
2025صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا خیبر پختونخوا میں دو کامیاب آپریشنز میں 15 خوارج کے ہلاک ہونے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسینوطنِ عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی اتفاقِ رائے سے جاری رہے گا: صدر زرداریبھارتی پشت پناہی یافتہ فتنہ الخوارج کے کارندوں، بشمول سرغنہ عالم محسود، کا مارا جانا سیکیورٹی فورسز کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت ہے: صدرِ مملکت “عزمِ استحکام” کے تحت جاری انسداد دہشت گردی مہم ملک میں پائیدار امن کے قیام کی قومی کاوشوں کا مظہر ہے: صدر زرداریانتہاپسندی و دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے میں خلل ڈالنے کیلئے کسی سطح پر کوئی سیاسی چال یا توجہ بٹانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی: صدر آصف علی زرداریصدر زرداری نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم و بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللّہ کے فضل سے پاک سرزمین کو جلد ہر خارجی کے شر سے پاک کر دیا جائے گا۔

بشریٰ تسکین مجھے جھوٹ پر آمادہ کرتی رہی شہرت کی حرص دلاتی رہی وہ مجھ سے بے ربط اور بے محل سوالات کرتی کہ بکرا سیاہ رنگ کا تھا وہ سِریاں رکھ لیتی تھی اور تاکید کرتی کہ تمہیں کوئی گزند نہ پہنچے گا مگر میں نے خان صاحب کے آستانے کا نمک کھایا تھا میں جھوٹ نہیں بول سکتا تھا میں نے اسی کے روبرو کہا کہ جن باتوں کو تم گھڑ رہی ہو وہ سراسر بے بنیاد اور لغو ہیں ایسی کوئی واردات عمران خان صاحب کے ساتھ پیش نہیں آئی نہ انہوں نے کبھی ایسی مہمل بات کہی اور نہ ہی ان کی اہلیہ نے مجھ پر کوئی ایسا حکم دائر کیا میں ہر بار سارا گوشت اپنے ہمراہ لے جاتا اور مستحقین میں اپنے ہاتھوں سے تقسیم کرتا سِری پائے بھی میں خود ساتھ رکھتا تھا بنی گالہ کے ایک خادم نے بشریٰ تسکین کو میرے پاس بھیجا وہ آئی اور مجھ پر دباؤ ڈالتی رہی کہ میں اس کی من گھڑت روایات کی تصدیق کر دوں جب میں نے ان تمام الزامات کو بے حقیقت اور بے مایہ قرار دیا تو اس کے باوجود اس نے ان باتوں کو قلمبند کر دیا یہاں تک کہ ایک نامیاتی جریدے میں وہ تحریف شائع کی گئی جس میں قصاب رانا عظیم سے متعلق غلط اور گمراہ کن نکات درج کیے گئے

آپکے خیال میں عمران خان کہ اہلیہ بشری بی بی کے خلاف جھوٹ بے بنیاد اور کردار کشی پہ مبنی تقریباً ایک جیسے مواد پہ مشتمل پروپیگنڈا کس نے بہتر انداز میں کیا ۔۔عاصمہ شیرازی جس کالم غالباً بی بی سی اردو ویب پیج پہ شائع ہوا تھا اور ایک کالم بشری تسکین کا ڈیجیٹل میگزین 1843 جو دیاکنامسٹ گروپ کا ہی ایک جریدہ ہے اس میں شائع ہوا ہے ہے

