All posts by admin

پاکستان میں صحافت کا مستقبل تفصیلات بادبان ٹی وی پر

یہ تصویر کسی عام فقیر کی نہیں، بلکہ سندھ کے نامور افسانہ نگار، ناول نویس اور دانشور محترم مشتاق احمد کاملانی صاحب کی ہے۔وہی مشتاق کاملانی، جنہوں نے “گونگی بارش”، “چپٹا لہو”، “گھٹی ہوئی فضا” اور شہرۂ آفاق ناول “رولو” جیسے شاہکار تخلیق کیے۔وہی کاملانی صاحب جو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالب علموں میں شمار ہوتے تھے، جن کی انگریزی، اردو، فارسی اور پنجابی پر ایسی گرفت تھی کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔مگر آج…وقت نے اس عظیم قلمکار کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ دن بھر ٹھٹہ کی گلیوں میں اور رات کو سجاول کے بس اسٹاپ پر زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ان کے چھوٹے سے گھر پر قبضہ کر لیا گیا، اور ایک عظیم لکھاری خاموشی سے معاشرے کی بے حسی کا بوجھ اٹھاتا رہا۔کتنا بڑا المیہ ہے کہ جو شخص لفظوں سے نسلوں کی سوچ بدل سکتا تھا، آج خود زندگی کے ظلم سے ہار چکا محسوس ہوتا ہے۔ان کے چہرے پر ایک عجیب کیفیت دکھائی دیتی ہے… آنکھوں میں نمی، اور ہونٹوں پر انسانیت پر طنزیہ مسکراہٹ۔مشتاق کاملانی صاحب نے ایک جگہ لکھا تھا:”اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور پاکستان میں صحافت کا مستقبل سھیل رانا لاءیو میں

‏الیکشن 2024 میں عبرتناک شکست کا انتقام لیتے ہؤے اسلام آباد سے تینوں ناجائز MNA ڈاکٹر طارق فضل چوہدری،۔ پاکستانی قوم کو بجلی بلوں پر ھلال کرنے لغاری کو ھلال پاکستان سے نواز دیا گیا۔۔ پاور پلانٹ کو فروخت 45 ارب روپے میں کیا ایک ارب روپے بھی خزانہ میں نہ آنے پر ھلال پاکستان شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔ یہ اہم بحری گزرگاہ اس وقت مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے: بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا۔۔ پاکستان میں مھنگای کا طوفان بجٹ کی تیاریاں مکمل۔ چینی بحری جہاز نے 2 ملین بیرل عراقی خام تیل کے ساتھ آبنائے ہرمز کامیابی سے پار کرلیا عرب میڈیا۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین کیا چین کی بالادستی مان لی گئی ہے۔۔‏پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے 28 سالہ بیٹے نے بلیو پاسپورٹ لیا اور بیرون ملک جا کر پاسپورٹ سرنڈر کر کے اسائلم اپلائی کر دیا،طلال چودھری۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏الیکشن 2024 میں عبرتناک شکست کا انتقام لیتے ہؤے اسلام آباد سے تینوں ناجائز MNA ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، انجم عقیل خان اور راجہ خرم نواز کی بھرپور سفارش پر ۔۔۔۔۔‏شہباز حکومت نے مالکان اسلام آباد کی آبادیوں کو گرانے، کچی بستیوں کے مکینوں کو زبردستی بے دخل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر ۔۔۔۔‏پانچ بیوروکریٹس ڈائریکٹر CDA انعم فاطمہ، SP علی رضا، چوہدری اویس افضل، محمد یوسف کو تمغہ امتیار سے نوازا گیا ہے

امریکی صدر کا یہ دو روزہ دورہ پہلے اکتیس مارچ سے دو اپریل 2026ء کے لیے طے کیا گیا تھا۔لیکن جنگ شروع کرنے اور پھر تمام تر امریکی اور اسرائیلی اندازوں کے برعکس جنگ ختم کرنے پر اپنا اختیار کھو دینے اور جوابی حملوں میں غرق ہو جانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر اپنا طے شدہ دورہ چین ملتوی کردیا تھا کہ؛ جنگ کی وجہ سے اس کے منہ کا واشنگٹن ڈی سی میں رہنا ضروری ہے۔اگرچہ اب سب کچھ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس جنگ کے دوران دنیا نے دیکھا اور اچھی طرح سے سمجھ بھی لیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ کسی بھی امریکی میزائل یا بمبار طیارے سے زیادہ مہلک ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ٹرمپ نے جنگ کے دوران اس ” ہتھیار” کو خوب استعمال کیا اور تیل کی قیمتوں اور اسٹاک ایکسچینج کو قابو میں رکھنے کے لیے جنونی بیان بازی کے لیے استعمال کرتا رہا۔

بعض ماہرین ایسا گمان بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایران کے خلاف جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ کو موٹے جالی دار کپڑے سے باندھ کر رکھا جاتا تو امکان ہے کہ امریکہ کی عسکری اور اخلاقی ہزیمت میں کچھ کمی آ جاتی۔ جنگ بندی کے بعد مستقبل جنگ بندی کے لیے امن مذاکرات کا آغاز ہوا۔امریکی ریاست اور ایران مستقل جنگ بندی معاہدہ کرنا چاہتے تھے ،لیکن نیتن یاہو کی نیت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ نے اس عمل میں رکاوٹ بن کر ، مستقل جنگ بندی اور دیرپا امن کے خواب کو دور کردیا ہے۔ دورہ چین کے التواء نے صرف دورے کی تواریخ ہی تبدیل نہیں کی تھیں ،بلکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر امریکہ کی حیثیت کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکہ سے چین روانگی کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی چال میں اعتماد کی کمی اور خفت کی زیادتی نظر آ رہی تھی۔ ایران کے خلاف جنگ کو آبرو مندانہ سلیقے سے لپیٹے بغیر امریکی صدر کا دو روز تک چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا بہت مشکل اور ایک لاحاصل عمل ہو سکتا ہے۔

منگل کو سینیٹ میں عبدالقادر پٹیل نے بل پیش کیا کہ ارکان پارلیمنٹ ہی نہیں ان کے اہلخانہ کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کیئے جائیں اور آج پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا بیٹا سفارتی پاسپورٹ پر یورپ گیا وہاں جاکر پاسپورٹ سرنڈر کیا اورسیاسی پناہ لے لی۔اس تناظر میں ارکان پارلیمنٹ کی اولادوں کو بلیو پاسپورٹ کیوں جاری کیا جائے؟

سوال تو یہ بھی ہے کہ نیلے اور سبز پاسپورٹ کا فرق ہی کیوں؟ اگر کسی نے سرکاری فرائض کی ادائیگی کے لیئے جانا ہے تو وہ ضرور آفیشل یا پھر بلیو پاسپورٹ پر جائے چاہے کوئی سرکاری ملازم ہے یا منتخب عوامی نمائندہ لیکن سیر و سیاحت یا ذاتی دورے کی غرض سے اشرافیہ کی اولادوں کو تو کیا کسی پبلک آفس ہولڈر کو بھی یہ پاسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

زرداری صاحب استعفی کیوں دیں گے؟؟ یہ ممکن ہی نہیں- اور بزدل بندہ تو وہ ھے نہیں کہ کسی دباؤ میں آ کر ایسا کر دے- البتہ اسکی ایک صورت ھے- بلاول وزیر اعظم بن رہا ہو-اسکا بھی حل ھےنواز شریف صدر بن جائیں اور بلاول وزیر اعظم : شہبا

امریکہ کا شکست خوردہ صدر اسی منہ کے ساتھ چین جا پہنچا ہے ، جس کے ساتھ اس نے ایک صیہونی انتہا پسند نیتن یاہو کے بہکاوے اور خفیہ ڈراوے میں آ کر ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ منہ اصولی طور پر اب کسی کو بھی دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی منہ کے ساتھ اپنی ایڑی سے لے کر پینٹاگان کی چوٹی تک زور لگا کر ایران پر بلا وجہ شدید ترین ہوائی حملے کئے تھے

۔ ٹرمپ نے اسی منہ کے ساتھ ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کو “رجیم چینج ” نامی مردود جہاں ڈاکٹرائن پر عمل کرتے ہوئے جنگ کے آغاز ہی میں تاک تاک کر ہلاک کر دیا تھا

۔اور اب ڈونلڈ ٹرمپ اسی مایوس اور شکست خوردہ منہ کے ساتھ چین کے متحمل مزاج ،سنجیدہ ، کم گو اور زیرک لیڈروں کے سامنے پیش ہو رہا ہے۔

میں نہیں جانتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کون سا پرفیوم یا کس عرب شیخ کا عطیہ کردہ عطر استعمال کرتا ہے ۔ہاں یہ اندازہ ضرور ہے کہ،اس کے اپنے لباس سے میراب کے اسکول میں امریکی میزائل حملوں میں جان گنوانے والی ننھی طالبات کے لہو کی مہک ضرور آ رہی ہو گی۔

دھلی اور کابل میں کوی فرق نہیں خواجہ اصف۔۔۔جو دھلی کے ساتھ کیا وھی کابل کے خلاف ایکشن ھو گا وزیر دفاع۔۔وزارت مذہبی امور کی کرپشن حجاج کرام رل گئے وزیراعظم نے خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق وزیر اور سیکرٹری کو طلب کر کے جھاڑ پوش کی۔۔فلائی دبئی کا لاہور، اسلام آباد اور پشاور کیلئے فلائٹ آپریشن اکتوبر 2026 تک معطل کرنے کا فیصلہ۔۔ وفاقی حکومت کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

