تازہ تر ین

اشرف غنی افغانستان جانے کے لیے بےتاب۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کیڈٹ کالج وانا کا دورہ کرنے کے بعد جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں مقامی قبائلی عمائدین سے۔۔ملڑے قابض ہیں پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے رہیں گے ۔۔ مانو بلی دنیا کی سب سے بڑی ڈاکٹر اج ناشتہ نھی کر گئی پیاری مانو جی لنچ کھانا ھے سر اپ نے۔مستقل مندوب عاصم افتخار نے جمعرات کو جنرل اسمبلی میں ویٹو کے حق پر بحث میں تجویز دی کہ سلامتی کونسل کے موجودہ مستقل ارکان کے ویٹو کا حق ختم یا کم ازکم اس کے استعمال کے دائرے کو محدود کر دیا جائے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سابق افغان صدر اشرف غنی نے اپنے حالیہ خط میں طالبان اور عوام سے کہا ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی عہدہ یا فائدہ نہیں چاہتے، لیکن اگر عوام چاہیں تو وہ افغانستان کو موجودہ معاشی و سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔غنی نے واضح کیا کہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ قومی اتفاق، مشترکہ حکمتِ عملی اور سب افغان دھڑوں کی شمولیت ہے۔ان کے مطابق ترقی، امن اور استحکام تب ہی ممکن ہے جب تعلیم یافتہ نوجوان، خواتین و مرد اور سیاسی دھڑے یکجا ہوں اور ملک کے مستقبل کے لیے مشترکہ راستہ اپنائیں۔غنی کے اس مثبت اور تعمیری پیشکش پر طالبان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ،آپ ایک عام افغان کی طرح آئیں۔ ہم آپ کو کوئی اختیار، پروٹوکول یا کوئی سیاسی کردار نہیں دیں گے، نہ آپ کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے۔طالبان کا یہ جواب بتاتا ہے کہغنی نیک نیتی سے حل چاہتے ہیںطالبان ہٹ دھرمی اور تنگ نظری پر قائم ہیںافغانستان کے مسائل کسی ایک گروہ کے بس کی بات نہیںتمام افغان دھڑوں کا اتحاد ہی ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتا ہےپڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات تعمیر کرنا ضروری ہےٹی ٹی پی اور شدت پسند گروہوں کا خاتمہ بھی اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان کے تمام مقتدر طبقات ایک قومی ایجنڈے پر متحد ہوں

باکو ۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ آذربائیجان حکومت کی دعوت پر ڈی ایٹ میڈیا فورم میں شرکت کے لئے باکو پہنچ گئےحیدر علیوف انٹرنیشنل ایئر پورٹ باکو پر آذربائیجان کی میڈیا ڈویلپمنٹ ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد اسماعیلوف نے وفاقی وزیر اطلاعات کا استقبال کیاڈی ایٹ فورم کا موضوع ”مباحثے، تعاون اور علاقائی ہم آہنگی کو فروغ دینا“ ہےڈی ایٹ میڈیا فورم میں پاکستان سمیت آذربائیجان، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائجیریا اور ترکی کے میڈیا ماہرین، پالیسی ساز اور ابلاغیات کے ماہرین شرکت کر رہے ہیںفورم میں ڈی ایٹ ممالک کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے، تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع فراہم کئے جائیں گےوفاقی وزیر اطلاعات فورم میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیںوفاقی وزیر اطلاعات میڈیا تعاون، حقائق پر مبنی رپورٹنگ، ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے میں مشترکہ لائحہ عمل سے متعلق پاکستان کا موقف پیش کریں گےدورے کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات کی ڈی ایٹ کے سیکریٹری جنرل، رکن ممالک کے وزرائے اطلاعات، میڈیا سربراہان اور مختلف عالمی ماہرین سے ملاقاتیں بھی ہوں گی

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور آذربائیجان پریزیڈنشل ایڈمنسٹریشن میں خارجہ امور کے سربراہ حکمت حاجیوف کے درمیان ملاقات بھی ہوگیوفاقی وزیر اطلاعات آذربائیجان کے سرکاری ٹی وی کا دورہ بھی کریں گےدورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو آگے بڑھانے سمیت میڈیا تعاون کے حوالے سے تعلقات کو نئے دور میں داخل کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا

