عادل راجہ بمقابلہ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر کیس: باوجود اس امکان کے کہ ان کے الزامات درست ہو سکتے ہیں، راجہ کیس کیوں ہار گئے؟یو کے ہائی کورٹ کا 11دسمبر کو سنایا جانے والا فیصلہ Raja v. Naseer پاکستانی عوام اور حقوق انسانی کے کارکنوں کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے خاص طور پر اس لیے کہ الزامات میں تشدد، سیاسی مداخلت، اور ریاستی زیادتی شامل تھے جو کہ پاکستان میں بہت عام ہیں اور پاکستان کی بدترین گورننس کے بارے میں عالمی انسانی حقوق کی رپورٹوں میں بہتات سے ملتے ہیں۔ اس سار کیس اور معاملے کی بنیاد برطانیہ کے Defamation Act 2013 کے تحت ایک سادہ مگر سخت اصول ہے: سنگین الزامات کے لیے مضبوط ثبوت ضروری ہیں۔جب کوئی شخص کسی فرد کا نام لے کر اسے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دیتا ہے، تو برطانوی قانون ایک واضح ذمہ داری عائد کرتا ہے:ثبوت فراہم کریں بصورت دیگر قانونی ذمہ داری قبول کریں۔بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر کون ہیں اور میجر (ریٹائرڈ) عادل راجہ نے کیا الزامات لگائے؟بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سینئر افسر ہیں، جو اپنی خدمات کے لیے آئی ایس آئی میں معروف ہیں۔ جون 2022 میں عادل راجہ، جو سابق فوجی افسر اور اب یوٹیوبر اور سیاسی مبصر ہیں، نے نصیر پر مندرجہ ذیل الزامات عائد کیے:عدالتی عمل میں مداخلت،سیاستدانوں کو رشوت دینا،انتخابات میں دھاندلی،لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا،بطور خفیہ افسر بدسلوکی اور بدعنوان رویہ۔یہ الزامات کسی قابل شناخت فرد کے بارے میں حقائق کے طور پر پیش کیے گئے، جو Defamation Act 2013 کے Section 1 کے تحت قابل کارروائی ہیں، جو ہتک عزت کو یوں بیان کرتا ہے:“ایسا بیان جو مدعی کی سوسائٹی میں صاحب آلرائے افراد کی نظر میں اس کی عزت کو کم کرے۔”عادل راجہ کیوں ہار گئے باوجود اس امکان کے کہ الزامات درست ہو سکتے تھےعادل راجہ کی شکست پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی سرگرمیوں کی تائید نہیں تھی کہ وہ اچھے ادارے ہیں یا ان اداروں میں زیادتی وقوع پذیر نہیں ہوتی ہے۔ یوکے کی عدالت نے پاکستان کی سیاست یا سیکیورٹی اداروں کے رویے پر فیصلہ نہیں دیا۔ عادل راجہ اس لیے یہ کیس ہار گئے کیونکہ انہوں نے Defamation Act 2013 کے تحت درکار سخت شواہد اور طریقہ کار کے معیار، خاص طور پر Section 2, Section 3 اور 4 Section کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ راجہ کے پاس ممکنہ طور پر اپنے دعووں کی حمایت میں ذرائع اور ثبوت موجود ہو سکتے تھے۔ تاہم یہ ثبوت یو کے عدالت میں پیش کرنے سے ان کے سورسز یا خفیہ ذرائع کی شناخت ظاہر ہو سکتی تھی۔ اپنے ذرائع کو نہ افشا کرنے کے فیصلے میں، راجہ نے ممکنہ طور پر اپنی قانونی دفاع کی قیمت پر اپنے ذرائع کی حفاظت کو ترجیح دی، جو ایک قسم کی اخلاقی بہادری کے مترادف ہے۔1. ثبوت کی ذمہ داری مدعی پر ہے (Section 2, Defamation Act 2013)Section 2 کے تحت، حقائق کی بنیاد پر دیے گئے الزامات کے لیے دفاعِ صداقت (“truth”) دستیاب ہے۔ اگر بیان بالغرض درست ہو اور اس کو ثبوت ہو تو قانونی ذمہ داری سے بچا جا سکتا ہے۔راجہ نے قابل شناخت افسر—بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر—پر بدعنوانی، انتخابات میں مداخلت، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے۔ لیکن انہوں نے عدالت میں مندرجہ شواہد فراہم نہیں کیے:دستاویزی شواہد،آزاد تصدیق،قابل اعتماد گواہ،تحقیقی مواد۔عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ راجہ کے ثبوت Section 2 کے معیار پر پورا نہیں اترے۔2. عوامی مفاد کا دفاع ذمہ دارانہ اشاعت کا تقاضا کرتا ہے (Section 4, Defamation Act 2013)Section 4(1) کے تحت، مدعا علیہ کو عوامی مفاد میں الزام شائع کرنے کا دفاع اس وقت دستیاب ہے جب:“متنازع بیان عوامی مفاد کے معاملے پر ہو اور مدعا علیہ کو معقول یقین ہو کہ اس بیان کو شائع کرنا عوامی مفاد میں ہے۔”Section 4(3) واضح کرتا ہے کہ مدعا علیہ کو یہ دکھانا ہوگا کہ انہوں نے بیان شائع کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جیسے کہ:شائع کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق،قابل اعتماد ذرائع پر انحصار،توازن اور احتیاط فراہم کرنا،غیر تصدیق شدہ دعوے حقائق کے طور پر پیش نہ کرنا۔جب کہ عدالت نے کو یہ نظر آیا کہ عادل راجہ نے یہ تمام معیار پورے نہیں کیے تھے۔ حقیقت میں اگر ان کے الزامات درست بھی ہوں، انہوں نے Section 4(3) کے مطابق ذمہ دارانہ اقدامات نہیں کیے یعنی تحقیق کی قابل تصدیق کوشش نہیں کی۔3. سنگین الزامات کے لیے مضبوط ثبوت ضروری ہے (Sections 1 اور 2)کسی پر تشدد، بدعنوانی، یا سیاسی ہیر پھیر کے الزامات لگانے سے سب سے زیادہ ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ Section 2 کے تحت، عدالت کو الزامات کی سنگینی کے مطابق ثبوت درکار ہوتے ہیں۔فیصلے میں زور دیا گیا:“جتنا سنگین الزام، اتنا مضبوط ثبوت ضروری۔”راجہ کے دعوے انتہائی نقصان دہ تھے، اس لیے عدالت نے مضبوط ثبوت کا تقاضا کیا۔ بغیر اس کے، ان کے بیانات Section 1 کے تحت ہتک عزت کے زمرے میں آ گئے۔4. عدالت انسانی حقوق کی ٹریبونل نہیں ہےعدالت نے واضح کیا کہ مقدمہ فرد کی شہرت سے متعلق ہے، نہ کہ پاکستان کی پالیسیوں یا سیکیورٹی اداروں کے اچھے برے اعمال سے۔ یو کے عدالتیں صرف یہ دیکھتی ہیں:“کیا مدعا علیہ نے بغیر مناسب ثبوت کے اس فرد کے بارے میں اُس کی شہرت کو نقصان دہ بیان شائع کیا؟”راجہ کے ناکافی ثبوت پیش کرنے کی وجہ سے وہ کیس ہار گئے۔جس مسئلے کا سامنا عادل راجہ کو کرنا پڑا یہی حقوق انسانی کے ہر کارکنان کو کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے سماجی رابطوں پر ہتک عزت کے مقدمات سے بچنے کے لیے کچھ احتیاط ضروری ہے۔حقوق انسانی کی رپورٹنگ اکثر ایسے الزامات پر مشتمل ہوتی ہے جو تصدیق کرنا مشکل ہوتے ہیں۔ لیکن غیر محتاط بیانات—خاص طور پر جب افراد کے نام شامل ہوں—قانونی ذمہ داری پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے احتیاطی اقدامات لینا بہتر ہوگا:1. غیر تصدیق شدہ دعوے حقائق کے طور پر نہ بیان کریںمثال کے طور پر پوسٹ نہ کریں:“کرنل X نے کسی پر تشدد کیا۔”اس کی بجائے کہیں:“ایسے الزامات ہیں کہ…”“حاصل شدہ بیانات کے مطابق…”“حقوق انسانی کی تنظیمیں رپورٹ کرتی ہیں کہ…”یہ Section 4(3) کے ذمہ دارانہ اشاعت کے معیار سے مطابقت رکھتا ہے۔2. قابل اعتماد ذرائع استعمال کریںمعتبر نیوز آؤٹ لیٹس،NGOs،آزاد تحقیقات،تصدیق شدہ بیانات۔یہ احتیاطی عمل عوامی مفاد کے دفاع کو مضبوط بناتا ہے۔3. بغیر مضبوط ثبوت افراد کی شناخت نہ کریںاداروں پر تنقید کریں، افراد پر نہیں:“انٹیلیجنس ادارہ…”“ریجنل سیکیورٹی فورسز…”“رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ…”Sections 1 اور 2 کے تحت بغیر ثبوت کے افراد کو نام دینا خطرہ بڑھاتا ہے۔4. ذمہ دارانہ لہجہ اختیار کریںسنسنی خیز دعوے، قطعی بیانات یا مبالغہ سے گریز کریں۔ عدالت Section 4(1)-(3) کے مطابق معقول یقین کے معیار میں لہجے کو بھی دیکھتی ہے۔5. جواب کا موقع فراہم کریںسوشل میڈیا پر:“اگر فرد وضاحت یا تردید چاہتا ہے تو میں مواد اپڈیٹ کر دوں گا۔”یہ انصاف اور ذمہ داری ظاہر کرتا ہے۔6. تصدیق کے اقدامات دستاویزی کریںریکارڈ رکھیں:کس نے معلومات دی،کب،کیا ثبوت دیکھا گیا،کیوں اس ذرائع پر بھروسہ کیا گیا۔یہ Section 4(3) کے تحت ذمہ داری کی جانچ میں اہم ہے۔ قیاس ہے کہ میجر (ریٹائرڈ) عادل راجہ کے پاس ریکارڈ بھی ہو گا لیکن ان کی مجبوریاں نظر آتی ہیں: اول یہ کہ وہ اپنی معلومات اور اطلاعات کے ذرائع کو محفوظ رکھنا چاہتے ہوںدوئم یہ کہ اُن کی اپنے ادارے سے وفاداری برقرار ہے جس کی وجہ سے انھوں نے پورے ادارے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے کسی فرد کا نام لے کر ادارے کی ساکھ خراب ہونے سے بچائے۔ پیشے اور ادارے سے وفاداری کے لحاظ سے اُن کا طرز عمل شاید مناسب ہو، لیکن ایسا طرزِ عمل یوکے کی عدالت میں اچھا دفاع نہیں بنتا ہے۔7. سوالات کے ذریعے تشویش ظاہر کریںغیر تصدیق شدہ حقائق بیان کیے بغیر سوالات کریں:“آزاد تحقیقات کیوں نہیں کی گئی؟”“متعدد گواہ ایک جیسا تجربہ کیوں بتاتے ہیں؟”سوالات عوامی مفاد کی رپورٹنگ کو محفوظ بناتے ہیں۔عادل راجہ اس لیے نہیں ہارے کہ تشدد کے الزامات ناممکن تھے یا پاکستانی انٹیلی جنس ادارے ناقابل تنقید ہیں۔ وہ اس لیے کیس ہارے کہ انہوں نے Defamation Act 2013 کے Sections 2 اور 4، کے تحت ثبوت اور ذمہ دارانہ اشاعت کے معیار پورے نہیں کیے۔ساتھ ہی، عادل راجہ کے کیس نے ایک اہم اخلاقی مسئلہ بھی اجاگر کیا: رازدار ذرائع کی حفاظت بعض کے لیے بعض اوقات ذاتی قانونی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ذرائع ظاہر نہ کرنے کے باوجود، راجہ نے ایک اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھا جو قابل تحسین بات ہے۔انسانی حقوق کے دیگر کارکنان کے لیے سبق واضح ہے:اداروں پر تنقید کریں، زیادتیوں کو اجاگر کریں، مگر ذمہ داری، احتیاط، اور قابل تصدیق بنیادوں پر، خاص طور پر افراد کے نام لیتے وقت، کام کریں۔یہ طریقہ اظہار رائے کی آزادی اور قانونی تحفظ دونوں کو برقرار رکھتا ہے۔(نوٹ: میں نے یہ تحریر یو کے کے قانون کو پڑھ کر اپنے اُن ساتھیوں کے لیے لکھی ہے جو برطانیہ میں رہتے ہوئے پاکستان یا کسی بھی ملک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف سرگرم ہیں۔ برطانیہ میں بہت ایسے ماہرین موجود ہیں جو میڈیا لا اور ڈیفیمشن لا پر مہارت رکھتے ہیں، اور ایسے لوگ موجود ضرور ہیں، جن میں چند مشہور نام یہ ہیں: Tasnime Akunjee، Mahnaz Malik، Imran Khan (Solicitor)، Nadeem Aslam۔ یہ وکلاء اور بیرسٹرز خاص طور پر ڈیفیمشن، میڈیا اور انسانی حقوق کے معاملات میں تجربہ رکھتے ہیں اور ایسے مقدمات میں قانونی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ دیگر ممالک میں رہنے والے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے قوانین کا مطالعہ کریں یا کسی قانونی ماہر سے مشورہ لیں تاکہ وہ اپنی سرگرمیوں کے دوران قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں۔)