400 ارکان پارلیمنٹ کی زندگیوں کو خطرہ۔۔ملک ریاض گرفتار ؟؟؟؟ پاکستان لانے کے لیے۔۔آخری مراحل۔۔امریکی صدر چین میں 3 بڑے فیصلے اج۔۔ناصر بٹ بمقابلہ حنیف عباسی ۔تابڑ توڑ حملے۔۔ملک بھر میں مھنگای نے عوام سے 2 وقت کی روٹی چھین لی پاکستان دنیا کا مہنگا ترین ملک بن گیا۔بجلی کا یونٹ 150 روپے کا پٹرول 450 روپے کی طرف گامزن لوٹ مار میں 8 وزراء نے عالمی ریکارڈ قائم کر دئیے۔۔اھم ادارے نے 100 بیورو کریٹ کے 10 ھزار ارب روپے کے اثاثے اور 8 وزراء کے 72 ھزار ارب روپے کے اثاثے محفوظ ہاتھوں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں اگر میرے تیز رفتار گیند کا ریکارڈ کوئی توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہےتو وہ صرف بنگلہ دیش کے ناہید رانا ہے اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو مجھے بہت خوشی ہوگی کہ میرے بھائی نے میرا ریکارڈ توڑ دیا ہے کیونکہ وہ ہر اوور میں تین گیندیں 150پلس اسپیڈ سے کروارہا ہے اور میرا اندازہ ہے کہ اس کے پاس 160 اسپیڈ موجود ہےاس کے علاوہ موجودہ دور کے گیند بازوں میں مجھے اتنا دم نظر نہیں آرہا ہے کہ وہ میرے ریکارڈ کے قریب بھی پہنچ سکے#PAKvsBAN

سید ضمیر جعفری ،چند یادیں ====================شاہد اقبال کامران ==================مئی کا مہینہ سید ضمیر جعفری کی یادوں سے معمور مہینہ ہے ۔اس مہینے کے وسط میں چک عبدالخالق کا فرزند اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہو گیا تھا۔سید ضمیر جعفری نے جدوجہد ، محنت ، کمال فن ، اعتراف عظمت اور تکریم اجتماعی سے بھرپور زندگی گزاری۔ اب تو وہ اللہ میاں کے پاس ہیں۔جہاں نہ مکان کا کرایہ دینا پڑتا ہے ،نہ بجلی ،گیس اور پانی کے بل ادا کرنے پڑتے ہیں ۔یقینا اللہ میاں کے ہاں رہنے سہنے کا بہت اچھا انتظام ہوتا ہو گا۔مولوی تو نہیں بتاتا مگر میرا خیال ہے کہ وہاں مطالعہ کرنے کے لیے بہت بڑا کتب خانہ اور لکھنے کا سامان اور سہولیات بھی دستیاب ہوتی ہوں گی۔ لیکن تب وہ سیکٹر جی نائن ون کی گلی نمبر 33 کے مکان نمبر 23 میں رہتے تھے۔مکان کے باہر یعنی گیٹ کے ستون پر جلی حروف میں “کاشانہ بلبل” لکھا ہوا تھا .یہ مکان برطانیہ میں مقیم معروف شاعر بلبل کاشمیری کا تھا،اور سید ضمیر جعفری اس میں رہتے تھے۔ایک بار مجھے رخصت کرنے اپنے مکان کے گیٹ تک آئے،اور دیر تک کھڑے باتیں کرتے رہے ،پھر اچانک کاشانہ بلبل پر نظر پڑی،پہلے مسکرائے ،پھر کھلکھلا کر ہنس پڑے اور زوردار ہنسی کے ساتھ ہلتے ہوئے کہنے لگے دیکھو یہ دیکھو کاشانہ بلبل میں ہاتھی رہتا ہے ۔سید ضمیر جعفری سے میری پہلی ملاقات اور تعارف بھی اسی سیکٹر جی نائن ون میں ہوا تھا۔ میں ان دنوں علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اقبالیات میں لیکچرار تھا، اور اسی سیکٹر میں رہائش پذیر تھا ۔۔سید ضمیر جعفری ان دنوں سیکٹر جی نائن ون میں رہائش پذیر تھے، اور میرے ہمسائے تھے ، وہ ہر روز ، علی الصبح پھولدار گاؤن پہن کر گھر کے سامنے سڑک پر واک کیا کرتے تھے ۔میں صبح ساڑھے سات پونے آٹھ بجے یونیورسٹی جانے کے لیے گھر سے نکلتا تھا سڑک کے کونے پر یونیورسٹی کی کوسٹر آیا کرتی تھی ۔بس اسی سڑک پر پہلی بار سید ضمیر جعفری صاحب سے ملتے جلتے ایک حضرت محو خرام نظر آئے ،گمان گزرا کہ کہیں دیکھے ہوئے ہیں، کوئی معروف شخصیت ہیں ؟ کون ہیں؟

اگلی صبح جب واک کرتے ہوئے پاس سے گزرے تو میں نے سلام کر کے پوچھا کہ حضور کہیں آپ سید ضمیر جعفری صاحب تو نہیں؟ حیران ہوئے، پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہنسنے لگے ، آپ نے پہچاننے میں دو دن لگا دیئے ،ہاہاہاہا۔پھر میں نے اپنا تعارف کرایا۔کہنے لگے یہ صبح صبح کہاں جاتے ہو؟ کہا کہ یونیورسٹی جاتا ہوں ۔مگر یونیورسٹی تو کئی روز سے بند پڑی ہے (ان کا اشارا قاید اعظم یونیورسٹی کی طرف تھا جو ان دنوں بھی کسی قضییے کی وجہ سے بند تھی۔) میں نے وضاحت کی کہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں جو ہر حالت میں اوپن رہتی ہے۔سید ضمیر جعفری اکادمی ادبیات پاکستان کے ساتھ وابستہ تھے ۔ان دنوں اکادمی ادبیات پاکستان کا دفتر سیکٹر ایف ایٹ فور کے اسکول روڈ پر، مکان نمبر 35 میں ہوا کرتا تھا۔مکان اتنا بڑا ضرور تھا کہ اس میں ایک نوزائیدہ ادارے کے دفاتر جملہ اہل کاروں سمیت سما سکیں۔ہماری یونیورسٹی البتہ اس وقت بھی سیکٹر ایچ ایٹ میں ہوا کرتی تھی۔ان دنوں یونیورسٹی صرف چار بلاکس پر مشتمل تھی اور ہمارا شعبہ دوسرے بلاک کی پہلی منزل پر ہوتا تھا۔سید ضمیر جعفری ڈائری بڑے اہتمام سے لکھتے تھے۔کبھی تھوڑا ،کبھی زیادہ لیکن ہر روز لکھتے ضرور تھے۔اشعار لکھنے کے لیے بڑے سائز کے رجسٹر اپنے پاس رکھتے،گتے کی جلد والے رجسٹر میں نیلے یا کالے رنگ کے باریک چونچ والے مارکر سے لکھتے۔ لکھتے ذرا جلی حروف میں تھے ،اس طرح لکھنے اور پڑھنے دونوں میں آسانی رہتی تھی۔ایک بار میں ان کے کاشانہ بلبل والے گھر کے ڈراینگ روم میں بیٹھا تھا۔حضرت حکومت وقت کے چال چلن سے خوش نہیں تھے۔اور اسی حوالے سے گفتگو بھی ہو رہی تھی ۔ڈراینگ روم کا گھر کے اندر کی طرف کھلنے والا دروازہ پورا کھلا ہوا تھا۔اچانک ایک بزرگ خاتون سامنے آئیں اور ضمیر جعفری صاحب سے کچھ بات کی ۔یہ اٹھ کر بات سننے کے لیے اندر چلے گئے اور وہیں کھڑے کھڑے باتیں کر کے واپس آگئے ۔میں نے پوچھا خیریت؟”ہاں خیریت””آپ کی بیگم ہیں؟””ہاں ہیں تو ، پر اس عمر میں بیگم بہن بن جاتی ہے۔””کچھ ناراض لگتی ہیں””او ہاں، اور کیا ہوں گی اب۔۔۔ناراض ہی ہوں گی۔۔۔بس کیا ہے، آسیب کی طرح پھرتی رہتی ہیں گھر میں ،اور میں بھی بھوت بن کر یہاں بیٹھا رہتا ہوں “ہم ہنس پڑے۔ضمیر جعفری یک دم سنجیدہ ہو گئے ” اس عمر کی رفاقت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ میاں بیوی جوانی میں تو شاید ایک دوسرے کے بغیر رہ سکتے ہوں،بڑھاپے میں ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتے” پھر تھوڑا توقف کر کے بولے ” اس عمر میں دونوں کو ایک دوسرے کی بڑی ضرورت ہوتی ہے ” پھر بات بدلنے کے لیے پوچھنے لگے “تم سناؤ تمہاری بیگم کیسی ہیں؟ میں نے جواب دیا۔