*دبئی ائیرشو: بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں کا پاکستانی پویلین کا دورہ، پاکستانی پائلٹس کی چائے کی پیشکش*بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاکستان ائیر فورس اور پاکستانی طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے فین نکلے، بھارتی فوجیوں نے جے ایف 17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔دبئی ائیر شو 2025 میں پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر ایک بار پھر سب کی آنکھوں کا مرکز بن گیا۔معرکہ حق میں پاک فضائیہ کی شاندار کامیابی کے بعد جہاں دنیا بھر میں پاک فضائیہ کی دھوم ہے وہیں بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاک فضائیہ سے متاثر ہوگئے۔دبئی ائیر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں نے پاکستانی پویلین کا دورہ کیا اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس پاکستانی ہتھیاروں میں دلچسپی دکھائی۔پاکستانی حکام کے مطابق اس موقع پر پاک فضائیہ کے پائلٹس کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو چائے کی دعوت بھی دی گئی۔ ‘آئیے آپ کو چائے پلائیں’ پاک فضائیہ کے پائلٹس کا کہنا تھا کہ ‘آئیے آپ کو چائے پلائیں’ ، جس پر بھارتی فوجیوں نے انتہائی شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی اور بس پانی پر ہی اکتفا کیا۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کوئی مہمان آجائے تو ہماری طرف سے ویلکم ہی ہے۔دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاکستانی طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے فین نکلے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی پائلٹس اور فضائیہ کے اہلکار ڈسپلے ایریا میں جے ایف 17 تھنڈر کے ساتھ ذوق شوق کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہیں۔

ملڑے جائیں گے ۔اظہر سید افغانستان قحط کا شکار ہو رہا ہے لیکن ملڑے خارجیوں کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے راضی نہیں ،پاکستان کا موقف اس مرتبہ بہت سخت ہے ۔سپین بولداک تورخم سمیت کسی جگہ سے تجارت ممکن نہیں ۔قحط سے بچنے کیلئے انگور ،ٹماٹر اور انار کھاؤ ،یا پھر ڈالر خرچو دوسرے ملکوں سے گندم ،گڑ ،قہوہ گھی اور دیگر چیزیں منگواو۔ افغان ملڑوں کی حکومت نمائندہ نہیں یہ ختم ہو گی اور اسے ختم ہونا ہے ۔چند ہفتوں میں بھوک ننگ سے تنگ افغان ردعمل شروع ہو جائے گا ۔ بہت جلد یہ ردعمل ملڑوں کو بھاگنے پر مجبور کر دے گا ۔ملڑے اب بھاگے تو ان کیلئے محفوظ ٹھکانے کہیں پر موجود نہیں ۔بڑے لیڈر شائد بھارت یا خلیجی ممالک چھپ جائیں چھوٹے کمانڈر مارے جائیں گے سارے کے سارے ۔خطہ کا ہر ملک پاکستان ،ایران ،سنٹرل ایشیائی ریاستیں سب ان مذہبی دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتا ہے ۔پاکستان میں موجود خارجیوں کو پاک فوج مار دے گی اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو سارے مل کر مار دیں گے ۔بھارتی انہیں کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتے ۔دنیا کا کوئی ملک انہیں طیارے،ہیلی کاپٹر ،میزائل یا دوسرے جدید ہتھیار فراہم نہیں کرے گا ۔یہ خود کش جیکٹس بنا سکتے ہیں لیکن اب اسکی مہلت بھی نہیں ملے گی ۔قحط سے اموات شروع ہو چکی ہیں ۔روزگار موجود نہیں

۔ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے عالمی امدادی اداروں کی امداد استمال کرتے ہیں ۔ایران ،پاکستان کی طرف سے نکالے گئے چالیس لاکھ سے زیادہ مہاجرین الگ سے معیشت پر بوجھ ہیں۔ملڑا ہیبت اللہ اور سارے کمانڈر ہر وقت پاکستانی میزائل حملوں سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔کھلے عام گھوم پھر نہیں سکتے ۔نقل و حمل خفیہ رکھتے ہیں لیکن انکی نقل و حمل پر دیکھنے والوں کی مسلسل نظر ہوتی ہے ۔نئی افغان حکومت بلوچ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے بھی ختم کرے گی ۔پاکستان اور ایران مدد کریں گے ۔

خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور محترمہ بختاور بھٹو زرداری کا ابوظہبی میں جنرل ویمنز یونین کا دورہخاتونِ اول کی ڈی جی جنرل ویمنز یونین نورہ خلیفہ السویدی سے ملاقاتخاتونِ اول کی اسٹریٹجک افیئرز و ڈیولپمنٹ کی چیئرپرسن مس غالیہ المنعی سے بھی ملاقاتبی بی آصفہ بھٹو زرداری کی اماراتی خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے یونین کی کاوشوں کی تعریفخاتونِ اول نے حکومتی و بین الاقوامی سطح پر خواتین کی شمولیت میں ترقی کو سراہاخاتونِ اول نے جنرل ویمنز یونین کے پروڈکٹیو فیملیز ایمپلائمنٹ پروگرام کی تعریف کیخاتونِ اول کا شیخہ فاطمہ بنت مبارک کی خواتین کی ترقی کیلئے وژنری قیادت کو خراجِ تحسین

