اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز ٹرانسفر کیس میں سپریم کورٹ گئے، سپریم کورٹ نے انہیں بھیج دیا وفاقی آئینی عدالت میں، انہوں وفاقی آئینی عدالت سے کہا کہ ہمارا کیس دوبارہ سپریم کورٹ بھیج دیں، ظاہر ہے وفاقی آئینی عدالت ستائیسویں آئینی ترمیم کی پیداوار ہے ججز اسے آئینی عدالت مانتے ہیں نہیں، وہ کیسے کیس سن سکتی ہے؟ انہوں نے کیس واپس سپریم کورٹ نہیں بھیجا، ججز کا وکیل کوئی پیش نہیں ہوا، وفاقی آئینی عدالت نے کہا چلو درخواست خارجاسلام آباد ہائیکورٹ نے بار بار عمران خان سے ملاقات کا حکم دیا، حکومت نے حکم دیوار پہ مار دیا، تحریک انصاف گئی آئینی عدالت، آگے سے چیف جسٹس نے کہا ہمارا اس کیس سے کیا لینا دینا، لہذہ درخواست خارجمیرے پاکستانیو! اب آئندہ انصاف ایسے ہوا کرے گا سن لو