” وہی ہیں” خوب ہنسے اور کہنے لگے “اچھا اچھا ،بس اسی سے گزارا کرو”اوطاق ہماری یونیورسٹی کا ایک ادبی فورم تھا۔بڑی دھوم دھام سے شروع کیا گیا یہ فورم واقعتاً اسلام آباد کی نیم خوابیدہ زندگی میں ایک ہلچل کی طرح سے تھا۔ایک روز وائس چانسلر ڈاکٹر جی اے الانا کہنے لگے کہ بھئی کسی بہت بڑی ادبی شخصیت کے ساتھ پروگرام کرو۔سید ضمیر جعفری تب میرے ہمسائے تھے، شخصیت ان کی معروف بھی تھی اور واقعتاً بہت بڑی بھی ،ان کا نام تجویز ہوا ،منظور ہوا ، ان سے درخواست کی گئی وہ از راہ کرم مان گئے۔پروگرام بن گیا ،کارڈ چھپ گئے ۔پورے شہر میں “ضمیر جعفری اوطاق میں ” عنوان کی اس تقریب کی دھوم تھی۔ اس سے پہلے اوطاق کے پروگرام یونیورسٹی کے کمیٹی روم،یا ایف سیون میں واقع یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس کے ہال میں ہوتے تھے ۔پہلی بار ہم نے یہ تقریب یونیورسٹی آڈیٹوریم میں رکھی ۔جعفری صاحب کے لیے یہ معمول کی بات تھی ،لیکن میں بڑا پرجوش تھا۔تقریبا ہر روز ان سے یوم ضمیر جعفری کے بارےمیں گفتگو ہوتی۔اس تقریب کے انعقاد میں صرف دو روز باقی تھے کہ اس وقت یونیورسٹی کی رجسٹرار محترمہ مسز مظفری قریشی وفات پا گئیں،اور تقریب التوا کا شکار ہو گئی۔راولپنڈی اسلام آباد سے سید ضمیر جعفری کا رشتہ بڑا گہرا تھا۔لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اسلام آباد شہر کے ابتدائی ‘آباد کاروں ‘میں شامل باکمال شاعر کے نام پر اس شہر کی کوئی ایک سڑک بھی منسوب نہیں کی گئی ۔نام لینا مناسب نہیں ،لیکن اس شہر میں بڑی بڑی سڑکیں بعض ایسے ادباء و شعراء کے نام سے منسوب کی گئی ہیں ،جن کا کوئی معقول جواز نظر نہیں آتا ۔بس اگر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خفتہ دماغ پیشہ ور ماہرین کے مخمور ذہن میں آج تک کوئی نام نہیں آیا تو وہ اردو کے نامور مزاح نگار، کالم نگار اور ترانہ نویس سید ضمیر جعفری کا نام ہے ۔اب بھی وقت ہے کہ سیکٹر جی نائن ون کے کسی بڑے راستے کو سید ضمیر جعفری روڈ بنا دیا جائے۔ سید ضمیر جعفری مہربان طبیعت اور صاف نیت کے سیر چشم دانشور تھے۔کسی کی بھی مدد کرنے کے لیے ہمہ وقت آمادہ و تیار رہتے تھے۔ایک بار میں نے عصر حاضر کے بزعم خود ایک بڑے شاعر کو ان کے ڈرائینگ روم میں اپنی غیر واضح شباہت سمیت اپنے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلے کے لیے درخواست اور اصرار کرتے دیکھا تھا۔وہ کاریگر ضمیر جعفری صاحب سے مطلوبہ سفارشی فون کروا کر ہی رخصت ہوا تھا۔ سید ضمیر جعفری اردو مزاح نگاری کے واقعتاً سالار تھے، اسلام آباد میں ادب و صحافت اور تہذیب و ثقافت کے جبل جبار مرزا کے بقول سید ضمیر جعفری اردو مزاح نگاری کے کمانڈر ان چیف تھے ۔ان کے جانے کے بعد اردو مزاح نگاری میں کوئی کمانڈر تو سامنے نہ آ سکا البتہ خالی میدان کو لانس نائیک ، سپاہی ، اردلی اور چند ڈرائیور سطح کے لوگوں نے پر کرنے کی کوشش کی ، یہ جوکر نما مزاحیہ تک بندی سے اپنا سکہ جماتے اور چلاتے رہے۔وہ جو قادر الکلامی سید ضمیر جعفری کے ہاں نظر آتی ہے ،اس کے عوض بےترتیب مزاحیہ تک بند مشاعروں پر قابض اور ادبی اداروں پر متصرف ہو گئے۔یہ سارا کباڑ خانہ کہاں سے سامنے آگیا؟ سچ ہی ہے کہ اگر جنگل سے شیر کہیں اور چلا جائے ،تو لگڑبگر، گیدڑ، لومڑ،لدھڑ اور انواع و اقسام کے کتورے ادھر اودھر چلنے پھرنے اور بھونکنے ،ڈکرانے لگ جاتے ہیں۔شیر کی موجودگی میں یہ ایسے چھپے رہتے تھے ،جیسے جنگل کی آبادی کا حصہ ہی نہ ہوں۔سید ضمیر جعفری کے جاتے ہی بیشہ مزاح نگاری اور شگفتہ گوئی کا معیار ، مقدار اور چلن بالکل بدل گیا۔وہ چک عبدالخالق سے گوجرانولہ چھاؤنی اور پھر وہاں سے سیدھے امریکہ چلے گئے۔اسلام آباد میں طوطے تو نہیں پائے جاتے ،لیکن اس شہر کی طوطا چشمی کمال کی ہے ۔ سید ضمیر جعفری سے ملاقات کے منتظر اور سفارشی ٹیلیفون کرانے پر مصر منظر سے ایسے غائب ہوئے کہ جیسے وہ تھے ہی نہیں ۔جب تک ان کے فرزند اعلی عسکری ذمہ داریوں پر فائز رہے، شہر کے ادبی اداروں میں گاہے ان کا ذکر ، ان کی یاد کا محل بنا لیا جاتا تھا۔ بعد میں یہ تکلف بھی جاتا رہا۔ سید ضمیر جعفری کی غزل گوئی پر وہ توجہ نہیں دی گئی ،جس کی وہ مستحق تھی۔شاید ان کی مزاحیہ شاعری سے پھوٹنے والے قہقہوں میں غزل کی آواز دب گئی ہو ،لیکن سید ضمیر جعفری کا یہ المیہ رہا کہ ان کے مداح اور قارئین مزاح کی تہہ میں چھپے الم کو دیکھنے پہچاننے سے بھی غافل رہے۔سید ضمیر جعفری سادات کے اسلوب حیات والے تحمل ، درگزر اور صبر کی دولت سے مالامال تھے۔گلہ نہیں کرتے تھے ۔بھلے بڑھاپے کے ریشمی غلاف میں چھپی آنکھ کا کونہ نم ہی کیوں نہ ہو جائے، آنسو تو ہنستے ہنستے بھی نکل آتے ہیں۔======================

“بحريہ ٹاؤن ، نيب کا ملک رياض کے گرد گھيرا تنگ “نیب کراچی نے اپنی حالیہ کارروائی میں بحریہ ٹاؤن کراچی کو بڑا دھچکا دے دیا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف جاری اقدامات کے سلسلے میں، نیب نے ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کے لیے تعمیر کی گئی ایک بڑی حویلی منجمد کر دی ہے، جو ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر “علی ولا” کے طور پر بحریہ ہلز، بحریہ ٹاؤن کراچی میں واقع ہے اور 67 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔علی ولا بحریہ ٹاؤن کراچی کے پہاڑی علاقے میں تعمیر کی گئی ہے اور اس میں جدید ترین سہولیات موجود ہیں، جن میں ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر، سوئمنگ پولز وغیرہ شامل ہیں۔مزید برآں، دو نئی انکوائریوں میں نیب نے 1338 ایکڑ اراضی بھی منجمد کر دی ہے جس پر الزام ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس زمین پر بحریہ گرینز اور مختلف پریسنکٹس 33، 34، 38 تا 40، 42 اور 61 وغیرہ تعمیر کیے جانے تھے، جبکہ یہ اراضی حکومتِ سندھ کی ملکیت ہے۔اسی طرح، نیب نے بحریہ ٹاؤن 2 کی مکمل 3150 ایکڑ زمین بھی منجمد کر دی ہے، جسے مبینہ طور پر M/s Paradise Real Estate (Pvt) Limited نے دھوکہ دہی کے ذریعے خریدا تھا۔ یہ حکم ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے ایک علیحدہ آرڈر کے ذریعے جاری کیا گیا۔بحریہ ٹاؤن 2 بھی دوبارہ محکمہ جنگلات کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔مذکورہ منجمدی احکامات میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو کسی تیسرے فریق کو حقوق منتقل کرنے سے روکیں۔نیب پہلے ہی احتساب عدالت کراچی میں ریفرنس نمبر 1/2025 دائر کر چکا ہے، جس میں ضلع ملیر کی 17,672 ایکڑ سرکاری زمین کی غیر قانونی اور ناجائز تبدیلی و خردبرد کے الزامات شامل ہیں، جس کی مالیت 708 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ الزام ہے کہ یہ سب حکومتِ سندھ کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہوا، اور اسی زمین پر ایم-9 موٹروے کے قریب بحریہ ٹاؤن کراچی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا

وکی لیکس کے بعد پیش خدمت ہے ‘ پنکی لیکس ‘انمول عرف پنکی، عرف کوکین کوئین، عرف ” جو کرنا ہے کر لو” روحِ منیر سے معزرت کے ساتھ ” اک اور پنکی کا سامنا تھا منیر مجھ کو” عدالت میں پیشی کے لئیے پولیس پنکی کو پورے غیر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ لائی۔ ٹراؤزر اور بیگی شرٹ میں ملبوس پنکی کو دیکھ کر ٹی وی سکرینیں ‘جگمگا اٹھیں’ آج کا دن تو پنکی پنکی!