اسلام آباد ہائی کورٹ کی G-10/1 منتقلی کا فیصلہ خوش آئند—اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے تاریخی قدم قرار دے دیا اسلام آباد بادبان رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کی اپنے پرانے اور مستقل مقام سیکٹر G-10/1 میں دوبارہ منتقلی کے حکومتی فیصلے کو قانونی برادری میں بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن (IBA) نے وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو ایک اہم خط ارسال کرتے ہوئے اس فیصلے کو عدل کی فراہمی، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے لیے سنگِ میل قرار دیا ہے۔خط میں صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن چوہدری نعیم علی گجر ایڈووکیٹ اور جنرل سیکرٹری عبدالحلیم بوٹو ایڈووکیٹ نے اس حکومتی اقدام پر اپنی گہری خوشی اور پیشہ ورانہ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ IHC کی G-10/1 منتقلی سے نہ صرف وکلاء کی روزمرہ پیشیاں آسان ہوں گی بلکہ عام شہریوں اور مقدمات کے سائلین کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔بار کے مطابق یہ منتقلی محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ عدالتی کارکردگی میں بہتری، تاخیر میں کمی، اور عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کی بحالی کی جانب ایک مضبوط اشارہ ہے۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے یقین دلایا کہ وہ وزارت قانون و انصاف، اسلام آباد ہائی کورٹ انتظامیہ، اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ یہ منتقلی باعزت، موثر اور بغیر کسی تعطل کے مکمل ہو سکے۔خط میں بار نمائندگان نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے بار اور بینچ کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور دونوں ادارے مل کر بروقت، منصفانہ اور شفاف انصاف کی فراہمی کے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھا سکیں گے۔آخر میں، بار نے حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے اور وفاقی وزیر سے ملاقات کے لیے ہر وقت تیار ہیں تاکہ منتقلی کے عمل کے لیے آئندہ اقدامات پر مشاورت کی جا سکے۔

