل کا کامیاب تربیتی فائر کیا گیا۔ جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل ایڈز سے لیس، ہتھیاروں کا نظام اعلیٰ درستگی کے ساتھ طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تربیتی فائر کا انعقاد فوجیوں کی آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے اور بہتر درستگی اور بہتر بقا کے لیے شامل مختلف ذیلی نظاموں کے تکنیکی پیرامیٹرز کو درست کرنے کے لیے کیا گیا۔تربیتی آگ کا مشاہدہ پاکستان آرمی کی راکٹ فورس کمانڈ کے سینئر افسران کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ایجنسی کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے کیا۔صدر، وزیراعظم پاکستان، سی او اے ایس اور سی ڈی ایف، چیف آف دی نیول اسٹاف اور چیف آف دی ایئر اسٹاف نے فتح 4 کی کامیاب تربیتی فائر کو سراہتے ہوئے ایف سیریز کے میزائل کی کامیاب تربیتی آگ میں تعاون کرنے والوں کی تکنیکی صلاحیت، لگن اور عزم کو سراہا۔

پیوٹن چین جا رہے ہیں۔۔۔۔کریملن کے ترجمان:🔹ہم جلد ہی ولادیمیر پوٹن کے چین کے دورے کی تاریخ اور تفصیلات کا اعلان کریں گے۔🔹یہ دورہ تیاری کے مراحل میں ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی تیاریاں اور آخری مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ دورہ بہت قریب مستقبل میں کیا جائے گا۔

تائیوان چین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے، ون چائنا پالیسی کی حمایت کرتے ہیں، پاکستانترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ تائیوان چین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور پاکستان ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق امریکا ایران امن عمل جاری ہے جبکہ یو اے ای سے پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن کے اعداد و شمار مبالغہ آمیز قرار دیے گئے ہیں۔#دفتر_خارجہ

ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے: چینی صدر کی ٹرمپ سے ملاقات میں گفتگوبیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دورہ چین کے موقع پر گریٹ ہال آف دی پیپل کے باہر استقبالیہ تقریب میں پہنچے جہاں چینی صدر نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔

چینی صدر نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا، کابینہ سے تعارف کرایا جس کے بعد چینی اور امریکی صدور گریٹ ہال آف دی پییل کی عمارت کے اندر چلے گئے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے نمایاں خدمات کے اعتراف میں مسلح افواج کے افسران اور اہلکاروں کو اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

صدر مملکت۔۔۔فوجی اعزازاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے نمایاں خدمات کے اعتراف میں مسلح افواج کے افسران اور اہلکاروں کو اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا

اسلام آباد بادبان ٹی وی رپورٹ):صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کی مسلح افواج کے 47 افسران اور اہلکاروں کو اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا۔

جمعرات کو یہاں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے افسران اور اہلکاروں کو نمایاں خدمات اور بہادر ی کے اعتراف پر اعزازات سے نوازنے کیلئے ایوان صدر میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد ہوا

جس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری، مسلح افواج کے اعلیٰ افسران، سینئر سرکاری حکام ،

ایوارڈز حاصل کرنے والوں کے اہلخانہ اور غیر ملکی سفارتکاروں سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

بے مثال بہادری کے اعتراف میں ستارہ بسالت کا اعزاز لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید، سپاہی ثوبان مجید بلوچ شہید اور سپاہی اسرار محمد کو دیا گیا

۔ ہلال امتیاز (عسکری) حاصل کرنے والوں میں ایئر مارشل کاشف قمر، ایئر مارشل عامر شہزاد، ایئر وائس مارشل محمد عامر حیات،

میجر جنرل محمد شاہد ابڑو، میجر جنرل ملک مقبول رضا، میجر جنرل سبطین رفیق، ریئر ایڈمرل مظہر محمود ملک، ایئر وائس مارشل شاہد منصور جہانگیری، ایئر وائس مارشل خالد محمود،

میجر جنرل اعجاز احمد، ریئر ایڈمرل رضوان صادق، میجر جنرل ملک محمد شہزاد، ایئر وائس مارشل طاہر محمود، میجر جنرل عامر اشفاق کیانی، میجر جنرل قیصر سلیمان، میجر جنرل عمر نسیم،

میجر جنرل لقمان حفیظ، میجر جنرل عامر امین، میجر جنرل سید عمران عارف، میجر جنرل ہارون حمید چوہدری، میجر جنرل وسیم افتخار چیمہ، میجر جنرل محمد حسین، میجر جنرل شعیب بن اکرم،

میجر جنرل یاسر نواز جنجوعہ، میجر جنرل کاشف خلیل، میجر جنرل سید عباس علی، میجر جنرل احمد کمال، میجر جنرل کاشف عبداﷲ،

میجر جنرل رانا ارفان شکیل رامے، میجر جنرل محمد عباس، میجر جنرل انجم ریاض،

ریئر ایڈمرل عدنان مجید، ریئر ایڈمرل شہزاد حامد، ریئر ایڈمرل اظہر محمود، میجر جنرل عتیق احمد، میجر جنرل نوید احمد، میجر جنرل ساجد امین، میجر جنرل محمد انتخاب عالم، میجر جنرل محمد شہزاد خان،

میجر جنرل شاہد امیر افسر، میجر جنرل نثار الحق، میجر جنرل جواد ریاض، ریئر ایڈمرل شہزاد اقبال اور ریئر ایڈمرل

پاکستان کے نامور انٹرنیشنل قانونی مشیر شوزب مجیدنے 100 ارب روپے سے زائد پاکستانی روپیہ بچایا انٹرنیشنل ججز کے سامنے کیسیز کو پاکستان کی طرف موڑا جس پر حکومت پاکستان نے انھیں ستارہ امتیاز سول سے نوازا یاد رہے کہ وہ ستارہ امتیاز ملٹری بھی حاصل کر چکے ہیں تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

Pakistan’s renowned international legal advisor Shozab Majeed saved more than 100 billion Pakistani rupees by successfully steering major international cases in Pakistan’s favor before international judges. In recognition of his outstanding services, the Government of Pakistan awarded him the prestigious Sitara-e-Imtiaz (civil). It is noteworthy that he has also previously received the military Sitara-e-Imtiaz. Detail on BAADBAN News