————————————وزیراعظم شہباز شریف کی لباس فروشی————————————-مجھے کہنے دیجئے کہ خیبرپختونخوا میں جلسہ عام کے دوران سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے اپنے کپڑے تک بیچنے کی پیش کش نے مخلوط حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف کی ذہنی صحت اور سیاسی حکمت عملی پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ سنا تھا کہ شہبازشریف کی بڑی محنت اور توجہ سے تربیت کی گئی ہے اور کوشش کر کے ان کی شخصیت سے گوالمنڈی اسٹائل کی جگہ “نیویارک اسٹائل” انسٹال کیا گیا ہے۔انہیں پاکستان جیسے گرم ملک میں پینٹ کوٹ ٹائی اور ساتھ سولر ہیٹ پہنا کر پبلک کے سامنے پیش کیا گیا تھا ، ستم ظریف کہتا ہے کہ جب پہلی بار شہبازشریف کو اتنا تیار شیار دیکھا ، تو اس ننھے بچے کا تاثر ابھرا تھا جسے اس کی امی جان کسی کے ہاں مہمان لے جانے کے لیے تیار کرتی ہیں ۔شہباز شریف بھی اپنے گھرانے کے دیگر افراد کی طرح گانے کے شوقین ہیں اور راگ کا پختہ ذوق رکھتے ہیں ۔ایک چیز جو انہیں نواز شریف سے ممتاز کرتی ہے وہ اداکاری کی صلاحیت اور شوق ہے ۔ نوجوانی میں اداکاری کا شوق تو خیر نواز شریف کو بھی تھا، اور اس کے لیے نواز شریف نے اپنے عہد کے نامور اداکار،گلوکار اور فلمساز و ہدایت رنگیلا کا دل نرم کرنے کی بڑی کوشش کی تھی ۔ وہ آنکھوں میں خواب سجائے اداکار رنگیلا کی محفل میں بیٹھے رہتے تھے ،لیکن بالآخر رنگیلا نے کہہ دیا کہ یہ نوجوان کبھی بھی اچھا اداکار نہیں بن سکتا۔حالانکہ نوجوان نواز شریف نے شاگردوں والی خدمت گزاری میں بھی کوئی کمی نہیں کی تھی

۔لیکن بطور فنکار رنگیلا نے ایک پیشہ وارانہ رائے پیش کی۔پھر پاکستانیوں نے دیکھ بھی لیا کہ سیاست میں آنے کے بعد ایک دھیمے مزاج کے تابع فرمان سیاستدان کے طور پر نواز شریف وزرات اعظمی کے منصب تک پہنچ گیے لیکن برا ہو اس کا جس نے میاں کو سچ مچ کا شیر ہونے کا یقین دلا دیا۔انہیں بہادری کی اداکاری اس قدر مہنگی پڑی کہ آج تک اس کی قیمت پوری نہیں کر پا رہے۔لیکن اداکاری کے حوالے سے شہباز شریف کے تجربات مختلف ہیں ۔وہ ایک مقبول عوامی راہنما بننے کی اداکاری کرتے رہتے ہیں ۔لیکن جب وہ بہت زیادہ بیماریوں کا دعوے دار ہونے کے باوجود کارکنوں کے ہجوم میں تیز تیز چلتے نظر آتے ہیں ،تو حیرت ہوتی ہے ۔انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔عربی کے چند جملوں پر بھی ہاتھ صاف کیا ہوا ہے ۔اب ممکن نہیں کہ چینی زبان ان سے بچ پائے ۔پر یہ سارا کچھ برائے علم یا بوجہ قابلیت نہیں ، برائے ڈرامہ اور ٹہکا کیا جاتا ہے ۔اسی لیے تاثیر سے خالی رہتا ہے۔حبیب جالب کے اشعار شہبازشریف کو بڑے مرغوب ہیں ، لیکن جس طبقے سے حبیب جالب کا تعلق تھا ،اس سے انہیں کوئی نسبت نہیں۔ بھٹو خاندان کا سحر نفسیاتی طور پر اس گھرانے کے افراد پر طاری رہتا ہے ۔شہباز شریف ایک شعلہ بیان بلکہ آتش گیر مقرر بننے کا شوق رکھتے ہیں ۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ایک تقریر کی کاپی کرتے ہوئے وہ سامنے لگے مائیکرو فون کو شدت جذبات کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ہاتھ مار کر گرانے کا مظاہرہ بھی کر چکے ہیں ۔وہ انگشت نمائی بہت کرتے ہیں ۔اور یہ بری عادت ان کے سیاست کے لیے وقف فرزند حمزہ شہباز میں بھی آئی ہے۔ حمزہ شہباز تو خیر اپنی انگلی کو سیدھا کرتے کرتے ٹیڑھی بھی کر لیتے ہیں۔شہبازشریف کو ماڈرن سیاستدان بنانے پر مامور ٹرینرز کو ان کی انگلی گھمانے کی عادت کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے تھی ،لیکن شائد ان کی انگشت نمائیوں پر قابو پانا کسی کے لیے بھی ممکن نظر نہیں آتا۔شہبازشریف نے اپنی کام کرنے کی رفتار کو بڑھا چڑھا کر دکھایا اور بیان کیا ہے ، لیکن وزیر اعظم بننے کے چند ہی روز بعد ان کا سانس پھولنے لگا ہے ۔اب وزیراعظم کے پاس ملک بھر میں ہونے والے تمام تر حرکات و سکنات کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹس آتی رہتی ہیں۔ پاکستان سے گندم ، آٹا گوشت کے لیے جانور اور ادویات بہت ہی بڑی مقدار میں افغانستان میں سمگل کی جارہی ہیں ۔ان تمام اشیاء کی بین الاقوامی تجارت کو احاطہ قانون کے اندر لانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوا کرتی ہے ۔پاکستان کے افغانستان بارڈر پر تجارت کم اور اسمگلنگ زیادہ رائج ہے۔اس پر قابو پانا ریاست کے لیے فایدہ مند ،جبکہ ریاستی اہلکاروں کے لیے عموماً نقصان کا باعث ہوتا ہے ۔پاکستان دنیا کا شائد واحد ملک ہے جہاں حکومت مفلس اور حکومتی اہلکار اور برسر اقتدار سیاستدان اور ادارے دولت مند ہیں۔عوام کے لیے اس مبارک ریاست میں صرف دو انتخاب ہیں ، یا تو وہ بھی کسی فارمولے کے تحت مفلس نہ رہیں اور خط غربت کو قطع کر کےاستحصالی نظام کا حصہ بن جائیں۔جو ایسا کر سکیں ،انہیں نو دولتیے کہتے ہیں ۔اور پاکستان میں یہ طبقہ کثرت سے پایا جاتا ہے ۔دوسرا انتخاب بدستور مفلس و بےنوا رہتے ہوئے آخرت کے انعامات میں اپنے حصے کا انتظار کرتے رہنا ہے ۔یہ تصور بغاوت کو روکتا اور پسے ہوئے طبقات کو نفسیاتی سہارا دیتا ہے ۔بہرحال میں اس حیرت کی بات کر رہا تھا ،جو شہبازشریف کی طرف سے سستے آٹے کی فراہمی کے لیے اپنے کپڑے بیچنے کی پیش کش سے ہوئی تھی ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے لیے سستا آٹا وہ کپڑے اتارنے اور اتارنے کے بعد فروخت کیئے بغیر بھی صرف افغانستان کی طرف اسمگلنگ کو روک کر فراہم کر سکتے ہیں۔

لیکن اپنی تقریر سننے والے لوگوں کو اپنی بات اور اپنی کوشش کا یقین دلانے کے لیے اپنے تن کے کپڑے بیچنے کا آئیڈیا ان کو زیادہ مناسب معلوم ہوا۔ ،ستم ظریف کہتا ہے کہ وزیراعظم نے یہ بات ذہن کو زحمت دئیے بغیر ہی محض جوش جذبات میں کہہ دی تھی ۔ورنہ وہ اپنے زیب تن لباس کی قیمت سے اچھی طرح سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کے لیے ایسا کہنا بہت آسان اور ایسا کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔اپنے اس جلسے میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی علم و فضل کی دھاک بٹھانے کے لیے برصغیر کی تاریخ سے 1857ء کی جنگ آزادی کا انتخاب کیا۔ابھی تک محقیقن اس جلسے کی 1857ء کے واقعات سے مناسبت کا کوئی سراغ نہیں لگا پائے ، مزید ستم شہبازشریف نے یہ کیا کہ زمانی بعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے علامہ اقبال سے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں شاعری منسوب کر دی۔شہباز شریف دیگر شرفاء کی طرح اچھے خاصے سیانے ہیں ۔انہیں علم ہے کہ اقبال خود تو اس دعوے کی تردید نہیں کریں گے ،اور ان کے اطراف جو بے بدل علماء کا ہجوم ہے وہ انہیں جس طرح کی تاریخ اور جیسا ادب پڑھا یا بتا رہے ہیں ،اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔اپنی مختصر وزارت اعظمی کے دوران شہباز شریف کو سب سے زیادہ پرہیز بولنے اور زیادہ بولنے سے کرنا پڑے گا ۔ زیادہ بولنے والے باعمل نہیں ہوتے ۔پھر کثرت گفتار سے غلطیاں بھی زیادہ ہو جاتی ہیں۔ وہ جنہیں ستم ظریف چولیں مارنا کہتے ہیں۔کم گفتاری انسان کا پردہ رکھ لیتی ہے۔اور یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ 1877 ء میں پیدا ہونے والے عظیم شاعر اور رہبر علامہ اقبال نے اپنی ولادت سے بیس برس قبل شاعری کیسے کی ہوگی؟ شہباز شریف لاہورکے تمام تر سابق و موجود اقبال شناسوں کا سارا زور استعمال کر کے بھی سوائے شرمندگی کے کچھ اور حاصل نہیں کر سکتے ۔بس خود کو دنیا و آخرت کے جملہ علوم کے ماہر سمجھ لینے کا یہی بڑا نقصان ہوتا ہے ۔اگر اقلیم سیاست اور امور ریاست میں سے ڈرامے، ڈائیلاگ، گانے اور مزید حماقتوں کے عناصر خارج کر دیئے جائیں تو پھر قوی امکان ہے کہ نہ موجودہ رہیں گے اور نہ سابق ۔پر کیا کریں تھیٹر میں یہی کچھ مقبول ہے ۔ہمارے کہانی لکھنے والے وہی ، ہدایت کار وہی ، ذہن اور تصور ابھی تک آواز کے بغیر بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔کردار نقلی پستول سے فائر کر کے منہ سے فائرنگ کی آواز نکالتے ہیں ۔اسی لیے سبھی کی آواز بیٹھی ہوئی ہے ۔اور یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔اب ایسے میں عامتہ الناس کیا کرے ؟پاکستان کے حالات تحریر و تقریر اور تقدیر و تدبیر سے سدھرنے والے نہیں۔یہاں بغاوت درکار ہے ، بالا طبقات کے لات منات اور ہبل مسمار کئیے بغیر پشت پر درے کھانے والوں کا نصیب نہیں بدلے گا۔————————-

کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کا پولیس کا کھلا چیلنجمجھے پکڑنے کیلئے پتہ نہیں کہاں کہاں سے لوگ آجاتے ہیں، گرفتارہونے والی شرافیہ کی اولاد پنکی کی آڈیولیک۔۔۔۔۔۔۔👑 کوکین مافیا کی بادشاہ 👑کراچی سے گرفتار مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو منظر کچھ اور ہی تھا۔نہ ہاتھوں میں ہتھکڑی، نہ چہرے پر خوف، بلکہ وہ آگے آگے چلتی رہی اور تفتیشی افسر پیچھے پیچھے راستہ دکھاتا رہا۔پولیس نے 14 روزہ ریمانڈ مانگا، مگر حاصل نہ کر سکی، اور عدالت نے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔یہ ہے ہمارے نظامِ انصاف کی وہ تصویر جہاں عام آدمی معمولی الزام پر ذلیل ہوتا ہے، مگر شرافیہ کی اولادیں پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی ہیں۔جج بھی سوچتا ہوگا کہ آخر ان طاقتور لوگوں کو کون ہاتھ لگا سکتا ہے؟کہا جا رہا ہے کہ یہی وہ “پنکی” ہے جسے کوکین نیٹ ورک کی ماسٹر مائنڈ کہا جا رہا ہے، جس نے نوجوان نسل کو سفید زہر کی دلدل میں دھکیلنے میں کردار ادا کیا۔مگر طاقت، دولت اور تعلقات کے سامنے قانون بھی بے بس دکھائی دیتا ہے۔

رائٹرز نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے دوران سعودی عرب نے بھی ایران پر حملے کیے تھے۔پیر کو وال اسٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر حملےکیے تھے۔اب تک ان دونوں ملکوں کے ایران پر حملوں کے بارے میں تفصیلات نہیں آئی تھیں۔ لیکن ان رپورٹس سے اندازہ ہورہا ہے کہ پس پردہ کافی کچھ ہوا ہے۔رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے حملہ کیا لیکن ریاض میں ایرانی سفیر کے ذریعے ایران سے سفارتی رابطہ بھی کیا تاکہ بات زیادہ نہ بگڑے۔

ارکان پارلیمنٹ پریشان حکومتی وزراء پر انجانے کا خوف چھمگوئیاں اپوزیشن کے ارکان خوش۔ عید قربان سے پھلے قربانی سیٹی بج گئی۔قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس پارلیمنٹرین حواس باختہ جمھوریت کی سانسیں اکھڑنے لگی۔۔11 سے 18 مئی تک انٹرنیٹ کی رفتار پر مرگی کے دورے حکومت سھولت کار۔۔وزیر اعطم اور صدر کون فیصلہ ھو گیا۔۔۔پٹواریوں نے مطالبات پورے نہ ہونے پر قلم چھوڑ ہرتال کا اعلان کردیا۔۔میرا کتا ٹومی تمھارا کتا کتا پاکستانی تاریخ کی گھٹیا حکومت۔۔ پاکستان تاریخ میں صدر کی موجودگی میں صدارتی ھاوس سے پاکستانی پرچم اتار دئیے گئے۔۔ایک طرف زرداری کی استعفے کی بازگشت اور دوسری طرف صدر مملکت کی موجودگی میں پرچم اتارنا سازش نھی تو کیا ھے۔۔وزیر اعطم سپیکر وزیر داخلہ کی صدارتی ھاوس امد رپورٹ سھیل رانا۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

Jehangir Karamat پاکستان آرمی کے ایک ریٹائرڈ چار ستارہ جنرل، سفارت کار اور عسکری دانشور ہیں جنہوں نے فوجی، تعلیمی اور سفارتی شعبوں میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ پاکستان آرمی کے سربراہ (Chief of Army Staff) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی دونوں عہدوں پر فائز رہے۔ ان کا دورِ خدمت پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے ایک اہم مرحلے سے متعلق ہے، جب ملک میں سول و عسکری تعلقات، جوہری پالیسی اور خطے کی سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی۔ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرJehangir Karamat 20 فروری 1941ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک فوجی خاندان سے تھا۔ ان کے والد بھی برطانوی ہندوستانی فوج اور بعد ازاں پاکستان آرمی سے وابستہ رہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مختلف فوجی اور تعلیمی اداروں میں ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی۔فوجی کیریئر کا آغازوہ 1961ء میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کر کے Frontier Force Regiment میں شامل ہوئے۔ ابتدائی دور میں انہوں نے مختلف کمانڈ اور اسٹاف ذمہ داریاں انجام دیں۔انہوں نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کے زمانے میں بھی فوجی خدمات انجام دیں، اگرچہ ان جنگوں میں ان کے کردار کی تفصیلات محدود عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

عسکری تعلیم اور اسٹاف ذمہ داریاں جہانگیر کرامت نے پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک عسکری اداروں سے بھی تربیت حاصل کی۔ وہ National Defence University اور دیگر عسکری تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے۔انہوں نے مختلف ادوار میں:بریگیڈ کمانڈڈویژن کمانڈکور ہیڈکوارٹر اسٹافجنرل ہیڈکوارٹر (GHQ) میں اہم عہدےتدریسی اور پالیسی نوعیت کی ذمہ داریاںسرانجام دیں۔وہ نیشنل ڈیفنس کالج (بعد ازاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی) میں بطور استاد اور بعد میں پالیسی امور سے متعلق عہدوں پر بھی کام کرتے رہے۔ ان کی دلچسپی عسکری حکمتِ عملی، قومی سلامتی اور سول-ملٹری تعلقات کے موضوعات میں سمجھی جاتی تھی۔چیف آف آرمی اسٹاف1996ء میں Farooq Leghari نے انہیں پاکستان آرمی کا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا۔ انہوں نے Abdul Waheed Kakar کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا۔بطور آرمی چیف ان کا دور کئی اہم قومی اور علاقائی واقعات سے وابستہ رہا:افغانستان میں طالبان کے عروج کا زمانہبھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقاتپاکستان کے جوہری پروگرام کے گرد بڑھتا عالمی دباؤاندرونی سیاسی عدم استحکامسول حکومت اور فوج کے تعلقات میں تناؤچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی1997ء میں وہ Joint Chiefs of Staff Committee کے چیئرمین بھی بنے۔ اس طرح وہ بیک وقت پاکستان کے دو اہم ترین عسکری عہدوں پر فائز رہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطے اور مشترکہ عسکری پالیسی سے متعلق ہوتا ہے، اگرچہ عملی طاقت روایتی طور پر آرمی چیف کے پاس زیادہ سمجھی جاتی رہی ہے۔سول حکومت سے اختلافات اور استعفیٰ1998ء میں ان کا نام خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوا

جب ان کے بعض عوامی بیانات اور پالیسی خیالات کو سول حکومت نے حساس تصور کیا۔ایک لیکچر کے دوران انہوں نے قومی سلامتی کے ڈھانچے اور ادارہ جاتی مشاورت کے حوالے سے گفتگو کی، جسے اُس وقت کی حکومت نے سیاسی مداخلت سے تعبیر کیا۔اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم Nawaz Sharif تھے۔ حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کے بعد جہانگیر کرامت نے اکتوبر 1998ء میں استعفیٰ دے دیا۔یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا کیونکہ ایک حاضر سروس آرمی چیف نے دباؤ کے ماحول میں عہدہ چھوڑا۔ان کے بعد Pervez Musharraf پاکستان آرمی کے سربراہ مقرر ہوئے۔بعد از ریٹائرمنٹ کردارریٹائرمنٹ کے بعد جہانگیر کرامت نے سفارتی اور فکری میدان میں سرگرمیاں جاری رکھیں۔انہیں United States میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے 2004ء سے 2006ء تک خدمات انجام دیں۔ یہ دور 9/11 کے بعد پاکستان-امریکہ تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے مختلف تعلیمی، پالیسی اور تھنک ٹینک فورمز پر بھی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور سول-ملٹری تعلقات پر اظہارِ خیال کیا۔عسکری اور سیاسی تناظر میں اہمیتجہانگیر کرامت کا دور پاکستان کی تاریخ میں اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ:یہ ایٹمی دھماکوں سے قبل اور بعد کے حساس دور سے جڑا تھا۔سول اور عسکری قیادت کے تعلقات میں تناؤ نمایاں تھا۔

ان کے استعفے نے بعد کی سیاسی و عسکری تبدیلیوں کے لیے ایک نئی صورتحال پیدا کی۔ان کے بعد آنے والے دور میں پاکستان میں فوجی مداخلت اور اقتدار کی سیاست نے نیا رخ اختیار کیا۔نتیجہJehangir Karamat کی زندگی پاکستان کے عسکری اداروں، ریاستی پالیسی سازی، سفارت کاری اور سول-ملٹری تعلقات کے کئی اہم مراحل سے وابستہ رہی۔ انہوں نے فوجی کمان، تدریسی خدمات، دفاعی پالیسی اور سفارت کاری میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں، اور ان کا نام خاص طور پر 1998ء کے سیاسی و عسکری تناظر میں پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔

پٹرول کتنا مہنگا ہے اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عقل کتنی سستی ہے۔چاہے کچھ بھی ہو جائے ٹائیگر قیدی نمبر 804 کے نعرے لگاتا رہے گا اور نونی آپ کو اورنج لائن، میٹرو بس، ترقیاتی پراجیکٹس اور سڑکوں کی تصویریں دکھاتا رہے گا۔ دراصل اس ملک میں عاقل پیدا نہیں ہوتے بلکہ عقیدت مند پیدا ہوتے ہیں۔سنہ 2022 کے عدم اعتماد سے پہلے پٹرول 150 روپے لیٹر تھا تو نونیوں کو لگتا تھا قیامت آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی دردناک ٹویٹس کی جاتی تھیں جیسے ابھی ابھی کسی نے غریب کے چولہے سے آخری روٹی اٹھا لی ہو۔ مگر آج وہی پٹرول 414 ہو گیا ہے اور نونی ایسے دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسے سب نارمل ہے۔جو صاحب پہلے مہنگائی پر روز ماتم کیا کرتے تھے آج وہی مہنگائی کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ یعنی جو کل مہنگائی کا مریض تھا آج وہی ڈاکٹر بن کر نسخے لکھ رہا ہے۔تبدیلی والوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے ہوئے مگر جب بے روزگاری بڑھنے لگی تو بے روزگاری کا سروے ہی بند کر دیا گیا۔ گویا مسئلہ حل کرنے کا بہترین طریقہ یہ نکلا کہ آئینہ ہی توڑ دو تاکہ چہرہ صاف نظر نہ آئے۔مہنگائی بڑھی تو علاج معاشی پالیسی نہیں بلکہ جذباتی تقریریں تھیں۔ کبھی سازش، کبھی بارودی سرنگیں، کبھی عالمی حالات۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے عوام کو سمجھایا کہ مسئلہ مہنگائی نہیں آپ کے ذرائع آمدن ہیں وہ بڑھا لیں۔

دونوں سیاسی دھڑوں نے اپنے اپنے حامیوں کو اس حد تک تقسیم کر دیا ہے کہ اب ان کے لیے سچ اور جھوٹ کا معیار بھی پارٹی وابستگی سے طے ہوتا ہے۔ اگر مہنگائی ان کے مخالف کے دور میں ہو تو قیامت ہے اور اگر اپنے دور میں ہو تو مجبوری۔ آج کی حکومت سے پہلے حکومت میں مہنگائی آج کے دور سے کم تھی۔ خان صاحب سے پہلے دور میں ان سے کم۔ نواز شریف صاحب کے دور سے قبل اور کم اور مشرف کا دور مہنگائی کے لحاظ سے کافی بہتر معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پیچھے چلتے جائیں آخر کار آپ ڈیڑھ روپے فی لیٹر پٹرول تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن ہر دور میں مہنگائی کا شور کم و بیش یکساں ہی رہا۔ حکومت مخالف سراپا احتجاج ہی رہے اور ہر دور میں ایک عوامی گروہ اپنی حکومت کا دفاع ہی کرتا رہا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں سیاستدانوں سے زیادہ وفادار ان کے اندھے حمایتی ہیں۔

لیڈر کچھ بھی کر لے دلیل ہمیشہ تیار ہوتی ہے۔نعرے تیار ، ہیش ٹیگز تیار، سب تیار ہوتا ہے۔ماضی اچھا اور حال قیامت لگتا ہے۔ مہنگائی ہر حکومت میں بڑھتی ہے مگر دفاع کرنے والے بدل جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ عوام ہیں۔ جب تک عوام پارٹیوں کے بجائے اپنے مفاد کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے تب تک پٹرول بھی مہنگا ہوتا رہے گا اور عقل بھی سستی ہی رہے گی۔تاحال تو یہی ضابطہ حیات ہے “ میرا کتا ٹومی، تیرا کتا کتا۔”

ایک قوم جو اپنے مستقبل کا تعین کرنے والے سوالات سے اب بھی گریزاں ہےرانا تصدق حسیناسلام آباد: کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے نہیں۔یہ دہائیوں تک زندہ رہتے ہیں، مختلف صورتوں میں ابھرتے ہیں، ہر بحران کے ساتھ مزید واضح اور ہر گزرتے سال کے ساتھ زیادہ ناگزیر ہوتے جاتے ہیں۔پاکستان آج بھی ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام ہی مسئلہ نہیں بلکہ وہ بنیادی سوالات بھی ہیں جو برسوں سے موجود ہیں مگر جن کے جوابات آج تک اخلاص، وضاحت اور عملی اقدامات کے ساتھ نہیں دیے گئے۔پاکستان کی سفارتی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو ان کے ایک قریبی ہم منصب وین جیا باؤ نے ایک ایسا سوال کیا جو رسمی سفارت کاری سے کہیں آگے تھا۔کیا پاکستان اپنی آئینی ذمہ داریاں خصوصاً دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کے عوام کے لیے مؤثر طریقے سے پوری کر رہا ہے؟کیا تعلیم، صحت، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ واقعی عام شہری تک پہنچ رہا ہے؟ملک کا کتنا حصہ عملاً ریاست کی عملی رسائی سے باہر ہے؟اور تیزی سے بڑھتی آبادی میں کتنے شہری خود کو واقعی نظامِ حکومت میں نمائندہ، محفوظ اور شریک محسوس کرتے ہیں؟چینی نقطۂ نظر ایک ایسے اصول کی عکاسی کرتا تھا جس نے ان کی قومی ترقی کی بنیاد رکھی۔ایک ریاست صرف اداروں سے نہیں بنتی بلکہ اجتماعی ذمہ داری سے تشکیل پاتی ہے، جہاں ریاست خدمات فراہم کرتی ہے اور شہری اس میں حصہ ڈالتا ہے۔ان کی ترقی اتفاقی نہیں تھی بلکہ منظم، مربوط اور شمولیتی تھی۔تاہم اس سوال کا کوئی بامعنی جواب کبھی سامنے نہ آ سکا۔ایک اور اہم لمحہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت کے عروج میں سامنے آیا۔مرکزی اختیار کے اس دور میں جب اقتدار پر سوال اٹھانا ایک جرات مندانہ عمل تھا، جامعہ بنوریہ کراچی کے ایک طالب علم نے براہِ راست اس وقت کے حکمران کے سامنے تاریخ سے جڑے ہوئے، گہرے اور بنیادی سوالات اٹھائے۔یہ سوالات نظریاتی نہیں تھے۔یہ عملی زمینی حقائق تھے گورننس کی ناکامی، انصاف میں عدم مساوات، احتساب کی کمی، اور آئینی وعدوں اور عملی نفاذ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج۔سال گزر گئے۔یہ سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔اور آج پاکستان ان سوالات کے جواب نہ دینے کے نتائج بھگت رہا ہے۔معاشی صورتحال مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔مہنگائی قوتِ خرید کو مسلسل کم کر رہی ہے، تنخواہ دار طبقہ اپنی عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے میں دشواری کا شکار ہے، توانائی کے اخراجات غیر مستحکم ہیں اور قومی قرضے ملکی فیصلوں کو محدود کر رہے ہیں۔ادارے اسٹریٹجک کے بجائے ردعمل دینے والے نظر آتے ہیں اور عوامی اعتماد کمزور ہوا ہے۔تاہم گورننس کے مسائل سے آگے ایک گہرا مسئلہ موجود ہےایک اجتماعی ذہنیت جو وقت کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری سے بے اعتنائی کو معمول بنا چکی ہے۔تاریخی مثالیں اس کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔1970 کی دہائی میں اسلام آباد کے لال کوارٹرز کے رہائشی مفت گیس کی وجہ سے چولہے مسلسل جلتے رہنے دیتے تھے۔رحیم یار خان کی اینگرو کالونی میں، جہاں بجلی مفت تھی، گھروں میں غیر موجودگی کے باوجود دنوں تک آلات چلتے رہتے تھے۔یہ ضرورت نہیں بلکہ رویہ تھا۔اس کے برعکس عالمی مثالیں ایک مختلف شہری شعور کو ظاہر کرتی ہیں۔جرمنی میں کھانے کے ضیاع کو سماجی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔چین میں معمولی سی احتیاط بھی، جیسے غیر ضروری طور پر زیادہ پکے پھل نہ لینا، قومی ذمہ داری اور معاشی شعور کی علامت ہے۔یہ مثالیں ایک بنیادی حقیقت واضح کرتی ہیں۔قومیں وسائل کی فراوانی سے نہیں بلکہ ذمہ داری سے پہچانی جاتی ہیں۔یہ حقیقت ایران کے تناظر میں مزید واضح ہو جاتی ہے۔طویل عرصے کی پابندیوں، بیرونی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے باوجود ایران نے بنیادی خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔تعلیمی ادارے کھلے رہتے ہیں،

سرکاری دفاتر کام کرتے ہیں اور روزمرہ نظام اچانک تعطل کا شکار نہیں ہوتا۔حکومتی سطح پر عوامی نقل و حرکت اور معمولات میں بلاوجہ رکاوٹیں معمول نہیں بنائی جاتیں۔پاکستان میں تاہم تاثر مختلف ہوتا جا رہا ہے۔بڑھتی ہوئی رائے یہ ہے کہ حکمرانی عوامی حقیقت سے کٹ چکی ہے۔فیصلے شمولیت کے بجائے مسلط کیے جاتے ہیں۔استحقاق بڑھ رہا ہے جبکہ احتساب کمزور ہو رہا ہے۔اور عوامی مشکلات کا ذکر تو ہوتا ہے مگر ان کا حل نظر نہیں آتا۔یہ تاثر چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، خطرناک ضرور ہے کیونکہ حکمرانی کا انحصار صرف اختیار پر نہیں بلکہ اعتماد اور جواز پر بھی ہوتا ہے۔اور آج یہ اعتماد دباؤ میں ہے۔عام شہری بڑھتی ہوئی مہنگائی، محدود ریلیف اور سکڑتی ہوئی معاشی گنجائش کا سامنا کر رہا ہے۔روزمرہ زندگی میں خلل بڑھ رہا ہے جبکہ عدم مساوات واضح ہو رہی ہے۔ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ اب نظریاتی نہیں بلکہ عملی ہو چکا ہے۔اور اس کے نیچے ایک بڑھتی ہوئی اجتماعی بے چینی موجود ہے۔پاکستان کا مسئلہ صرف معاشی یا انتظامی نہیں رہا۔یہ ایک نظامی اور گہرا ساختی مسئلہ ہے۔یہ ایک ایسا چکر ہے جہاں سوالات اٹھتے ہیں مگر جواب نہیں ملتے، وعدے کیے جاتے ہیں مگر پورے نہیں ہوتے، وسائل مختص ہوتے ہیں مگر محفوظ نہیں رہتے، اور اختیار استعمال ہوتا ہے مگر مسلسل احتساب کے بغیر۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک قوم امکانات اور جمود کے درمیان معلق ہو کر رہ گئی ہے۔تاہم یہی لمحہ ایک انتخاب بھی فراہم کرتا ہے۔ایسا انتخاب جو مشکل سچائیوں کا سامنا کرے نہ کہ ان سے فرار اختیار کرے۔ایسا انتخاب جو وقتی سہولت کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو ترجیح دے۔ایسا انتخاب جو شفافیت، انصاف اور عملی اصلاحات کے ذریعے اعتماد کی بحالی کرے۔اور ایسا انتخاب جس میں شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو بھی شامل کریں۔

صدارتی ھاوس میں بڑی بیٹھک کے بعد جھنڈے اتر گئے

صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات۔ ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزیرِداخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم بھی موجود تھے۔ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال، افغانستان سے متعلق امور اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال۔ ملاقات میں معرکۂ حق کے شہداء اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین، قومی دفاع پر غیر متزلزل عزم کا اعادہ

۔صدرِ مملکت نے کہا کہ مشکل جغرافیائی و علاقائی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی چین متاثر ہونے کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔صدرِ مملکت نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی۔۔۔۔۔

ایف بی آر ان ایکشن تہذیب بیکری سیل۔۔راولپنڈی میں قتل پٹھانوں نےلڑکے کو موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گھسیٹ کر قتل کردیا۔۔۔۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کا دشمن کو اشعار کی زبان میں دو ٹوک موقف۔۔افغانستان کسی پراکسی کا حصہ نہ بنے بھارت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ھے۔مئی 2025 کی لڑائی کے بعد انڈیا نے امریکی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی تھی: فیلڈ مارشل عاصم منیر۔ے پاکستان ناقابل تسخیر ھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دبنگ قوم سے خطاب۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی دارالحکومت کے تجارتی مرکز بلیو ایریا میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کی معروف تہذیب بیکری کو مبینہ طور پر سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی اور غیر دستاویزی لین دین کے خلاف جاری ملک گیر کریک ڈاؤن کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق، ایف بی آر حکام نے بیکری کے آؤٹ لیٹ کا معائنہ کیا جہاں غیر تصدیق شدہ رسیدیں اور ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم میں خامیاں پائی گئیں۔ اس چھاپہ مار کارروائی کا بنیادی مقصد کھانے پینے کے شعبے میں مالی شفافیت کو یقینی بنانا اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مستحکم کرنا ہے۔اسلام آباد کے بڑے تجارتی مراکز میں اس حالیہ سختی نے کاروباری حلقوں اور شہریوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ضابطہ جاتی اقدامات میں مزید تیزی لا رہی ہے تاکہ معاشی نظام میں بہتری لائی جا سکے۔

سوشل میڈیا اور خفیہ ایجنسیاں ۔ اظہر سید سوشل میڈیا نے سارے پرانے نظریئے تبدیل کر دئے ہیں ۔خفیہ ایجنسیوں کو اب اپنے جاسوس دشمن ملک بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی ۔ضرورت مند کو ڈھونڈنا بھی مشکل نہیں رہا ۔ٹک ٹاک،ٹویٹر،فیس بک ،لنکڈن کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ضرورت مند تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ضرورت مند کو پیسے بھیجنے کے ایک ہزار طریقے ہیں۔وہ اپنے فون سے کسی بھی پل، عمارت،حساس تنصیبات کی تصویر کھینچ کر چند لمحوں میں پیسے بھیجنے والے کو بھیج سکتا ہے ۔ضرورت مند کو کہیں بھی کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ٹارگٹ کلر بنائے جا سکتے ہیں ۔حساس معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔بھارتی اگر مقامی لوگوں کو استعمال کر کے سابق مجاہدین کو مروا سکتے ہیں یہی کام پاکستانی بھی زیادہ بہتر طریقے سے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔اسرائیلیوں نے ایرانی اور افغان مہاجرین کو استعمال کیا ایرانی کے فوجی اور سیاسی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ۔سائنسدان گھروں ،دفتروں اور سڑکوں پر قتل کروا دئے ۔روحانی قائد کو قتل ہی نہیں کروایا اسی لمحے مردہ جسم کی تصویر بھی حاصل کر لی ۔ضرورت مندوں ،کم نسلوں کو پیسوں کا لالچ دے کر ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کروایا جا سکتا ہے ۔پراپیگنڈہ والے وی لاگ کرو ،سائبر سیلوں میں بیٹھے زمہ دار گھنٹوں یہ وی لاگ دیکھیں گے ۔ڈالر بنتے جائیں گے ۔گھٹیا یو ٹیوبر کو اسی طریقے سے سلیبرٹی بنا کر سماجی ڈھانچہ کی دیواریں توڑی جا سکتی ہیں ۔کمزور کی جا سکتی ہیں ۔سوشل میڈیا کے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ سے کسی زناکار کو مسیحا اور لیڈر بنایا جا سکتا ہے ۔عوام میں تقسیم پیدا کی جا سکتی ہے ۔

قومی اور لسانی نفرتوں کی آگ بھڑکائی جا سکتی ہے ۔فرقہ ورانہ نفرت پھیلائی جا سکتی ہے ۔ہر شخص کے ہاتھ میں فون ہے ۔اس فون کے زریعے ہر شخص کو کوئی مخصوص سوچ مسلسل دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا زہن تبدیل کر لے ۔بہت جلد روایتی ہتھیاروں کی جگہ چھوٹے چھوٹے ہتھیار جنگوں کے روایتی تصورات بھی پاش پاش کر دیں گے ۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پر آسکتا نہیں۔