بھارتیوں کا المیہ ۔ اظہر سیدجنرل ضیاء الحق کے دور تک بھارت روسی کیمپ میں تھا ۔بھارتی اسلحہ خانہ کا اسی فیصد اسلحہ سوویت یونین کا تھا ۔پاکستان امریکی یا مغربی کیمپ میں تھا ۔مغربی اسلحہ سوویت اسلحہ سے ٹیکنالوجی کے حوالہ سے بہتر تھا۔اسی اسلحہ کے زور میں پاکستان بھارتیوں کو ناکوں چنے چبواتا رہا ۔پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا لیکن اس نے تین گنا بڑے بھارت کی خالصتان اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکوں میں ناک بند کر دی تھی۔بھارت نے 1965 میں گرچہ آپریشن جبڑالڑ کے ردعمل میں حملہ کیا تھا لیکن پاکستان نے برتر مغربی اسلحہ کے زور پر بھارتی حملہ ناکام بنا دیا۔مشرقی پاکستان میں پاکستان کی شکست کی وجہ اسلحہ نہیں تھا بلکہ مقامی بغاوت اور مزاحمت تھی۔مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن نے بغاوت کچل دی تھی ۔بھارتی حملہ نہ کرتے مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔سوویت یونین کی تحلیل کے بعد بھارتی فوج تطہیر کے بہت بڑے عمل سے گزری ۔بھارتیوں نے مغربی اسلحہ کی خریداری شروع کر دی اور پاکستان کے جنگی ٹیکنالوجی میں پاکستان کے برابر آگیا لیکن فضائی برتری میں پاکستان سے پیچھے ہی رہا بھارت کو روسی ساختہ سوویت دور کے مگ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے نجات کیلئے تین سو ارب ڈالر درکار تھے ۔پیسوں کا بندوبست ہو بھی جاتا جدید ترین مغربی طیاروں کی فراہمی کیلئے کم از کم بیس سے تیس سال درکار تھے ۔بھارتیوں نے پہلا گھونٹ بھرا اور فرانس سے 36 رافال طیاروں کا سودہ کر لیا ۔ان طیاروں کا جو حال آپریشن سیندور میں پاکستان نے کیا ہے بھارتی پھر اسی جگہ پر ان کھڑے ہوئے ہیں جہاں 1980 کی دہائی میں تھے ۔بھارتی مغربی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوئے پاکستانی چھلانگ لگا کر چینی ٹیکنالوجی کی طرف چلے گئے جو بحرحال مغرب سے بہتر ثابت ہوئی ہے۔چینی پاکستان کو طیارے پہلے دیتے ہیں پیسے ادھار کر لیتے ہیں۔مغربی ممالک پیسے ایڈوانس لیتے ہیں اور طیارے قسطوں میں دیتے ہیں۔رافال کے ناکام تجربہ کے بعد اب بھارتی امریکیوں سے ففتھ جنریشن وار کا جیٹ ایف 35 خریدنے کیلئے مرے جا رہے ہیں لیکن ان طیاروں کے چار پانچ سکواڈرن تیار کرتے دس سال لگ جائیں گے ۔بھارتیوں کو اڑتے تابوت یعنی مگ پر ہی سالوں گزارا کرنا ہے ۔فضائی جنگ میں جو نئی اختراعات چینیوں نے کی ہیں ساری مغربی ٹیکنالوجی کی واٹ لگ گئی ہے۔مصنوعی سیاروں ،اوکس سسٹم اور پی ایس 15 میزائل کا جو تال میل آپریشن سیندور میں سامنے آیا ہے بھارتی جیٹ بھلے رافال ہوں یا ففتھ جنریشن وار کے ایف 35 دو سو میل دور سے گرائے جا سکتے ہیں اور انکا سسٹم چوری کر کے انہیں اندھا کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کو گھٹنوں پر گرانے کیلئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر طویل جنگ مسلط کرنا ہی واحد آپشن ہے لیکن پاکستان اس طویل جنگ کی اجازت ہی نہیں دے گا ۔مختصر جنگ میں بھارت کو ایسا خوفناک جواب دے گا بھارتی آپریشن سیندور شروع کرنے کے بعد جس طرح جنگ بندی کیلئے بھاگے تھے دنیا کے چاروں کونوں میں بھاگتے پھریں گے ۔پاکستان نے برتری ثابت کر دی ہے ۔دنیا نے پاکستان کی برتری تسلیم کر لی ہے ۔اسرائیل کی جنگی مشین سے خوفزدہ عرب ممالک کو پاکستان کی صورت میں ایک طاقتور “اپنا” نظر آرہا ہے ۔مصر، اردن ،ترکی ،ازربائیجان اور سعودی عرب کس نے سوچا تھا یہ ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کریں گے ۔یہ پاکستان کی طاقتور موجودگی ہے امریکی قطر کو یقین دہانیاں کراتے نظر آرہے ہیں اسرائیل آئندہ حملہ نہیں کرے گا۔سعودی کروان پرنس کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی فضاؤں میں پہنچنے کے بعد اپنے جدید ترین طیاروں کے ساتھ اسے سلامی دیتے نظر آرہے ہیں۔یہی سعودی عرب تھا اور یہی کروان پرنس تھا امریکی صدر ٹرمپ نخوت اور تکبر سے کہتا تھا “ہم حفاظت کرتے ہیں نہ کریں سعودی بادشاہت قائم نہ رہے “پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد وہی امریکہ کروان پرنس کے واری صدقے جا رہا ہے ۔دنیا تبدیل ہو گئی ہے ۔نئی دنیا روس چین ،ترکی اور پاکستان کی دنیا ہے ۔تیسری عالمی جنگ میں یہی ممالک حلیف ہونگے ۔مغرب کی اجارہ داری ختم ہوئی ۔اگلا دور نئی دنیا کا ہے ۔