منقول **ہری پور سے ایک شاہ صاحب ہوا ہری پور کے پہاڑی دامن میں ایک درویش صفت انسان رہا کرتا تھا۔ لوگ انہیں محبت سے *شاہ صاحب* کہتے تھے۔ شریف النفس، عبادت گزار، اور خدا سے لو لگائے رکھنے والے ایسے کہ ہر کام سے پہلے دھیرے سے بس اتنا کہہ دیتے: **“یا اللہ مدد”**۔محکمۂ جنگلات میں نوکری تھی، مگر دل جنگلوں سے زیادہ اپنے رب کی طرف مائل رہتا۔ افسروں کو ان کا یہ انداز سخت ناگوار گزرتا۔ کئی بار ٹوکا، ڈرایا، دبایا… مگر بڑے شاہ صاحب کے انداز میں کبھی لغزش آئی، نہ پیشانی پر بل۔وہ مسکرا کر بس ایک ہی جواب دیتے:**“جی، بسم اللہ … مدد تو اللہ ہی سے مانگوں گا”۔**شاید اسی مستقل مزاجی، اسی توکل اور اسی سادگی نے آسمان پر ان کی قسمت کا دروازہ کھول دیا۔ اللہ نے انہیں ایسی اولاد عطا کی جو کردار، محنت اور کامیابی کی جیتی جاگتی مثال بن گئی۔ چھے بیٹے، دو بیٹیاں—اور ہر ایک اپنے باپ کی دعا، ماں کے آنسو اور پہاڑی راستوں کی دھول اپنے دامن میں سمیٹے آگے بڑھتا گیا۔ان بچوں کا سفر آسان نہ تھا۔ سکول جانے کے لیے روزانہ دو دو گھنٹے کا پیدل پہاڑی سفر، مگر ہمت ایسی کہ قدم لڑکھڑائے نہیں۔ دل و جان سے محنت کی اور پھر ایک وقت آیا کہ انہی پہاڑی راستوں نے انہیں شہروں کے بڑے عہدوں تک پہنچا دیا۔یہ وہی بچے ہیں جنہوں نے صوبائی و قومی مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔— **سید اختر حسین شاہ** سیکرٹری کے عہدے تک پہنچے۔— **سید اظہر شاہ** نیشنل بینک کے وائس پریزیڈنٹ بنے۔— **سید نظر شاہ** سیکرٹری جنگلات خیبر پختونخوا مقرر ہوئے اور بلین ٹری سونامی کو عملی شکل دے کر ملکی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا—یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف رہے۔— ایک بھائی پاک فوج میں افسر بنے اور بعد ازاں بیرونِ ملک ایک کامیاب بزنس گروپ کے مالک ہو گئے۔— **سیدہ زاہدہ بخاری** اور **سید خرم شہزاد بخاری** اسلام آباد پولیس میں D.I.G کے عہدے تک خدمات انجام دے چکے۔— سب سے بڑے بھائی وکالت کے عشق میں ڈٹ گئے، اٹارنی جنرل رہے، گلگت کے چیف جسٹس بنے، قائم مقام وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی رہے، اور اب آئینی عدالت کے جج منتخب ہو چکے ہیں۔یہ گھرانہ عہدوں سے بڑا ضرور ہوا، مگر دل سے کبھی نہیں۔نماز میں رونا، راتوں کو اللہ کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ جانا، اور یہ کہنا کہ “اگر نماز میں آنسو نہ آئیں تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ ناراض تو نہیں”—یہ ان کا روزمرہ تھا، عادت نہیں عبادت تھی۔ہر بات کا آغاز بھی دعا سے، اختتام بھی دعا سے۔ایسے خدا ترس لوگ، ایسے باوقار کردار کے حامل افراد… اور آج بھی اسلام آباد میں کرائے کے گھروں میں جوائنٹ فیملی کی طرح رہنے والے۔لیکن افسوس… جب سید ارشد حسین کو آئینی عدالت کا جج منتخب کیا گیا تو کچھ حلقوں نے بغیر کچھ جانے، بغیر حقیقت سمجھے تنقید کے تیر چلانے شروع کر دیے۔شاید وہ نہیں جانتے کہ بڑے عہدے محض ڈگری یا تعلق سے نہیں ملتے، ان تک پہنچنے کے لیے نسلوں کی محنت، کردار، اور دعاؤں کی محرابوں میں گرے ہوئے آنسو شامل ہوتے ہیں۔یہ کالم ان کے لیے نہیں، ان سب کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ کامیابیاں اتفاق سے ملتی ہیں۔نہیں صاحب…کامیابیاں برسوں کی سچائی، محنت، قربانی اور والدین کے “یا اللہ مدد” جیسے سادہ مگر بااثر جملوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ہری پور کے اس شاہ صاحب نے دنیا کو نہ دولت دی، نہ محلات…لیکن کردار کی ایسی روشن میراث دے گئے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

بے وفائی سے آئے اور بے وفائی کے ہاتھوں گئے بس ذرا انداز کھلنڈرانہ سا تھا ( قلندرانہ بھی کہہ سکتے ہیں ) ہمارے دوست جناب غلام مصطفے ملک صاحب کی خُوبصورت تحریر ! “ اگرچہ میں آج سابق ہونے والے وزیراعظم چوہدری انوارالحق صاحب سے کبھی نہیں ملا ،لیکن جس وقار اور متانت کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کیا اور ہنسی خوشی اقتدار چھوڑ کر رخصت ہوگیا ،میرے دل میں گھر کرگیا، سیاست کے طالب علم کے طور پر میرے لیے یہ نیا اور قابل ستائش عمل ہے میں نے ایک طالب علم کی حثیت سے تحریک عدم اعتماد کا مشاہدہ کرتا چلا آیا ، میرا پہلے دن سے یہ کہنا تھا کہ فیصل ممتاز راٙٹھور وزیراعظم ہوں گے اور اس یقین کی وجہ چوہدری ریاض صاحب سے انکی قربت اور رفاقت ہے چوہدری انوار الحق اس ساری کہانی میں نہ تو جھکے اور نہ ہی انہوں نے کسی کے دروازے پر جاکر منت سماجت کی ضرورت محسوس کی ، انکی بطور وزیراعظم نامزدگی اسمبلی سے پہلی تقریر بھی سنی اور آخری بھی ،انہوں نے اقتدار کو اللہ کا انعام اور اسکی رخصتی کو اس کی رضا جانا یہی ایک بالغ نؑظر انسان کی پہچان ہے، میں۔سمجھتا ہوں کہ انکی شخصیت ایک وزیراعظم کے عہدہ سے بھی بڑی نکلی ،ہمارے ہاں لوگ اقتدار جاتا دیکھ کر فیصلہ سازوں کو باپ بنانے سے نہیں چونکتے، پاوں پڑنا معیوب نہیں جانتے ، ضمیر بیچنا انکے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور ایسے تمام کرداروں کو چویدری انوار الحق کے کردار نے مات دے دی ۔مورخ جب بھی وقار کی تاریخ لکھے گا تو اسے ایک اجلے کردار کے انوار کو یاد رکھنا پڑے گا کہ جو وقار کے ساتھ اقتدار چھوڑ کر سیاسی تاریخ میں امر ہو ۔۔