راولپنڈی کے علاقے چکری روڈ، پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا سانحہ ہے۔سترہ سالہ سید زین شاہ ایک معصوم، محنتی اور بااخلاق نوجوان تھا جس کا تعلق ایک شریف سادات گھرانے سے تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر ملازمت کرکے اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بنا ہوا تھا۔ جس علاقے میں زین پیدا ہوا اور اس نے سترہ سال گزارے، وہاں کا کوئی ایک فرد بھی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ وہ جھگڑالو، بدتمیز یا شرپسند تھا۔

یہاں تک کہ اس کے والد نے بھی کبھی کسی کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کی۔اطلاعات کے مطابق محض 1300 روپے کے معمولی لین دین کے تنازعے کے بعد سراج محسود نامی شخص اپنے بھائیوں، متعدد افراد اور خواتین کے ہمراہ زین شاہ کے گھر پر حملہ آور ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق پہلے تلخ کلامی ہوئی اور بعد میں معاملہ ختم کر دیا گیا، مگر اس کے باوجود دوبارہ “گلہ” کرنے کے نام پر زین کے گھر جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق وہاں پہنچتے ہی دوبارہ جھگڑا شروع کیا گیا، جس دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا۔اس کے بعد مشتعل افراد نے زین شاہ کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ زین شاہ کو زبردستی گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا۔ ذرائع اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق زین شاہ پر کئی گھنٹوں تک انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے جسم پر بدترین تشدد کے نشانات سامنے آئے۔ گلے اور بازوؤں پر بلیڈ کے زخم، ٹوٹی ہوئی انگلیاں، جسم کو جلانے کے نشانات، رسیوں سے باندھ کر گھسیٹنے جیسے دل دہلا دینے والے شواہد اس ظلم کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے گھر کے باہر پھینک دیا گیا۔اگر کسی قسم کا تنازع یا جرم موجود بھی تھا تو اس کا فیصلہ صرف اور صرف قانون کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر جتھوں کی صورت میں حملہ کرے، اغواء، تشدد اور قتل جیسے غیر انسانی اقدامات کرے۔

ایسے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض عناصر اس واقعے کو لسانیت اور قومیت کا رنگ دے کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجابی اور پٹھان کے نام پر نفرت پھیلانا، جرگوں اور احتجاج کے ذریعے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جرم کا تعلق صرف مجرم سے ہوتا ہے، کسی قوم، زبان یا قبیلے سے نہیں۔اگر کسی کے اہلِ خانہ زیرِ حراست ہیں تو اس کا قانونی راستہ موجود ہے، مگر اصل ترجیح قاتلوں کو گرفتار کرکے قانون کے سامنے پیش کرنا ہونی چاہیے۔ اگر کوئی منشیات فروش، سمگلر، چور، ڈاکو یا دہشت گرد قانون کی گرفت میں آتا ہے تو اسے لسانی یا قبائلی رنگ دینا ریاستی اداروں اور قانون کی عملداری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

ہمیں اپنے اداروں، پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اس دلخراش واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے تمام ملوث عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اگر ایسے سفاک عناصر کے خلاف بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں مزید معصوم جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ہم حکومتِ پنجاب، حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سید زین شاہ کے اہلِ خانہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور اس انسانیت سوز واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ

دھمیال کے واقعے میں تین ظلم ہوئے،پہلا ظلم پنجابی نوجوان کی جانب سے محسود جوان کا قتل، یہ ظلم عملا اس وقت ختم ہوگیا جب مقتولین کے ورثاء نے جوابا اسے قتل کردیا،دوسرا ظلم، اس پنجابی کی لاش کو موٹر سائیکل سے باندھ کر گھسیٹا جانا،تیسرا ظلم محسود نوجوان کی لاش اسے ورثاء کے حوالے نہ کرنا، اور اسکے ان عزیزوں کی خواتین کو گرفتار کرنا جنہوں نے پنجابی جوان کو قتل کیا اور اسکی لاش کی بیحرمتی کی،تیسرے ظلم کے خلاف محسود قبیلے نے دیگر پختونوں اور غیر قانونی افغانیوں کو اکٹھا کرکے آج جرگہ کیا ہے، اور اس جرگے کیں 400 کلومیٹر دور سے بھی شرکاء شریک ہوئے ہیں، بلکہ شاید ان علاقوں سے منتخب ایک دو ایم این اے، اور ایم پی ایز بھی اور انکے اعلامیے میں بھی جرم نمبر 2 کا کوئی ذکر نہیں ہے کے کیسے انکی قوم کے افراد نے ایک شخص کو قانون سے بالاتر ہوکر قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو سڑکوں پر گھسیٹا یہ عمل قانونی، اخلاقی، شرعی تینوں اطوار سے بدترین ظلم تھا، اور ہم جرگے کے ارکان پاکستانی ریاست یا پولیس کی بھرپور مدد کریں گے اس ظلم کو انجام دینے والے لوگوں کو پکڑنے میں، ہم خود بھی انکو پناہ نہیں دیں گے، اور اگر وہ آبائی علاقوں میں کا چھپے پیں تو وہاں سے انکو خود پکڑ کر لاکر پولیس کے حوالے کریں گے، خیر وہ ایسا کہتے بھی کیوں کے انکا جرگہ انکی قوم کے لیے تھا ہمارے لیے نہیں،جبکہ ہم پورے پنجاب کے پنجابی بالخصوص راولپنڈی کے مقامی حضرات اور ان میں بھی بالخصوص دھمیال وغیرہ کے مقامی راجے، مقامی سیاستدان، ایم این اے، ایم پی ایز اس قدر بغیرت واقعہ ہوئے ہیں،کے کوئی ایک احتجاج نہیں ہوا،کوئی ایک پریس کانفرنس نہیں ہوئی،کوئی ایک منتخب نمائندہ نہیں بڑھا یہ کہنے کو،کے یہ ہمارا علاقہ ہے،

یہ ہمارا کھلا دل تھا کے ہم نے اپنے پاکستانی مسلمان بھائیوں کو جو اپنے علاقے میں موجود سورش و بدامنی کی وجہ سے روزگار اور اپنی مائوں بہنوں کی عزت کی رکھوالی کے لیے پنجاب آئے، انہیں کھلے دل سے ویلکم کیا، انہیں کام کاروبار کی مکمل آزادی دی، انکی رسم و رواج کی عزت کی،اسکے باوجود انہوں نے جو ایک مقامی ہمارے ہم زبان بھائی کو قانون سے بالاتر ہوکر پہلے قتل کیا، پھر اسکی لاش کی بیحرمتی کی اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا، اور پولیس سے مطالبہ کیا جائے کے جو جو فرد ان قاتلوں کے پیچھے کھڑا ہے ان سب کے خلاف بھی کاروائی کی جائے، اور یقینی بنایا جائے کے ان قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق فی الفور پھانسی کی سزا دی جائے …!!خیر کوئی شک نہیں، پنجابی اس معاملے میں ہیں ہی بغیرت…!!اور کوئی مسئلہ نہیں انتظار کریں، کے کب راولپنڈی میں بھی محسود قبیلے کے آبائی علاقے کی طرح حالات ہوجائیں گے،کے مخالف قبیلے/گائوں کا جانور ہمارے کھیت میں کیوں چرنے آیا، اس بات پر لڑائی شروع ہوگی اور پورا قبیلہ ہزاروں افراد پر مشتمل لشکر بنا کر راکٹ لانچرز جیسے ہتھیار لیکر دقسرے قبیلے/گائوں پر حملہ

پارلیمنٹ کے اراکین کے لئے نئی رہائشی سکیم تیار کی جا رہی ہے جس میں 104 فیملی سوٹس کے لئے 500 ائیر کنڈیشنرز اور لابیوں میں وی آر ایف سسٹم نصب کرنے کے لئے ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں

پارلیمنٹ کے اراکین کے لئے نئی رہائشی سکیم تیار کی جا رہی ہے جس میں 104 فیملی سوٹس کے لئے 500 ائیر کنڈیشنرز اور لابیوں میں وی آر ایف سسٹم نصب کرنے کے لئے ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے پر ایک ارب نو کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس سکیم میں 500 خدمت گاروں کے لئے کوارٹرز اور چار بلاکس پر مشتمل رہائشی اپارٹمنٹس ہوں گے۔ سی بلاک میں شاپس، جم، سوئمنگ پول وغیرہ ہوں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے 30 جون کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔۔

راولپنڈی کے عوام اور وکلا برادری کے لیے بڑی خوشخبری۔کچہری چوک راولپنڈی کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے اتوار کے روز کھول دیا جائے گا۔

راولپنڈی کے عوام اور وکلا برادری کے لیے بڑی خوشخبری۔کچہری چوک راولپنڈی کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے اتوار کے روز کھول دیا جائے گا۔اس میگا منصوبے پر 20 ارب روپے سے زیادہ لاگت آئی۔ اس میں دو فلائی اوورز، تین انڈر پاسز اور دو آہنی پل شامل ہیں، جبکہ حیران کن طور پر یہ منصوبہ صرف 187 دنوں میں مکمل کیا گیا۔مزید یہ کہ کچہری چوک کا نام اب “معرکہ حق سکوائر” رکھ دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz Sharif اتوار کے روز اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کریں گی، جس کے بعد ٹریفک کے لیے اسے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا. Afzal Butt Afzal Butt