بھارتیوں کا المیہ ۔ اظہر سیدجنرل ضیاء الحق کے دور تک بھارت روسی کیمپ میں تھا ۔بھارتی اسلحہ خانہ کا اسی فیصد اسلحہ سوویت یونین کا تھا ۔پاکستان امریکی یا مغربی کیمپ میں تھا ۔مغربی اسلحہ سوویت اسلحہ سے ٹیکنالوجی کے حوالہ سے بہتر تھا۔اسی اسلحہ کے زور میں پاکستان بھارتیوں کو ناکوں چنے چبواتا رہا ۔پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا لیکن اس نے تین گنا بڑے بھارت کی خالصتان اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکوں میں ناک بند کر دی تھی۔بھارت نے 1965 میں گرچہ آپریشن جبڑالڑ کے ردعمل میں حملہ کیا تھا لیکن پاکستان نے برتر مغربی اسلحہ کے زور پر بھارتی حملہ ناکام بنا دیا۔مشرقی پاکستان میں پاکستان کی شکست کی وجہ اسلحہ نہیں تھا بلکہ مقامی بغاوت اور مزاحمت تھی۔مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن نے بغاوت کچل دی تھی ۔بھارتی حملہ نہ کرتے مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔سوویت یونین کی تحلیل کے بعد بھارتی فوج تطہیر کے بہت بڑے عمل سے گزری ۔بھارتیوں نے مغربی اسلحہ کی خریداری شروع کر دی اور پاکستان کے جنگی ٹیکنالوجی میں پاکستان کے برابر آگیا لیکن فضائی برتری میں پاکستان سے پیچھے ہی رہا بھارت کو روسی ساختہ سوویت دور کے مگ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے نجات کیلئے تین سو ارب ڈالر درکار تھے ۔پیسوں کا بندوبست ہو بھی جاتا جدید ترین مغربی طیاروں کی فراہمی کیلئے کم از کم بیس سے تیس سال درکار تھے ۔بھارتیوں نے پہلا گھونٹ بھرا اور فرانس سے 36 رافال طیاروں کا سودہ کر لیا ۔ان طیاروں کا جو حال آپریشن سیندور میں پاکستان نے کیا ہے بھارتی پھر اسی جگہ پر ان کھڑے ہوئے ہیں جہاں 1980 کی دہائی میں تھے ۔بھارتی مغربی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوئے پاکستانی چھلانگ لگا کر چینی ٹیکنالوجی کی طرف چلے گئے جو بحرحال مغرب سے بہتر ثابت ہوئی ہے۔چینی پاکستان کو طیارے پہلے دیتے ہیں پیسے ادھار کر لیتے ہیں۔مغربی ممالک پیسے ایڈوانس لیتے ہیں اور طیارے قسطوں میں دیتے ہیں۔رافال کے ناکام تجربہ کے بعد اب بھارتی امریکیوں سے ففتھ جنریشن وار کا جیٹ ایف 35 خریدنے کیلئے مرے جا رہے ہیں لیکن ان طیاروں کے چار پانچ سکواڈرن تیار کرتے دس سال لگ جائیں گے ۔بھارتیوں کو اڑتے تابوت یعنی مگ پر ہی سالوں گزارا کرنا ہے ۔فضائی جنگ میں جو نئی اختراعات چینیوں نے کی ہیں ساری مغربی ٹیکنالوجی کی واٹ لگ گئی ہے۔مصنوعی سیاروں ،اوکس سسٹم اور پی ایس 15 میزائل کا جو تال میل آپریشن سیندور میں سامنے آیا ہے بھارتی جیٹ بھلے رافال ہوں یا ففتھ جنریشن وار کے ایف 35 دو سو میل دور سے گرائے جا سکتے ہیں اور انکا سسٹم چوری کر کے انہیں اندھا کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کو گھٹنوں پر گرانے کیلئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر طویل جنگ مسلط کرنا ہی واحد آپشن ہے لیکن پاکستان اس طویل جنگ کی اجازت ہی نہیں دے گا ۔مختصر جنگ میں بھارت کو ایسا خوفناک جواب دے گا بھارتی آپریشن سیندور شروع کرنے کے بعد جس طرح جنگ بندی کیلئے بھاگے تھے دنیا کے چاروں کونوں میں بھاگتے پھریں گے ۔پاکستان نے برتری ثابت کر دی ہے ۔دنیا نے پاکستان کی برتری تسلیم کر لی ہے ۔اسرائیل کی جنگی مشین سے خوفزدہ عرب ممالک کو پاکستان کی صورت میں ایک طاقتور “اپنا” نظر آرہا ہے ۔مصر، اردن ،ترکی ،ازربائیجان اور سعودی عرب کس نے سوچا تھا یہ ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کریں گے ۔یہ پاکستان کی طاقتور موجودگی ہے امریکی قطر کو یقین دہانیاں کراتے نظر آرہے ہیں اسرائیل آئندہ حملہ نہیں کرے گا۔سعودی کروان پرنس کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی فضاؤں میں پہنچنے کے بعد اپنے جدید ترین طیاروں کے ساتھ اسے سلامی دیتے نظر آرہے ہیں۔یہی سعودی عرب تھا اور یہی کروان پرنس تھا امریکی صدر ٹرمپ نخوت اور تکبر سے کہتا تھا “ہم حفاظت کرتے ہیں نہ کریں سعودی بادشاہت قائم نہ رہے “پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد وہی امریکہ کروان پرنس کے واری صدقے جا رہا ہے ۔دنیا تبدیل ہو گئی ہے ۔نئی دنیا روس چین ،ترکی اور پاکستان کی دنیا ہے ۔تیسری عالمی جنگ میں یہی ممالک حلیف ہونگے ۔مغرب کی اجارہ داری ختم ہوئی ۔اگلا دور نئی دنیا کا ہے ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved